صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ اے نے پونے میں اے بی پی ایم-جے اے وائی اور اے بی ڈی ایم کے نفاذ کا جائزہ لینے اور اسے تیز کرنے کے لیے دو روزہ ’’چنتن شیوِر‘‘ منعقد کیا


احتیاطی اور ٹیکنالوجی پر مبنی صحت کا نظام مستقبل کے صحت سسٹمز کی بنیاد ہوگا: محترمہ میگھنا ساکورے-بورڈیکر، وزیر مملکت برائے صحتِ عامہ، حکومت مہاراشٹر

این ایچ اے نے رہنما اصول، این ایچ سی ایکس حکمت عملی اور اے بی ڈی ایم انڈیکس جاری کیے تاکہ نفاذ کو مؤثر اور معیاری بنایا جا سکے

نئے اقدامات کا مقصد مستقبل کے لیے تیار صحت کے عملے کی تشکیل اور ڈیجیٹل ہیلتھ ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے

این ایچ سی ایکس ایک متحدہ صحت دعووں کے نظام کے لیے انقلابی اصلاح کے طور پر ابھر رہا ہے

ساہی اور بودھ کو اے بی ڈی ایم کے اگلے مرحلے کے لیے کلیدی معاون اقدامات قرار دیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 APR 2026 7:33PM by PIB Delhi

نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) نے، جو حکومت ہند کی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے تحت کام کرتی ہے، پونے میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے حوالے سے دو روزہ ’’چنتن شیوِر‘‘ کا انعقاد کیا۔

اس شیوِر میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی، جہاں ان اہم صحت منصوبوں کی پیش رفت کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے، ابھرتی ترجیحات پر غور کیا جا رہا ہے، اور ان کے مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومتِ مہاراشٹر کی وزیرِ مملکت برائے صحتِ عامہ محترمہ میگھنا ساکورے بورڈیکر نے احتیاطی، جامع اور ٹیکنالوجی پر مبنی صحت کے نظام کے وژن پر زور دیا۔ انہوں نے ابتدائی آگاہی اور بیماریوں کی روک تھام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے خواتین کی صحت کے شعبے میں مہاراشٹر کی توسیع پذیر پہل اور صحت کی خدمات کی فراہمی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی نمایاں کیا۔ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے لیے ریاست کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مہاراشٹر ان کے نفاذ میں نئے معیارات قائم کرے گا۔

چنتن شیوِر کے پہلے دن کئی اہم اعلانات اور حکمتِ عملی اقدامات دیکھنے میں آئے، جن کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور ہندوستان کے ڈیجیٹل صحت نظام کو فروغ دینا تھا۔

ان میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے نفاذ کو منظم اور معیاری بنانے کے لیے جامع رہنما اصولوں کا مجموعہ جاری کرنا، ایک متحد اور باہمی مربوط ہیلتھ کلیمز نظام کے لیے این ایچ سی ایکس اسٹریٹجی پیپر پیش کرنا، اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اے بی ڈی ایم کے نفاذ کے جائزے کے لیے اے بی ڈی ایم انڈیکس ریفرنس گائیڈ بک جاری کرنا شامل ہے۔

صلاحیت سازی کے ایک اہم اقدام کے طور پر این ایچ اے ڈیجیٹل ہیلتھ اکیڈمی کا آغاز کیا گیا، جو ایک قومی پلیٹ فارم کے طور پر مستقبل کے لیے تیار اور ہنرمند صحت کے عملے کی تیاری میں مدد دے گا۔

مزید برآں، تربیت، تحقیق اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے چکرا (سینٹر فار ہیلتھ اپلائیڈ نالج اینڈ ریسرچ آٹونومی) اور این اے بی ایچ کے ساتھ مفاہمت ناموں  (ایم او یوز) کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

گفتگو کے آغاز میں نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے سی ای او ڈاکٹر سنیل کمار برنوال نے مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی، جو بروقت نگرانی، ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل اور صحت اسکیموں کے مؤثر و وسیع پیمانے پر نفاذ کو ممکن بناتے ہیں۔

انہوں نے اہم حکمتِ عملی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا، جن میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال، دعووں کی خودکار جانچ (آٹو ایڈجوڈیکیشن)، جدید ڈیٹا تجزیہ، اے بی ڈی ایم کے تیز تر نفاذ اور ڈیجیٹل ہیلتھ اکیڈمی کے ذریعے مسلسل صلاحیت سازی شامل ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے، جہاں علاج پر مبنی روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر احتیاطی اور پیش گوئی پر مبنی نظام اپنایا جائے، جو وِکست بھارت 2047 کے وژن کے مطابق ایک مضبوط اور پائیدار صحتی نظام کی تشکیل میں مددگار ہو۔

آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے نفاذ کا ایک جامع اور ڈیٹا پر مبنی جائزہ پیش کیا گیا، جس میں اہم کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ان شعبوں کی نشاندہی بھی کی گئی جن پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں آیوشمان ایپ اور واٹس ایپ چیٹ بوٹ کو بھی پیش کیا گیا، جنہوں نے مستحقین کے لیے خدمات تک رسائی کو آسان اور مؤثر بنا دیا ہے۔

خود کار تجزیے سے متعلق مباحث میں یہ واضح کیا گیا کہ کس طرح ٹیکنالوجی کے ذریعے دعووں کی تیز، شفاف اور غیر جانبدارانہ کارروائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔

آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) پر گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ محض آگاہی سے آگے بڑھتے ہوئے مستقل استعمال اور گہرے انضمام کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ ریاست آندھرا پردیش نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے جدید استعمالات پیش کیے، جبکہ مہاراشٹر نے اے بی پی ایم-جے اے وائی اور ایم جے پی جے اے وائی کے تحت اپنی پیش رفت اور اے بی ڈی ایم کے نفاذ میں نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کیا۔

نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج (این ایچ سی ایکس) کے انضمام کو ایک انقلابی اصلاح قرار دیا گیا، جس کا مقصد صحت کے دعووں کے نظام کو متحد اور معیاری بنانا ہے۔ ریاستوں کو اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا تاکہ ملک بھر میں اس کے نفاذ کو تیز کیا جا سکے۔ اس اقدام سے نظام میں بکھراؤ کم ہوگا، کلیمز کی منظوری میں تیزی آئے گی اور مجموعی کارکردگی و شفافیت میں اضافہ ہوگا۔

آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے تحت فنڈز کے استعمال پر ایک خصوصی اجلاس میں محتاط مالیاتی نظم و نسق، بروقت فنڈز کی فراہمی اور ان کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا، ساتھ ہی این ایچ اے کی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی تاکہ جوابدہی اور بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

چنتن شیوِر نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں انہوں نے اپنے تجربات کا تبادلہ کیا، بہترین طریقہ کار شیئر کیے اور اختراعات کو پیش کیا، جس سے ملک بھر میں صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی وفاقیت کے جذبے کو فروغ ملا۔

شیوِر کے پہلے دن نے نتائج، جدت اور ڈیٹا پر مبنی حکمرانی سے متعلق مزید گہری بحث کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی، جو دوسرے دن بھی جاری رہے گی۔

******

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 5993 )


(ریلیز آئی ڈی: 2253141) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी