وزیراعظم کا دفتر
گنگٹوک میں سکم کی ریاست بننے کی 50ویں سالگرہ کی تقریبات کے اختتامی اجلاس سے وزیراعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 APR 2026 1:51PM by PIB Delhi
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
سکم کے گورنر جناب اوم ماتھر جی، یہاں کے مقبول، پرجوش نوجوان اور میرے قریبی دوست جناب پریم سنگھ تمانگ جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی جناب دورجی شیرنگ لیپچا جی، ڈاکٹر اندرا ہانگ سبّا جی، جناب دلی رام تھاپا جی اور سکم کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔
سکم کے تمام باشندوں کو گولڈن جبلی کے موقع پر ڈھیروں مبارکباد اور نیک خواہشات، نمستے، تاشی ڈیلے!
کھام-ری-مو! تپائیں ہرو کاستو ہونو – ہنچھ ؟
ساتھیو!
میں کل دوپہر کے بعد گنگٹوک پہنچا تھا، اور یہاں آنے سے پہلے میں مغربی بنگال کے انتخابات کی گہماگہمی میں کچھ مصروف تھا۔ یہاں پہنچتے ہی ایک نیا احساس، ایک نئی خوشی، چاروں طرف جشن کا ماحول دیکھ کر دل خوشیوں سے بھر گیا۔ رات کی بارش، صبح کی ٹھنڈک اور یہ کھلی دھوپ-سکم کے رنگ ہی نرالے ہیں۔
ساتھیو!
مشرق کا جنت سکم، آرکڈز کا باغ سکم-اس کی بے مثال خوبصورتی، یہاں کی شانتی اور روحانی سکون یہ سب نصیب والوں کو ہی ملتا ہے۔ آج میں یہاں کے آرکڈز دیکھنے بھی گیا تھا۔ جتنا وقت طے تھا، میں اس سے زیادہ وقت وہاں گزارا ۔ میں ملک بھر کے سیاحوں، خاص طور پر قدرت سے محبت کرنے والوں سے کہوں گا کہ اگر انہوں نے سکم کے یہ آرکڈز نہیں دیکھے، تو گویا کچھ بھی نہیں دیکھا۔ مجھے یقین ہے کہ اس بار سیاحوں کی تعداد تمام ریکارڈ توڑ دے گی۔ قدرت کے رنگوں اور ان کی خوشی نے میرے دل کو ابھی تک مسحور کر رکھا ہے۔
ساتھیو!
آج ہمیں سکم کے 50 سالہ سفر کا جشن منانے کا موقع ملا ہے۔ جب موقع اتنا تاریخی ہو اور ماحول اتنا روحانی ہو تو اس کی عظمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ آج پالزور اسٹیڈیم بھی اسی شان سے جگمگا رہا ہے۔ یہاں کے ثقافتی پروگرام اور فنکاروں کی دلکش پیشکشیں قابل تعریف ہیں۔ آپ سب کا جوش، پہاڑوں اور آسمان کی خوبصورتی-ایسا لگ رہا تھا جیسے قدرت اور ثقافت ایک ساتھ زندہ ہو اٹھے ہوں۔ یہ یادیں ہمیشہ میرے دل میں رہیں گی۔ میں تمام فنکاروں، گلوکاروں اور منتظمین کو مبارکباد دیتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میڈیا اس پروگرام کو بار بار پورے ملک کو دکھائے۔ جب ملک میں بعض اوقات زبان، علاقائیت اور تفریق کی سیاست ہوتی ہے، تو آج سکم نے “ایک بھارت، شریشٹھ بھارت” کی حقیقی جھلک پیش کی ہے۔ اس چھوٹے سے پروگرام میں پورا ہندوستان نظر آیا۔ آپ نے آج پورے ہندوستان کا دل جیت لیا ہے۔ یہی سچی حب الوطنی ہے، یہی اصل قوم پرستی ہے۔
ساتھیو!
