وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
جانوروں کی صحت سے متعلق بااختیار کمیٹی نےجانوروں کی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے پیش رفت کا جائزہ لیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 APR 2026 5:58PM by PIB Delhi
تھنک ٹینک وجانوروں کی صحت سے متعلق بااختیار کمیٹی(ای سی اے ایچ) کی دسویں میٹنگ 16 اپریل 2026 کو محکمہ مویشی پروری اور ڈیری(ڈی اے ایچ ڈی) کے زیر اہتمام نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ کی صدارت حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر(پی ایس اے) پروفیسر اجے کمار سود نے کی، جبکہ ڈی اے ایچ ڈی کے سکریٹری جناب نریش پال گنگوار نے نائب صدر کے فرائض انجام دیے۔ اس میٹنگ میں ڈاکٹر پرویندر مینی (سائنٹیفک سکریٹری، آفس آف پی ایس اے)، ڈاکٹر راجیو بہل (سکریٹری، ڈی ایچ آر)، ڈاکٹر راجیش گوکھلے (سکریٹری ڈی بی ٹی) اور آئی سی ایم آر، سی ڈی ایس سی او،ڈی بی ٹی، آئی سی اے آر، آفس آف پی ایس اے، ویٹرنری کونسل آف انڈیا کے دیگر اعلیٰ حکام اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔
میٹنگ کے دوران محکمہ مویشی پروری کے سکریٹری نے ون ہیلتھ فریم ورک کے تحت ایک مضبوط اور ٹیکنالوجی پر مبنی جانوروں کی صحت کے نظام کی تشکیل میں ہندوستان کی پیش رفت کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بیماریوں کے کنٹرول سے آگے بڑھ کر ان کے مکمل خاتمے کی طرف خصوصاً فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (ایف ایم ڈی) اور پیسٹ دے پیٹٹس رومننٹس یعنی بکریوں اور بھیڑوں کی طاعون نما بیماری (پی پی آر) کے حوالے سے توجہ دی جائے۔انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے این ڈی ایل ایم اور بھارت پشو دھن کے ذریعے ٹیکہ کی فراہمی اور اس کی تصدیق میں بہتری کو بھی اجاگر کیا، جس سے شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہوا ہے۔
حکومت ہند کے محکمہ مویشی پروری کی کمشنر ڈاکٹر نوینا بی مہیشوراپّا نے ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی ،جس میں محکمہ کی اہم کامیابیوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل کو اجاگر کیا گیا۔ کمیٹی نے ویکسینیشن پروگرامز، ریگولیٹری اصلاحات، لیبارٹریوں کی مضبوطی اور نگرانی کے نظام میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔
اراکین کو بیماریوں کے کنٹرول کے پروگراموں میں پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جس میں 2020 سے اب تک فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز(منہ اور کھُر کی بیماری) کے خلاف 133 کروڑ سے زائد ویکسینیشن شامل ہیں، جس کے نتیجے میں بیماری کے پھیلاؤ اور وبائی واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پیسٹ دے پیٹٹس رومننٹس(بکریوں اور بھیڑوں کی طاعون نما بیماری) کے معاملے 2019 میں 98 سے کم ہو کر 2025 میں 29 رہ گئے ہیں، جو ملک گیر مسلسل ٹیکہ کاری کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
بیماریوں کی تشخیص سے متعلق مرکزی اور علاقائی لیبارٹریوں کی بہتری سمیت لیبارٹری کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کو بھی اجاگر کیا گیا، تاکہ وبا سے نمٹنے کے فنڈ کے تحت بیماریوں کی نگرانی اور تشخیص کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے کمیٹی نے جانوروں سے متعلق ادویات اور ٹیکہ کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے اقدامات کا خیرمقدم کیا، جو عمل میں اصلاحات اور نندی-سگم پورٹل کے ساتھ انضمام کے ذریعے ممکن ہوا، جس کے نتیجے میں کارروائی کے وقت میں نمایاں کمی آئی ہے۔کمیٹی نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ محکمہ جانوروں کے چارے کے ضابطہ کاری کے لیے ایک قومی فریم ورک تیار کرنے پر کام کر رہا ہے تاکہ موجودہ قانونی خلا کو پرر کیا جا سکے۔اس کے علاوہ کمیٹی نے پولٹری کے شعبے میں ڈبلیو او اے ایچ کے مطابق مخصوص حصوں میں درجہ بندی کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ حیاتیاتی تحفظ کے تحت پیداوار کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہو۔
کمیٹی نے اہم ترجیحات پر زور دیا ،جن میں غیر ملکی اقسام کی منھ اور کھر کی بیماری اور افریقی سوائن فیور(افریقی خنزیرکے بخار) کے لیے تیاری، این ڈی ایل ایم پورٹل پر مویشی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی نقشہ سازی کی جاسکے تاکہ اہم خلا کی نشاندہی ہو اور مویشیوں کی بیماریوں سے نمٹنے کی تیاری کے لیے قومی سطح پر ایک فرضی مشق (موک ڈرل) کا انعقاد ہو سکے۔
کمیٹی نےٹیکہ کاری کی تیاری اور تشخیص کے شعبے میں پبلک-پرائیویٹ شراکت داری کو مضبوط بنانے، ڈی اے ایچ ڈی کے اندر ایک مخصوص نگرانی ہم آہنگی نظام کی تشکیل پر غور کرنے اور بہتر نگرانی اور ردعمل کے لیے ون ہیلتھ فریم ورک کے تحت انسان، جانور اور ماحولیاتی صحت کے شعبوں کے درمیان ڈیٹا کے انضمام پر بھی زور دیا۔
کمیٹی نے ایک شفاف، کسان دوست اور عالمی معیارات سے ہم آہنگ جانوروں کی صحت کے نظام کی تشکیل کے لیےہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا، جو برآمداتی صلاحیت میں اضافہ کرنے والا اور آتم نربھر بھارت کے عین مطابق ہے۔
****
ش ح ۔م ع ن۔ن ع
U. No.5979
(ریلیز آئی ڈی: 2253092)
وزیٹر کاؤنٹر : 11