شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
ایم او ایس پی آئی، 29 تا 30 اپریل 2026 کو اوڈیشہ کےبھوبنیشور، میں ‘‘حکمرانی کے لیے انتظامی اعداد و شمار کی ہم آہنگی’’ کے موضوع پر قومی مشاورتی اجلاس منعقد کرے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 APR 2026 10:26AM by PIB Delhi
شماریات و پروگرام کےنفاذکی وزارت(ایم او ایس پی آئی)، ایک روزہ و نصف قومی مشاورتی اجلاس ‘‘حکمرانی کے لیے انتظامی اعداد و شمار کی ہم آہنگی’’ کے موضوع پر ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ 29 تا 30 اپریل 2026 کو اوڈیشہ کے بھوبنیشور میں منعقد کر رہی ہے۔ یہ اجلاس دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے پانچویں چیف سیکرٹریز کی قومی کانفرنس کے تسلسل میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد عملی منصوبہ اور وقت بندی کے حوالے سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے تاکہ انتظامی اعداد و شمار کو ہم آہنگ کر کے پالیسی سازی اور حکمرانی میں وسیع استعمال کے لیے تیار کیا جا سکے۔
اجلاس سے قبل 24 فروری کو نئی دہلی میں ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مرکزی وزارتوں و محکموں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ ایک قومی مشاورتی ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا گیا کہ وہ موضوع کے حوالے سے مشترکہ فہم پیدا کرنے کے لیے داخلی مشاورتی ورکشاپس کا انعقاد کریں۔ ان داخلی مشاورتوں کا مقصد محکمہ جاتی سطح کے اداروں اور زمینی سطح کے اہلکاروں کو شامل کرنا تھا تاکہ گفتگو عملی حقائق پر مبنی ہو۔ اس کے اہم مقاصد میں موجودہ ڈیٹا نظام اور زمینی رکاوٹوں کی نشاندہی، ڈیٹا ہم آہنگی اور باہمی ربط کے لیے موجودہ تیاری کا جائزہ لینا شامل تھا۔ ایک اور اہم مقصد بین محکمہ جاتی ڈیٹاسیٹس اور ایسے استعمال کے معاملات کی نشاندہی اور ترجیح دینا تھا جو فوری طور پر مفید ثابت ہو سکیں۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے مارچ اور اپریل 2026 کے دوران داخلی ورکشاپس منعقد کیں۔ ان ورکشاپس سے حاصل شدہ آراء کی بنیاد پر اجلاس میں غور و خوض کے لیے ایک دستاویز تیار کیا گیا ہے جو اس لنک پردستیاب ہے۔ https://www.mospi.gov.in/uploads/announcements/announcements_1776852884237_2790a90e-d136-4a4e-be41-0aa4b626408a_Final_Note_WS_2104.pdf جس میں ڈیٹا ہم آہنگی اور ماحولیاتی نظام کی ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
انتظامی ڈیٹاسیٹس کو پالیسی فیصلوں اور خدمات کی فراہمی میں مؤثر استعمال کے لیے دوبارہ کارآمد بنانے کی ضرورت اس اجلاس کا مرکزی موضوع ہے، جس پر 29 تا 30 اپریل 2026 کو غور کیا جائے گا۔ جیسے جیسے حکمرانی میں فوری ردِعمل اور حقیقی وقت کی معلومات کی ضرورت بڑھ رہی ہے، ویسے ہی مختلف محکموں کے درمیان باہم مربوط انتظامی ڈیٹاسیٹس شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم ستون بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آہنگ ڈیٹا ڈھانچے کے لیے متعدد بنیادی عناصرhttps://www.mospi.gov.in/uploads/announcements/announcements_1776852884237_2790a90e-d136-4a4e-be41-0aa4b626408a_Final_Note_WS_2104.pdf پرپہلے ہی موجود ہیں، جن میں ڈیٹا کے تبادلے اور فراہمی کے لیے معاون پالیسی فریم ورک، قومی سطح پر منظور شدہ معیارات، معیاری کوڈز و درجہ بندیاں، منفرد شناختی نظام، معیار کی جانچ کے فریم ورک اور ڈیٹا کی دریافت و ترسیل کے متعدد پلیٹ فارم شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تمام عناصر مؤثر ڈیٹا استعمال کے لیے قانونی، تکنیکی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اجلاس کی گفتگو انہی رہنما اصولوں کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہوئے ایک ایسے لائحہ عمل تک پہنچنے کی کوشش کرے گی جس کے ذریعے ضروری ادارہ جاتی نظام تشکیل دیا جا سکے اور انتظامی ڈیٹاسیٹس کو مؤثر طور پر دوبارہ استعمال میں لایا جا سکے۔
یہ تصور کیا گیا ہے کہ ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی سطح پر ہم آہنگ شدہ ڈیٹاسیٹس کے ذخیرے میں قابلِ ذکر بہتری آئے گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بروقت کارروائی کے لیے رفتار پیدا ہونے کی توقع ہے۔ مباحثوں میں ایسے معاون ماحولیاتی نظام کی تشکیل پر بھی غور کیا جائے گا جو ہم آہنگ ڈیٹاسیٹس کی تعداد میں مسلسل اضافے کو ممکن بنا سکے۔ اسی مناسبت سے عملی منصوبہ میں ڈیٹا کی مستقل ہم آہنگی اور باہمی ربط کی سرگرمیوں پر توجہ دی جائے گی، تاکہ بالآخر ڈیٹاسیٹس کو ڈیٹا کے تبادلہ جاتی پلیٹ فارمز پر دستیاب بنایا جا سکے۔ ڈیٹا کے عمل اور تیاری سے لے کر اشتراک تک ،کو بتدریج خودکار بنایا جائے گا تاکہ اس مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔ ابتدائی عملی منصوبہ میں محکمہ جاتی روزمرہ کارکردگی کے لیے درکار تمام ڈیٹاسیٹس سمیت پرانے ریکارڈکی نشاندہی اور ہم آہنگی شامل ہوگی۔
قومی سطح کا یہ مشاورتی اجلاس عالمی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ ایک جامع ڈیٹا ہم آہنگی روڈمیپ تیار کرنے کی ایک پہل ہے۔ جیسے جیسے ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اس روڈمیپ پر پیش رفت کریں گے، ایک اہم اگلا مرحلہ متحدہ ڈیٹا نظام کی جانب منتقلی اور ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے لیے تیار بنانا ہوگا۔ اسی کے ساتھ مرکزی وزارتیں موجودہ انتظامی ڈیٹا کے مؤثر استعمال کے ذریعے اعلیٰ اثر والے انضمامی نمونوں کی مثال قائم کر سکتی ہیں۔ بالآخر اس مشترکہ روڈمیپ کے مؤثر نفاذ سے الگ تھلگ دستی عمل ختم ہوں گے، محکمہ جاتی رکاوٹیں دور ہوں گی، اور ایک محفوظ، مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اور جامع ڈیٹا ماحولیاتی نظام قائم ہوگا۔ یہ نظام بھارت کے انتظامی ڈیٹا ڈھانچے کو مؤثر پروگرام کیلئے مخصوص، عوامی وسائل کے بہتر استعمال اور نتائج پر مبنی حکمرانی کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بنا دے گا۔
اس اجلاس میں ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ جاتی حکومتوں کی منصوبہ بندی اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی محکموں کے افسران، منتخب مرکزی وزارتوں و محکموں کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ فریقین شرکت کریں گے۔ حکومت، بین الاقوامی اداروں، تھنک ٹینکس اور تعلیمی اداروں کے ماہرین انتظامی ڈیٹا کی ہم آہنگی، باہمی ربط اور ماحولیاتی نظام کی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں گے تاکہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اجلاس کے موضوع کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔ روڈمیپ پر اتفاقِ رائے کے مقصد کے تحت اجلاس میں سینئر ریاستی و علاقہ جاتی افسران کی جانب سے موجودہ تیاری اور چیلنجز سے نمٹنے کے لائحہ عمل پر پیشکشیں بھی شامل ہوں گی۔ ڈیٹا ہم آہنگی کے مختلف پہلوؤں، ڈیٹاسیٹس کے باہمی ربط اور ان تکنیکی جہات پر بھی گفتگو ہوگی جو ریاستی و علاقہ جاتی سطح پر انتظامی ڈیٹا کے مؤثر استعمال کے پروگراموں کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اجلاس کی خاص بات ،29 اپریل 2026 کو صبح 10 بجے افتتاحی اجلاس میں شماریات و پروگرام کےنفاذ کی وزاررت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور اوڈیشہ کے نائب وزیر اعلیٰ کی شرکت ہوگی۔
*****
(ش ح ۔ع ح۔ م ش)
U. No.6334
(ریلیز آئی ڈی: 2255803)
وزیٹر کاؤنٹر : 8