مجھے سکم آکر اس لیے بھی خوشی ہے کیونکہ پچھلی بار خراب موسم کی وجہ سے میں یہاں نہیں پہنچ سکا تھا اور مجھے باگڈوگرا سے آن لائن ہی آپ سے جڑنا پڑا تھا۔ وہ کمی میرے دل میں رہ گئی تھی، اور آج وہ پوری ہو گئی ہے۔
ساتھیو!
سکم کے لوگوں سے ملنا ہمیشہ ایک خاص سکون دیتا ہے۔ آپ کی سادگی، شائستگی اور مسکراہٹیں واقعی قابلِ تعریف ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے بھی میں سکم کے کئی باصلاحیت افراد سے ملا، جن میں فنکار، کھلاڑی اور اعزاز یافتہ شخصیات شامل تھیں۔
ساتھیو!
کل شام کا روڈ شو بھی میں کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔ ہاتھوں میں ترنگا، بھارت ماتا کی جے کے نعرے، وندے ماترم کی گونج—پورا ماحول “ایک بھارت، شریشٹھ بھارت” کی تصویر بن گیا تھا۔ مختلف برادریوں نے اپنی روایتی لباس، موسیقی اور ثقافت کے ساتھ استقبال کیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے قدرت کی گود میں رنگ بکھرے ہوں۔ بڑی تعداد میں مائیں، بہنیں، بچے اور بزرگ آشیرواد دینے آئے تھے۔ اور ایک چیز جو سب سے زیادہ متاثر کن تھی، وہ تھی سکم کی صفائی۔ ہر طرف صفائی، سڑکیں صاف، ماحول صاف—آپ سب واقعی قدرت کے محافظ ہیں۔ میں پورے ملک سے کہتا ہوں، سکم ضرور آئیں اور دیکھیں کہ اسے کتنا خوبصورت اور صاف رکھا گیا ہے۔
بھائیو اور بہنو!
کل کے روڈ شو اور آج کے اس شاندار پروگرام کے لیے میں آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سکم کے 50 سالہ سفر پر میں آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔ میں آپ کے پیار اور اعتماد کا قرض ضرور چکاؤں گا۔
ساتھیو!
سکم کا سفر انسانی اقدار کا سفر ہے۔ یہ ترقی اور ورثے کو ساتھ لے کر چلنے کی مثال ہے۔ گزشتہ 50 برسوں میں جن لوگوں نے سکم کی ترقی میں کردار ادا کیا، میں ان سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آج یہ ذمہ داری ہم سب پر ہے کہ ہم اسے آگے بڑھائیں۔ پریم سنگھ جی کی قیادت میں سکم کی حکومت ایمانداری سے ترقی اور ورثے کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔ ہمارے لیے شمال مشرقی ہندوستان صرف ایک خطہ نہیں بلکہ “اشٹ لکشمی” ہے۔ اسی لیے ہم “ایکٹ ایسٹ” کے ساتھ “ایکٹ فاسٹ” کے اصول پر بھی کام کر رہے ہیں۔
آج یہاں ہزاروں کروڑ روپے کے 30 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، جن میں سڑک، بجلی، سیاحت، صحت اور تعلیم کے منصوبے شامل ہیں۔ 2023 کے بعد پیش آنے والی مشکلات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور کنکٹی وٹی کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
ساتھیو!
سکم کی سب سے بڑی طاقت اس کی سیاحتی معیشت ہے۔ ملک کے کل رقبے کا ایک فیصد سے بھی کم ہونے کے باوجود یہاں 25 فیصد سے زیادہ نباتاتی تنوع پایا جاتا ہے۔ یہاں تقریباً 500 اقسام کے پرندے اور 700 اقسام کی تتلیاں ہیں، گھنے جنگلات ہیں اور کنچنجنگا کی اپنی دلکش خوبصورتی ہے۔
اسی لیے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ہم انفراسٹرکچر پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سینکڑوں کلومیٹر سڑکیں بنی ہیں، ایکسپریس وے اور ریل لائن جیسے منصوبے سکم کو پورے ملک سے جوڑ رہے ہیں۔
بھائیو اور بہنو!
سیاحت کو فروغ دینے کے لیے نئے خیالات بھی ضروری ہیں۔ اسی لیے بھالے ڈھونگا، ین-ینگ اور پیلنگ میں روپ وے بنائے جا رہے ہیں۔ سنگھشور پل پر گلاس ڈیک اسکائی واک کی بھی تیاری ہو رہی ہے۔ سرحدی علاقوں جیسے ناتھولا اور ناملی میں بھی سیاحتی سہولیات بہتر بنائی جا رہی ہیں۔
ساتھیو!
ہماری کوششوں سے نہ صرف آپ کی زندگی آسان ہوگی بلکہ سیاحوں کی تعداد بھی بڑھے گی اور آپ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ میں سیاحوں سے بھی کہتا ہوں کہ جہاں جائیں وہاں کے مقامی مصنوعات ضرور خریدیں، مقامی کھانا کھائیں تاکہ مقامی معیشت کو فائدہ ہو اور روزگار بڑھے۔
ساتھیو!
سکم میں ایکو-ویلنس ٹورزم کے بھی وسیع امکانات ہیں، اس کے لیے ہم ایک ہزار ہوم اسٹے بنا رہے ہیں۔ ایڈونچر ٹورزم کے لیے بھی انفراسٹرکچر تیار کیا جا رہا ہے۔
ساتھیو!
کھیلوں کے میدان میں بھی سکم کے پاس بے شمار امکانات ہیں۔ یہاں کے نوجوانوں نے فٹبال، باکسنگ اور تیر اندازی جیسے کھیلوں میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔
ان صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہم “کھیلو انڈیا” اور “فٹ انڈیا” جیسے پروگرام چلا رہے ہیں اور ریاستی اسپورٹس اکیڈمی کو بھی دوبارہ فعال کیا گیا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو کھیلنے اور آگے بڑھنے کے مواقع مل سکیں۔
ساتھیو!
یہاں جسلال پردھان جی کے نام پر ایک جدید ترین باکسنگ اکیڈمی کی بھی تجویز ہے۔ انٹیگریٹیڈ اسپورٹس اور کلچرل ولیج جیسے منصوبے بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس سے سکم کے نوجوانوں کو بہتر سہولیات ملیں گی اور وہ اپنے کھیل کو مزید نکھار سکیں گے۔
ساتھیو!
آج جن منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے ان میں صحت کے شعبے سے متعلق کئی بڑے کام بھی شامل ہیں۔ ایک وقت تھا جب سکم اور شمال مشرقی علاقوں کو کانگریس کی حکومتوں نے نظر انداز کر رکھا تھا۔ یہاں صحت کی سہولیات بہت محدود تھیں، جس کی وجہ سے سیاح بھی یہاں آنے سے ہچکچاتے تھے۔ لیکن آج یہ چیلنج بھی ختم ہو رہا ہے۔ آج سکم میں تقریباً 200 ‘آیوشمان آروگیہ مندر’ کام کر رہے ہیں۔ یہاں 4 ضلع اسپتال، ایک ٹرشری کیئر اسپتال، ویل نیس سینٹرز موجود ہیں، اور آیوش سہولیات سے بھی ہزاروں لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ڈریجونگ نامگیال سووا رِگپا اسپتال کے افتتاح کے بعد سکم کے ہیلتھ کیئر نظام کو مزید تقویت ملے گی۔
بھائیو اور بہنو!
ہیلتھ انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ عوام کو سستا علاج فراہم کرنا بھی ہماری حکومت کا عزم ہے۔ پہلے ہم نے غریبوں کو مفت علاج کے لیے آیوشمان کارڈ دئیے تھے، اب یہ سہولت 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام بزرگوں کو بھی دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ جن اوشدھی مراکز پر ادویات بھی انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف یہاں کے لوگوں کی زندگی آسان ہوئی ہے بلکہ علاج پر ہونے والا خرچ بھی کم ہوا ہے۔
ساتھیو!
