PIB Headquarters
چھوٹی پن بجلی ترقیاتی اسکیم
پائیدار ترقی کے لیے توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 APR 2026 8:31AM by PIB Delhi
کلیدی نکات
- ہندوستان کی کل تخمینہ شدہ چھوٹی پن بجلی کی صلاحیت 21,133.61 میگاواٹ ہے۔ ملک اس میں سے تقریباً 5,171 میگاواٹ صلاحیت استعمال کرچکا ہے۔
- مرکزی کابینہ نے 2,584.60 کروڑ روپےکے اخراجات کے ساتھ چھوٹی ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم(چھوٹی پن بجلی ترقیاتی اسکیم) کو منظوری دے دی ہے۔
- اس اسکیم کا مقصد پورے ملک میں 1,500 میگاواٹ چھوٹی پن بجلی کی نئی صلاحیت کا اضافہ کرنا ہے۔
- اس اسکیم سے تعمیراتی مرحلے کے دوران تقریباً 5.1 ملین افرادی دن کا روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے۔
تعارف
پانی کے قدرتی بہاؤ سے پیدا ہونے والی ہائیڈرو پاور(پن بجلی) دنیا کے قابلِ اعتماد اور ترقی یافتہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کے تیزی سے بدلتے ہوئے توانائی کے منظرنامے میں یہ گرڈ کے استحکام، توانائی کی سلامتی اور نظام کی پائیداری کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وقفے وقفے سے چلنے والے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوا، کے برعکس ہائیڈرو پاور (پن بجلی )مسلسل 24 گھنٹے بجلی فراہم کرتی ہے۔ چونکہ ملک تیزی سے صاف توانائی کے آمیزے کی طرف منتقل ہو رہا ہے، اس لیے پن بجلی ناگزیر ہو گئی ہے۔
اس اسٹریٹجک اہمیت کو دیکھتے ہوئے، مرکزی کابینہ نے "چھوٹی ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم(چھوٹی پن بجلی ترقیاتی اسکیم)" کو منظوری دے دی ہے۔ یہ اسکیم مختلف ریاستوں میں چھوٹے پن بجلی کےمنصوبوں (1 تا 25 میگاواٹ صلاحیت) کی ترقی میں سہولت فراہم کرے گی۔ اس اسکیم سے خاص طور پر پہاڑی اور شمال مشرقی ریاستوں کو فائدہ پہنچے گا، جہاں ان منصوبوں کی کافی صلاحیت موجود ہے۔ یہ منظوری مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2030-31 تک کی مدت کے لیے ہے، جس کی کل لاگت 2,584.60 کروڑ روپےہے۔ اس اسکیم کا مقصد تقریباً 1,500 میگاواٹ نئی چھوٹی پن بجلی کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں اور شمال مشرقی ریاستوں پر توجہ دی گئی ہے، جہاں چھوٹے پن بجلی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے لیکن اکثر بجلی تک رسائی کے چیلنجز کے باعث اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ وکندریقرت اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کو فروغ دے کر، یہ اسکیم دور دراز اور ناقابلِ رسائی علاقوں کو قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنے اور روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
توانائی کی پیداوار سے آگے، یہ اقدام جامع ترقی کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چھوٹے پن بجلی کے منصوبے، اپنے کم سے کم ماحولیاتی اثرات، کم زمینی ضروریات اور طویل عملی مدت کے ساتھ، ترقی کے لیے ایک پائیدار راستہ پیش کرتے ہیں۔ مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر، روزگار کے مواقع پیدا کر کے، اور علاقائی معیشتوں کو مضبوط بنا کر، یہ اسکیم چھوٹے پن بجلی کو ہندوستان کے پائیدار اور خود انحصاری توانائی کے مستقبل کی بنیاد کے طور پر قائم کرے گی۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
ہندوستان میں بڑے اور چھوٹے پن بجلی منصوبوں کے درمیان بنیادی فرق ان کی نصب شدہ صلاحیت اور متعلقہ وزارتوں کے دائرہ اختیار پر مبنی ہے۔ چھوٹے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس( پن بجلی کے منصوبے) کی تعریف 25 میگاواٹ تک کی صلاحیت کے حامل منصوبوں کے طور پر کی جاتی ہے اور یہ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے زیرِ انتظام ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، 25 میگاواٹ سے زیادہ صلاحیت کے بڑے ہائیڈرو پاور (پن بجلی )منصوبے وزارتِ بجلی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
