شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
150 کروڑ روپے اور اس سے زائد مالیت کے مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر فلیش رپورٹ
پیمانہ پورٹل نے مارچ 2026 تک 41.50 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 1,941 بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 APR 2026 4:00PM by PIB Delhi
شماریات و پروگرام پرعمل درآمدکی وزارت، مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کواپنے پلیٹ فارم’’پیمانہ‘‘کے ذریعے مسلسل مستحکم بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں بہتر نگرانی، بروقت جائزہ اور مختلف وزارتوں میں ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی ممکن ہو رہی ہے۔ مارچ 2026 تک اس پورٹل کے ذریعہ 41.50 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 1,941 بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کی جارہی ہے۔
|
اہم نکات
- مارچ 2026 تک 1,941 جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، جن کی نظرِ ثانی شدہ مجموعی لاگت 41.50 لاکھ کروڑ روپے ہے، 17 مرکزی وزارتوں/محکموں کے تحت زیرِ نگرانی ہیں۔ ان منصوبوں پر اب تک مجموعی طور پر 19.93 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں، جو نظرِ ثانی شدہ لاگت کا تقریباً 48.02 فیصد بنتا ہے اور منصوبوں پر عمل درآمد میں مستحکم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
- منصوبوں کی ایک نمایاں تعداد ترقی کے اعلیٰ مراحل میں ہے، جہاں 777 منصوبے (تقریباً 40 فیصد) 80 فیصد سے زائد فزیکل پیش رفت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ 261 منصوبے (تقریباً 13 فیصد) 80 فیصد سے زیادہ مالی تکمیل کے مرحلے سے گزر چکے ہیں۔ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ منصوبوں کی تقسیم ابتدائی اور ترقی یافتہ مراحل میں متوازن ہے۔
- نقل و حمل اور لاجسٹکس کا شعبہ (ڈی ای اے کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ کے مطابق) سب سے زیادہ جاری منصوبوں پر مشتمل ہے، جہاں(1,428)منصوبے زیرِ عمل ہیں اور ان کی نظرِ ثانی شدہ لاگت 22.66 لاکھ کروڑ روپے ہے، جو کنکٹویٹی پر مبنی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دینے کی نشاندہی کرتی ہے۔
|
- 1,941 جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں 786 میگا منصوبے (جن کی لاگت 1,000 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہے) شامل ہیں، جن کی ابتدائی مجموعی لاگت 30.48 لاکھ کروڑ روپے ہے، جبکہ 1,155 بڑے منصوبے (جن کی لاگت 1,000 کروڑ روپے سے کم اور 150 کروڑ روپے تک ہے) 5.41 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کے حامل ہیں۔
- فزیکل اور مالی پیش رفت عمومی طور پر ایک ساتھ آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے، جہاں بڑی تعداد میں منصوبے ابتدائی (0 تا 20 فیصد) اور اعلیٰ (81 تا 100 فیصد) مراحل میں مرکوز ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک طرف نئے شروع ہونے والے منصوبوں کی ایک قطار موجود ہے، تو دوسری جانب متعدد منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔ 81 تا 100 فیصد کے مرحلے میں فزیکل پیش رفت مالی پیش رفت سے زیادہ ہے، جبکہ ابتدائی مراحل میں مالی پیش رفت نسبتاً زیادہ دکھائی دیتی ہے، جو منصوبوں کے آغاز میں ہونے والے ابتدائی اخراجات کی عکاسی کرتی ہے۔

2۔ وزارتوں/محکموں کے لحاظ سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت
- سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کی وزارت سب سے زیادہ منصوبوں کی حامل ہے، جہاں 1,120 منصوبے (58 فیصد) زیرِ عمل ہیں، اور نظرِ ثانی شدہ مجموعی لاگت میں اس کا تعاون10.61 لاکھ کروڑ روپے (26 فیصد) ہے، جو قومی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اس کے مرکزی رول کو ظاہر کرتا ہے۔
