ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: موسمیاتی نگرانی کے نظام کی جدید کاری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 APR 2026 11:47AM by PIB Delhi

حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں شدید موسمی حالات جیسے شدید بارش، ہیٹ ویو، طوفانوں اور خشک سالی کی بڑھتی ہوئی صورتحال اور شدت کے پیش نظر موسمیاتی نگرانی اور موسم کی پیشگوئی کے نظام کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) اپنے ماتحت اداروں کے ذریعے رصدگاہوں کے نیٹ ورکس کو وسعت دینے، ماڈلنگ کی صلاحیت بہتر بنانے اور جدید ڈیٹا ایسیمیلیشن کی تکنیکوں کو اپنانے کے لیے مختلف پروگرام نافذ کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں سطح زمین اور بالائی فضائی رصدگاہوں کے نیٹ ورکس کی توسیع و جدید کاری، ڈوپلر ویدر راڈار، سمندری رصدگاہوں کے نظام  اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (ایچ پی سی) سہولیات کی بہتری شامل ہے تاکہ ہائی ریزولوشن نیومریکل ویدر پریڈکشن (این ڈبلیو پی) اور کلائمیٹ ماڈلنگ کو تقویت دی جا سکے۔

مزید برآں، ملک بھر میں اور اس کے اطراف میں موسم کی نگرانی اور پیشگوئی کو مزید مؤثر بنانے کے واسطے 2024 میں مرکزی کابینہ نے مشن موسم  کی منظوری دی تھی، جس کے تحت 2024-25 سے 2025-26 تک 2,000 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے بنیادی مقاصد میں موسم اور آب و ہوا کی پیشگوئی کی صلاحیت کو بہتر بنانا، رصدگاہوں کےنیٹ ورکس کو مضبوط کرنا، ہائی ریزولوشن این ڈبلیو پی ماڈلز کا اضافہ کرنا اور موسم سے متعلق معلومات کی آخری سطح تک ترسیل کو کارگر بنانا شامل ہے۔ مختصراً، مشن موسم کا مقصد ملک کو’’ ویدر ریڈی اینڈ کلائمیٹ اسمارٹ‘‘بنانا ہے۔

حکومت ہندنے جدید ترین تکنیکوں کو اپنایا ہے جن میں موسم کی پیشگوئی کے ہائی ریزولوشن ماڈل، جدید رصدگاہوں کے نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پیشگوئی کے آلات شامل ہیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور اس سے وابستہ شدید موسمی وقوعات کی نگرانی اور پیشگوئی کی درستگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ فی الھال وزارتِ ارضیاتی علوم کے پاس جامع موسمیاتی رصدگاہوں کا نیٹ ورک موجود ہے جس میں دستی موسمیاتی مراکز، خودکار موسمیاتی اسٹیشن (اے ڈبلیو ایس)، خودکار بارش پیما آلات (اے آر جی)، زرعی اے ڈبلیو ایس، ڈوپلر ویدر راڈار (ڈی ڈبلیو آر)، بالائی فضائی رصد مراکز اور سیٹلائٹس شامل ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں 48 ڈوپلر ویدر راڈار تعینات ہیں جو ساحلی، ہمالیائی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا احاطہ کرتے ہیں اور تقریباً 92 فیصد جغرافیائی رقبے کا احاطہ کرتے ہیں۔ آئندہ برسوں میں مشن موسم کے تحت باقی علاقوں کا احاطہ کرنے، پرانے راڈار کی جگہ نئے راڈار نصب کرنے اور نیٹ ورک کی ریڈنڈنسی کو بہتر بنانے کے لیے اضافی ڈوپلر راڈار نصب کیے جائیں گے۔

شدید موسمی وقوعات کی پیشگوئی کے لیے دو گلوبل ماڈلز—جی ایف ایس12 کلومیٹر اور این سی یو ایم 12 کلومیٹر،2018 سے فعال طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انتہائی ہائی ریزولوشن پیشگوئی کے لیے بھارت فورکاسٹنگ سسٹم (بھارت ایف ایس) اور متھن  - ایف ایس بھی تیار کیے گئے ہیں، جو بہت زیادہ تفصیلی موسم کی پیشگوئی فراہم کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ (ایم ایل) کو موسمیاتی تبدیلی کی نشاندہی اور اس کی وجوہات کے تعین، کلائمیٹ پروجیکشن کی ڈاؤن اسکیلنگ، ہیٹ ویوز، شدید بارش، طوفان میں کلائمیٹ فنگر پرنٹس کی نشاندہی اور انسانی سرگرمیوں کے اثرات کے تخمینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس نوعیت کے ہائی ریزولوشن ماڈلز کو کمپیوٹنگ سپورٹ فراہم کرنے اور ریئل ٹائم آپریشن کو ممکن بنانے کے لیے وزارتِ ارضیاتی علوم کی کمپیوٹنگ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا کو مربوط کیا جا سکے اور میسو اسکیل، ریجنل اور گلوبل ماڈلز کو زیادہ ریزولوشن پر چلایا جا سکے۔ حال ہی میں وزارت نے ’’ارونیکا‘‘  اور ’’ارکا‘‘  سسٹمز نصب کئے ہیں، جن کے ذریعے اپنی وزارت کی مجموعی کمپیوٹنگ صلاحیت 2025 میں بڑھ کر 28 پیٹا ایف ایل او پی ایس تک پہنچ گئی ہے، جو 2014 میں صرف 6.8 پیٹا ایف ایل او پی ایس تھی۔

ڈیٹا آٹومیشن اور موسم کی پیشگوئی کے انضمام کے لیے وزارت نے ایک اینڈ ٹو اینڈ جی آئی ایس پر مبنی ڈیسیزن سپورٹ سسٹم (ڈی ایس ایس) تیار کیا ہے جو ابتدائی وارننگ سسٹم کے بطور کام کرتا ہے اور موسمی خطرات کی بروقت نشاندہی اور نگرانی میں مدد دیتا ہے۔ اس میں شدید موسم کے خصوصی ماڈیول شامل ہیں جو سائیکلون، شدید بارش، گرج ، بجلی، کہرااور ہیٹ ویوز جیسے خطرناک موسمی حالات کے لیے موثر اور بروقت وارننگ فراہم کرتے ہیں، جن کے انسانی جانوں، روزگار اور بنیادی ڈھانچے پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ نظام تمام تاریخی ڈیٹا، انتہائی شدید موسمی ریکارڈز اور ہندوستان اور اس کے ہمسایہ علاقوں کے ریئل ٹائم سطح زمین و بالائی فضائی مشاہداتی ڈیٹا کو بروئے کار لاتا ہے۔ اس میں ہر 10 منٹ بعد دستیاب راڈار مشاہدات اور ہر 15 منٹ بعد سیٹلائٹ کے اشارے بھی شامل ہوتےہیں۔

یہ نظام وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) کے زیرِ انتظام چلنے والے ماڈلز کے مکمل سیٹ سے حاصل ہونے والی نیومریکل ویدر پریڈکشن (این ڈبلیو پی) مصنوعات کو بھی استعمال کرتا ہے۔ آثارپر مبنی پیشگوئیوں اور وارننگ کی فراہمی کے لیے یہ ڈیسیزن سپورٹ سسٹم (ڈی ایس ایس) خطرات  کو مختلف زمروں کے خطرے سے متاثرہ عناصر کے ساتھ مربوط کرتا ہے تاکہ زیادہ مؤثر اور عملی انتباہات جاری کیے جا سکیں۔

وزارت نے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے اشتراک سے سیٹلائٹ پر مبنی مشاہداتی صلاحیتوں کو بھی مزید مضبوط کیا ہے تاکہ شدید موسمی وقوعات اور موسمیاتی زاویوں کی بہتر نگرانی کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے، آئی این ایس اے ٹی – 3 ڈی آر، آئی این ایس اے ٹی – 3 ڈی ایس اور اوشین سیٹ -3جیسے سیٹلائٹس کو سائیکلو جینیسیس کی پیشگوئی، طوفانوں کی ابتدائی نشاندہی، طوفان کے نظام کی ارتقائی نگرانی، ٹریک فورکاسٹنگ اور لینڈ فال کے تخمینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل شدہ مشاہدات کو زمینی رصد گاہوں کے نظام اور جدید نیومریکل ماڈلز کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے تاکہ پیشگوئی کی درستگی اور بروقت انتباہات  فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔

مزید برآں، حکومت ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی کے لیے بھی سیٹلائٹ بیسڈ ریموٹ سینسنگ سسٹم استعمال کر رہی ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن جدید ریموٹ سینسنگ اور جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) کی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز کے پھیلاؤ، حجم، حرکت اور حرکیات کی خاکہ بند نگرانی کر رہی ہے۔ سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ وسیع جغرافیائی کوریج اور بکثرت ڈیٹا دستیابی کی وجہ سے گلیشیئرز کی انوینٹری اور نگرانی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

وزارت اپنے رصدنیٹ ورک، بشمول خودکار ویدر اسٹیشن اور تحقیق و ترقی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل بہتر بنانے کے عمل میں مصروف ہے تاکہ موسم کی پیشگوئی کی درستگی کو بہتر کیا جا سکے اور ابتدائی وارننگ سسٹمز کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ حکومت موسمی معلومات اور انتباہات کی مؤثر ترسیل کے لیے بھی متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں بروقت موسم کی معلومات اور ہائپر لوکل ایڈوائزری کی فراہمی شامل ہے، جن سے کسانوں، ماہی گیروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے  اداروں کو بروقت معلومات فراہم ہوتی  ہیں تاکہ فصلوں کے بہتر انتظام اور شدید موسمی حالات کے لئے  بہتر تیاری ممکن ہو سکے۔

  • عوام تک موسمی انتباہات اور معلومات مختلف ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع سے پہنچائی جاتی ہیں۔ ان میں موبائل ایپلیکیشن جیسے موسم ، میگھ دوت، دامنی اور امنگ ایپ شامل ہیں۔
  • ڈیجیٹل ترسیل کے چینل کے تحت رجسٹرڈ صارفین کو ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے فوری انتباہ اور پیشگوئی پر مبنی الرٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔ انتباہات کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) اور  ایس اے سی ایچ ای ٹی ایپ کے ذریعے بھی جاری کیے جاتے ہیں۔
  • موسمی معلومات سوشل میڈیا اور ماس میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر کو براہِ راست ای میل اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے آگاہ کیا جاتا ہے، جبکہ یہ عمل ریاستی حکومتوں، اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے)، فشریز ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ زراعت کے اشتراک سے انجام دیا جاتا ہے۔
  • نشریات کی ترسیل کمیونٹی ریڈیو، پبلک براڈکاسٹنگ سسٹمز اور دیگر مقامی مواصلاتی نیٹ ورکس کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومتوں کی موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے بھی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
  • گرام پنچایت سطح پر موسم کی پیشگوئی (جی پی ایل ڈبلیو ایف) ڈیجیٹل پلیٹ فارم جیسے ای -گرام سوراج ، میری پنچایت ایپ اور  ای –مان چتر کے ذریعے وزارتِ پنچایتی راج کے تعاون سے فراہم کی جاتی ہے۔
  • موسمی معلومات بلاک اور پنچایت کی سطح پر پشو سخی اور کرشی سخی تک بھی وزارتِ دیہی ترقیات کے اشتراک سے پہنچائی جاتی ہیں۔
  • ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے موسم گرام پورٹل کے ذریعے بھی موسم کی پیشگوئی دستیاب ہے۔ سمندری خطرات جیسے بلند لہریں، تیز سمندری لہریں، سویل سرجز، طوفانی لہریں اور سونامی کے لیے بحری ابتدائی انتباہات جاری کیے جاتے ہیں۔
  • مزید برآں، سمندری ہنگامی حالات میں سرچ اینڈ ریسکیو ایڈ ٹول (ایس اے آر اے ٹی) اور آئل اسپل ٹریجکٹری ایڈوائزری کے ذریعے عملی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے وزارتِ پنچایتی راج (ایم او پی آر) کے اشتراک سے حال ہی میں پنچایت سطح پر موسم کی پیشگوئی کا نظام شروع کیا ہے، جو ہندوستان کی تقریباً تمام گرام پنچایتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ پیشگوئیاں مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دستیاب ہیں، جن میں ای – گرام سوراج (https://egramswaraj.gov.in  میری پنچایت ایپ، ایم او پی آر کا  ای – مان چتر  اور وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس)اور آئی ایم ڈی کا موسم گرام پورٹل (https://mausamgram.imd.gov.in) شامل ہیں۔

یہ معلومات یکم اپریل 2026 کو لوک سبھا میں مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے ارضیاتی علوم و سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دی ہیں۔

***

ش ح۔ م ش  ع۔ م الف

U. No- 5894


(ریلیز آئی ڈی: 2252519) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी