قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قبائلی علاقوں میں فلاحی اشاریے اور ترقیاتی خلا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 APR 2026 1:34PM by PIB Delhi

آج راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت جناب درگا داس یوکی نے کہا کہ حکومت سماجی و اقتصادی اشاریوں کا اندازہ لگانے کے لیے باقاعدگی سے سروے کرتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر انتظامی اعدادوشمار جمع کیے جاتےہیں۔ صحت، تعلیم اور اقتصادی شعبوں کا احاطہ کرنے والے درج فہرست قبائل میں غذائیت کی کمی، زچگی کی شرح اموات، اسکول چھوڑنے کی شرح اور غربت کی سطح جیسے سماجی و اقتصادی اشاریوں کے بارے میں معلومات  درج ذیل ہے:

درج فہرست قبائل کی آبادی بمقابلہ کل آبادی کے بچوں کی صحت اور غذائی حالات کے اہم اشاریوں پر ریاست وار تفصیلات، این ایف ایچ ایس-5 (21-2019)

نمبر شمار

ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نام

(5) سال سے کم عمر کے بچوں میں قد کی کمی (فیصد) (عمر کے لحاظ سے اونچائی)

کل

درج فہرست قبائل

 

 

این  ایف ایچ ایس-5(21-2019)

 

ہندوستان

35.5

40.9

1

آندھرا پردیش

31.2

41.0

2

اروناچل پردیش

28.0

27.9

3

آسام

35.3

30.7

4

بہار

42.9

42.4

5

چھتیس گڑھ

34.6

38.4

6

دہلی

30.9

(25.7)

7

گوا

25.8

(33.6)

8

گجرات

39.0

45.4

9

ہریانہ

27.5

(39.5)

10

ہماچل پردیش

30.8

32.9

11

جموں و کشمیر

26.9

26.8

12

جھارکھنڈ

39.6

44.9

13

کرناٹک

35.4

39.5

14

کیرالہ

23.4

36.9

15

مدھیہ پردیش

35.7

40.0

16

مہاراشٹر

35.2

41.4

17

منی پور

23.4

26.8

18

میگھالیہ

46.5

46.6

19

میزورم

28.9

28.5

20

ناگالینڈ

32.7

32.6

21

اوڈیشہ

31.0

42.1

22

پنجاب

24.5

این اے

23

راجستھان

31.8

35.9

24

سکم

22.3

19.7

25

تمل ناڈو

25.0

31.2

26

تلنگانہ

33.1

33.4

27

تریپورہ

32.3

34.2

28

اتر پردیش

39.7

49.2

29

اتراکھنڈ

27.0

23.7

30

مغربی بنگال

33.8

36.7

ماخذ:  ا ین ایف ایچ ایس 5(21-2019)، وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود

( ) 250-499 غیر وزنی  معاملوں کی بنیاد پر

 

ملک بھر میں بچوں کی غذائی صورتحال

اشارے

ایس ٹی؍سبھی

این ایف ایچ ایس-5

این ایف ایچ ایس-4

بچوں کی غذائی حالت - (5) سال سے کم عمر کے بچوں میں قد کی کمی کا پھیلاؤ (%)

سبھی

35.5

38.4

ایس ٹی

40.9

43.8

(5) سال سے کم عمر کے غذائی قلت کا شکار بچوں کی شرح (فیصد)

سبھی

19.3

21

ایس ٹی

23.2

27.4

کم وزن والے بچوں کا پھیلاؤ (5) سال سے کم عمر (%)

سببھی

32.1

35.7

ایس ٹی

39.5

45.3

ماخذ: این ایف ایچ ایس-5(21-2019)، این ایف ایچ ایس-4(16-2015)، وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود

زچگی کے دوران  شرح اموات: کسی مخصوص مدت میں فی 100,000 زندہ پیدائش پر زچگی کے دوران ہونے والی اموات کی تعداد کو زچگی کی شرح اموات کہا جاتا ہے۔ہندوستان کے رجسٹرار جنرل کے دفتر (او آر جی)کی جانب سے جاری کردہ سیمپل رجسٹریشن سروے(ایس آر ایس) کے مطابق23-2021 کے لیے ہندوستان میں زچگی کی شرحِ اموات کا اندازہ 88 ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ ملک میں زچگی کی شرح اموات میں گزشتہ چند برسوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ زچگی کی شرح اموات 23-2021 اور22-2020 کے دوران 88 پر برقرار رہی، جبکہ یہ گزشتہ برسوں 20-2018 میں کم ہو کر 97 اور 19-2017میں 103 سے21-2019 میں 93 تک آ گئی تھی۔

اسکول چھوڑنے کی شرح: کسی دیے گئے تعلیمی سال میں کسی مخصوص سطح پر داخلہ لینے والے طلبہ کے اس گروپ کا تناسب  ہےجو اگلے تعلیمی سال میں کسی بھی جماعت میں داخل نہیں ہوتا یعنی اسکول چھوڑ دیتا ہے۔درج فہرست قبائل اور تمام طبقات کے لیے ریاست وار اسکول چھوڑنے کی تازہ ترین شرح یو ڈی آئی ایس ای پلس، ڈی او ایس ای ایل وزارت تعلیم کے ضمیمہ-I میں دی گئی ہے۔

ماہانہ فی کس استعمالی اخراجات ( ایم پی سی ای):

وزارت شماریات و پروگرام عمل درآمد ( ایم او ایس پی آئی) کے نیشنل سیمپل سروے دفتر(این ایس ایس او) کے ذریعے کیے گئے گھریلو استعمال کےاخراجات کے سروے  2023-24  (ایچ سی ای ایس)کے مطابق درج فہرست قبائل کی جانب سے دیہی اور شہری علاقوں میں فی کس اوسط ماہانہ استعمالی اخراجات بالترتیب 3363 روپے اور 6030 روپے ہیں۔ وزارت  برائے شماریات و پروگرام عمل درآمد کی جانب سے شائع کردہ ایچ سی ای ایس کے فیکٹ شیٹ کے مطابق24-2023 میں دیہی  ہندوستان میں اوسط ایم پی سی ای 4,122 روپے اور شہری  ہندوستان میں 6,996 روپے تھی۔

 

ملک بھر میں ایم پی سی ای ایز کا اوسط(روپے میں)

 

2011-12

2022-23

2023-24

ایم پی سی ای ایز کا اوسط(روپے میں)

بغیر اندازہ کے

بغیر اندازہ کے

بغیر اندازہ کے

دیہی

شہری

دیہی

شہری

دیہی

شہری

درج فہرست قبائل

1122

2193

3016

5414

3363

6030

ماخذ: گھریلو استعمال کے اخراجات کا سروے، ایچ سی ای ایس 12-2011، 23-2022، 24-2023

درج فہرست قبائل کے لیے کل ہند اوسط ماہانہ فی کس اخراجات (ایم پی سی ای) نے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ دکھایا ہے۔ 12-2011 میں، درج فہرست قبائل کے لیے اوسط  ایم پی سی ای دیہی علاقوں میں 1122 ؍روپے اورشہری علاقوںمیں2193 روپےتھا۔ اس میں 23-2022 تک نمایاں اضافہ ہوا، جو دیہی علاقوں میں3016 اورشہری علاقوںمیں5414  روپے تک پہنچ گیا،جوکہ کھپت کےاخراجات میں خاطرخواہ ترقی کی نشاندہی کرتاہے۔اوپرکارجحان24-2023 میں جاری رہا،جب درج فہرست قبائل کےلیےاوسط ایم پی سی ای مزید بڑھ کر دیہی علاقوں میں3363 روپےاورشہری علاقوں میں6030 روپےہوگیا۔

2023-24 میں درج فہرست قبائل اور سبھی کے لیے ریاست کے حساب سے تخمینہ شدہ ماہانہ فی کس کھپت کے اخراجات (ایم پی سی ای) کا اعداد وشمار:

(روپے میں)

 

دیہی

شہری

ریاست ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے

ایس ٹی

تمام

ایس ٹی

تمام

آندھرا پردیش

4,162

5,327

6,244

7,182

اروناچل پردیش

6,048

5,995

10,115

9,832

آسام

3,774

3,793

6,914

6,794

بہار

3,334

3,670

4,208

5,080

چھتیس گڑھ

2,471

2,739

3,988

4,927

گوا

6,006

8,048

9,231

9,726

گجرات

3,690

4,116

5,837

7,175

ہماچل پردیش

5,406

5,825

12,124

9,223

جھارکھنڈ

2,497

2,946

4,761

5,393

کرناٹک

4,590

4,903

5,908

8,076

کیرالہ

4,908

6,611

7,688

7,783

مدھیہ پردیش

3,004

3,441

4,445

5,538

مہاراشٹر

3,103

4,145

5,377

7,363

منی پور

3,997

4,531

6,406

5,945

میگھالیہ

3,820

3,852

7,656

7,839

میزورم

5,948

5,963

8,707

8,709

ناگالینڈ

5,151

5,155

8,161

8,022

اوڈیشہ

2,800

3,357

4,650

5,825

راجستھان

3,384

4,510

6,065

6,574

سکم

9,318

9,377

14,160

13,927

تمل ناڈو

4,831

5,701

8,050

8,165

تلنگانہ

4,981

5,435

9,065

8,978

تریپورہ

5,803

6,259

8,714

8,034

اتر پردیش

2,980

3,481

5,383

5,395

اتراکھنڈ

4,687

5,003

8,513

7,486

مغربی بنگال

3,077

3,620

4,761

5,775

انڈمان اور نکوبار جزیرہ

5,688

7,771

7,218

10,453

دادرہ اور نگر حویلی اور دمن اور دیو

3,943

4,311

5,804

6,837

جموں و کشمیر

3,948

4,774

4,872

6,327

لداخ

5,010

5,010

7,034

7,533

لکشدیپ

6,263

6,350

6,262

6,377

پڈوچیری

-

7,598

14,265

8,637

آل انڈیا

3,363

4,122

6,030

6,996

ماخذ: گھریلو استعمالی اخراجات کا سروے، ایچ سی ای ایس 24-2023، وزارت شماریات و پروگرام عمل درآمد

 (سی) اور (ڈی): قبائلی علاقوں میں مسلسل موجود ترقیاتی خامیوں کو دور کرنے اور قبائلی برادریوں تک فلاحی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات درج ذیل ہیں۔ ساتھ ہی گزشتہ پانچ سال کے دوران قبائلی ذیلی منصوبہ سمیت قبائلی فلاحی اسکیموں کے تحت مختص فنڈز کے ریاست وار استعمال کی تفصیلات بھی ذیل میں دی گئی ہیں:

آئی) درج فہرست قبائل کے لیے ترقیاتی عملی منصوبہ: حکومت ملک میں درج فہرست قبائل اور قبائلی اکثریتی علاقوں کی ترقی کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر شیڈولڈ ٹرائب ڈیولپمنٹ ایکشن پلان (ڈی اے پی ایس ٹی) نافذ کر رہی ہے۔ قبائلی امور کی وزارت کے علاوہ 41 وزارتیں/محکمے  برائے درج فہرست قائل اور غیر درج فہرست قبائل کی  آبادی کے درمیان ترقیاتی خلا کو کم کرنے کے لیے اپنے کل منصوبہ جاتی بجٹ کا ایک مخصوص حصہ سالانہ مختص کرتے ہیں، جو تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، سڑک، رہائش، بجلی، روزگار کے مواقع، ہنرمندی کی ترقی وغیرہ سے متعلق قبائلی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ان وزارتوں/محکموں کی جانب سے مختص فنڈز کی تفصیلات مرکزی بجٹ دستاویز کے اخراجاتی پروفائل کے ضمیمہ  بی10 میں دی گئی ہیں:

