دیہی ترقیات کی وزارت
ڈی اے وائی-این آر ایل ایم نے دیہی روزگار کو تقویت دینے کے لیے کنورجنس کے ذریعے قومی کمپنڈیم کا اجرا کیا ہے
“کنورجنس صرف اہم نہیں بلکہ ناگزیر ہے”، سیکرٹری، وزارتِ دیہی ترقی
یہ کمپنڈیم 19 ریاستوں سے حاصل ہونے والی 67 فیلڈ کہانیوں کو پیش کرتا ہے، جو مختلف سطحوں پر اس کے اثرات کو اجاگر کرتی ہیں
اس کا مرکزی فوکس لکھ پتی دیدی ماڈل کو وسعت دینا اور کمیونٹی اداروں کو مزید مضبوط بنانا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAR 2026 9:53PM by PIB Delhi
دیہی ترقی کی وزارت (ایم او آر ڈی) کے تحت دین دیال انتیودیا یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہُڈ مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) نے، پی آر اے ڈی اے این(پردان) اور اسٹیٹ رورل لائیولی ہُڈ مشنز (ایس آر ایل ایمز) کے اشتراک اور ایکسس بینک فاؤنڈیشن کے تعاون سے آج قومی کمپینڈیم بعنوان “دیہی روزگار کو ہم آہنگی کے ذریعے مضبوط بنانا: عملی تجربات سے حاصل بصیرتیں” کا اجرا کیا۔
یہ کمپینڈیم ملک گیر “رائٹ شاپ” عمل کا نتیجہ ہے جس میں 24 ایس آر ایل ایمیز نے حصہ لیا اور اس میں 19 ریاستوں سے 67 منتخب کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔ ان کہانیوں میں زمینی سطح پر ہم آہنگی(کنورجینس) کے تجربات کو اجاگر کیا گیا ہے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مضبوط کمیونٹی ادارے اور بین-شعبہ جاتی شراکت داریاں کس طرح بھارت میں دیہی خواتین کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔
یہ کمپینڈیم جناب شیلش کمار سنگھ، سیکریٹری، دیہی ترقی کی وزارت، حکومتِ ہند نے جاری کیا۔ اس موقع پر جناب ٹی کے انل کمار، ایڈیشنل سیکریٹری، ایم او آر ڈی؛ محترمہ اسمرتی شرن اور محترمہ سواتی شرما، جوائنٹ سیکریٹریز، ڈی اے وائی –این آر ایل ایم جناب چرنجیت سنگھ (ریٹائرڈ آئی ایف ایس)؛ ڈاکٹر ابھیشیک نیّر (ڈی اے ایچ ڈی)؛ جناب ابھیشیک شرما (ایکسس بینک فاؤنڈیشن)؛ جناب سروج کمار مہاپاترا، ایگزیکٹو ڈائریکٹرپی آر اے ڈی اے این اور ایس آر ایل ایمز و شراکت دار اداروں کے نمائندگان موجود تھے۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے جناب شیلش کمار سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار نتائج کے حصول میں ہم آہنگی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے وزارتوں، ریاستوں اور مختلف پروگراموں کے درمیان ربط قائم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں، اگرچہ اس میں پیچیدگیاں موجود ہیں۔ انہوں نے ادارہ جاتی قیادت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور “رورل اسٹیک” جیسے ابھرتے ہوئے پلیٹ فارموں کے ذریعے کنورجینس کو فروغ دینے اور کامیاب ریاستی ماڈلز کو ملک بھر میں نافذ کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
جناب ٹی کے انل کمار نے ڈی اے وائی –این آر ایل ایم کے وسیع پیمانے کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 10 کروڑ خواتین کو سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) میں منظم کیا گیا ہے اور بینکوں کے ساتھ 12 لاکھ کروڑروپے کی ربط کاری (بینک لنکیج) کی گئی ہے۔ انہوں نے اداروں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ این آر ایل ایم2.0 کا ہدف “لکھپتی دیدی” ماڈل کو 6 کروڑ خواتین تک پھیلانا ہے، جس کے لیے نچلی سطح پر مضبوط معاونت فراہم کی جائے گی، جو “غریبوں کے ادارے، غریبوں کے لیے اور غریبوں کے ذریعے” کے اصول پر مبنی ہوگی اور اس میں پیشہ ور افراد کا تعاون بھی شامل ہوگا۔
محترمہ اسمرتی شرن نے اس بات پر زور دیا کہ کلسٹر لیول فیڈریشنز (سی ایل ایف) کو مضبوط کرنے کے لیے اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ یہ خود کفیل ادارے بن کر مقامی سطح پر ترقی کو آگے بڑھا سکیں۔ محترمہ سواتی شرما نے کہا کہ پائیدار روزگار تین بنیادی ستونوں پروگرام، ادارے اور ہم آہنگی پرقائم ہےاور اس بات پر زور دیا کہ کنور جینس کو صرف ایک تصور نہیں بلکہ ایک بنیادی حکمتِ عملی کے طور پر اپنانا چاہیے۔
جناب سروج کمار مہاپاترا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پردان نے اس بات پر زور دیا کہ کنورجینس کو “6I فریم ورک” کے ذریعے وسعت دی جا سکتی ہے۔جس میں آمدنی میں تنوع، بنیادی ڈھانچہ ، شدت ، ماحولیاتی انضمام، شمولیت اور ادارہ جاتی انضمام شامل ہیں۔ انہوں نے اجتماعی “ہم” کے نقطۂ نظر کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
تقریب میں روزگار کے ماڈلز کو وسعت دینے پر ایک منظم پینل مباحثہ بھی ہوا۔ ڈاکٹر ابھیشیک نیّر نے ڈی اے وائی –این آر ایل ایم کے سماجی سرمائے کے کردار کو اسکیموں کے مؤثر استعمال کے لیے اہم قرار دیا، جبکہ جناب رمن ودھوا نے “پی6 ماڈل” کے ذریعے پیشہ ورانہ طور پر چلنے والے کنورجینس کی ضرورت پر زور دیا۔ محترمہ مونیشا مکھرجی نے کلسٹر لیول فیڈریشنز (سی ایل ایف) کی اس صلاحیت کو اجاگر کیا کہ وہ ادارہ جاتی کثیر فریقی منصوبہ بندی اور پرت دار مالی حکمتِ عملی کے ذریعے ہم آہنگی کی قیادت کر سکتی ہیں۔ مباحثہ اس نکتے پر اختتام پذیر ہوا کہ جناب چرنجیت سنگھ نے کنورجینس کے اقدامات کے اثرات کو ناپنے اور یقینی بنانے سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔
جناب بشنو سی پریڈا، چیف آپریٹنگ آفیسر،جے ایس ایل پی ایس نے جھارکھنڈ میں نافذ کامیاب کنورجینس ماڈلز جیسے “برسا ہرت گرام یوجنا” اور “دیدی باڑی یوجنا” کے تجربات شیئر کیے اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات کو دیگر ریاستوں میں بھی دہرایا جانا چاہیے۔ جناب پلب گوسوامی، اسٹیٹ پروجیکٹ منیجر (نان فارم)، آسام ایس آر ایل ایم نے زمینی تجربات کو دستاویزی شکل دینے کے سفر کو اجاگر کیا اور زرعی و غیر زرعی شعبوں سے حاصل کامیابی کی کہانیوں کو مسلسل جمع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
محترمہ راجیشوری ایس ایم، ڈائریکٹر (آر ایل) نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط کمیونٹی ڈھانچہ اور بین-شعبہ جاتی تعاون “وکست بھارت” کے وژن کے حصول کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ ڈاکٹر مونیکا، ڈپٹی سیکریٹری (آر ایل) نے اس بات کو دہرایا کہ کنورجینس اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ مؤثر دیہی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
تقریب کا اختتام اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ ہر سطح پر کنورجینس کو مزید گہرا کیا جائے گا، کامیاب ماڈلز کو وسعت دی جائے گی، شراکت داریوں کو مضبوط بنایا جائے گااور نگرانی و سیکھنے کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ پائیدار اور جامع دیہی روزگار کو یقینی بنایا جا سکے۔
********
) ش ح ۔ م م۔ش ب ن)
U.No. 6343
(ریلیز آئی ڈی: 2255850)
وزیٹر کاؤنٹر : 17