کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارتِ کوئلہ نے توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت کی؛ کلیدی   فریقوں  کے ساتھ مشاورتی  میٹنگ  کی اور کمرشل کوئلہ کانوں کی پندرہویں نیلامی کا آغاز کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 APR 2026 6:00PM by PIB Delhi

وزارتِ کوئلہ نے آج ‘آتم نربھر بھارت: توانائی کے تحفظ کے لیے کوئلہ’ کے موضوع پر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورتی نشست منعقد کی، جس کے ساتھ ہی کمرشل کوئلہ کانوں کی پندرہویں نیلامی کا آغاز بھی کیا گیا۔ یہ اقدام بھارت کی توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے اور کوئلہ کے شعبے میں خود کفالت کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس روز بھر جاری رہنے والی مشاورت میں پالیسی سازوں، صنعت کے رہنماؤں، تعلیمی ماہرین، ماہرین  اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی، جہاں اصلاحات، تکنیکی ترقی، کوئلہ کی گیس کاری، پائیداری اور جامع ترقی جیسے موضوعات پر غور و خوض کیا گیا، جو بھارت کے کوئلہ شعبے کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اس موقع پر وزارتِ کوئلہ کے سیکریٹری، جناب وکرم دیو دت نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ محترمہ روپندر برار، ایڈیشنل سیکریٹری اور نامزد اتھارٹی؛ جناب سجیش کمار این، کوئلہ کنٹرولر؛ وزارت کے اعلیٰ عہدیداران؛ صنعت کے قائدین؛ اور کوئلہ کے شعبے سے وابستہ اہم اسٹیک ہولڈرز بھی اس تقریب میں موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0010MQ6.jpg

جناب وکرم دیو دت، سیکریٹری وزارتِ کوئلہ نے کمرشل کوئلہ کانوں کی پندرہویں نیلامی کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس مرحلے میں مجموعی طور پر 11 کوئلہ بلاکس پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 7 مکمل طور پر دریافت شدہ اور 4 جزوی طور پر دریافت شدہ کانیں شامل ہیں۔ ان میں سے 3 کانیں کوئلہ کانیں (خصوصی دفعات) ایکٹ 2015 (سی ایم ایس پی) کے تحت جبکہ 8 کانیں معدنیات و کانکنی (ترقی و ضابطہ) ایکٹ 1957(ایم ایم ڈی آر) کے تحت پیش کی جا رہی ہیں۔ ان میں 1 کوکنگ کوئلہ بلاک شامل ہے جبکہ باقی 10 نان کوکنگ کوئلہ بلاکس ہیں، جو اسٹیل اور توانائی جیسے اہم شعبوں کی ضروریات کو پورا کریں گے۔ اس کے علاوہ، 13ویں مرحلے کی دوسری کوشش کے تحت مزید 6 کوئلہ کانیں بھی پیش کی جا رہی ہیں۔

نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی یہ کانیں جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، اڈیشہ، مدھیہ پردیش اور تلنگانہ جیسی کوئلہ/لگنائٹ پیدا کرنے والی ریاستوں میں واقع ہیں، اور توقع ہے کہ یہ خاطر خواہ سرمایہ کاری کو راغب کریں گی، ملک میں کوئلہ کی دستیابی میں اضافہ کریں گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گی۔

اب تک وزارتِ کوئلہ 13 مراحل میں کمرشل کوئلہ کانوں کی نیلامی کے ذریعے کامیابی سے 135 کانیں نیلام کر چکی ہے، جن کی مجموعی زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت تقریباً 325 ملین ٹن سالانہ(ایم ٹی پی اے) ہے، جو بھارت کی کوئلہ صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مضبوط پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0020O59.jpg

جناب وکرم دیو دت، سیکریٹری وزارتِ کوئلہ نے اپنے کلیدی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ کوئلہ کے شعبے میں کی جانے والی ساختی اصلاحات وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے عین مطابق ہیں، جن میں شفافیت، کارکردگی اور اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے پر مسلسل توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2020 میں کمرشل کوئلہ کانکنی کے فریم ورک کے نفاذ نے اس شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی، جس سے مسابقت میں اضافہ ہوا، نجی شعبے کی شرکت بڑھی اور ملکی صنعتوں کے لیے کوئلہ کی دستیابی میں بہتری آئی۔ انہوں نے حاصل شدہ پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فریم ورک کے تحت قابلِ ذکر نتائج سامنے آئے ہیں، جن میں نیلام کی جانے والی کانوں کی تعداد میں اضافہ، سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی اور مقامی سپلائی چینز کا مضبوط ہونا شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ہر نئے مرحلے میں نیلامی میں شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے، جو اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد میں اضافے کی علامت ہے۔ انہوں نے حکومتی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور صنعت سے وابستہ فریقین کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے طریقہ کار کی رکاوٹوں کو کم کرنا، ضابطہ جاتی عمل کو آسان بنانا اور ایک سازگار ماحول پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشترکہ کوششیں کوئلہ کی پیداوار کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گی اور ملک کی اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔

جناب دت نے مزید وضاحت کی کہ وزارت کے عزم میں پائیداری، سماجی فلاح اور تکنیکی ترقی جیسے کئی پہلو شامل ہیں۔ انہوں نے  استعمال کے بعدسائنسی طریقے سے  کانوں  کوبندکرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ استعمال شدہ کانوں کو ایسے فعال اور خوشحال علاقوں میں تبدیل کیا جانا چاہیے جو ایک متوازن ماحولیاتی نظام کو فروغ دیں، تاکہ ماحولیاتی بحالی کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور طویل مدتی سماجی استحکام بھی یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری(سی ایس آر) کے اقدامات نے کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں میں مثبت تبدیلیاں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور انہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی برادریاں خود کو ترقیاتی عمل کا حصہ محسوس کریں اور اس سے مستفید ہوں۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے انہوں نے حکومت کی جانب سے کوئلہ گیس کاری  کو ایک صاف اور مؤثر طریقہ قرار دیتے ہوئے اس کے فروغ پر زور دیا، جس کی حمایت مختلف پالیسی اقدامات جیسے وائبیلیٹی گیپ فنڈنگ کے ذریعے کی جا رہی ہے، اور یہ بھی بتایا کہ زیرِ زمین کوئلہ گیس کاری کے بلاکس پہلے ہی گزشتہ نیلامیوں میں پیش کیے جا چکے ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی جغرافیائی و سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے توانائی کے تحفظ کے لیے ملکی سطح پر کوئلہ کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ آنے والی کمرشل کوئلہ کانوں کی نیلامیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اس شعبے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں اور ایک مضبوط، جامع اور خود کفیل کوئلہ شعبے کے وژن کو مشترکہ طور پر آگے بڑھائیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003QI8M.jpg

محترمہ روپندر برار، ایڈیشنل سیکریٹری وزارتِ کوئلہ نے اپنے افتتاحی کلمات میں ایک واضح، پُرعزم اور مستقبل پر مبنی سمت متعین کی۔ انہوں نے کوئلہ کی پیداوار میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا، مگر اس کے ساتھ ایک ذمہ دارانہ نقطۂ نظر اپنانے کی بھی تلقین کی، جس میں ترقی کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کا توازن برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پائیداری کو وسعت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ کوئلہ کے شعبے میں اصلاحات کے انقلابی اثرات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے شفافیت، پالیسی کے استحکام اور کاروبار میں آسانی کو اہم عوامل قرار دیا، جو سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں، مسابقت کو فروغ دیتے ہیں اور نئی معاشی راہیں کھولتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگرچہ بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کوئلہ پیدا کرنے والا ملک ہے، لیکن اس شعبے میں مزید وسیع امکانات موجود ہیں، جو کوئلہ کو روزگار، صنعتی ترقی اور قومی توانائی کے تحفظ کا ایک طاقتور ذریعہ بناتے ہیں۔

 اختراع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کوئلہ گیس کاری کے طریقوں، چاہے سطحی ہوں یا زیرِ زمین، پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ زیرِ زمین کوئلہ گیس کاری کے لیے رہنما اصول جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی(ایم او ای ایف سی سی) نے ایسے منصوبوں کی سہولت کے لیے ٹرمز آف ریفرنس(ٹی اوآر) کا فریم ورک بھی فراہم کر دیا ہے۔ انہوں نے سائنسی بنیادوں پر کانوں کی بندش کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ کانکنی کے بعد زمین کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان علاقوں کو کمیونٹی کے لیے کارآمد اثاثوں میں تبدیل کیا جا سکے، جس سے ماحولیاتی بحالی اور طویل مدتی سماجی استحکام ممکن ہو، اور اس میں انسانی پہلوؤں اور ذمہ داری کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔ انہوں نے پورے شعبے کی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت، صنعت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون ضروری ہے تاکہ کارکردگی میں بہتری آئے، بہترین طریقۂ کار اپنائے جائیں اور پائیدار کانکنی کی ٹیکنالوجیز کو وسعت دی جا سکے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ فعال طور پر شرکت کریں، اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ کریں اور اس مشاورت کو ایک بامقصد قدم بنائیں، تاکہ ایک مضبوط، جامع اور خود کفیل کوئلہ نظام کی تشکیل ممکن ہو۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004XUAC.jpg

اس اسٹیک ہولڈر مشاورت میں کوئلہ کے شعبے کی تبدیلی کے اہم پہلوؤں پر مختلف اجلاسوں کے دوران بصیرت افروز تبادلۂ خیال کیا گیا۔ گفتگو میں ٹیکنالوجی کے استعمال، جدت اور کوئلہ گیس کاری پر زور دیا گیا تاکہ کارکردگی میں اضافہ ہو اور ویلیو ایڈیشن ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بحالی، آبادکاری، زمین کے ازسرِ نو استعمال، مزدوروں کی فلاح، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری(سی ایس آر) اور منصفانہ منتقلی جیسے اقدامات کے ذریعے جامع ترقی پر بھی توجہ دی گئی، جس میں کمیونٹیز اور تمام متعلقہ فریقین کو مرکزیت حاصل رہی۔ مزید برآں، پائیداری کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا جو ماحول دوست کانکنی کے طریقوں اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر، ان اجلاسوں نے ایک جدید، ذمہ دار، مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور خود کفیل کوئلہ شعبے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل پیش کیا۔ غور و خوض کے بعد، اجلاس کو سوال و جواب کے ایک باہمی سیشن کے لیے کھولا گیا، جس نے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر تبادلۂ خیال کے لیے ایک قیمتی پلیٹ فارم فراہم کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005C6S6.jpg

وزارتِ کوئلہ اس شعبے کو ایک مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی کوئلہ نظام کی جانب لے جا رہی ہے۔ کمرشل کوئلہ کانوں کی پندرہویں نیلامی نئے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے گی، ملکی پیداوار میں اضافہ کرے گی اور بھارت کی توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنائے گی۔ یہ اسٹیک ہولڈر مشاورت بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وزارت مسلسل رابطے، جدت اور پائیدار طریقوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ کوئلہ کا شعبہ عالمی تبدیلیوں اور قومی ترجیحات کے مطابق ترقی کرتا رہے۔

******

(ش ح۔ ف ا۔ م ا)

Urdu No-5981


(ریلیز آئی ڈی: 2253146) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी