|
قبائیلی امور کی وزارت
قبائلی علاقوں میں فلاحی اشاریے اور ترقیاتی خلا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2026 1:34PM by PIB Delhi
آج راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت جناب درگا داس یوکی نے کہا کہ حکومت سماجی و اقتصادی اشاریوں کا اندازہ لگانے کے لیے باقاعدگی سے سروے کرتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر انتظامی اعدادوشمار جمع کیے جاتےہیں۔ صحت، تعلیم اور اقتصادی شعبوں کا احاطہ کرنے والے درج فہرست قبائل میں غذائیت کی کمی، زچگی کی شرح اموات، اسکول چھوڑنے کی شرح اور غربت کی سطح جیسے سماجی و اقتصادی اشاریوں کے بارے میں معلومات درج ذیل ہے:
|
درج فہرست قبائل کی آبادی بمقابلہ کل آبادی کے بچوں کی صحت اور غذائی حالات کے اہم اشاریوں پر ریاست وار تفصیلات، این ایف ایچ ایس-5 (21-2019)
|
|
نمبر شمار
|
ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نام
|
(5) سال سے کم عمر کے بچوں میں قد کی کمی (فیصد) (عمر کے لحاظ سے اونچائی)
|
|
کل
|
درج فہرست قبائل
|
|
|
|
این ایف ایچ ایس-5(21-2019)
|
|
|
ہندوستان
|
35.5
|
40.9
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
31.2
|
41.0
|
|
2
|
اروناچل پردیش
|
28.0
|
27.9
|
|
3
|
آسام
|
35.3
|
30.7
|
|
4
|
بہار
|
42.9
|
42.4
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
34.6
|
38.4
|
|
6
|
دہلی
|
30.9
|
(25.7)
|
|
7
|
گوا
|
25.8
|
(33.6)
|
|
8
|
گجرات
|
39.0
|
45.4
|
|
9
|
ہریانہ
|
27.5
|
(39.5)
|
|
10
|
ہماچل پردیش
|
30.8
|
32.9
|
|
11
|
جموں و کشمیر
|
26.9
|
26.8
|
|
12
|
جھارکھنڈ
|
39.6
|
44.9
|
|
13
|
کرناٹک
|
35.4
|
39.5
|
|
14
|
کیرالہ
|
23.4
|
36.9
|
|
15
|
مدھیہ پردیش
|
35.7
|
40.0
|
|
16
|
مہاراشٹر
|
35.2
|
41.4
|
|
17
|
منی پور
|
23.4
|
26.8
|
|
18
|
میگھالیہ
|
46.5
|
46.6
|
|
19
|
میزورم
|
28.9
|
28.5
|
|
20
|
ناگالینڈ
|
32.7
|
32.6
|
|
21
|
اوڈیشہ
|
31.0
|
42.1
|
|
22
|
پنجاب
|
24.5
|
این اے
|
|
23
|
راجستھان
|
31.8
|
35.9
|
|
24
|
سکم
|
22.3
|
19.7
|
|
25
|
تمل ناڈو
|
25.0
|
31.2
|
|
26
|
تلنگانہ
|
33.1
|
33.4
|
|
27
|
تریپورہ
|
32.3
|
34.2
|
|
28
|
اتر پردیش
|
39.7
|
49.2
|
|
29
|
اتراکھنڈ
|
27.0
|
23.7
|
|
30
|
مغربی بنگال
|
33.8
|
36.7
|
ماخذ: ا ین ایف ایچ ایس 5(21-2019)، وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود
|
( ) 250-499 غیر وزنی معاملوں کی بنیاد پر
|
ملک بھر میں بچوں کی غذائی صورتحال
|
اشارے
|
ایس ٹی؍سبھی
|
این ایف ایچ ایس-5
|
این ایف ایچ ایس-4
|
|
بچوں کی غذائی حالت - (5) سال سے کم عمر کے بچوں میں قد کی کمی کا پھیلاؤ (%)
|
سبھی
|
35.5
|
38.4
|
|
ایس ٹی
|
40.9
|
43.8
|
|
(5) سال سے کم عمر کے غذائی قلت کا شکار بچوں کی شرح (فیصد)
|
سبھی
|
19.3
|
21
|
|
ایس ٹی
|
23.2
|
27.4
|
|
کم وزن والے بچوں کا پھیلاؤ (5) سال سے کم عمر (%)
|
سببھی
|
32.1
|
35.7
|
|
ایس ٹی
|
39.5
|
45.3
|
ماخذ: این ایف ایچ ایس-5(21-2019)، این ایف ایچ ایس-4(16-2015)، وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود
زچگی کے دوران شرح اموات: کسی مخصوص مدت میں فی 100,000 زندہ پیدائش پر زچگی کے دوران ہونے والی اموات کی تعداد کو زچگی کی شرح اموات کہا جاتا ہے۔ہندوستان کے رجسٹرار جنرل کے دفتر (او آر جی)کی جانب سے جاری کردہ سیمپل رجسٹریشن سروے(ایس آر ایس) کے مطابق23-2021 کے لیے ہندوستان میں زچگی کی شرحِ اموات کا اندازہ 88 ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ ملک میں زچگی کی شرح اموات میں گزشتہ چند برسوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ زچگی کی شرح اموات 23-2021 اور22-2020 کے دوران 88 پر برقرار رہی، جبکہ یہ گزشتہ برسوں 20-2018 میں کم ہو کر 97 اور 19-2017میں 103 سے21-2019 میں 93 تک آ گئی تھی۔
اسکول چھوڑنے کی شرح: کسی دیے گئے تعلیمی سال میں کسی مخصوص سطح پر داخلہ لینے والے طلبہ کے اس گروپ کا تناسب ہےجو اگلے تعلیمی سال میں کسی بھی جماعت میں داخل نہیں ہوتا یعنی اسکول چھوڑ دیتا ہے۔درج فہرست قبائل اور تمام طبقات کے لیے ریاست وار اسکول چھوڑنے کی تازہ ترین شرح یو ڈی آئی ایس ای پلس، ڈی او ایس ای ایل وزارت تعلیم کے ضمیمہ-I میں دی گئی ہے۔
ماہانہ فی کس استعمالی اخراجات ( ایم پی سی ای):
وزارت شماریات و پروگرام عمل درآمد ( ایم او ایس پی آئی) کے نیشنل سیمپل سروے دفتر(این ایس ایس او) کے ذریعے کیے گئے گھریلو استعمال کےاخراجات کے سروے 2023-24 (ایچ سی ای ایس)کے مطابق درج فہرست قبائل کی جانب سے دیہی اور شہری علاقوں میں فی کس اوسط ماہانہ استعمالی اخراجات بالترتیب 3363 روپے اور 6030 روپے ہیں۔ وزارت برائے شماریات و پروگرام عمل درآمد کی جانب سے شائع کردہ ایچ سی ای ایس کے فیکٹ شیٹ کے مطابق24-2023 میں دیہی ہندوستان میں اوسط ایم پی سی ای 4,122 روپے اور شہری ہندوستان میں 6,996 روپے تھی۔
|
ملک بھر میں ایم پی سی ای ایز کا اوسط(روپے میں)
|
| |
2011-12
|
2022-23
|
2023-24
|
|
ایم پی سی ای ایز کا اوسط(روپے میں)
|
بغیر اندازہ کے
|
بغیر اندازہ کے
|
بغیر اندازہ کے
|
|
دیہی
|
شہری
|
دیہی
|
شہری
|
دیہی
|
شہری
|
|
درج فہرست قبائل
|
1122
|
2193
|
3016
|
5414
|
3363
|
6030
|