آج دنیا میں معیشت اور وسائل کے حوالے سے نظریہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ آج دنیا پائیدار طرزِ زندگی کی بات کر رہی ہے، صاف توانائی پر زور دیا جا رہا ہے، اور نامیاتی (آرگینک) خوراک کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہمارا شمال مشرق اور سکم اس مستقبل کی ترقی کا ایک بڑا مرکز بن رہا ہے۔ سکم نے پورے ملک کو سمت دکھائی ہے۔ سکم نے تو 2016 میں ہی خود کو مکمل آرگینک ریاست قرار دے دیا تھا۔ ہمارا ڈیمجونگ اب صرف چاول کی پیداوار کے لیے نہیں بلکہ آرگینک چاول کے لیے پہچانا جا رہا ہے۔ بڑی الائچی، ادرک، ہلدی، ایووکاڈو، کیوی جیسے کئی مصنوعات ملک اور دنیا کی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔ سکم میں سینکڑوں اقسام کے طبی پودے بھی پائے جاتے ہیں، جو مقامی لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
ساتھیو!
آرگینک اور قدرتی کاشتکاری کا سکم ماڈل پورے ملک کے لیے ایک مثال ہے۔ سکم کا طرزِ زندگی اور اس کے عزم اب قومی ویژن کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہاں قدرتی کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے آرگینک پروسیسنگ پلانٹس بھی قائم کیے گئے ہیں، جس سے کسانوں کو براہِ راست بازار سے جڑنے کا موقع مل رہا ہے۔
ساتھیو!
سکم کی معاشی ترقی میں سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی)اور یہاں کی خواتین کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ ان گروپس کی مصنوعات کو بڑے بازاروں تک پہنچانے میں ڈجیٹل انڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہےاور‘سویَم سکم’ جیسے پلیٹ فارمز ان خواتین کو بااختیار بنا رہے ہیں۔
ساتھیو!
صاف توانائی کے شعبے میں بھی سکم کے پاس بے پناہ امکانات ہیں۔ ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہمیں اس صلاحیت کا مزید استعمال کرنا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ماحول کا تحفظ سکم کے لوگوں کی فطرت میں شامل ہے۔ جب ملک میں “ایک پیڑ ماں کے نام” مہم شروع ہوئی، تو سکم کے لوگوں نے اسے ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں “میرو رخ میرو سنتتی” مہم بھی چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت ہر بچے کی پیدائش پر 108 درخت لگائے جاتے ہیں۔ یہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ ہمیں ماحول کے تحفظ کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مضبوط کرنا ہے تاکہ یہ ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔
ساتھیو!
سکم کی ترقی کو مزید تیز کرنا اور “وکست بھارت” کے خواب کو حقیقت بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں مل کر سکم کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ اسی عزم کے ساتھ ایک بار پھر آپ سب کو اس موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ کے روشن مستقبل کے لئے دعا گو ہوں۔
آج 50 سالہ سفر مکمل ہوا ہے، اب ہمیں اگلے سنگ میل طے کرنے ہیں۔ جب سکم کی ترقی کے 75 سال ہوں گے، تب ہم کہاں ہوں گے؟ جب سو (100) سال ہوں گے، تب ہم کیا حاصل کریں گے؟ اور جب ملک کی آزادی کے 100 سال یعنی 2047 ہوں گے، تب “وکست بھارت” کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ہمیں آج سے ہی تیاری کرنی ہوگی۔
اسی جذبے کے ساتھ ایک بار پھر آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔
میرے ساتھ بولیے-
بھارت ماتا کی جے،بھارت ماتا کی جے، بھارت ماتا کی جے۔
وندے ماترم، وندے ماترم، وندے ماترم۔
وندے ماترم، وندے ماترم، وندے ماترم۔
وندے ماترم، وندے ماترم، وندے ماترم۔
وندے ماترم۔
***
ش ح- ظ الف
UR-6396
(ریلیز آئی ڈی: 2256232)
وزیٹر کاؤنٹر : 6