Statement 10B for 2023-24: https://www.indiabudget.gov.in/budget2023-24/doc/eb/stat10b.pdfStatement 10B for 2024-25: https://www.indiabudget.gov.in/budget2024-25/doc/eb/stat10b.pdf

 ii) درج فہرست ذات کے لیےریاست کا ذیلی منصوبہ: ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں  ٹی ایس پی کی نگرانی کے لیے وزارت نے اسٹیٹ  ٹی ایس پی مانیٹرنگ پورٹل (https://statetsp.tribal.gov.in شروع کیا ہے، جس پر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اپنے بجٹ سے  ٹی ایس پی الاٹمنٹ، اخراجات اور دیگر ضروری معلومات باقاعدگی سے اپ لوڈ کرنا لازم ہے۔

منصوبہ بندی کمیشن کی ہدایات کے مطابق قبائلی ذیلی منصوبہ  (ٹی ایس پی) کا مقصد درج فہرست قبائل آبادی اور دیگر طبقات کے درمیان فرق کو کم کرنا ہے، تاکہ قبائلی ترقی کو تیز کر کے انہیں تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات، معیارِ زندگی میں بہتری، روزگار کے مواقع، اثاثوں کی تخلیق اور آمدنی میں اضافہ، اور اپنے حقوق کے بہتر استعمال کی صلاحیت فراہم کی جا سکے۔

iii) اسکالرشپ اسکیمیں: قبائلی امور کی وزارت درج ذیل اسکالرشپ اسکیمیں نافذ کرتی ہے:

i) پری میٹرک اسکالرشپ (کلاس 9 اور 10)

ii) پوسٹ میٹرک اسکالرشپ (کلاس 11 اور اس سے اوپر)

iii) اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی اسکالرشپ

iv) اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی اسکالرشپ (ٹاپ کلاس)

v) بیرون ملک تعلیم کے لیے قومی اسکالرشپ

مندرجہ بالا اسکیموں میں سے، سیریل نمبر (i) تا (ii) کی اسکالرشپ اسکیمیں مرکزی معاونت یافتہ ہیں اور متعلقہ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں۔ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک دونوں اسکالرشپ اسکیمیں اوپن اینڈڈ اسکیمیں ہیں، جن کے تحت درجہ  9 سے لے کر پوسٹ گریجویشن تک تعلیم حاصل کرنے والے تمام اہل طلبہ کو اسکالرشپ دی جاتی ہے، بشرطیکہ ان کے والدین کی سالانہ آمدنی 2.5 لاکھ روپے سے زیادہ نہ ہو۔درخواستیں طلب کرنا، ان کی تصدیق، مستحقین کا انتخاب اور اسکالرشپ کی رقم کی ادائیگی متعلقہ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کی ذمہ داری ہے۔ وزارت قبائلی امور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کی بنیاد پر اور مالی و فیزیکل پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد مرکزی حصہ جاری کرتی ہے۔ ریاستی حکومتیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے تمام اہل درج فہرست قبائل کے طلبہ کے بینک کھاتوں میں اسکالرشپ کی رقم براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر(ڈی بی ٹی) کے ذریعے منتقل کرتے ہیں۔

سیریل نمبر (iii) سے (v) تک کی اسکیمیں مرکزی شعبہ جاتی اسکیمیں) ہیں جو وزارتِ قبائلی امور کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے درج فہرست قبائل کے طلبہ کی قومی فیلوشپ اور اسکالرشپ کے تحت فنڈز براہ راست طلبہ/اداروں کو  ڈی بی ٹی کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ سیریل نمبر (v) یعنی درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے قومی بیرون ملک اسکالرشپ کی اسکیم وزارت خارجہ(ایم ای اے) کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے، جس کے تحت بیرون ملک زیر تعلیم درج فہرست قبائل کے طلبہ کو سفارت خانوں کے ذریعے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، اور بعد ازاں وزارت قبائلی امور ان فنڈز کی وزارتِ خارجہ کو ادائیگی  کرتی ہے۔ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیموں کے تحت جاری کردہ فنڈز اور مستفیدین کی تفصیلات ضمیمہ II اور III میں دی گئی ہیں۔

(iv) ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول(ای ایم آر ایس): ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول(ای ایم آر ایس) کا آغاز سال19-2018 میں قبائلی بچوں کو ان کے اپنے ماحول میں نوودیہ ودیالیہ کے معیار کے برابر معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ نئی اسکیم کے تحت حکومت نے 440  ای ایام آر ایس قائم کرنے کا فیصلہ کیا، یعنی ہر ایسے بلاک میں ایک  ای ایم آر ایس جہاں 50 فیصد سے زیادہ درج فہرست قبائل کی آبادی ہو اور کم از کم 20,000 قبائلی افراد (2011 کی مردم شماری کے مطابق) موجود ہوں۔ابتدائی طور پر 288 ای ایم آر ایس اسکولوں کو آئین کے آرٹیکل 275(1) کے تحت گرانٹس سے فنڈ فراہم کیا گیا تھا، جنہیں اب نئے ماڈل کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق وزارت نے ملک بھر میں مجموعی طور پر 728  ای ایم آر ایس قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے تقریباً 3.5 لاکھ درج فہرست قبائل کے طلبہ مستفید ہوں گے۔این ای ایس ٹی ایس کے قیام سے لے کر 28.02.2026 تک ای ایم آر ایس کے قیام اور آپریشن کے لیے سال وار جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیل ضمیمہ IV میں درج ہے:

(v) دھرتی آبا جنجاتی گرام اُتکرش ابھیان: عزت مآب  وزیراعظم نے 2 اکتوبر 2024 کو دھرتی آبا جنجاتی گرام اُتکرش ابھیان کا آغاز کیا۔ اس ابھیان میں 17 مربوط وزارتوں کے ذریعے نافذ کیے جانے والے 25 اقدامات شامل ہیں۔ اس کا مقصد 5 سال کے اندر 30 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 549 اضلاع اور 2,911 بلاکس کے 63,843 دیہات میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو مکمل طور پر دور کرنا، صحت، تعلیم اور آنگن واڑی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے، جس سے 5 کروڑ سے زائد قبائلی افراد مستفید ہوں گے۔ اس پروگرام کا کل بجٹ 79,156 کروڑ روپے (مرکزی حصہ: 56,333 کروڑ روپے اور ریاستی حصہ: 22,823 کروڑ روپے) ہے ۔ اس مہم کے تحت تمام مربوط وزارتوں/محکموں کی ملک گیر کامیابیوں کی تفصیل ضمیمہ V میں منسلک ہے۔

(vi) وزیراعظم جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان(پی ایم جے اے این ایم اے این): حکومت نے 15 نومبر 2023 کو وزیراعظم جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان(پی ایم- جے اے این ایم اے این) کا آغاز کیا، جسے جنجاتی گورو دیوس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تقریباً 24,000 کروڑ روپے کے مالی اخراجات والے اس مشن کا مقصد خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپوں( پی وی ٹی جی ایز) کے گھروں اور بستیوں کو مقررہ وقت مقررہ میں بنیادی سہولیات سے آراستہ کرنا ہے، جن میں محفوظ رہائش، صاف پینے کا پانی اور صفائی، تعلیم، صحت اور غذائیت تک بہتر رسائی، سڑک اور ٹیلی کمیونیکیشن رابطہ، غیر بجلی یافتہ گھروں کی بجلی کاری اور پائیدار روزگار کے مواقع شامل ہیں، اور یہ سب 3 سال کی مدت میں مکمل کیے جائیں گے

PM-JANMAN VDVKs

پی ایم – جے اے این ایم اےاین وی ڈی وی کے ایس)کے قیام کے لیے فنڈز کی منظوری

نمبر شمار

ریاست ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے

وی ڈی وی کے کی منظوری


منظور شدہ فنڈز
(لاکھوں میں)

 

1

انڈومان و نکوبار

1

2.8

 

2

آندھرا پردیش

73

307.55

 

3

چھتیس گڑھ

16

119.75

 

4

گجرات

21

52.5

 

5

جھارکھنڈ

35

143.8

 

6

کرناٹک

33

91.8

 

7

کیرالہ

7

26.85

 

8

مدھیہ پردیش

83

254.5

 

9

مہاراشٹر

40

181.2

 

10

منی پور

2

30

 

11

اوڈیشہ

43

178.4

 

12

راجستھان

51

442.1

 

13

تمل ناڈو

37

120.15

 

14

تلنگانہ

25

73.05

 

15

تریپورہ

30

127.5

 

16

اتراکھنڈ

9

31.7

 

17

یوپی

5

15.95

 

18

مغربی بنگال

5

13.9

 

 

کل

516

2213.5

 

 

ضمیمہ I

جنس، اسکولی تعلیم کی سطح اور سماجی زمرہ کے لحاظ سے ڈراپ آؤٹ کی شرح

 

ریاستیں

سال

تمام/ایس ٹی

پرائمری ڈراپ آؤٹ ریٹ

اپر پرائمری ڈراپ آؤٹ ریٹ

سیکنڈری ڈراپ آؤٹ ریٹ

لڑکیاں

لڑکے

مجموعی طور پر

لڑکیاں

لڑکے

مجموعی طور پر

لڑکیاں

لڑکے

مجموعی طور پر

انڈمان اور نکوبار جزائر

22-2021

تمام

0.65

0.2

0.42

1.02

0.89

0.95

3.91

6

5

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

2.99

2.94

2.96

8.73

11.91

10.34

آندھرا پردیش

22-2021

تمام

0

0

0

1.5

1.72

1.62

14.97

17.52

16.29

 

22-2021

ایس ٹی

0.55

1.86

1.23

5.79

6.64

6.23

11.09

12.19

11.64

اروناچل پردیش

22-2021

تمام

9.24

9.26

9.25

8.44

4.82

6.69

12.25

11.2

11.74

 

22-2021

ایس ٹی

11

10.8

10.9

9.05

5.58

7.39

9.34

8.72

9.04

آسام

22-2021

تمام

5.17

6.84

6.02

7.61

10.1

8.82

20.66

19.78

20.25

 

22-2021

ایس ٹی

6.22

6.35

6.29

4.85

4.67

4.76

12.07

13.29

12.67

بہار

22-2021

تمام

0

0

0

5.21

4.03

4.62

21.42

19.48

20.46

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

0

0

0

17.01

16.73

16.87

چھتیس گڑھ

22-2021

تمام

0.58

0.96

0.77

3.33

4.84

4.1

8.05

11.5

9.73

 

22-2021

ایس ٹی

1.92

2.05

1.99

4.89

6.92

5.92

10.51

15.3

12.79

دادرہ اور نگر حویلی

22-2021

تمام

0

0

0

0

0

0

8.35

10.46

9.47

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

0

0

0

12.03

12.36

12.21

دمن اور دیو

22-2021

تمام

0

0

0

0

0

0

8.35

10.46

9.47

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

0

0

0

12.03

12.36

12.21

گوا

22-2021

تمام

0

0

0

0

0

0

5.45

12.05

8.98

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

0

0

0

0

6.08

2.34

گجرات

22-2021

تمام

0

0

0

5.76

4.23

4.95

15.89

19.39

17.85

 

22-2021

ایس ٹی

0.68

0.41

0.54

6.77

6.19

6.47

18.14

22.33

20.35

ہریانہ

22-2021

تمام

0

0

0

0.19

0.25

0.22

4.94

6.68

5.91

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

0

4.11

0

0

15

0

ہماچل پردیش

22-2021

تمام

0

0

0

0.53

0.62

0.58

0.9

1.96

1.46

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

0

0

0

0.16

0

0

جموں و کشمیر

22-2021

تمام

4.13

3.94

4.03

3.17

2.83

2.99

6.34

5.63

5.96

 

