ریلوے کی وزارت
کابینہ نے اتر پردیش اور آندھرا پردیش کی ریاستوں کے 15 اضلاع کا احاطہ کرنے والے دو ملٹی ٹریکنگ منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جس سے بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 601 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا
ان منصوبوں کی کل تخمینہ لاگت 24,815 کروڑ روپے ہے جنہیں 2030-31 تک مکمل کیا جائے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 APR 2026 3:21PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے آج وزارت ریلوے کے 02 (دو) منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جن کی کل لاگت تقریباً 24,815 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں میں شامل ہیں:
|
منصوبے کا نام
|
روٹ کی لمبائی (کلومیٹر میں)
|
ٹریک کی لمبائی (کلومیٹر میں
|
تکمیل کی لاگت (کروڑ میں روپے)
|
|
غازی آباد - سیتا پور تیسری اور چوتھی لائن
|
403
|
859
|
14,926
|
|
راجمندری (نیڈاداولو) - وشاکھاپٹنم (دوواڈا) تیسری اور چوتھی لائنیں
|
198
|
458
|
9,889
|
|
کُل
|
601
|
1,317
|
24,815
|
لائن کی گنجائش میں اضافہ نقل و حرکت کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا، جس کے نتیجے میں بھارتی ریلوے کی آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی بھروسے مندی میں بہتری آئے گی۔ یہ ملٹی ٹریکنگ تجاویز آپریشن کو ہموار بنانے اور بھیڑ بھاڑ کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ یہ منصوبے وزیر اعظم جناب نریند مودی کے ”نئے بھارت“ کے وژن کے مطابق ہیں، جو خطے کے لوگوں کو جامع ترقی کے ذریعے ”آتم نربھر“خود کفیل بنائیں گے اور روزگار و خود روزگار کے مواقع میں اضافہ کریں گے۔
یہ منصوبے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے ہیں، جن میں مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کے ذریعے ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی اور لاجسٹک کی کارکردگی بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ منصوبے افراد، اشیا اور خدمات کی نقل و حرکت کے لیے بغیر رکاوٹ رابطہ فراہم کریں گے۔
یہ 02 (دو) منصوبے، جو اتر پردیش اور آندھرا پردیش کے 15 اضلاع کا احاطہ کرتے ہیں، بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 601 کلومیٹر کا اضافہ کریں گے۔
مجوزہ گنجائش میں اضافہ ملک بھر کے کئی اہم سیاحتی مقامات تک ریل رابطے کو بہتر بنائے گا، جن میں دودھیشورناتھ مندر، گڑھ مکتیشور گنگا گھاٹ، درگاہ شاہ ولایت جامع مسجد (امروہہ)، نیمش رانے (سیتاپور)، اناوارم، انترویدی، درکش رامم وغیرہ شامل ہیں۔
یہ مجوزہ منصوبے کوئلہ، اناج، سیمنٹ، پی او ایل (پٹرولیم مصنوعات)، لوہا و اسٹیل، کنٹینر، کھاد، چینی، کیمیائی نمکیات، چونا پتھر وغیرہ جیسی اشیا کی ترسیل کے لیے اہم راستے ہیں۔ ریلوے ایک ماحول دوست اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ذریعہ نقل و حمل ہونے کے باعث ماحولیاتی اہداف کے حصول میں مدد دے گی اور ملک کے لاجسٹک اخراجات کو کم کرے گی، جس سے کاربن کے اخراج (180.31 کروڑ کلوگرام) میں کمی آئے گی، جو تقریباً 7.33 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے۔
غازی آباد – سیتاپور تیسری اور چوتھی لائن (403 کلومیٹر)
- غازی آباد – سیتاپور ایک موجودہ ڈبل لائن سیکشن ہے جو دہلی–گوہاٹی ہائی ڈینسٹی نیٹ ورک (ایچ ڈی این 4) کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ منصوبہ ملک کے شمالی اور مشرقی خطوں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
- اس سیکشن کی موجودہ لائن گنجائش کا استعمال 168 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور اگر یہ منصوبہ شروع نہ کیا گیا تو یہ 207 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
- یہ منصوبہ اتر پردیش کے اضلاع غازی آباد، ہاپوڑ، امروہہ، مرادآباد، رامپور، بریلی، شاہجہاں پور، لکھیم پور کھیری اور سیتا پور سے گزرتا ہے۔
- منصوبے کا روٹ بڑے صنعتی مراکز سے بھی گزرتا ہے، جن میں غازی آباد (مشینری، الیکٹرانکس، فارماسیوٹیکل)، مرادآباد (پیتل کے برتن اور دستکاری)، بریلی (فرنیچر، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ)، شاہجہاں پور (قالین اور سیمنٹ سے متعلق صنعتیں) اور روضہ (تھرمل پاور پلانٹ) شامل ہیں۔
- بغیر رکاوٹ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے، منصوبے کی ترتیب اس طرح تیار کی گئی ہے کہ ہاپوڑ، سمباولی، مرادآباد، رام پور، بھرتیلی، شاہجہاں پور اور سیتا پور جیسے مصروف اسٹیشنوں کو بائی پاس کیا جائے، اور ان بائی پاس حصوں پر چھ نئے اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
- منصوبے کے قریب اہم سیاحتی و مذہبی مقامات میں دودھیشورناتھ مندر، گڑھ مکتیشور گنگا گھاٹ، درگاہ شاہ ولایت جامع مسجد (امروہہ) اور نیمش رانے (سیتاپور) شامل ہیں۔
- متوقع اضافی مال برداری ٹریفک 35.72 ایم ٹی پی اے ہوگی، جس میں کوئلہ، اناج، کیمیائی کھادیں، تیار شدہ اسٹیل وغیرہ شامل ہیں۔
- تخمینی لاگت: تقریباً 14,926 کروڑ روپے
- روزگار کے مواقع: 274 لاکھ انسانی دن
- کاربن اخراج میں کمی: تقریباً 128.77 کروڑ کلوگرام CO2 (جو 5.15 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے)
- لاجسٹکس لاگت میں بچت: سڑک کے مقابلے میں ہر سال تقریباً 2,877.46 کروڑ روپے
غازی آباد – سیتاپور تیسری اور چوتھی لائن (403 کلومیٹر)
راجمندری (نیداداوولو) – وشاکھاپٹنم (دوواڈا) تیسری اور چوتھی لائن (198 کلومیٹر)
- راجمندری (نیداداوولو) – وشاکھاپٹنم (دوواڈا) سیکشن ہاوڑہ – چنئی ہائی ڈینسٹی نیٹ ورک (ایچ ڈی این) کا ایک اہم حصہ ہے۔ مجوزہ منصوبہ اسی روٹ کی چار گنا توسیع کے اقدام کا حصہ ہے۔
- یہ منصوبہ آندھرا پردیش کے اضلاع مشرقی گوداوری، کونسیما، کاکیناڈا، اناکاپلی اور وشاکھاپٹنم سے گزرتا ہے۔
- وشاکھاپٹنم کو حکومت کے خواہش مند اضلاع پروگرام کے تحت ایک نمایاں ضلع قرار دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ مشرقی ساحل کے اہم بندرگاہوں جیسے وشاکھاپٹنم بندرگاہ، گنگاوارم بندرگاہ، مچلی پٹنم بندرگاہ اور کاکیناڈا بندرگاہ سے رابطہ فراہم کرتا ہے۔
- یہ روٹ مشرقی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور ایسٹ کوسٹ ریل کوریڈور کے مصروف ترین، بالخصوص مال برداری پر مبنی حصوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سیکشن کی لائن گنجائش کا استعمال پہلے ہی 130 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے اکثر بھیڑ اور آپریشنل تاخیر ہوتی ہے۔ بندرگاہوں اور صنعتوں کی مجوزہ توسیع کے باعث مستقبل میں اس گنجائش میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
- اس منصوبے میں گوداوری ندی پر 4.3 کلومیٹر طویل ریلوے پل، 2.67 کلومیٹر طویل وایاڈکٹ، 3 بائی پاس شامل ہیں، جبکہ نئی لائن موجودہ روٹ سے تقریباً 8 کلومیٹر کم ہوگی، جس سے رابطہ اور آپریشنل کارکردگی بہتر ہوگی۔
- یہ مجوزہ سیکشن سیاحت کو بھی فروغ دے گا کیونکہ اس سے اہم مقامات جیسے اناوارم، انترویدی، اور درکشا رامم تک رسائی بہتر ہوگی۔
- متوقع اضافی مال برداری ٹریفک 29.04 ایم ٹی پی اے ہوگی، جس میں کوئلہ، سیمنٹ، کیمیائی کھادیں، لوہا و اسٹیل، اناج، کنٹینر، باکسائٹ، جپسم، چونا پتھر وغیرہ شامل ہیں۔
- تخمینی لاگت: تقریباً 9,889 کروڑ روپے
- روزگار کے مواقع: 135 لاکھ انسانی دن
- کاربن اخراج میں کمی: تقریباً 51.49 کروڑ کلوگرام CO2 (جو 2.06 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے)
- لاجسٹکس لاگت میں بچت: سڑک کے مقابلے میں ہر سال تقریباً 1,150.56 کروڑ روپے
اقتصادی عطائے اختیار:
- ترقیاتی اضلاع — وشاکھاپٹنم ضلع کو بہتر رابطہ حاصل ہوگا۔
- سیاحت اور صنعتوں کے ذریعے خطے میں اضافی معاشی مواقع پیدا ہوں گے۔
- ریل رابطے میں بہتری کے باعث شہریوں کو صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
راجمندری (نیداداوولو) – وشاکھاپٹنم (دوواڈا) تیسری اور چوتھی لائن (198 کلومیٹر)
وزیر اعظم کا ریلوے پر فوکس:
- مالی سال 26-27 کے لیے 2,65,000 کروڑ روپے کا ریکارڈ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
- 1600 سے زائد لوکوموٹیو (انجن) کی تیاری— پیداوار کے لحاظ سے امریکہ اور یورپ کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔
- مالی سال 2026 میں بھارتی ریلوے کے عالمی سطح پر سرفہرست تین مال بردار اداروں میں شامل ہونے کی توقع ہے، جو 1.6 ارب ٹن کارگو کی نقل و حمل کرے گا۔
- بھارت نے میٹرو کوچ آسٹریلیا کو برآمد کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ بوگیاں برطانیہ، سعودی عرب، فرانس اور آسٹریلیا کو برآمد کی جا رہی ہیں۔
**********
ش ح۔ ف ش ع
U: 6014
(ریلیز آئی ڈی: 2253315)
وزیٹر کاؤنٹر : 5