ماخذ: گھریلو استعمال کے اخراجات کا سروے، ایچ سی ای ایس 12-2011، 23-2022، 24-2023
درج فہرست قبائل کے لیے کل ہند اوسط ماہانہ فی کس اخراجات (ایم پی سی ای) نے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ دکھایا ہے۔ 12-2011 میں، درج فہرست قبائل کے لیے اوسط ایم پی سی ای دیہی علاقوں میں 1122 ؍روپے اورشہری علاقوںمیں2193 روپےتھا۔ اس میں 23-2022 تک نمایاں اضافہ ہوا، جو دیہی علاقوں میں3016 اورشہری علاقوںمیں5414 روپے تک پہنچ گیا،جوکہ کھپت کےاخراجات میں خاطرخواہ ترقی کی نشاندہی کرتاہے۔اوپرکارجحان24-2023 میں جاری رہا،جب درج فہرست قبائل کےلیےاوسط ایم پی سی ای مزید بڑھ کر دیہی علاقوں میں3363 روپےاورشہری علاقوں میں6030 روپےہوگیا۔
2023-24 میں درج فہرست قبائل اور سبھی کے لیے ریاست کے حساب سے تخمینہ شدہ ماہانہ فی کس کھپت کے اخراجات (ایم پی سی ای) کا اعداد وشمار:
(روپے میں)
|
|
دیہی
|
شہری
|
|
ریاست ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
ایس ٹی
|
تمام
|
ایس ٹی
|
تمام
|
|
آندھرا پردیش
|
4,162
|
5,327
|
6,244
|
7,182
|
|
اروناچل پردیش
|
6,048
|
5,995
|
10,115
|
9,832
|
|
آسام
|
3,774
|
3,793
|
6,914
|
6,794
|
|
بہار
|
3,334
|
3,670
|
4,208
|
5,080
|
|
چھتیس گڑھ
|
2,471
|
2,739
|
3,988
|
4,927
|
|
گوا
|
6,006
|
8,048
|
9,231
|
9,726
|
|
گجرات
|
3,690
|
4,116
|
5,837
|
7,175
|
|
ہماچل پردیش
|
5,406
|
5,825
|
12,124
|
9,223
|
|
جھارکھنڈ
|
2,497
|
2,946
|
4,761
|
5,393
|
|
کرناٹک
|
4,590
|
4,903
|
5,908
|
8,076
|
|
کیرالہ
|
4,908
|
6,611
|
7,688
|
7,783
|
|
مدھیہ پردیش
|
3,004
|
3,441
|
4,445
|
5,538
|
|
مہاراشٹر
|
3,103
|
4,145
|
5,377
|
7,363
|
|
منی پور
|
3,997
|
4,531
|
6,406
|
5,945
|
|
میگھالیہ
|
3,820
|
3,852
|
7,656
|
7,839
|
|
میزورم
|
5,948
|
5,963
|
8,707
|
8,709
|
|
ناگالینڈ
|
5,151
|
5,155
|
8,161
|
8,022
|
|
اوڈیشہ
|
2,800
|
3,357
|
4,650
|
5,825
|
|
راجستھان
|
3,384
|
4,510
|
6,065
|
6,574
|
|
سکم
|
9,318
|
9,377
|
14,160
|
13,927
|
|
تمل ناڈو
|
4,831
|
5,701
|
8,050
|
8,165
|
|
تلنگانہ
|
4,981
|
5,435
|
9,065
|
8,978
|
|
تریپورہ
|
5,803
|
6,259
|
8,714
|
8,034
|
|
اتر پردیش
|
2,980
|
3,481
|
5,383
|
5,395
|
|
اتراکھنڈ
|
4,687
|
5,003
|
8,513
|
7,486
|
|
مغربی بنگال
|
3,077
|
3,620
|
4,761
|
5,775
|
|
انڈمان اور نکوبار جزیرہ
|
5,688
|
7,771
|
7,218
|
10,453
|
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
3,943
|
4,311
|
5,804
|
6,837
|
|
جموں و کشمیر
|
3,948
|
4,774
|
4,872
|
6,327
|
|
لداخ
|
5,010
|
5,010
|
7,034
|
7,533
|
|
لکشدیپ
|
6,263
|
6,350
|
6,262
|
6,377
|
|
پڈوچیری
|
-
|
7,598
|
14,265
|
8,637
|
|
آل انڈیا
|
3,363
|
4,122
|
6,030
|
6,996
|
ماخذ: گھریلو استعمالی اخراجات کا سروے، ایچ سی ای ایس 24-2023، وزارت شماریات و پروگرام عمل درآمد
(سی) اور (ڈی): قبائلی علاقوں میں مسلسل موجود ترقیاتی خامیوں کو دور کرنے اور قبائلی برادریوں تک فلاحی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات درج ذیل ہیں۔ ساتھ ہی گزشتہ پانچ سال کے دوران قبائلی ذیلی منصوبہ سمیت قبائلی فلاحی اسکیموں کے تحت مختص فنڈز کے ریاست وار استعمال کی تفصیلات بھی ذیل میں دی گئی ہیں:
آئی) درج فہرست قبائل کے لیے ترقیاتی عملی منصوبہ: حکومت ملک میں درج فہرست قبائل اور قبائلی اکثریتی علاقوں کی ترقی کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر شیڈولڈ ٹرائب ڈیولپمنٹ ایکشن پلان (ڈی اے پی ایس ٹی) نافذ کر رہی ہے۔ قبائلی امور کی وزارت کے علاوہ 41 وزارتیں/محکمے برائے درج فہرست قائل اور غیر درج فہرست قبائل کی آبادی کے درمیان ترقیاتی خلا کو کم کرنے کے لیے اپنے کل منصوبہ جاتی بجٹ کا ایک مخصوص حصہ سالانہ مختص کرتے ہیں، جو تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، سڑک، رہائش، بجلی، روزگار کے مواقع، ہنرمندی کی ترقی وغیرہ سے متعلق قبائلی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ان وزارتوں/محکموں کی جانب سے مختص فنڈز کی تفصیلات مرکزی بجٹ دستاویز کے اخراجاتی پروفائل کے ضمیمہ بی10 میں دی گئی ہیں:
Statement 10B for 2023-24: https://www.indiabudget.gov.in/budget2023-24/doc/eb/stat10b.pdfStatement 10B for 2024-25: https://www.indiabudget.gov.in/budget2024-25/doc/eb/stat10b.pdf
ii) درج فہرست ذات کے لیےریاست کا ذیلی منصوبہ: ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ٹی ایس پی کی نگرانی کے لیے وزارت نے اسٹیٹ ٹی ایس پی مانیٹرنگ پورٹل (https://statetsp.tribal.gov.in شروع کیا ہے، جس پر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اپنے بجٹ سے ٹی ایس پی الاٹمنٹ، اخراجات اور دیگر ضروری معلومات باقاعدگی سے اپ لوڈ کرنا لازم ہے۔
منصوبہ بندی کمیشن کی ہدایات کے مطابق قبائلی ذیلی منصوبہ (ٹی ایس پی) کا مقصد درج فہرست قبائل آبادی اور دیگر طبقات کے درمیان فرق کو کم کرنا ہے، تاکہ قبائلی ترقی کو تیز کر کے انہیں تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات، معیارِ زندگی میں بہتری، روزگار کے مواقع، اثاثوں کی تخلیق اور آمدنی میں اضافہ، اور اپنے حقوق کے بہتر استعمال کی صلاحیت فراہم کی جا سکے۔