22-2021

ایس ٹی

4.12

2.57

3.31

6.87

3.35

5.02

19.05

10.55

14.17

جھارکھنڈ

22-2021

تمام

1.14

2.36

1.77

4

3.7

3.85

8.94

9.68

9.31

 

22-2021

ایس ٹی

2.04

3.71

2.9

5.25

5.5

5.37

10.84

14.74

12.71

کرناٹک

22-2021

تمام

0

0

0

1.06

1.1

1.08

13.02

16.16

14.65

 

22-2021

ایس ٹی

0.59

0.74

0.67

1.82

1.72

1.77

15.49

17.37

16.47

کیرالہ

22-2021

تمام

0

0

0

0

0

0

4.06

6.85

5.49

 

22-2021

ایس ٹی

0.6

0

0.04

0

0.92

0

6.47

9.1

7.83

لداخ

22-2021

تمام

5.46

7.51

6.51

0

2.21

1.08

5.68

4.03

4.9

 

22-2021

ایس ٹی

5.34

7.31

6.35

0

1.51

0.58

4.52

2.31

3.47

لکشدیپ

22-2021

تمام

0.43

0.48

0.45

1.9

3.23

2.6

0

0.43

0

 

22-2021

ایس ٹی

0

0.08

0

1.42

2.96

2.24

0

0.35

0

مدھیہ پردیش

22-2021

تمام

2.91

3.24

3.08

9.01

8.63

8.82

9.67

10.55

10.14

 

22-2021

ایس ٹی

4.15

4.81

4.49

13.75

14.29

14.02

15.07

19.9

17.6

مہاراشٹر

22-2021

تمام

0

0.04

0

1.6

1.47

1.53

10.61

10.81

10.72

 

22-2021

ایس ٹی

0.74

0.81

0.77

3.24

2.49

2.85

22.03

20.16

21.04

منی پور

22-2021

تمام

12.96

13.54

13.26

5.21

5.95

5.59

1.21

1.35

1.27

 

22-2021

ایس ٹی

15.4

15.56

15.48

6.04

5.38

5.71

2.39

4.07

3.23

میگھالیہ

22-2021

تمام

8.58

11.08

9.84

9.4

12.04

10.64

20.37

23.28

21.68

 

22-2021

ایس ٹی

8.73

11.16

9.96

9.2

12.66

10.83

20.69

23.62

21.99

میزورم

22-2021

تمام

5.58

7.08

6.35

1.64

3.78

2.73

10.83

13.06

11.9

 

22-2021

ایس ٹی

5.46

6.8

6.16

1.36

3.62

2.51

10.37

12.68

11.48

ناگالینڈ

22-2021

تمام

4.49

5.57

5.04

3.36

4.64

4

16.19

18.92

17.52

 

22-2021

ایس ٹی

3.23

4.5

3.88

2.45

3.98

3.2

15.4

18.29

16.79

اوڈیشہ

22-2021

تمام

0

0

0

6.53

8.04

7.31

25.24

29.22

27.29

 

22-2021

ایس ٹی

0.23

0.62

0.42

7.71

9.79

8.77

30.93

35.27

33.12

پڈوچیری

22-2021

تمام

3.61

3.72

3.67

2.09

2.75

2.43

4.09

8.42

6.31

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

18.42

0

0

55.06

0

21.17

راجستھان

22-2021

تمام

3.3

3.8

3.57

4.2

4.43

4.32

7.49

7.78

7.65

 

22-2021

ایس ٹی

3.56

3.75

3.66

5.08

6

5.57

8.58

10

9.34

سکم

22-2021

تمام

0.48

2.9

1.76

0

0

0

9.48

14.55

11.93

 

22-2021

ایس ٹی

0

3.75

1.58

0

0

0

8.23

15.21

11.5

تمل ناڈو

22-2021

تمام

0

0

0

0

0

0

2.52

6.31

4.47

 

22-2021

ایس ٹی

0.1

0

0

0.63

0.42

0.52

8.7

10.13

9.44

تلنگانہ

22-2021

تمام

0

0

0

2.87

3.4

3.14

12.94

14.49

13.74

 

22-2021

ایس ٹی

0.97

0.1

0.51

4.36

4.76

4.57

12.4

13.57

13.01

تریپورہ

22-2021

تمام

0.95

1.16

1.06

4.26

4.75

4.51

8.15

8.53

8.34

 

22-2021

ایس ٹی

2.22

1.76

1.99

7.34

7.65

7.49

7.79

10.71

9.21

اتراکھنڈ

22-2021

تمام

0.51

0.97

0.75

2.36

2.99

2.7

4.63

5.37

5.02

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

3.12

0

1.46

8.05

4.76

6.36

اتر پردیش

22-2021

تمام

2.98

2.4

2.68

4.65

1.25

2.9

10.01

9.45

9.7

 

22-2021

ایس ٹی

0

0

0

0

0

0

9.26

15.03

12.33

مغربی بنگال

22-2021

تمام

8.15

9.07

8.62

0

0

0

17.66

18.37

17.98

 

22-2021

ایس ٹی

9.59

10.43

10.01

0

0

0

10.17

14.38

12.14

آل انڈیا

22-2021

تمام

1.35

1.55

1.45

3.31

2.74

3.02

12.25

12.96

12.61

 

22-2021

ایس ٹی

2.6

3.04

2.83

5.7

6.35

6.03

15.33

17.87

16.62

ماخذ:  یو ڈی آئی ایس ای پلس، محکمہ اسکولی تعلیم اور خواندگی، وزارت تعلیم

ضمیمہ II

درج فہرست قبائل کے طلباء کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ کی اسکیم کے تحت ریاستی حکومتوں؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو جاری کردہ فنڈ اور اس سے مستفیدین کی تفصیلات

(رقم لاکھ روپے میں)

نمبر شمار

ریاست؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے کاکا نام

مالی سال 21-2020

مالی سال 22-2021

مالی سال 23-2022

مالی سال 24-2023

مالی سال 25-2024

 

فنڈ جاری

مستفدین

فنڈ جاری

مستفیدین

فنڈ جاری

مستفیدین

فنڈ جاری

مستفیدن

فنڈ جاری

مستفیدن

1

انڈمان اور نکوبار

12.00

296

8.00

284

0#

260

0#

173

10.00

281

2

آندھرا پردیش

1434.00

26676

3935.00

35364

0#

40465

5700.00

*

3077.00

*

3

اروناچل پردیش

0#

5676

207.00

4548

267.00

5178

0#

2852

0#

2831

4

آسام

17.00

2504

102.00

4767

107.00

5688

188.00

4353

100.00

8075

5

بہار

0#

51076

0#

42425

0#

26450

0#

8451

0#

15139

6

چھتیس گڑھ

3542.00

132421

0#

129615

0#

28642

5250.00

44837

0#

27171

7

ڈی این ایچ اور ڈی ڈی

234.00

2760

207.00

2167

0#

2017

0#

1273

0#

1162

8

گوا

41.00

2504

0#

1978

108.00

2108

53.00

1670

36.00

1698

9

گجرات

2199.00

166649

3689.00

157714

5452.00

157553

6200.00

121083

923.00

124886

10

ہماچل پردیش

92.00

1846

0#

2160

79.00

2479

110.00

2616

0#

3260

11

جموں و کشمیر

0#

2621

0#

5883

0#

4689

0#

2548

0#

8371

12

جھارکھنڈ

0#

87131

3899.00

136830

0#

129269

5700.00

114519

0#

129142

13

کرناٹک

0#

92254

1753.00

85554

2370.00

98705

3400.00

97191

700.00

104211

14

کیرالہ

117.00

9880

347.00

7071

0#

9457

436.00

8331

100.00

10980

15

لداخ

42.00

421

74.00

1439

0#

760

0#

2228

40.00

2029

16

مدھیہ پردیش

5429.00

378127

11458.00

328961

12744.00

255944

0#

259997

5305.00

212347

17

منی پور

0#

2479

0#

2365

0#

1836

0#

3470

0#

3916

18

میگھالیہ

0#

616

0#

2406

115.00

1588

0#

5590

70.00

6149

19

میزورم

168.00

11046

657.00

10031

0#

10312

307.00

8911

0#

8807

20

ناگالینڈ

61.00

451

0#

307

0#

*

0#

*

0#

*

21

اوڈیشہ

6945.00

190066

5237.00

135053

9397.00

79252

0#

106691

2950.00

122029

22

پڈوچیری

2.00

19

0#

23

0#

21

0#

11

0#

14

23

راجستھان

3127.00

208751

6234.00

213064

3531.00

73816

0#

76272

2236.00

57037

24

سکم

9.00

88

0#

296

18.00

49

0#

62

0#

377

25

تمل ناڈو

241.00

14822

547.00

16854

404.00

15325

362.00

17557

60.00

19178

26

تلنگانہ

0#

7623

0#

3066

0#

9255

150.00

2460

0#

*

27

تریپورہ

252.00

9404

59.00

17307

1137.00

15017

0#

11601

692.00

12597

28

اتر پردیش

0#

2007

88.00

815

0#

1579

0#

2329

0#

3211

29

اتراکھنڈ

138.00

1212

0#

1313

0#

1464

15.00

902

70.00

812

30

مغربی بنگال

788.00

28504

913.00

28053

0#

23979

2989.00

21789

0#

24333

 

کل

24890.00

1439930

39414.00

1377713

35729.00

1003157

30860.00

929767

16369.00

910043

 

*ا ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے  اعدوشمار کی رپورٹ نہیں  کی گئی۔

 

# گزشتہ سال وزارتوں کی جانب سے ریاستوں کو جاری کیا گیا فنڈہے اور ریاستیں موجودہ مالی سال میں مستفیدین کو فنڈ فراہم کر رہی ہیں۔

ضمیمہ III

درج فہرست قبائل کے طلباء کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی اسکیم کے تحت ریاستی حکومتوں؍مرکز کے زیر نتظام علاقوں کو جاری کردہ فنڈ اور اس کے مستفیدین کی تفصیلات

رقم لاکھ روپے میں

نمبر شمار

ریاست؍مرکز کے زیر انتظام علاقے

مالی سال 21-2020

مالی سال 22-2021

مالی سال 23-2022

مالی سال 24-2023

مالی سال 25-2024

 

جاری فنڈ

مستفیدین

جاری فنڈ

مستفیدین

جاری فنڈ

مستفیدین

جاری فنڈ

مستفیدین

جاری فنڈ

مستفیدین

1

انڈومان و نکوبارجزائر

13.29

327

10

491

0#

386

0#

193

10

311

2

آندھرا پردیش

6039.35

112645

8991

117089

13357

129032

11471

79780

12000

67888

3

اروناچل پردیش

5712.96

31527

12361

43744

9616

46330

8000

42417

10000

45125

4

آسام

5413.54

53205

1093

71115

6845

62140

3500

58774

7971

77350

5

بہار

708.22

9068

0#

16302

0#

3768

0#

1444

443

3428

6

چھتیس گڑھ

8790.24

73550

0#

86910

9330

34184

7125

40552

7000

34022

7

ڈی این ایچ ڈی ڈی

3481.73

3549

0#

3352

0#

2208

404

1053

490

1627

8

گوا

458.18

4822

0#

4047

1187

4439

527

3274

500

3163

9

گجرات

22977.64

237041

46170

260770

24426

262538

35000

226456

23122

233161

10

ہماچل پردیش

ایل

2410

0#

3332

0#

4303

0#

4390

500

4937

11

جموں و کشمیر

805.44

4316

0#

8335

684

10430

746

7319

995

15309

12

جھارکھنڈ

0#

92117

12655

127258

0#

147633

5311

148676

20000

65104

13

کرناٹک

0#

112381

17081

133422

0#

131968

22556

123707

12500

125823

14

کیرالہ

3285.25

15820

2516

14558

0#

14863

4689

13731

2900

13034

15

لداخ

738

3055

2214

8631

1891

8619

596

9413

3500

8969

16

مدھیہ پردیش

12344

346060

24529

457808

27049

391317

35000

353486

25000

326410

17

مہاراشٹر

18149.52

157503

19215

130732

9027

135915

57036

139165

11781

144785

18

منی پور

2184.19

37258

4292

47793

4138

42572

3000

33542

2500

32275

19

میگھالیہ

0#

16399

2636

52598

14620

61360

8500

76755

14508

73902

20

میزورم

3446.82

33073

3875

37448

2590

38784

2500

31685

2400

28471

21

ناگالینڈ

3226.37

36940

4436

40588

3608

40638

3500

42485

6200

41793

22

اوڈیشہ

19095.97

175252

21843

207678

17133

204172

13564

213957

29400

230366

23

پڈوچیری

19.56

24

0#

23

0#

18

0#

11

0#

10

24

راجستھان

25557.03

206011

13745

188614

18810

236628

22000

168516

35000

*

25

سکم

553.83

3488

1036

4233

925

2650

0#

1849

600

2411

26

تمل ناڈو

3328.99

21383

4849

24441

2854

23529

2000

25216

2500

28273

27

تلنگانہ

27297.83

118347

7504

126708

23851

114911

11250

131505

15250

131032

28

تریپورہ

4804.98

26108

7189

35520

4522

37380

4000

33678

7494

33506

29

اتر پردیش

2218.67

8132

0#

8930

0#

9655

1000

9676

1500

10427

30

اتراکھنڈ

0#

3039

3568

3837

0#

3534

188

3972

270

3853

31

مغربی بنگال

2256.42

60846

3872

78100

0#

63208

3406

37760

3500

29528

 

کل

182908

2005696

225680

2344407

196463

2269112

266869

2064437

259834

1816293

 

# گزشتہ برس وزارتوں کی جانب سے ریاستوں کو جاری کیا گیا  فنڈہے اور ریاستیں موجودہ مالی سال میں مستفیدین کو فنڈ فراہم کر رہی ہیں۔

 

ضمیمہ IV

این ای ایس ٹی ایس  کے قیام سے لے کر 28.02.2026 تک ای ایم آر ایس کے قیام اور آپریشن کے لیے سال وار جاری کیے گئے فنڈزروپے لاکھوں میں

نمبر شمار

ریاست؍مرکز کے زیر انتظام علاقے

21-2020

22-2021

2022-23

2023-24

2024-25

2025-26

(28.02.2026 تک(

1

آندھرا پردیش

6,199.12

14,591.28

12,600.57

10,795.05

23,669.35

22,990.25

2

اروناچل پردیش (این ای)

200.24

119.54

1,010.87

693.91

2,021.21

4,504.37

3

آسام (این ای)

750.00

1,800.00

1,433.65

2,732.67

10,654.29

11,458.52

4

بہار

10.00

-

-

8.95

34.12

1,948.30

5

چھتیس گڑھ

6,968.12

13,259.66

19,435.93

15,888.89

86,649.55

44,234.16

6

دادرہ اور نگر حویلی

95.70

252.55

568.22

163.45

353.32

458.57

7

این ای ایس ٹی ایس ہیڈ کوارٹر

1,406.04

2,523.79

4,438.96

14,129.47

9,376.35

427.90

8

گجرات

4,755.86

1,060.00

10,088.95

15,667.55

27,444.15

23,065.08

9

ہماچل پردیش

255.06

599.11

483.18

829.76

1,616.71

1,505.72

10

جموں و کشمیر

-

392.40

1,200.00

891.40

824.19

1,564.64

11

جھارکھنڈ

2,205.73

11,309.20

23,562.27

23,915.13

64,305.31

58,776.47

12

کرناٹک

2,495.83

3,672.86

1,768.84

2,677.67

7,933.24

4,416.73

13

کیرالہ

-

229.56

1,515.66

249.00

1,252.21

1,493.90

14

لداخ

-

10.00

450.00

800.00

17.41

400.00

15

مدھیہ پردیش

14,459.36

3,560.00

31,817.79

13,157.19

37,339.69

42,298.44

16

مہاراشٹر

2,787.16

4,393.74

12,919.16

8,525.91

30,489.87

20,122.96

17

منی پور

1,268.00

398.08

2,369.98

3,044.92

2,397.58

15,755.94

18

میگھالیہ(این ای)

1,123.45

1,100.00

800.00

21,014.66

31,942.72

11,403.80

19

میزورم

3,283.73

6,085.41

2,094.54

1,242.52

14,619.30

3,501.15

20

ناگالینڈ

5,885.51

9,481.60

557.71

18,377.12

698.27

855.10

21

اوڈیشہ

6,174.27

10,648.82

28,164.31

48,934.80

64,965.47

60,895.45

22

راجستھان

12,944.17

18,214.71

19,463.30

13,687.79

14,322.63

12,905.70

23

سکم

800.33

1,037.88

1,047.35

1,118.83

1,058.36

1,296.03

24

تمل ناڈو

1,225.14

1,190.62

1,098.78

1,099.80

1,738.95

2,797.39

25

تلنگانہ

9,517.30

19,695.52

12,794.53

14,276.17

16,813.70

16,063.43

26

تریپورہ

6,064.89

5,715.44

6,435.19

6,670.35

11,728.87

17,687.35

27

اتر پردیش

386.68

337.49

596.23

624.14

1,384.63

1,434.71

28

اتراکھنڈ

321.28

598.39

474.95

1,537.53

3,880.32

2,777.18

29

مغربی بنگال

2,062.45

-

2,303.67

1,869.70

1,789.50

900.00

کل

93,645.42

1,32,277.67

2,01,494.59

2,44,624.33

4,71,321.28

3,87,939.25

 