چھوٹی پن بجلی ترقیاتی اسکیم کی اہم خصوصیات

اس اسکیم میں عمل درآمد میں مدد، منصوبوں کی عملداری کو بہتر بنانے، اور مختلف خطوں میں چھوٹے پن بجلی منصوبوں کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اہدافی اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی توجہ مالی معاونت، منصوبہ بندی، اور عمل درآمد سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے پر ہے، خاص طور پر دشوار جغرافیائی علاقوں میں۔ مجموعی طور پر، ان اقدامات کا مقصد چھوٹے پن بجلی کی صلاحیت کی تیز رفتار اور مؤثر تعیناتی کو ممکن بنانا ہے۔
مالی امداد کا ڈھانچہ
- شمال مشرقی ریاستوں اور بین الاقوامی سرحدی اضلاع کو فی میگاواٹ 3.6 کروڑ روپےیا منصوبے کی لاگت کا 30 فیصد (جو بھی کم ہو) کی مالی امداد، جس کی زیادہ سے زیادہ حد فی منصوبہ 30 کروڑ روپےہے۔
دیگر مقامات پر مالی امداد 2.4 کروڑروپے فی میگاواٹ یا منصوبے کی لاگت کا 20 فیصد (جو بھی کم ہو)، فی منصوبہ 20 کروڑ روپےکی حد کے ساتھ۔
سرمایہ کاری اور اقتصادی اثرات
اس اسکیم سے چھوٹے پن بجلی کے شعبے میں تقریباً 15,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔
یہ اسکیم مقامی آلات و مشینری کے استعمال کو فروغ دے گی، جس سے مقامی مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کو تقویت ملے گی اور "آتم نربھر بھارت" کے وژن کو مضبوطی حاصل ہوگی۔
پائپ لائن کی ترقی اور تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر)سپورٹ
سیکٹر کی طویل مدتی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے، یہ اسکیم کم از کم 200 منصوبوں کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس تیار کرنے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ مستقبل کے منصوبوں کی مضبوط پائپ لائن تیار کرنے کے لیے مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کی مدد کے تحت 30 کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں۔
روزگار کی تخلیق
- اس اسکیم سے توقع ہے کہ تعمیراتی مرحلے کے دوران تقریباً 5.1 ملین افرادی دن کا روزگار پیدا ہوگا۔ مزید برآں، یہ منصوبوں کے آپریشن اور دیکھ بھال میں، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں، روزگار کے مستقل مواقع بھی فراہم کرے گی۔
چھوٹی پن بجلی ترقیاتی اسکیم کی منظوری ہندوستان کی غیر استعمال شدہ چھوٹی پن بجلی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ہدف شدہ مالی معاونت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور پائیداری کو یکجا کرتے ہوئے، یہ اسکیم صاف توانائی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور پسماندہ علاقوں میں جامع ترقی کو تیز کرنے کے لیے تیار ہے۔
پائیدار توانائی کی ترقی کے لیے چھوٹے پن بجلی کی اہمیت
چھوٹی پن بجلی ہندوستان میں صاف، قابلِ اعتماد اور وکندریقرت توانائی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خاص طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں کے لیے موزوں، یہ منصوبے مقامی طور پر دستیاب آبی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے، استعمال کے مراکز کے قریب بجلی پیدا کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف توانائی تک رسائی بہتر ہوتی ہے بلکہ طویل ترسیلی نیٹ ورکس پر انحصار بھی کم ہوتا ہے اور مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
- وکندریقرت اور مؤثر بجلی کی فراہمی: ڈیمانڈ سینٹرز کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے، یہ منصوبے ترسیلی نقصانات کو کم کرتے ہیں، وولٹیج کے استحکام کو بہتر بناتے ہیں، اور جغرافیائی طور پر مشکل علاقوں، بشمول سرحدی اور پہاڑی خطوں میں، قابلِ اعتماد بجلی کو یقینی بناتے ہیں۔
- صاف اور سستی توانائی کا ذریعہ: چھوٹی پن بجلی ایندھن کی کھپت یا اخراج کے بغیر بجلی پیدا کرتی ہے، جو اسے ایک پائیدار اور اقتصادی طور پر قابلِ عمل طویل مدتی حل بناتی ہے۔