iii) اسکالرشپ اسکیمیں: قبائلی امور کی وزارت درج ذیل اسکالرشپ اسکیمیں نافذ کرتی ہے:
i) پری میٹرک اسکالرشپ (کلاس 9 اور 10)
ii) پوسٹ میٹرک اسکالرشپ (کلاس 11 اور اس سے اوپر)
iii) اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی اسکالرشپ
iv) اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی اسکالرشپ (ٹاپ کلاس)
v) بیرون ملک تعلیم کے لیے قومی اسکالرشپ
مندرجہ بالا اسکیموں میں سے، سیریل نمبر (i) تا (ii) کی اسکالرشپ اسکیمیں مرکزی معاونت یافتہ ہیں اور متعلقہ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں۔ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک دونوں اسکالرشپ اسکیمیں اوپن اینڈڈ اسکیمیں ہیں، جن کے تحت درجہ 9 سے لے کر پوسٹ گریجویشن تک تعلیم حاصل کرنے والے تمام اہل طلبہ کو اسکالرشپ دی جاتی ہے، بشرطیکہ ان کے والدین کی سالانہ آمدنی 2.5 لاکھ روپے سے زیادہ نہ ہو۔درخواستیں طلب کرنا، ان کی تصدیق، مستحقین کا انتخاب اور اسکالرشپ کی رقم کی ادائیگی متعلقہ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کی ذمہ داری ہے۔ وزارت قبائلی امور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کی بنیاد پر اور مالی و فیزیکل پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد مرکزی حصہ جاری کرتی ہے۔ ریاستی حکومتیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے تمام اہل درج فہرست قبائل کے طلبہ کے بینک کھاتوں میں اسکالرشپ کی رقم براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر(ڈی بی ٹی) کے ذریعے منتقل کرتے ہیں۔
سیریل نمبر (iii) سے (v) تک کی اسکیمیں مرکزی شعبہ جاتی اسکیمیں) ہیں جو وزارتِ قبائلی امور کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے درج فہرست قبائل کے طلبہ کی قومی فیلوشپ اور اسکالرشپ کے تحت فنڈز براہ راست طلبہ/اداروں کو ڈی بی ٹی کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ سیریل نمبر (v) یعنی درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے قومی بیرون ملک اسکالرشپ کی اسکیم وزارت خارجہ(ایم ای اے) کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے، جس کے تحت بیرون ملک زیر تعلیم درج فہرست قبائل کے طلبہ کو سفارت خانوں کے ذریعے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، اور بعد ازاں وزارت قبائلی امور ان فنڈز کی وزارتِ خارجہ کو ادائیگی کرتی ہے۔ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیموں کے تحت جاری کردہ فنڈز اور مستفیدین کی تفصیلات ضمیمہ II اور III میں دی گئی ہیں۔
(iv) ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول(ای ایم آر ایس): ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول(ای ایم آر ایس) کا آغاز سال19-2018 میں قبائلی بچوں کو ان کے اپنے ماحول میں نوودیہ ودیالیہ کے معیار کے برابر معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ نئی اسکیم کے تحت حکومت نے 440 ای ایام آر ایس قائم کرنے کا فیصلہ کیا، یعنی ہر ایسے بلاک میں ایک ای ایم آر ایس جہاں 50 فیصد سے زیادہ درج فہرست قبائل کی آبادی ہو اور کم از کم 20,000 قبائلی افراد (2011 کی مردم شماری کے مطابق) موجود ہوں۔ابتدائی طور پر 288 ای ایم آر ایس اسکولوں کو آئین کے آرٹیکل 275(1) کے تحت گرانٹس سے فنڈ فراہم کیا گیا تھا، جنہیں اب نئے ماڈل کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق وزارت نے ملک بھر میں مجموعی طور پر 728 ای ایم آر ایس قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے تقریباً 3.5 لاکھ درج فہرست قبائل کے طلبہ مستفید ہوں گے۔این ای ایس ٹی ایس کے قیام سے لے کر 28.02.2026 تک ای ایم آر ایس کے قیام اور آپریشن کے لیے سال وار جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیل ضمیمہ IV میں درج ہے:
(v) دھرتی آبا جنجاتی گرام اُتکرش ابھیان: عزت مآب وزیراعظم نے 2 اکتوبر 2024 کو دھرتی آبا جنجاتی گرام اُتکرش ابھیان کا آغاز کیا۔ اس ابھیان میں 17 مربوط وزارتوں کے ذریعے نافذ کیے جانے والے 25 اقدامات شامل ہیں۔ اس کا مقصد 5 سال کے اندر 30 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 549 اضلاع اور 2,911 بلاکس کے 63,843 دیہات میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو مکمل طور پر دور کرنا، صحت، تعلیم اور آنگن واڑی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے، جس سے 5 کروڑ سے زائد قبائلی افراد مستفید ہوں گے۔ اس پروگرام کا کل بجٹ 79,156 کروڑ روپے (مرکزی حصہ: 56,333 کروڑ روپے اور ریاستی حصہ: 22,823 کروڑ روپے) ہے ۔ اس مہم کے تحت تمام مربوط وزارتوں/محکموں کی ملک گیر کامیابیوں کی تفصیل ضمیمہ V میں منسلک ہے۔
(vi) وزیراعظم جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان(پی ایم جے اے این ایم اے این): حکومت نے 15 نومبر 2023 کو وزیراعظم جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان(پی ایم- جے اے این ایم اے این) کا آغاز کیا، جسے جنجاتی گورو دیوس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تقریباً 24,000 کروڑ روپے کے مالی اخراجات والے اس مشن کا مقصد خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپوں( پی وی ٹی جی ایز) کے گھروں اور بستیوں کو مقررہ وقت مقررہ میں بنیادی سہولیات سے آراستہ کرنا ہے، جن میں محفوظ رہائش، صاف پینے کا پانی اور صفائی، تعلیم، صحت اور غذائیت تک بہتر رسائی، سڑک اور ٹیلی کمیونیکیشن رابطہ، غیر بجلی یافتہ گھروں کی بجلی کاری اور پائیدار روزگار کے مواقع شامل ہیں، اور یہ سب 3 سال کی مدت میں مکمل کیے جائیں گے
PM-JANMAN VDVKs
پی ایم – جے اے این ایم اےاین وی ڈی وی کے ایس)کے قیام کے لیے فنڈز کی منظوری
|
نمبر شمار
|
ریاست ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
وی ڈی وی کے کی منظوری
|
منظور شدہ فنڈز
(لاکھوں میں)
|
|
|
1
|
انڈومان و نکوبار
|
1
|
2.8
|
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
73
|
307.55
|
|
|
3
|
چھتیس گڑھ
|
16
|
119.75
|
|
|
4
|
گجرات
|
21
|
52.5
|
|
|
5
|
جھارکھنڈ
|
35
|
143.8
|
|
|
6
|
کرناٹک
|
33
|
91.8
|
|
|
7
|
کیرالہ
|
7
|
26.85
|
|
|
8
|
مدھیہ پردیش
|
83
|
254.5
|
|
|
9
|
مہاراشٹر
|
40
|
181.2
|
|
|
10
|
منی پور
|
2
|
30
|
|
|
11
|
اوڈیشہ
|
43
|
178.4
|
|
|
12
|
راجستھان
|
51
|
442.1
|
|
|
13
|
تمل ناڈو
|
37
|
120.15
|
|
|
14
|
تلنگانہ
|
25
|
73.05
|
|
|
15
|
تریپورہ
|
30
|
127.5
|
|
|
16
|
اتراکھنڈ
|
9
|
31.7
|
|
|
17
|
یوپی
|
5
|
15.95
|
|
|
18
|
مغربی بنگال
|
5
|
13.9
|
|
|
|
کل
|
516
|
2213.5
|
|
ضمیمہ I
جنس، اسکولی تعلیم کی سطح اور سماجی زمرہ کے لحاظ سے ڈراپ آؤٹ کی شرح
|
ریاستیں
|
سال
|
تمام/ایس ٹی
|
پرائمری ڈراپ آؤٹ ریٹ
|
اپر پرائمری ڈراپ آؤٹ ریٹ
|
سیکنڈری ڈراپ آؤٹ ریٹ
|
|
لڑکیاں
|
لڑکے
|
مجموعی طور پر
|
لڑکیاں
|
لڑکے
|
مجموعی طور پر
|
لڑکیاں
|
لڑکے
|
مجموعی طور پر
|
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
22-2021
|
تمام
|
0.65
|
0.2
|
0.42
|
1.02
|
0.89
|
0.95
|
3.91
|
6
|
5
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
2.99
|
2.94
|
2.96
|
8.73
|
11.91
|
10.34
|
|
آندھرا پردیش
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
1.5
|
1.72
|
1.62
|
14.97
|
17.52
|
16.29
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0.55
|
1.86
|
1.23
|
5.79
|
6.64
|
6.23
|
11.09
|
12.19
|
11.64
|
|
اروناچل پردیش
|
22-2021
|
تمام
|
9.24
|
9.26
|
9.25
|
8.44
|
4.82
|
6.69
|
12.25
|
11.2
|
11.74
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
11
|
10.8
|
10.9
|
9.05
|
5.58
|
7.39
|
9.34
|
8.72
|
9.04
|
|
آسام
|
22-2021
|
تمام
|
5.17
|
6.84
|
6.02
|
7.61
|
10.1
|
8.82
|
20.66
|
19.78
|
20.25
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
6.22
|
6.35
|
6.29
|
4.85
|
4.67
|
4.76
|
12.07
|
13.29
|
12.67
|
|
بہار
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
5.21
|
4.03
|
4.62
|
21.42
|
19.48
|
20.46
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
17.01
|
16.73
|
16.87
|
|
چھتیس گڑھ
|
22-2021
|
تمام
|
0.58
|
0.96
|
0.77
|
3.33
|
4.84
|
4.1
|
8.05
|
11.5
|
9.73
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
1.92
|
2.05
|
1.99
|
4.89
|
6.92
|
5.92
|
10.51
|
15.3
|
12.79
|
|
دادرہ اور نگر حویلی
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
8.35
|
10.46
|
9.47
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
12.03
|
12.36
|
12.21
|
|
دمن اور دیو
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
8.35
|
10.46
|
9.47
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
12.03
|
12.36
|
12.21
|
|
گوا
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
5.45
|
12.05
|
8.98
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
6.08
|
2.34
|
|
گجرات
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
5.76
|
4.23
|
4.95
|
15.89
|
19.39
|
17.85
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0.68
|
0.41
|
0.54
|
6.77
|
6.19
|
6.47
|
18.14
|
22.33
|
20.35
|
|
ہریانہ
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
0.19
|
0.25
|
0.22
|
4.94
|
6.68
|
5.91
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
0
|
4.11
|
0
|
0
|
15
|
0
|
|
ہماچل پردیش
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
0.53
|
0.62
|
0.58
|
0.9
|
1.96
|
1.46
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0.16
|
0
|
0
|
|
جموں و کشمیر
|
22-2021
|
تمام
|
4.13
|
3.94
|
4.03
|
3.17
|
2.83
|
2.99
|
6.34
|
5.63
|
5.96
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
4.12
|
2.57
|
3.31
|
6.87
|
3.35
|
5.02
|
19.05
|
10.55
|
14.17
|
|
جھارکھنڈ
|
22-2021
|
تمام
|
1.14
|
2.36
|
1.77
|
4
|
3.7
|
3.85
|
8.94
|
9.68
|
9.31
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
2.04
|
3.71
|
2.9
|
5.25
|
5.5
|
5.37
|
10.84
|
14.74
|
12.71
|
|
کرناٹک
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
1.06
|
1.1
|
1.08
|
13.02
|
16.16
|
14.65
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0.59
|
0.74
|
0.67
|
1.82
|
1.72
|
1.77
|
15.49
|
17.37
|
16.47
|
|
کیرالہ
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
4.06
|
6.85
|
5.49
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0.6
|
0
|
0.04
|
0
|
0.92
|
0
|
6.47
|
9.1
|
7.83
|
|
لداخ
|
22-2021
|
تمام
|
5.46
|
7.51
|
6.51
|
0
|
2.21
|
1.08
|
5.68
|
4.03
|
4.9
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
5.34
|
7.31
|
6.35
|
0
|
1.51
|
0.58
|
4.52
|
2.31
|
3.47
|
|
لکشدیپ
|
22-2021
|
تمام
|
0.43
|
0.48
|
0.45
|
1.9
|
3.23
|
2.6
|
0
|
0.43
|
0
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0.08
|
0
|
1.42
|
2.96
|
2.24
|
0
|
0.35
|
0
|
|
مدھیہ پردیش
|
22-2021
|
تمام
|
2.91
|
3.24
|
3.08
|
9.01
|
8.63
|
8.82
|
9.67
|
10.55
|
10.14
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
4.15
|
4.81
|
4.49
|
13.75
|
14.29
|
14.02
|
15.07
|
19.9
|
17.6
|
|
مہاراشٹر
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0.04
|
0
|
1.6
|
1.47
|
1.53
|
10.61
|
10.81
|
10.72
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0.74
|
0.81
|
0.77
|
3.24
|
2.49
|
2.85
|
22.03
|
20.16
|
21.04
|
|
منی پور
|
22-2021
|
تمام
|
12.96
|
13.54
|
13.26
|
5.21
|
5.95
|
5.59
|
1.21
|
1.35
|
1.27
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
15.4
|
15.56
|
15.48
|
6.04
|
5.38
|
5.71
|
2.39
|
4.07
|
3.23
|
|
میگھالیہ
|
22-2021
|
تمام
|
8.58
|
11.08
|
9.84
|
9.4
|
12.04
|
10.64
|
20.37
|
23.28
|
21.68
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
8.73
|
11.16
|
9.96
|
9.2
|
12.66
|
10.83
|
20.69
|
23.62
|
21.99
|
|
میزورم
|
22-2021
|
تمام
|
5.58
|
7.08
|
6.35
|
1.64
|
3.78
|
2.73
|
10.83
|
13.06
|
11.9
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
5.46
|
6.8
|
6.16
|
1.36
|
3.62
|
2.51
|
10.37
|
12.68
|
11.48
|
|
ناگالینڈ
|
22-2021
|
تمام
|
4.49
|
5.57
|
5.04
|
3.36
|
4.64
|
4
|
16.19
|
18.92
|
17.52
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
3.23
|
4.5
|
3.88
|
2.45
|
3.98
|
3.2
|
15.4
|
18.29
|
16.79
|
|
اوڈیشہ
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
6.53
|
8.04
|
7.31
|
25.24
|
29.22
|
27.29
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0.23
|
0.62
|
0.42
|
7.71
|
9.79
|
8.77
|
30.93
|
35.27
|
33.12
|
|
پڈوچیری
|
22-2021
|
تمام
|
3.61
|
3.72
|
3.67
|
2.09
|
2.75
|
2.43
|
4.09
|
8.42
|
6.31
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
18.42
|
0
|
0
|
55.06
|
0
|
21.17
|
|
راجستھان
|
22-2021
|
تمام
|
3.3
|
3.8
|
3.57
|
4.2
|
4.43
|
4.32
|
7.49
|
7.78
|
7.65
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
3.56
|
3.75
|
3.66
|
5.08
|
6
|
5.57
|
8.58
|
10
|
9.34
|
|
سکم
|
22-2021
|
تمام
|
0.48
|
2.9
|
1.76
|
0
|
0
|
0
|
9.48
|
14.55
|
11.93
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
3.75
|
1.58
|
0
|
0
|
0
|
8.23
|
15.21
|
11.5
|
|
تمل ناڈو
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
2.52
|
6.31
|
4.47
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0.1
|
0
|
0
|
0.63
|
0.42
|
0.52
|
8.7
|
10.13
|
9.44
|
|
تلنگانہ
|
22-2021
|
تمام
|
0
|
0
|
0
|
2.87
|
3.4
|
3.14
|
12.94
|
14.49
|
13.74
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0.97
|
0.1
|
0.51
|
4.36
|
4.76
|
4.57
|
12.4
|
13.57
|
13.01
|
|
تریپورہ
|
22-2021
|
تمام
|
0.95
|
1.16
|
1.06
|
4.26
|
4.75
|
4.51
|
8.15
|
8.53
|
8.34
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
2.22
|
1.76
|
1.99
|
7.34
|
7.65
|
7.49
|
7.79
|
10.71
|
9.21
|
|
اتراکھنڈ
|
22-2021
|
تمام
|
0.51
|
0.97
|
0.75
|
2.36
|
2.99
|
2.7
|
4.63
|
5.37
|
5.02
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
3.12
|
0
|
1.46
|
8.05
|
4.76
|
6.36
|
|
اتر پردیش
|
22-2021
|
تمام
|
2.98
|
2.4
|
2.68
|
4.65
|
1.25
|
2.9
|
10.01
|
9.45
|
9.7
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
9.26
|
15.03
|
12.33
|
|
مغربی بنگال
|
22-2021
|
تمام
|
8.15
|
9.07
|
8.62
|
0
|
0
|
0
|
17.66
|
18.37
|
17.98
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
9.59
|
10.43
|
10.01
|
0
|
0
|
0
|
10.17
|
14.38
|
12.14
|
|
آل انڈیا
|
22-2021
|
تمام
|
1.35
|
1.55
|
1.45
|
3.31
|
2.74
|
3.02
|
12.25
|
12.96
|
12.61
|
|
|
22-2021
|
ایس ٹی
|
2.6
|
3.04
|
2.83
|
5.7
|
6.35
|
6.03
|
15.33
|
17.87
|
16.62
|
ماخذ: یو ڈی آئی ایس ای پلس، محکمہ اسکولی تعلیم اور خواندگی، وزارت تعلیم
ضمیمہ II
|
درج فہرست قبائل کے طلباء کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ کی اسکیم کے تحت ریاستی حکومتوں؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو جاری کردہ فنڈ اور اس سے مستفیدین کی تفصیلات
|
|
(رقم لاکھ روپے میں)
|
|
نمبر شمار
|
ریاست؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے کاکا نام
|
مالی سال 21-2020
|
مالی سال 22-2021
|
مالی سال 23-2022
|
مالی سال 24-2023
|
مالی سال 25-2024
|
|
|
فنڈ جاری
|
مستفدین
|
فنڈ جاری
|
مستفیدین
|
فنڈ جاری
|
مستفیدین
|
فنڈ جاری
|
مستفیدن
|
فنڈ جاری
|
مستفیدن
|
|
1
|
انڈمان اور نکوبار
|
12.00
|
296
|
8.00
|
284
|
0#
|
260
|
0#
|
173
|
10.00
|
281
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
1434.00
|
26676
|
3935.00
|
35364
|
0#
|
40465
|
5700.00
|
*
|
3077.00
|
*
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
0#
|
5676
|
207.00
|
4548
|
267.00
|
5178
|
0#
|
2852
|
0#
|
2831
|
|
4
|
آسام
|
17.00
|
2504
|
102.00
|
4767
|
107.00
|
5688
|
188.00
|
4353
|
100.00
|
8075
|
|
5
|
بہار
|
0#
|
51076
|
0#
|
42425
|
0#
|
26450
|
0#
|
8451
|
0#
|
15139
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
3542.00
|
132421
|
0#
|
129615
|
0#
|
28642
|
5250.00
|
44837
|
0#
|
27171
|
|
7
|
ڈی این ایچ اور ڈی ڈی
|
234.00
|
2760
|
207.00
|
2167
|
0#
|
2017
|
0#
|
1273
|
0#
|
1162
|
|
8
|
گوا
|
41.00
|
2504
|
0#
|
1978
|
108.00
|
2108
|
53.00
|
1670
|
36.00
|
1698
|
|
9
|
گجرات
|
2199.00
|
166649
|
3689.00
|
157714
|
5452.00
|
157553
|
6200.00
|
121083
|
923.00
|
124886
|
|
10
|
ہماچل پردیش
|
92.00
|
1846
|
0#
|
2160
|
79.00
|
2479
|
110.00
|
2616
|
0#
|
3260
|
|
11
|
جموں و کشمیر
|
0#
|
2621
|
0#
|
5883
|
0#
|
4689
|
0#
|
2548
|
0#
|
8371
|
|
12
|
جھارکھنڈ
|
0#
|
87131
|
3899.00
|
136830
|
0#
|
129269
|
5700.00
|
114519
|
0#
|
129142
|
|
13
|
کرناٹک
|
0#
|
92254
|
1753.00
|
85554
|
2370.00
|
98705
|
3400.00
|
97191
|
700.00
|
104211
|
|
14
|
کیرالہ
|
117.00
|
9880
|
347.00
|
7071
|
0#
|
9457
|
436.00
|
8331
|
100.00
|
10980
|
|
15
|
لداخ
|
42.00
|
421
|
74.00
|
1439
|
0#
|
760
|
0#
|
2228
|
40.00
|
2029
|
|
16
|
مدھیہ پردیش
|
5429.00
|
378127
|
11458.00
|
328961
|
12744.00
|
255944
|
0#
|
259997
|
5305.00
|
212347
|
|
17
|
منی پور
|
0#
|
2479
|
0#
|
2365
|
0#
|
1836
|
0#
|
3470
|
0#
|
3916
|
|
18
|
میگھالیہ
|
0#
|
616
|
0#
|
2406
|
115.00
|
1588
|
0#
|
5590
|
70.00
|
6149
|
|
19
|
میزورم
|
168.00
|
11046
|
657.00
|
10031
|
0#
|
10312
|
307.00
|
8911
|
0#
|
8807
|
|
20
|
ناگالینڈ
|
61.00
|
451
|
0#
|
307
|
0#
|
*
|
0#
|
*
|
0#
|
*
|
|
21
|
اوڈیشہ
|
6945.00
|
190066
|
5237.00
|
135053
|
9397.00
|
79252
|
0#
|
106691
|
2950.00
|
122029
|
|
22
|
پڈوچیری
|
2.00
|
19
|
0#
|
23
|
0#
|
21
|
0#
|
11
|
0#
|
14
|
|
23
|
راجستھان
|
3127.00
|
208751
|
6234.00
|
213064
|
3531.00
|
73816
|
0#
|
76272
|
2236.00
|
57037
|
|
24
|
سکم
|
9.00
|
88
|
0#
|
296
|
18.00
|
49
|
0#
|
62
|
0#
|
377
|
|
25
|
تمل ناڈو
|
241.00
|
14822
|
547.00
|
16854
|
404.00
|
15325
|
362.00
|
17557
|
60.00
|
19178
|
|
26
|
تلنگانہ
|
0#
|
7623
|
0#
|
3066
|
0#
|
9255
|
150.00
|
2460
|
0#
|
*
|
|
27
|
تریپورہ
|
252.00
|
9404
|
59.00
|
17307
|
1137.00
|
15017
|
0#
|
11601
|
692.00
|
12597
|
|
28
|
اتر پردیش
|
0#
|
2007
|
88.00
|
815
|
0#
|
1579
|
0#
|
2329
|
0#
|
3211
|
|
29
|
اتراکھنڈ
|
138.00
|
1212
|
0#
|
1313
|
0#
|
1464
|
15.00
|
902
|
70.00
|
812
|
|
30
|
مغربی بنگال
|
788.00
|
28504
|
913.00
|
28053
|
0#
|
23979
|
2989.00
|
21789
|
0#
|
24333
|
|
|
کل
|
24890.00
|
1439930
|
39414.00
|
1377713
|
35729.00
|
1003157
|
30860.00
|
929767
|
16369.00
|
910043
|
*ا ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے اعدوشمار کی رپورٹ نہیں کی گئی۔
# گزشتہ سال وزارتوں کی جانب سے ریاستوں کو جاری کیا گیا فنڈہے اور ریاستیں موجودہ مالی سال میں مستفیدین کو فنڈ فراہم کر رہی ہیں۔
ضمیمہ III
|
درج فہرست قبائل کے طلباء کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی اسکیم کے تحت ریاستی حکومتوں؍مرکز کے زیر نتظام علاقوں کو جاری کردہ فنڈ اور اس کے مستفیدین کی تفصیلات
|
|
رقم لاکھ روپے میں
|
|
نمبر شمار
|
ریاست؍مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
مالی سال 21-2020
|
مالی سال 22-2021
|
مالی سال 23-2022
|
مالی سال 24-2023
|
مالی سال 25-2024
|
| |
جاری فنڈ
|
مستفیدین
|
جاری فنڈ
|
مستفیدین
|
جاری فنڈ
|
مستفیدین
|
جاری فنڈ
|
مستفیدین
|
جاری فنڈ
|
مستفیدین
|
|
1
|
انڈومان و نکوبارجزائر
|
13.29
|
327
|
10
|
491
|
0#
|
386
|
0#
|
193
|
10
|
311
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
6039.35
|
112645
|
8991
|
117089
|
13357
|
129032
|
11471
|
79780
|
12000
|
67888
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
5712.96
|
31527
|
12361
|
43744
|
9616
|
46330
|
8000
|
42417
|
10000
|
45125
|
|
4
|
آسام
|
5413.54
|
53205
|
1093
|
71115
|
6845
|
62140
|
3500
|
58774
|
7971
|
77350
|
|
5
|
بہار
|
708.22
|
9068
|
0#
|
16302
|
0#
|
3768
|
0#
|
1444
|
443
|
3428
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
8790.24
|
73550
|
0#
|
86910
|
9330
|
34184
|
7125
|
40552
|
7000
|
34022
|
|
7
|
ڈی این ایچ ڈی ڈی
|
3481.73
|
3549
|
0#
|
3352
|
0#
|
2208
|
404
|
1053
|
490
|
1627
|
|
8
|
گوا
|
458.18
|
4822
|
0#
|
4047
|
1187
|
4439
|
527
|
3274
|
500
|
3163
|
|
9
|
گجرات
|
22977.64
|
237041
|
46170
|
260770
|
24426
|
262538
|
35000
|
226456
|
23122
|
233161
|
|
10
|
ہماچل پردیش
|
ایل
|
2410
|
0#
|
3332
|
0#
|
4303
|
0#
|
4390
|
500
|
4937
|
|
11
|
جموں و کشمیر
|
805.44
|
4316
|
0#
|
8335
|
684
|
10430
|
746
|
7319
|
995
|
15309
|
|
12
|
جھارکھنڈ
|
0#
|
92117
|
12655
|
127258
|
0#
|
147633
|
5311
|
148676
|
20000
|
65104
|
|
13
|
کرناٹک
|
0#
|
112381
|
17081
|
133422
|
0#
|
131968
|
22556
|
123707
|
12500
|
125823
|
|
14
|
کیرالہ
|
3285.25
|
15820
|
2516
|
14558
|
0#
|
14863
|
4689
|
13731
|
2900
|
13034
|
|
15
|
لداخ
|
738
|
3055
|
2214
|
8631
|
1891
|
8619
|
596
|
9413
|
3500
|
8969
|
|
16
|
مدھیہ پردیش
|
12344
|
346060
|
24529
|
457808
|
27049
|
391317
|
35000
|
353486
|
25000
|
326410
|
|
17
|
مہاراشٹر
|
18149.52
|
157503
|
19215
|
130732
|
9027
|
135915
|
57036
|
139165
|
11781
|
144785
|
|
18
|
منی پور
|
2184.19
|
37258
|
4292
|
47793
|
4138
|
42572
|
3000
|
33542
|
2500
|
32275
|
|
19
|
میگھالیہ
|
0#
|
16399
|
2636
|
52598
|
14620
|
61360
|
8500
|
76755
|
14508
|
73902
|
|
20
|
میزورم
|
3446.82
|
33073
|
3875
|
37448
|
2590
|
38784
|
2500
|
31685
|
2400
|
28471
|
|
21
|
ناگالینڈ
|
3226.37
|
36940
|
4436
|
40588
|
3608
|
40638
|
3500
|
42485
|
6200
|
41793
|
|
22
|
اوڈیشہ
|
19095.97
|
175252
|
21843
|
207678
|
17133
|
204172
|
13564
|
213957
|
29400
|
230366
|
|
23
|
پڈوچیری
|
19.56
|
24
|
0#
|
23
|
0#
|
18
|
0#
|
11
|
0#
|
10
|
|
24
|
راجستھان
|
25557.03
|
206011
|
13745
|
188614
|
18810
|
236628
|
22000
|
168516
|
35000
|
*
|
|
25
|
سکم
|
553.83
|
3488
|
1036
|
4233
|
925
|
2650
|
0#
|
1849
|
600
|
2411
|
|
26
|
تمل ناڈو
|
3328.99
|
21383
|
4849
|
24441
|
2854
|
23529
|
2000
|
25216
|
2500
|
28273
|
|
27
|
تلنگانہ
|
27297.83
|
118347
|
7504
|
126708
|
23851
|
114911
|
11250
|
131505
|
15250
|
131032
|
|
28
|
تریپورہ
|
4804.98
|
26108
|
7189
|
35520
|
4522
|
37380
|
4000
|
33678
|
7494
|
33506
|
|
29
|
اتر پردیش
|
2218.67
|
8132
|
0#
|
8930
|
0#
|
9655
|
1000
|
9676
|
1500
|
10427
|
|
30
|
اتراکھنڈ
|
0#
|
3039
|
3568
|
3837
|
0#
|
3534
|
188
|
3972
|
270
|
3853
|
|
31
|
مغربی بنگال
|
2256.42
|
60846
|
3872
|
78100
|
0#
|
63208
|
3406
|
37760
|
3500
|
29528
|
| |
کل
|
182908
|
2005696
|
225680
|
2344407
|
196463
|
2269112
|
266869
|
2064437
|
259834
|
1816293
|
# گزشتہ برس وزارتوں کی جانب سے ریاستوں کو جاری کیا گیا فنڈہے اور ریاستیں موجودہ مالی سال میں مستفیدین کو فنڈ فراہم کر رہی ہیں۔
ضمیمہ IV
این ای ایس ٹی ایس کے قیام سے لے کر 28.02.2026 تک ای ایم آر ایس کے قیام اور آپریشن کے لیے سال وار جاری کیے گئے فنڈزروپے لاکھوں میں
|
نمبر شمار
|
ریاست؍مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
21-2020
|
22-2021
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
(28.02.2026 تک(
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
6,199.12
|
14,591.28
|
12,600.57
|
10,795.05
|
23,669.35
|
22,990.25
|
|
2
|
اروناچل پردیش (این ای)
|
200.24
|
119.54
|
1,010.87
|
693.91
|
2,021.21
|
4,504.37
|
|
3
|
آسام (این ای)
|
750.00
|
1,800.00
|
1,433.65
|
2,732.67
|
10,654.29
|
11,458.52
|
|
4
|
بہار
|
10.00
|
-
|
-
|
8.95
|
34.12
|
1,948.30
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
6,968.12
|
13,259.66
|
19,435.93
|
15,888.89
|
86,649.55
|
44,234.16
|
|
6
|
دادرہ اور نگر حویلی
|
95.70
|
252.55
|
568.22
|
163.45
|
353.32
|
458.57
|
|
7
|
این ای ایس ٹی ایس ہیڈ کوارٹر
|
1,406.04
|
2,523.79
|
4,438.96
|
14,129.47
|
9,376.35
|
427.90
|
|
8
|
گجرات
|
4,755.86
|
1,060.00
|
10,088.95
|
15,667.55
|
27,444.15
|
23,065.08
|
|
9
|
ہماچل پردیش
|
255.06
|
599.11
|
483.18
|
829.76
|
1,616.71
|
1,505.72
|
|
10
|
جموں و کشمیر
|
-
|
392.40
|
1,200.00
|
891.40
|
824.19
|
1,564.64
|
|
11
|
جھارکھنڈ
|
2,205.73
|
11,309.20
|
23,562.27
|
23,915.13
|
64,305.31
|
58,776.47
|
|
12
|
کرناٹک
|
2,495.83
|
3,672.86
|
1,768.84
|
2,677.67
|
7,933.24
|
4,416.73
|
|
13
|
کیرالہ
|
-
|
229.56
|
1,515.66
|
249.00
|
1,252.21
|
1,493.90
|
|
14
|
لداخ
|
-
|
10.00
|
450.00
|
800.00
|
17.41
|
400.00
|
|
15
|
مدھیہ پردیش
|
14,459.36
|
3,560.00
|
31,817.79
|
13,157.19
|
37,339.69
|
42,298.44
|
|
16
|
مہاراشٹر
|
2,787.16
|
4,393.74
|
12,919.16
|
8,525.91
|
30,489.87
|
20,122.96
|
|
17
|
منی پور
|
1,268.00
|
398.08
|
2,369.98
|
3,044.92
|
2,397.58
|
15,755.94
|
|
18
|
میگھالیہ(این ای)
|
1,123.45
|
1,100.00
|
800.00
|
21,014.66
|
31,942.72
|
11,403.80
|
|
19
|
میزورم
|
3,283.73
|
6,085.41
|
2,094.54
|
1,242.52
|
14,619.30
|
3,501.15
|
|
20
|
ناگالینڈ
|
5,885.51
|
9,481.60
|
557.71
|
18,377.12
|
698.27
|
855.10
|
|
21
|
اوڈیشہ
|
6,174.27
|
10,648.82
|
28,164.31
|
48,934.80
|
64,965.47
|
60,895.45
|
|
22
|
راجستھان
|
12,944.17
|
18,214.71
|
19,463.30
|
13,687.79
|
14,322.63
|
12,905.70
|
|
23
|
سکم
|
800.33
|
1,037.88
|
1,047.35
|
1,118.83
|
1,058.36
|
1,296.03
|
|
24
|
تمل ناڈو
|
1,225.14
|
1,190.62
|
1,098.78
|
1,099.80
|
1,738.95
|
2,797.39
|
|
25
|
تلنگانہ
|
9,517.30
|
19,695.52
|
12,794.53
|
14,276.17
|
16,813.70
|
16,063.43
|
|
26
|
تریپورہ
|
6,064.89
|
5,715.44
|
6,435.19
|
6,670.35
|
11,728.87
|
17,687.35
|
|
27
|
اتر پردیش
|
386.68
|
337.49
|
596.23
|
624.14
|
1,384.63
|
1,434.71
|
|
28
|
اتراکھنڈ
|
321.28
|
598.39
|
474.95
|
1,537.53
|
3,880.32
|
2,777.18
|
|
29
|
مغربی بنگال
|
2,062.45
|
-
|
2,303.67
|
1,869.70
|
1,789.50
|
900.00
|
|
کل
|
93,645.42
|
1,32,277.67
|
2,01,494.59
|
2,44,624.33
|
4,71,321.28
|
3,87,939.25
|
ضمیمہ V
پورے ہندوستان میں ڈی اے جےجی یو اے کی تمام مربوط وزارتوں/ محکموں کے سلسلے میں حصولیابیاں حسب ذیل ہے (21.01.2026 تک):
|
نمبر شمار
|
وزارت
|
سرگرمی
|
مشن کا ہدف (2024-2028)
|
مارچ 2026 تک کا ہدف
|
پیش رفت
|
|
|
|
1
|
دیہی ترقی کی وزارت (ایم او آر ڈی)
|
پی ایم اے وائی-جی ہاؤسنگ
|
20 لاکھ
|
6 لاکھ
|
مکمل تعمیر شدہ مکان: 7,00,800
|
|
|
|
پی ایم جی ایس وائی- سڑکیں
|
25,000 کلومیٹر سڑک
|
7,500 گاؤں
|
کل منظور شدہ 710 سڑکیں (2,411.25 کلومیٹر):
- جے اینڈ کے - 62 سڑکیں (296.301 کلومیٹر)
- چھتیس گڑھ - 532 سڑکیں (1,824.08 کلومیٹر)
- راجستھان - 116 سڑکیں (290.875 کلومیٹر)
|
|
|
|
2
|
وزارت جل شکتی
|
جل جیون مشن (جے جے ایم)
|
تمام دیہی علاقوں کامکمل طور پر احاطہ کیا جائے گا۔
|
1500 گاؤں
|
آحاطہ کیے گئے دیہی علاقے: 27,362
|
|
|
|
|
|
|
3
|
وزارت بجلی
|
اصلاح شدہ ڈسٹری بیوشن سیکٹر سکیم – آر ڈی ایس ایس
|
2.35 لاکھ گھرانے
|
70,000 ایچ ایچ ایس کو بجلی فراہم کی جائے گی۔
|
برقی: 65,249 (گھریلو اور عوامی ادارے)
|
|
|
|
|
|
|
4
|
نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
|
نئی سولر پاور اسکیم - پی ایم سوریہ گھر یوجنا۔
|
2000 اداروں میں سولر روف ٹاپ کی فراہمی
|
|
منظور شدہ: 4,099 ایچ ایچ ایس
(100 منی پور میں اور 3,999 اروناچل پردیش)
|
|
|
|
5
|
وزارت صحت اور خاندانی بہبود
|
نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت موبائل میڈیکل یونٹس
|
1,000 ایم ایم یو ایز
|
100 ایم ایم یو
|
154 ایم ایم یو آپریشنل
|
|
|
|
6
|
خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت
|
آنگن واڑی سنٹر- پوشن 2.0 (آئی سی ڈی ایس)
|
2,000 نئی آنگن واڑی
|
400 نیا
|
445 اے ڈبلیو سی ایز کو فعال کیا گیا۔
|
|
|
|
7
|
ڈی او ایس ای و
وزارت تعلیم
|
سماگر شکشا ابھیان (ایس ایس اے)
|
1,000 ہاسٹل
|
300 ہاسٹل
|
311 ہاسٹلز کا سنگ بنیاد
|
|
|
|
8
|
ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ
|
یونیورسل سروس اوبلیگیشن فنڈ (یو ایس او ایف)
|
5,252 گاؤں
|
1500 گاؤں
|
احاطہ شدہ دیہی علاقے: 3,513
|
|
|
|
9
|
وزارت سیاحت
|
ذمہ دار سیاحت (سودیش درشن)
|
1000 ہوم سٹیز
|
100 ہوم سٹیز
|
17.7 کروڑ مالیت کے ہوم اسٹے پروجیکٹس۔ اے پی، یو کے، لداخ، ایم پی، میزورم میں آنے والا ہے
|
|
|
|
10
|
زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت
|
پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم- آر کے وی وائی)
|
ایف آر اے پٹہ ہولڈرز کے لیے زرعی امداد (~ 2 لاکھ)
|
60000 مستفیدین
|
1.73 لاکھ پٹہ ہولڈرز کی شناخت ممکنہ استفادہ کنندگان کے طور پر کی گئی۔
|
|
|
|
11
|
ڈی؍او ماہی پروری
|
پردھان منتری متسی سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس
|
قبائلی ماہی گیروں کی مدد: 10,000 آئی ایف آر اور 1000 سی ایف آر
|
3000 مستفیدین
|
2025-26 میں پیش رفت کی اطلاع نہیں دی گئی۔
25-2024میں مستفید ہونے والوں کی اطلاع 882 مستفیدین
|
|
|
|
ڈی؍او حیوانات اور ڈیری کا کاروبار
|
نیشنل لائیوسٹاک مشن
|
8500 آئی ایف آر ہولڈرز کو لائیو سٹاک مینجمنٹ سپورٹ
|
2550 مستفیدین
|
26-2025 میں 6ریاستو ںکو 8 کروڑ جاری کیے گئے
|
|
|
|
12
|
ہنر مندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت
|
جن تعلیم سنستھان (جے ایس ایس) اسکیم
|
(i) قبائلی اضلاع میں 30 ہنر مندی کے مراکز
|
9 ہنر مندی کے مراکز اور 300وی ڈی وی کے ایس کے لیے تربیت
|
ملک بھر میں 30 اسکلنگ سینٹرز کا افتتاح کیا گیا ہے جن میں 2944 مستفیدین نے اندراج کیا ہے۔
|
|
|
|
(ii) 1000 وی ڈی وی کے ایس اور قبائلی گروپوں کی تربیت
|
|
ٹریننگ ابھی شروع ہونا ہے۔
|
|
|
|
13
|
آیوش کی وزارت
|
پوشن وٹیکاس - قومی آیوش مشن
|
|
700 پوشن وٹیکاس
|
ای ایم آر ایس میں پوشن واٹیکا زیر عمل ہے۔
|
|
|
|
14
|
پنچایتی راج کی وزارت
|
راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے)
|
تمام گرام سبھا، سب ڈویژن اور ایف آر اے سے نمٹنے والے اضلاع میں ایف آڑ اے آگاہی پروگرام
|
|
تربیت یافتہ ایس ٹی شرکاء - 46,19,662
|
|
|
|
15
|
پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
|
ایل پی جی - اجولا یوجنا۔
|
25 لاکھ ایل پی جی کنکشن
|
7.5 لاکھ ایچ ایچ ایس
|
مرکزی اسکیم کی منظوری کے لیے زیر التواء
|
|
|
******
ش ح ۔م ع ن۔ا ش ق
U. No.5895
(ریلیز آئی ڈی: 2252560)
|