خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے ’’کام کی جگہوںوں پر خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی (روک تھام، ممانعت اور ازالہ) ایکٹ، 2013‘‘ نافذ کیا ہے، جس کا مقصد خواتین کو کام کی جگہوںوں پر جنسی ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنا ہے

مشن شکتی اسکیم کے تحت خواتین کی حفاظت، سلامتی اور بااختیاری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع اور متاثرہ خاتون  پر مرکوزنقطۂ نظر اختیار کیا گیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAR 2026 12:12PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت خواتین کی حفاظت اور سلامتی کو اعلیٰ ترین ترجیح دیتی ہے اور اس سلسلے میں متعدد قانونی اور پالیسی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت نے ’’کام کی جگہوںوں پر خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی (روک تھام، ممانعت اور ازالہ) ایکٹ، 2013‘‘ (پی او ایس ایچ ایکٹ) نافذ کیا ہے، جس کا مقصد خواتین کو کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنا اور اس سے متعلق شکایات کی روک تھام اور ازالہ یقینی بنانا ہے۔

یہ ایکٹ تمام خواتین پر لاگو ہوتا ہے، خواہ ان کی عمر، ملازمت کی حیثیت یا کام کی نوعیت کچھ بھی ہو، چاہے وہ سرکاری یا نجی، منظم یا غیر منظم شعبے میں کام کر رہی ہوں۔ اس ایکٹ کے تحت تمام اداروں (سرکاری یا نجی) کے مالکان پر لازم ہے کہ وہ ایک محفوظ اور ہراسانی سے پاک کام کا ماحول فراہم کریں۔ مزید برآں، جہاں ملازمین کی تعداد دس سے زیادہ ہو، وہاں ہر ادارے میں ایک داخلی کمیٹی (آئی سی) قائم کرنا لازمی ہے۔ اسی طرح، متعلقہ حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ہر ضلع میں ایک مقامی کمیٹی (ایل سی) قائم کرے، جو ان اداروں کی شکایات سن سکے جہاں ملازمین کی تعداد دس سے کم ہو یا اگر شکایت خود آجر  کے خلاف ہو۔

اس ایکٹ کے نفاذ کی ذمہ داری ضلعی اور ریاستی سطح پر متعلقہ حکومت پر عائد ہوتی ہے، جو اس کے مؤثر نفاذ کی نگرانی کرتی ہے اور کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کے درج  شدہ اور نمٹائے گئے معاملات کا ریکارڈ بھی رکھتی ہے، خاص طور پر ان اداروں میں جو ریاستی فنڈز سے مکمل یا جزوی طور پر چلائے جاتے ہیں۔

خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزارت  کے تحت مشن شکتی اسکیم میں خواتین کی حفاظت، سلامتی اور بااختیاری کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع اور متاثرہ  خاتون پر نقطۂ نظر اختیار کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہم اقدامات میں شامل ہیں:

  1. واحد مرکز کی اسکیم: یہ اسکیم 2015 سے نافذ العمل ہے، جس کے تحت خواتین کو ایک ہی جگہ پر مربوط خدمات فراہم کی جاتی ہیں، جیسے طبی امداد، قانونی معاونت، عارضی رہائش، پولیس سہولت اور نفسیاتی و سماجی مشاورت۔ ملک بھر میں 926 واحد مراکز (او ایس سیز) فعال ہیں، جنہوں نے 31 دسمبر 2025 تک 13.37 لاکھ سے زائد خواتین کی مدد کی ہے۔
  2. خواتین ہیلپ ڈیسک: پولیس اسٹیشنوں  میں 15,049 خواتین ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 14,363 کی سربراہی خواتین پولیس افسران کر رہی ہیں۔
  • III. خواتین ہیلپ لائن-181 اور ایمرجنسی حالات میں ردعمل کرنے والا نظام (ای آر ایس ایس-112): یہ خدمات ہنگامی صورتحال میں مدد اور رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ خواتین ہیلپ لائن نے اب تک 2.88 کروڑ سے زائد کالز ہینڈل کی ہیں اور 99.09 لاکھ سے زائد خواتین کی مدد کی ہے۔

حکومت، خواتین کے قومی کمیشن (این سی ڈبلیو) اور ریاستی سطح کے اداروں کے ذریعے سیمینارز، ورکشاپس، آڈیو ویژول، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام میں خواتین کی حفاظت اور سلامتی سے متعلق آگاہی پیدا کر رہی ہے، نیز قوانین اور پالیسیوں کے بارے میں بھی شعور اجاگر کیا جا رہا ہے۔ آجر اداروں/ کمپنیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ باقاعدگی سے ورکشاپس اور آگاہی پروگرامز کا انعقاد کریں تاکہ ملازمین کو ایکٹ کی دفعات سے آگاہ کیا جا سکے اور داخلی کمیٹی کے ارکان کی تربیت کی جا سکے۔

وزارت نے 22 جنوری 2025 کو ’’مشن شکتی پورٹل‘‘ کا آغاز کیا، جس کا مقصد خواتین کے لیے مختلف سرکاری خدمات تک رسائی کو آسان بنانا، بچاؤ، تحفظ اور باز آبادکاری کے معیاری نظام کو مضبوط کرنااور مختلف اسکیموں و قوانین کے تحت کام کرنے والے اہلکاروں کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ مزید برآں، شی باکس پورٹل ایک مرکزی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی سے متعلق شکایات درج اور ان کی پیش رفت کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

***********

 

ش ح۔م ع۔ ا ک م

U No. 5907

 


(ریلیز آئی ڈی: 2252671) وزیٹر کاؤنٹر : 18
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali