بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کاارتقاء

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 MAR 2026 4:16PM by PIB Delhi

بجلی کے وزیرِ مملکت جناب شریپاد نائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ بھارت سرکار نے سال 2030 تک غیر زیرزمین ایندھن پر مبنی ذرائع سے 500 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس میں شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کا بڑا حصہ شامل ہوگا۔ یہ دونوں ذرائع اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر مستقل اور متغیر ہوتے ہیں۔

اس قسم کے متغیر اور غیر مستقل قابلِ تجدید توانائی (آر ای) ذرائع کو نظامِ توانائی میں مؤثر طور پر شامل کرنے کے لیے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (ای ایس ایس) کی تعیناتی ناگزیر ہے، تاکہ زیادہ پیداوار کے اوقات میں اضافی توانائی محفوظ کی جا سکے اور پورے دن یعنی چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ یہ نظام معاون خدمات جیسے فریکوئنسی ریگولیشن، وولٹیج کنٹرول اور بلیک اسٹارٹ کی صلاحیت بھی فراہم کر سکتا ہے۔ بجلی کی مرکزی اتھارٹی (سی ای اے) کی جانب سے جاری کردہ قومی بجلی پلان (2023) کے مطابق، 2030 تک 208 جی ڈبلیو ایچ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) کی ضرورت متوقع ہے تاکہ گرڈ میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے حصے کو بخوبی شامل کیا جا سکے۔

اس توانائی منتقلی کی مدد کے لیے حکومتِ ہند نے مربوط پالیسی، انضباطی، مانگ پر مبنی اور رسدی اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، جن کا مقصد توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیز خصوصاً بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی ترقی اور نفاذ کو فروغ دینا ہے۔ ان اقدامات کی تفصیلات ضمیمہ-1 میں فراہم کی گئی ہیں۔

وزارت کے پاس موجود معلومات کے مطابق، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں موجودہ بی ای ایس ایس صلاحیت (1 ایم ڈبلیو ایچ سے زیادہ کے پروجیکٹوں کے لیے) کی تفصیلات ضمیمہ-2 میں دی گئی ہیں۔ مزید برآں، اس وقت 35.8 جی ڈبلیو ایچ بی ای ایس ایس صلاحیت پر کام جاری ہے۔

ضمیمہ-I

  1. پالیسی اور انضباطی اقدامات
  1. بجلی کے ضابطوں میں دسمبر 2022 میں ترمیم کی گئی، جس کے ذریعے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (ای ایس ایس) کو واضح طور پر بجلی کے نظام کا ایک لازمی حصہ تسلیم کیا گیا، جس سے انہیں بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے تمام شعبوں میں شرکت کی اجازت حاصل ہوئی۔
  2. اکتوبر 2022 میں انرجی اسٹوریج سسٹمز کو وزارتِ خزانہ کی بنیادی ڈھانچے کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ میں شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان پروجیکٹوں کے لیے طویل مدتی اور کفایتی مالی سہولتوں تک رسائی ممکن ہوئی۔
  3. جون 2023 میں حکومت نے ریاستی کمپنیوں/اداروں کے لیے وافرمقدار میں وسائل کے منصوبوں کی تیاری کے لیے رہنما خطوط جاری کیے، جن کے تحت توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کوبہت زیادہ مانگ کو پورا کرنے اور نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک کلیدی منصوبہ بندی وسائل کے طور پر شامل کیا گیا۔
  4. ستمبر 2023 میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے فروغ کے لیے ایک قومی فریم ورک جاری کیا گیا، جس میں اسٹوریج ٹیکنالوجیز کی تعیناتی، مارکیٹ میں شمولیت اور ریگولیٹری سہولت کاری کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کیا گیا۔
  5. بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) کی تنصیب میں حفاظت اور قابلِ اعتماد کارکردگی کو بہتر بنانے اور ڈیزائن و تعمیر کے معیارات کو یکساں بنانے کے لیے، مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) کے تحت ڈرافٹ سی ای اے (سیفٹی اور الیکٹرک سپلائی سے متعلق اقدامات) (پہلی ترمیم) ضوابط، 2025 اور بی ای ایس ایس کی تعمیر کے لیے تکنیکی معیارات سے متعلق ضابطوں کے مسودے، 2025 جاری کیے گئے ہیں۔
  1. بہت زیادہ مانگ کے سلسلے میں معاون اقدامات اور مارکیٹ کی ترقی کے اقدامات
  1. بین ریاستی بجلی ترسیل نظام (آئی ایس ٹی ایس) کے چارجز میں چھوٹ فراہم کی گئی ہے، جو ان بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) پروجیکٹوں پر لاگو ہوگی جو ایک ہی مقام پر نصب ہوں اور جون 2028 تک مکمل طور پر فعال کیے جائیں، تاکہ پروجیکٹوں کے اقتصادی امکانات کو بہتر بنایا جا سکے۔
  2. جنوری 2022 میں مرکزی بجلی انضباطی کمیشن (سی ای آر سی) نے اسٹوریج پر مبنی وسائل کو معاون خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی، جن میں دوسرے اور تیسرے سطح کے ریزروز شامل ہیں، جس سے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو روایتی بجلی پیدا کرنے والے ذرائع کے ساتھ بر وقت گرڈ توازن سازی میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔
  3. مارچ 2022 میں بجلی کی تقسیم کے لائسنس یافتہ اداروں کے ذریعے بی ای ایس ایس کی خریداری کے لیے ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی (ٹی بی سی بی) کے رہنما اصول جاری کیے گئے، جس سے بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کی خریداری کے لیے ایک شفاف نظام قائم ہوا۔
  4. بجلی (صارفین کے حقوق) قواعدوضوابط، 2020 میں دسمبر 2022 کی ترمیم کے تحت، ایسے صارفین جو ڈیزل جنریٹر سیٹ استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ مقررہ وقت کے اندر ماحولیات کے لئے سازگار متبادل ذرائع، بشمول توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، کی طرف منتقل ہوں، جیسا کہ ریاستی کمیشنز نے طے کیا ہے۔
  5. مارچ 2023 میں شروع کیے گئے اعلیٰ قمیت کے حامل آگے انے والے دن اور مارکیٹ میں بی ای ایس ایس سے حاصل ہونے والی بجلی کو بھی حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے اسٹوریج نظام کو گیس پر مبنی پیداوار کی اعلیٰ قیمت والے اوقات میں مارکیٹ کے اشاروں پر ردِعمل دینے کا موقع ملا۔
  6. حکومت دو وائبلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) اسکیموں کونافذ کر رہی ہے، جن کے تحت تقریباً 43 جی ڈبلیو ایچ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی ترقی کو سہارا دیا جا رہا ہے۔ یہ اسکیمیں مارچ 2024 اور جون 2025 میں شروع کی گئیں تاکہ ابتدائی مرحلے میں ان پروجیکٹوں کی تیز رفتار تعیناتی کو ممکن بنایا جا سکے۔
  1. رسدکی طرف اور مینوفیکچرنگ سے متعلق اقدامات
  1. بھاری صنعتوں کی وزارت پیداور سے منسلک ترغیب (پی ایل آئی) اسکیم نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت 18,100 کروڑ روپے کے اخراجات سے 50 جی ڈبلیو ایچ کی جدید کیمیکل سیل مینوفیکچرنگ صلاحیت قائم کی جا رہی ہے، جس میں سے 10 جی ڈبلیو ایچ گرڈ اسکیل اسٹوریج کے لیے مختص ہے۔
  2. مرکزی بجلی انضباطی کمیشن (سی ای آر سی) نے غیر شمسی اوقات میں علیحدہ گرڈ کنیکٹیویٹی کی اجازت دی ہے، جس کے ذریعے موجودہ ذیلی اسٹیشنوں پر اضافی قابلِ تجدید توانائی شامل کی جا سکتی ہے اور توانائی کو ذخیرہ کر کے شام اور رات کے اوقات میں منتقل کرنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
  3. ستمبر 2025 میں بجلی سے متعلق قواعد وضوابط میں ترمیم کے ذریعے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو صارفین کی جانب سے تیار کرنے، ملکیت رکھنے، لیز پر لینے یا آپریٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ملکیت اور کاروباری ماڈلز کی ایک وسیع اقسام متعارف ہوئی ہیں۔
  4. فروری 2025 میں مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) نے شمسی توانائی کے پروجیکٹوں کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (ای ایس ایس) کی مشترکہ تنصیب کے حوالے سے ایک مشاورتی ہدایت جاری کی، جس میں سفارش کی گئی کہ شمسی پروجیکٹوں کی نصب شدہ صلاحیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر بیٹری اسٹوریج شامل کی جائے، جس کی مدت کم از کم دو گھنٹے ہو، تاکہ شمسی توانائی کی ترسیل اور استعمال کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکے۔

ضمیمہ-II

ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لحاظ سے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی تفصیلات (1 ایم ڈبلیوایچ سے زیادہ صلاحیت)

ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ

صلاحیت (ایم ڈبلیو ایچ میں)

انڈمان و نکوبارجزائر

08

بہار

282

چھتیس گڑھ

120

دہلی

50

گجرات

77

کرناٹک

150

لکشدیپ

01

راجستھان

100

اتر پردیش

03

مغربی بنگال

06

کل

798

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

******

 

( ش ح ۔ م ع ۔ م ا )

Urdu.No-6170


(ریلیز آئی ڈی: 2254518) وزیٹر کاؤنٹر : 29
یہ ریلیز پڑھیں: English