- وزارتِ ریلوے 244 منصوبوں (13 فیصد) پر عمل درآمد کر رہی ہے اور مجموعی نظرِ ثانی شدہ لاگت میں 8.37 لاکھ کروڑ روپے (20 فیصد) کے ساتھ سب سے بڑا حصہ ہے۔
- وزارتِ کوئلہ 127 منصوبوں (6 فیصد) پر کام کر رہی ہے، جن کی نظرِ ثانی شدہ مجموعی لاگت 2.46 لاکھ کروڑ روپے (6 فیصد) ہے۔
- وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس، وزارتِ توانائی، وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور اور محکمہ آبی وسائل، دریائی ترقی و گنگا تحفظ بالترتیب 108، 98، 53 اور 49 منصوبوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں، جن کی نظرِ ثانی شدہ لاگت بالترتیب 5.11 لاکھ کروڑ روپے، 5.14 لاکھ کروڑ روپے، 3.6 لاکھ کروڑ روپے اور 2.26 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
- باقی 142 منصوبے (7 فیصد)، جن کی مجموعی نظرِ ثانی شدہ لاگت 3.96 لاکھ کروڑ روپے (10 فیصد) ہے، مختلف وزارتوں/محکموں میں تقسیم ہیں، جن میں اعلیٰ تعلیم، شہری ہوا بازی، فولاد، ٹیلی کمیونیکیشن، محنت و روزگار، بندرگاہیں، جہازرانی و آبی گذرگاہیں، صحت و خاندانی بہبود، کان کنی، ڈی پی آئی آئی ٹی، اور کھیل شامل ہیں۔
(ضمیمہ اول ملاحظہ کریں)

3۔ شعبہ وار (محکمہ اقتصادی امور کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ کے مطابق) بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت
- نقل و حمل اور لاجسٹکس کا شعبہ بدستور غالب ہے، جو 1,428 منصوبوں (کل منصوبوں کا 73 فیصد) کے ساتھ مجموعی نظرِ ثانی شدہ لاگت کے 55 فیصد (22.66 لاکھ کروڑ روپے) پر مشتمل ہے، جو اقتصادی انضمام اور لاجسٹکس کی کارکردگی میں سڑکوں و شاہراہوں، ریلوے، ہوابازی، شہری عوامی نقل و حمل، جہازرانی اور اندرونی آبی گذرگاہوں کے مرکزی رول کو ظاہر کرتا ہے۔
- اس کے بعدتوانائی کا شعبہ آتا ہے، جہاں 212 منصوبوں کے ساتھ مجموعی نظرِ ثانی شدہ لاگت کا 26 فیصد (10.79 لاکھ کروڑ روپے) شامل ہے، جو تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے، بجلی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم کے نیٹ ورکس اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
- مواصلاتی بنیادی ڈھانچہ، 12 منصوبوں پر مشتمل 2.73 لاکھ کروڑ روپے (7 فیصد) کی نظرِ ثانی شدہ لاگت کے ساتھ، ڈیجیٹل رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے مخصوص اقدامات کی نمائندگی کرتا ہے۔
- پانی اور صفائی ستھرائی کے منصوبے 71 منصوبوں کے ساتھ 2.31 لاکھ کروڑ روپے (5 فیصد) پر مشتمل ہیں، جو شہری بنیادی خدمات پر مسلسل توجہ کو ظاہر کرتے ہیں۔
- سماجی اور تجارتی بنیادی ڈھانچہ، جس میں 73 منصوبے شامل ہیں اور جن کی نظرِ ثانی شدہ لاگت 0.79 لاکھ کروڑ روپے (2 فیصد) ہے، تعلیم، صحت، رئیل اسٹیٹ، سیاحت، ہوٹل کی صنعت اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں منتخب سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔
- ’’دیگر‘‘ کے زمرے میں شامل منصوبے، جو 145 منصوبوں پر مشتمل 2.20 لاکھ کروڑ روپے (5 فیصد) ہیں، کوئلہ، فولاد، دھاتوں اور کان کنی جیسے شعبوں میں تنوع کی نشاندہی کرتے ہیں۔
(ضمیمہ دوم ملاحظہ کریں)

4۔ مکمل شدہ منصوبے اور نئی شمولیات
مارچ 2026 کے دوران 25 منصوبے مکمل کیے گئے، جن میں سڑک نقل و حمل و شاہراہیں، پیٹرولیم و قدرتی گیس، ہاؤسنگ و شہری امور، ریلوے، توانائی، بندرگاہیں، جہازرانی و آبی گذرگاہیں، ٹیلی مواصلات، فولاد اور محنت و روزگار کے شعبوں کے اہم اثاثے شامل ہیں۔ نمایاں مکمل شدہ منصوبوں میں وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور کا ’’دہلی-غازی آباد-میرٹھ علاقائی تیز رفتار ٹرانزٹ نظام (آر آر ٹی ایس) کاریڈور‘‘ (30,274 کروڑ روپے) اور وزارتِ توانائی کا ’’ٹہری پمپڈ اسٹوریج پلانٹ منصوبہ (4×250 میگاواٹ)‘‘ (8,339 کروڑ روپے) شامل ہیں۔
مارچ 2026 کے دوران سڑک نقل و حمل و شاہراہوکی وزارت کے مزید 12 منصوبوں کو بھی ’’پیمانہ‘‘ پلیٹ فارم کی نگرانی میں شامل کیا گیا۔
5۔ اگلی پریس ریلیز کی تاریخ
اپریل 2026 کے ماہانہ فلیش رپورٹ کو 25 مئی 2026 کو جاری کیا جائے گا۔
نوٹ
- یہ پریس ریلیز وزارتِ شماریات و پروگرام عمل درآمد کی فلیش رپورٹ (مارچ 2026) برائے مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے (150 کروڑ روپے اور اس سے زائد) کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کرتی ہے، جو https://www.ipm.mospi.gov.in/ پر یا کیو آر کوڈ کے ذریعے دستیاب ہے۔

- ’’پیمانہ‘‘ (پی اے آئی ایم اے این اے)ایک مرکزی ویب پر مبنی پورٹل ہے جو 150 کروڑ روپے اور اس سے زائد مالیت کے مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ ’’ایک ڈیٹا، ایک اندراج‘‘ کے اصول پر کام کرتا ہے اور ڈی پی آئی آئی ٹی کے آئی پی ایم پی پورٹل کے ساتھ اے پی آئیز کے ذریعے منسلک ہو کر مختلف وزارتوں/محکموں سے 70 فیصد سے زائد منصوبہ جاتی ڈیٹا کو خودکار طور پر اپ ڈیٹ کرتا ہے۔’’پیمانہ‘‘ ایک قومی ذخیرہ معلومات کے طور پر بھی کام کرتا ہے، جس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کو معیاری بنانا اور قوم کی تعمیر کے لیے باخبر فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
ضمیمہ1-
مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی وزارتوں/محکموں کے لحاظ سے پیش رفت
|
نمبر شمار
|
وزارت/محکمہ
|
پروجیکٹ کا شمار
|
نظر ثانی شدہ لاگت (روپے لاکھ کروڑ)
|
مجموعی اخراجات (روپے لاکھ کروڑ)
|
|
1
|
سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
|
1120
|
10.61
|
3.52
|
|
2
|
وزارت ریلوے
|
244
|
8.37
|
5.69
|
|
3
|
وزارت کوئلہ
|
127
|
2.46
|
0.80
|
|
4
|
پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
|
108
|
5.11
|
2.99
|
|
5
|
وزارت بجلی
|
98
|
5.14
|
1.94
|
|
6
|
ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت
|
53
|
3.60
|
1.98
|
|
7
|
محکمہ آبی وسائل، دریا کی ترقی اور جی آر
|
49
|
2.26
|
1.61
|
|
8
|
محکمہ اعلیٰ تعلیم
|
29
|
0.14
|
0.08
|
|
9
|
شہری ہوا بازی کی وزارت
|
26
|
0.23
|
0.11
|
|
10
|
صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
|
23
|
0.21
|
0.08
|
|
11
|
وزارت اسٹیل
|
19
|
0.23
|
0.10
|
|
12
|
وزارت محنت اور روزگار
|
12
|
0.03
|
0.02
|
|
13
|
ٹیلی مواصلات کامحکمہ
|
12
|
2.73
|
0.77
|
|
14
|
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت
|
11
|
0.22
|
0.15
|
|
15
|
کانوں کی وزارت
|
6
|
0.10
|
0.07
|
|
16
|
شعبہ برائے فروغ صنعت اور اندرونی تجارت
|
3
|
0.05
|
0.01
|
|
17
|
محکمہ کھیل
|
1
|
0.01
|
0.01
|
|
|
کل
|
1941
|
41.50
|
19.93
|
ضمیمہII-
مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی شعبہ وار پیش رفت (محکمۂ اقتصادی امور کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ کے مطابق)
|
نمبر شمار
|
ایچ ایم ایل زمرہ
|
پروجیکٹ کا شمار
|
نظر ثانی شدہ لاگت (روپے لاکھ کروڑ)
|
مجموعی اخراجات
(روپے لاکھ کروڑ)
|
|
1
|
ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس
|
1428
|
22.66
|
11.28
|
|
2
|
توانائی
|
212
|
10.79
|
5.21
|
|
3
|
پانی اور صفائی
|
71
|
2.31
|
1.65
|
|
4
|
مواصلات
|
12
|
2.73
|
0.77
|
|
5
|
سماجی اور تجارتی
|
73
|
0.79
|
0.34
|
|
6
|
دیگر
|
145
|
2.21
|
0.67
|
|
|
کل
|
1941
|
41.50
|
19.93
|
******
( ش ح ۔ ش ب ۔ م ا )
Urdu.No-6276
(ریلیز آئی ڈی: 2255356)
وزیٹر کاؤنٹر : 13