- دیہی ترقی کا محرک: نظر انداز کیے گئے علاقوں میں بجلی تک رسائی کو بہتر بنا کر، یہ منصوبے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت کرتے ہیں اور مقامی اقتصادی ترقی کے لیے محرک ثابت ہوتے ہیں۔
- روزگار اور ذریعۂ معاش کی تخلیق: یہ منصوبے تعمیر اور آپریشن کے دوران براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں، اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں اور خود روزگار کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
- ماحولیاتی طور پر پائیدار: کم سے کم زمین کی ضرورت اور محدود نقل مکانی کے ساتھ، چھوٹے پن بجلی منصوبوں کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات نہایت کم ہوتے ہیں۔ ان کی طویل آپریشنل مدت ان کی پائیداری کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
چھوٹی ہائیڈرو پاور(پن بجلی) ایک متوازن حل پیش کرتی ہے جو پائیدار ترقی کے ساتھ توانائی کی سلامتی کو جوڑتی ہے۔ قابلِ اعتماد، 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی اور گرڈ کو مضبوط بنا کر، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں، یہ منصوبے جامع ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ سماجی و اقتصادی فوائد کے ساتھ ماحولیاتی پائیداری کو یکجا کرنے کی ان کی صلاحیت انہیں ہندوستان کی صاف توانائی کی منتقلی کا ایک کلیدی جزو بناتی ہے۔
ہندوستان میں چھوٹے پن بجلی کی صلاحیت اور امکانات

چھوٹی پن بجلی ہندوستان کی صاف توانائی کی منتقلی کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد جزو بن کر ابھر رہی ہے۔ یہ خاص طور پر پہاڑی، دور دراز اور ناقابلِ رسائی علاقوں کے لیے موزوں ہے، جہاں وکندریقرت پیداوار کے ذریعے نہ صرف پائیدار بجلی فراہم کی جا سکتی ہے بلکہ توانائی تک رسائی میں اضافہ کر کے مقامی معیشت کو بھی سہارا دیا جا سکتا ہے۔
ہندوستان کے پاس 7,133 شناخت شدہ مقامات پر 21,133.61 میگاواٹ کی نمایاں چھوٹی پن بجلی کی صلاحیت موجود ہے۔ 2026 کے آغاز تک تقریباً 5,171 میگاواٹ (تقریباً 24.5 فیصد) صلاحیت استعمال کی جا چکی ہے، جو اس شعبے میں جاری پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ 15,960 میگاواٹ سے زائد کی بقیہ صلاحیت ہدف شدہ پالیسی سپورٹ اور پبلک پرائیویٹ تعاون کے ذریعے تیز رفتار ترقی کے ایک بڑے موقع کی نمائندگی کرتی ہے۔

اس صلاحیت کی علاقائی تقسیم ہندوستان کے جغرافیائی تنوع کی عکاسی کرتی ہے اور ملک بھر میں منفرد مواقع فراہم کرتی ہے۔ شمالی خطے میں 7,978 میگاواٹ (تقریباً 38 فیصد) چھوٹی پن بجلی کی صلاحیت ہے، جو بنیادی طور پر پہاڑی علاقوں میں مرکوز ہے۔ شمال مشرقی خطے میں 3,262 میگاواٹ (تقریباً 15 فیصد) صلاحیت موجود ہے، جو اسے توسیع کے لیے ایک اہم امیدوار بناتی ہے، خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں۔ جنوبی خطہ اس کے بعد آتا ہے، جہاں 5,490 میگاواٹ (تقریباً 26 فیصد) صلاحیت اس کے بہتر دریا نظام اور بنیادی ڈھانچے کی بدولت دستیاب ہے۔ مغربی خطے میں 2,963 میگاواٹ (تقریباً 14 فیصد) جبکہ مشرقی خطے میں 1,440 میگاواٹ (تقریباً 7 فیصد) صلاحیت موجود ہے، جہاں دیہی اور قبائلی علاقوں میں ترقی کے نمایاں امکانات ہیں۔
یہ تقسیم شدہ صلاحیت ایک متوازن اور خطہ وار حکمت عملی کی تشکیل کو ممکن بناتی ہے۔ جہاں شمالی اور شمال مشرقی خطوں میں بے پناہ وسائل موجود ہیں، وہیں جنوبی اور مغربی خطے اپنے مضبوط بنیادی ڈھانچے کے باعث تیز رفتار عمل درآمد کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ حال ہی میں منظور شدہ "چھوٹی پن بجلی ترقیاتی اسکیم" کے ذریعے حکومتِ ہند ہدف شدہ ترغیبات، آسان طریقہ کار، اور بہتر مالی معاونت کے ذریعے اس متنوع صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔
مرکوز اور جامع نقطۂ نظر اختیار کرتے ہوئے، ہندوستان چھوٹی پن بجلی کے مکمل فوائد حاصل کرنے، توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانے، جامع ترقی کو فروغ دینے، اور پائیدار و خود انحصار توانائی کے مستقبل کی جانب پیش رفت کے لیے تیار ہے۔
شمالی علاقہ
شمالی علاقہ ہندوستان کے چھوٹے ہائیڈرو پاور (پن بجلی )کے منظرنامے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا پہاڑی جغرافیہ، بارہماسی دریا، اور سازگار آبی حالات اسے ترقی کے لیے، خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں، نہایت موزوں بناتے ہیں۔ ہماچل پردیش (3,460 میگاواٹ)، اتراکھنڈ (1,664 میگاواٹ)، اور جموں و کشمیر (1,312 میگاواٹ) جیسی ریاستیں اس خطے کی نمایاں صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ لداخ (395 میگاواٹ) اس کی اسٹریٹجک اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اس مضبوط بنیاد کے باوجود، استعمال کی سطح ابھی محدود ہے، جو ایک بڑی غیر استعمال شدہ صلاحیت کی نشاندہی کرتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
رن آف دی ریور پروجیکٹس بڑے ڈیم تعمیر کیے بغیر دریا کے پانی کے قدرتی بہاؤ کو استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ پانی کے ایک حصے کو ٹربائن چلانے کے لیے نہروں اور پائپوں کے ذریعے موڑ دیا جاتا ہے اور پھر اسے دوبارہ مرکزی دھارے میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے ماحولیاتی نظام میں کم سے کم خلل پڑتا ہے۔
شمال مشرقی علاقہ
شمال مشرقی خطہ اعلیٰ ممکنہ ترقی کی ایک اہم سرحد کی نمائندگی کرتا ہے اور خاص طور پر قابلِ تجدید توانائی کی توسیع کے لیے نہایت اہم ہے۔

اروناچل پردیش (2,064.92 میگاواٹ) اس خطے میں سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، اس کے بعد میگھالیہ (230.05 میگاواٹ)، آسام (201.99 میگاواٹ)، ناگالینڈ (182.18 میگاواٹ)، میزورم (168.90 میگاواٹ)، منی پور (99.95 میگاواٹ)، اور تریپورہ (99.95 میگاواٹ) ہیں۔ سکم (266.64 میگاواٹ) کی شمولیت اس مجموعی علاقائی صلاحیت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
اس خطے میں چھوٹے پن بجلی منصوبوں کی ترقی وکندریقرت اور آف گرڈ توانائی کے حل کے لیے مضبوط مواقع فراہم کرتی ہے، خاص طور پر دور دراز اور قبائلی علاقوں میں۔ یہ توانائی تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے، مقامی روزگار میں اضافہ کر سکتی ہے، اور روایتی ایندھن پر انحصار کم کر سکتی ہے۔ ہدف شدہ پالیسی مداخلتوں، بہتر رابطہ کاری، اور کمیونٹی پر مبنی ماڈلز کے ذریعے، شمال مشرقی خطہ ہندوستان کے چھوٹے پن بجلی کے شعبے کے لیے ترقی کے ایک بڑے انجن کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

جنوبی علاقہ
جنوبی خطہ چھوٹے پن بجلی کی ترقی میں ایک اہم حصہ دار ہے، جہاں مضبوط بنیادی ڈھانچہ، مستحکم توانائی کے نظام، اور سازگار دریائی طاس موجود ہیں۔ کرناٹک 3,726.49 میگاواٹ کے ساتھ اس خطے میں سرفہرست ہے، جو علاقائی صلاحیت کا تقریباً 68 فیصد ہے۔ اس کے بعد کیرالہ (276.52 میگاواٹ) اور تمل ناڈو (123.05 میگاواٹ) کا نمبر آتا ہے۔
اس خطے میں دیگر خطوں کے مقابلے میں استعمال کی سطح نسبتاً زیادہ ہے، جو منصوبوں کی مؤثر تکمیل اور مضبوط گرڈ کنیکٹیویٹی کی عکاسی کرتی ہے۔ اپنے مستحکم بنیادی ڈھانچے کے ساتھ، جنوبی خطہ موجودہ اثاثوں کی بہتری اور دیگر صاف توانائی کے ذرائع کے ساتھ انضمام کے ذریعے مزید توسیع کے لیے تیار ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں اور شمال مشرقی ریاستوں میں ہونے والی پیش رفت کی تکمیل کرتے ہوئے، ہندوستان کے چھوٹے پن بجلی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
مشرقی علاقہ

مشرقی خطہ محدود مگر حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم چھوٹے پن بجلی کی صلاحیت رکھتا ہے، جو خاص طور پر دیہی اور قبائلی علاقوں میں وکندریقرت ترقی کے لیے اہم ہے۔
بہار (526.98 میگاواٹ) اور مغربی بنگال (392.06 میگاواٹ) جیسی ریاستیں اس خطے میں نمایاں ہیں، اگرچہ مجموعی استعمال کی سطح اب بھی نسبتاً کم ہے۔ اس خطے کے دریائی نظام اور جغرافیائی محلِ وقوع چھوٹے پیمانے پر پن بجلی منصوبوں کے لیے موزوں حالات فراہم کرتے ہیں۔
یہاں چھوٹے پن بجلی کی توسیع مقامی توانائی تک رسائی، زرعی پیداوار، اور دیہی معیشت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ جامع ترقی کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔ ہدف شدہ مداخلتوں، بہتر مالیاتی نظام، اور وکندریقرت تعیناتی کے ماڈلز کے ذریعے، مشرقی خطہ قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
مغربی علاقہ

مغربی خطہ، خاص طور پر اپنی وسیع آبپاشی اور نہری بنیادی ڈھانچے کے باعث، چھوٹے پن بجلی کی ترقی کے منفرد مواقع فراہم کرتا ہے۔
مہاراشٹر 786.46 میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ اس خطے میں سرفہرست ہے، اس کے بعد راجستھان اور گجرات کا نمبر آتا ہے۔ مہاراشٹر نے نسبتاً اعلیٰ سطح کا استعمال حاصل کر لیا ہے، جبکہ دیگر ریاستوں میں اب بھی توسیع کی کافی گنجائش موجود ہے۔
اس خطے میں نہر پر مبنی اور ڈیم کے زیریں بہاؤ (ٹیل واٹر) پر مبنی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنا چھوٹے پن بجلی کی صلاحیت بڑھانے کا ایک مؤثر اور کم لاگت طریقہ ہے۔ موجودہ بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھا کر اور جدید تعیناتی ماڈلز کو فروغ دے کر، مغربی خطہ قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ یہ دیگر خطوں کے ساتھ مل کر متوازن اور متنوع ترقی کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
چھوٹے ہائیڈرو پاور(پن بجلی) منصوبے، جو نہری جھرنوں یا ڈیموں پر مبنی ہوتے ہیں، آبپاشی کی نہروں میں پانی کے بہاؤ یا ڈیموں اور بیراجوں کے نیچے دستیاب پانی کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پانی کو پاور ہاؤس کی طرف موڑ کر ٹربائن چلائی جاتی ہے اور بجلی پیدا ہونے کے بعد اسے دوبارہ مرکزی نہر میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے موجودہ آبی ڈھانچے کا مؤثر استعمال یقینی بنتا ہے۔
نتیجہ
چھوٹی ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم (چھوٹی پن بجلی ترقیاتی اسکیم )(2026-31) حکومتِ ہند کی جانب سے ملک کے صاف توانائی کے سفر میں چھوٹے پن بجلی کی منفرد صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک فیصلہ کن پالیسی مداخلت ہے۔ 2,584.60 کروڑ روپے کی لاگت کے ساتھ، اس اسکیم کا مقصد نئی صلاحیت میں 1,500 میگاواٹ کا اضافہ کرنا ہے۔ یہ قابلِ اعتماد اور وکندریقرت بجلی کی پیداوار کو ترجیح دیتی ہے، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں جہاں دیگر قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی محدودیت ہے۔
صلاحیت میں اضافے کے علاوہ، اس اقدام کو وسیع ترقیاتی نتائج فراہم کرنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہدف شدہ مالی معاونت فراہم کرنے، منصوبوں کی ہموار تیاری، اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے ذریعے، یہ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی، مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنائے گی، اور دور دراز و دیہی علاقوں میں روزگار کے بامعنی مواقع پیدا کرے گی۔ یہ مربوط نقطۂ نظر چھوٹے پن بجلی کو جامع ترقی اور علاقائی مساوات کے لیے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔
جیسا کہ ہندوستان توانائی میں خود انحصاری اور ایک پائیدار مستقبل کی جانب گامزن ہے، چھوٹے پن بجلی منصوبے ایک متوازن حل فراہم کرتے ہیں جو سماجی و اقتصادی ترقی کو ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔ اس پہل کے ذریعے حکومتِ ہند کو یقین ہے کہ یہ اسکیم بجلی تک محدود رسائی رکھنے والے علاقوں کو روشن کرے گی، گرڈ کی لچک میں اضافہ کرے گی، اور ایک صاف، مضبوط اور خود انحصار ہندوستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گی۔
حوالہ
پریس انفارمیشن بیورو
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2241799®=1&lang=1
نیتی آیوگ
دیگر
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پی آئی بی ریسرچ
***
(ش ح۔اس ک )
UR- 6310
(ریلیز آئی ڈی: 2255692)
وزیٹر کاؤنٹر : 13