شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر نے نیشنل اسٹیٹسٹیکل سسٹمز ٹریننگ اکیڈمی میں آئی ایس ایس کے 2024، 2025 اور 2026 بیچز کے زیر تربیت افسران کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 APR 2026 9:14PM by PIB Delhi
ڈائریکٹر، لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر جناب سری رام ترانیکانتی نے آج (18 اپریل 2026) نیشنل اسٹیٹسٹیکل سسٹمز ٹریننگ اکیڈمی میں انڈین اسٹیٹسٹیکل سروس کے 2024، 2025 اور 2026 بیچز کے زیر تربیت افسران(او ٹیز) کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
جناب آر راجیش، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، کیپیسٹی ڈیولپمنٹ ڈویژن نے ڈائریکٹر کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے مصروف شیڈول میں سے قیمتی وقت نکالا اور مسوری سے یہاں آ کر آئی ایس ایس کے زیر تربیت افسران سے خطاب کیا، جو نوجوان سرکاری ملازمین تک پہنچنے اور انہیں متاثر کرنے کے لیے ان کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزارت کی سینئر قیادت کی جانب سے جاری تنظیمی اصلاحات، صلاحیت سازی اور عوامی رابطہ سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے این ایس ایس ٹی اے اور ایل بی ایس این اے اے کے درمیان مزید تعاون کی امید کا بھی اظہار کیا۔
تبادلہ خیال کے دوران جناب ترانیکانتی نے عوامی خدمت کی قیادت اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مضبوط بنانے میں سرکاری ملازمین کے اہم کردار پر تفصیل سے گفتگو کی۔زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پالیسی سازی اور حکمرانی کے لیے اہم تجزیاتی معلومات اور ڈیٹا پر مبنی بصیرت فراہم کرنے میں آئی ایس ایس کے کلیدی کردار کو سراہا۔آئی ایس ایس کی خدمات کو’بے لوث‘ قرار دیتے ہوئے، جن کا اثر و رسوخ ان کے دائرہ کار سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے، انہوں نے زیر تربیت افسران کو ترغیب دی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں معمول کے انتظامی کاموں کے بجائے بنیادی شماریاتی سرگرمیوں میں مشغول رہیں۔
انہوں نے پیشہ ورانہ بہتری پرزور دیتے ہوئے زیر تربیت افسران کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کم از کم 30 فیصد کوششیں فعال طور پر جدت، نئی تجزیاتی صلاحیتوں اور تحقیق میں حصہ لینے پر صرف کریں، جبکہ اپنی تفویض کردہ ذمہ داریوں کو بھی مؤثر طریقے سے انجام دیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خود کے اندر مسلسل بہتری مؤثر عوامی خدمت کی کلید ہے۔
سرکاری ملازمین کی بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب ترانیکانتی نے‘ہمیشہ پرامید رہنے‘ (یعنی کریئر میں ترقی کے ساتھ ساتھ مزید جوش و جذبہ برقرار رکھنے)، ہمدردی کو قائم رکھنے اور حکمرانی میں شہریوں پر مرکوز طرز عمل اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر قیادت کے لیے فیصلہ سازی میں وضاحت، ٹیموں کو متحرک کرنے کی صلاحیت اور مشکل انتظامی حالات میں استقامت ضروری ہے۔
انہوں نے شماریات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے زیر تربیت افسران کو تلقین کی کہ وہ اپنی فیلڈ پوسٹنگ کے دوران حکومت کے نظام میں زمینی سطح پر شماریاتی سوچ اور ذہنیت کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی معاشرے تک بھی اس کا دائرہ وسیع کریں۔ انہوں نےزیر تربیت افسران کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ضلع/مقامی انتظامیہ اور فیلڈ سطح کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کے ذریعےمعمول کی شماریاتی مشقوں جیسے سروے کو وسیع تر ادارہ جاتی مشغولیت کے مواقع میں تبدیل کریں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عوامی خدمت کو رسمی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر بڑے مفاد کے لیے کام کرنے اور وکست بھارت کے وژن کے حصول کے عزم پر مبنی ہونا چاہیے، انہوں نے زیر تربیت افسران کو اپنی زندگی میں کرم یوگی اور استھت پرگ کے طرز عمل کواختیار کرنے کا مشورہ دیا۔
گفتگو کے بعد ایک پرجوش اور تفصیلی سوال و جواب کا سیشن ہوا جو لنچ کے دوران بھی جاری رہا، جس میں انہوں نے مختلف عملی مثالوں کے ذریعے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے اور وضاحت کی۔
ایل بی ایس این اے اے کے ڈائریکٹر کے ساتھ یہ وسیع تبادلۂ خیال زیر تربیت افسران کے لیے انتہائی قیمتی اور معلوماتی ثابت ہوا۔ اس نے شواہد پر مبنی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے اعتبار، قیادت کی خصوصیات اور شہری مرکزیت پر مبنی اقدار کو یکجا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
******
ش ح ۔م ع ن۔ع ن
U. No.6054
(ریلیز آئی ڈی: 2253658)
وزیٹر کاؤنٹر : 6