ضمیمہ V

پورے ہندوستان میں ڈی اے جےجی یو اے کی تمام مربوط وزارتوں/ محکموں کے سلسلے میں حصولیابیاں حسب ذیل ہے (21.01.2026 تک):

نمبر شمار

وزارت

سرگرمی

مشن کا ہدف (2024-2028)

مارچ 2026 تک کا ہدف

پیش رفت

 

 

1

دیہی ترقی کی وزارت (ایم او آر ڈی)

پی ایم اے وائی-جی ہاؤسنگ

20 لاکھ

6 لاکھ

مکمل تعمیر شدہ مکان: 7,00,800

 

 

پی ایم جی ایس وائی- سڑکیں

25,000 کلومیٹر سڑک

7,500 گاؤں

کل منظور شدہ 710 سڑکیں (2,411.25 کلومیٹر):

  • جے اینڈ کے - 62 سڑکیں (296.301 کلومیٹر)
  • چھتیس گڑھ - 532 سڑکیں (1,824.08 کلومیٹر)
  • راجستھان - 116 سڑکیں (290.875 کلومیٹر)

 

 

2

وزارت جل شکتی

جل جیون مشن (جے جے ایم)

تمام دیہی علاقوں کامکمل طور پر احاطہ کیا جائے گا۔

1500 گاؤں

آحاطہ کیے گئے دیہی علاقے: 27,362

 

 

 

 

3

وزارت بجلی

اصلاح شدہ ڈسٹری بیوشن سیکٹر سکیمآر ڈی ایس ایس

2.35 لاکھ گھرانے

70,000  ایچ ایچ ایس کو بجلی فراہم کی جائے گی۔

برقی: 65,249 (گھریلو اور عوامی ادارے)

 

 

 

 

4

نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

نئی سولر پاور اسکیم - پی ایم سوریہ گھر یوجنا۔

2000 اداروں میں سولر روف ٹاپ کی فراہمی

 

منظور شدہ: 4,099  ایچ ایچ ایس

(100 منی پور میں اور 3,999 اروناچل پردیش)

 

 

5

وزارت صحت اور خاندانی بہبود

نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت موبائل میڈیکل یونٹس

1,000  ایم ایم یو ایز

100 ایم ایم یو

154 ایم ایم یو آپریشنل

 

 

6

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت

آنگن واڑی سنٹر- پوشن 2.0 (آئی سی ڈی ایس)

2,000 نئی آنگن واڑی

400 نیا

445 اے ڈبلیو سی ایز کو فعال کیا گیا۔

 

 

7

ڈی  او ایس ای و

وزارت تعلیم

سماگر شکشا ابھیان (ایس ایس اے)

1,000 ہاسٹل

300 ہاسٹل

311 ہاسٹلز کا سنگ بنیاد

 

 

8

ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ

یونیورسل سروس اوبلیگیشن فنڈ (یو ایس او ایف)

5,252 گاؤں

1500 گاؤں

احاطہ شدہ دیہی علاقے: 3,513

 

 

9

وزارت سیاحت

ذمہ دار سیاحت (سودیش درشن)

1000 ہوم سٹیز

100 ہوم سٹیز

17.7 کروڑ مالیت کے ہوم اسٹے پروجیکٹس۔ اے پی، یو کے، لداخ، ایم پی، میزورم میں آنے والا ہے

 

 

10

زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت

پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم- آر کے وی وائی)

ایف آر اے پٹہ ہولڈرز کے لیے زرعی امداد (~ 2 لاکھ)

60000 مستفیدین

1.73 لاکھ پٹہ ہولڈرز کی شناخت ممکنہ استفادہ کنندگان کے طور پر کی گئی۔

 

 

11

ڈی؍او ماہی پروری

پردھان منتری متسی سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس

قبائلی ماہی گیروں کی مدد: 10,000 آئی ایف آر اور 1000 سی ایف آر

3000 مستفیدین

2025-26 میں پیش رفت کی اطلاع نہیں دی گئی۔

25-2024میں مستفید ہونے والوں کی اطلاع 882 مستفیدین

 

 

ڈی؍او حیوانات اور ڈیری کا کاروبار

نیشنل لائیوسٹاک مشن

8500 آئی ایف آر ہولڈرز کو لائیو سٹاک مینجمنٹ سپورٹ

2550 مستفیدین

26-2025 میں 6ریاستو ںکو 8 کروڑ جاری کیے گئے

 

 

12

ہنر مندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت

جن تعلیم سنستھان (جے ایس ایس) اسکیم

(i) قبائلی اضلاع میں 30 ہنر مندی کے مراکز

9 ہنر مندی کے مراکز اور 300وی ڈی وی کے ایس کے لیے تربیت

ملک بھر میں 30 اسکلنگ سینٹرز کا افتتاح کیا گیا ہے جن میں 2944 مستفیدین نے اندراج کیا ہے۔

 

 

(ii) 1000 وی ڈی وی کے ایس اور قبائلی گروپوں کی تربیت

 

ٹریننگ ابھی شروع ہونا ہے۔

 

 

13

آیوش کی وزارت

پوشن وٹیکاس - قومی آیوش مشن

 

700 پوشن وٹیکاس

ای ایم آر ایس میں پوشن واٹیکا زیر عمل ہے۔

 

 

14

پنچایتی راج کی وزارت

راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے)

تمام گرام سبھا، سب ڈویژن اور ایف آر اے سے نمٹنے والے اضلاع میں ایف آڑ اے آگاہی پروگرام

 

تربیت یافتہ ایس ٹی شرکاء - 46,19,662

 

 

15

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت

ایل پی جی - اجولا یوجنا۔

25 لاکھ ایل پی جی کنکشن

7.5 لاکھ ایچ ایچ ایس

مرکزی اسکیم کی منظوری کے لیے زیر التواء

 

 

 

******

 

ش ح ۔م ع ن۔ا ش ق

U. No.5895


(ریلیز آئی ڈی: 2252560) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी