ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
قومی اتھارٹیسی اے ایم پی اے نے جی آئی ایس پر مبنی جنگلاتی حدود کے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نئی دہلی میں ’جنگلاتی حدود کے تعین اور ڈیجیٹلائزیشن‘ پر ایک قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 APR 2026 8:45PM by PIB Delhi
وزارت برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی(ایم او ای ایف اینڈ سی سی) کے تحت قومی کمپنسیٹری افاریسٹریشن فنڈ مینجمنٹ اینڈ پلاننگ اتھارٹی (نیشنل اتھارٹی سی اے ایم پی اے) نے آج نئی دہلی میں ’’جنگلاتی حدود کے تعین اور ڈیجیٹلائزیشن‘ پر ایک قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔
اس اہم قومی ورکشاپ میں جی آئی ایس پر مبنی جنگلاتی حدود کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ایک واضح اور مقررہ لائحہ عمل تیار کرنے کے مقصد سے مرکزی حکومت، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اعلیٰ حکام نے ایک ساتھ شرکت کی۔ یہ اقدام اس غرض سے کیا گیا کہ ‘لافارج اُمیام مائننگ پرائیویٹ لمیٹڈ بنام یونین آف انڈیا و دیگر” کیس میں ہندوستان کی معزز سپریم کورٹ کے 7 جولائی 2011 کے فیصلے میں دی گئی ہدایات کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
مذکورہ فیصلے میں تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ جغرافیائی حوالہ شدہ جنگلاتی زمینوں کا ایک جی آئی ایس پر مبنی فیصلہ سازی معاونت کا ڈیٹا بیس تیار کریں اور اسے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔ اس واضح ہدایت کے باوجود14 برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی بڑی تعداد میں ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں دکھائی ہے۔ تاریخی طور پر، جنگلاتی حدود کو ’ٹراورس اسکیچز” اور غیر جغرافیائی حوالہ شدہ نقشوں کے ذریعے درج کیا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں جنگلاتی علاقوں کی غلط درجہ بندی، تجاوزات کی نشاندہی میں مشکلات، ’جنگلاتی حقوق ایکٹ 2006‘ کے تحت دعوؤں میں تکرار کی صورت حال، اور ’جنگلات (تحفظ) ایکٹ 1980” کے نفاذ میں دشواریاں پیش آئی ہیں۔
اس اقدام کے ذریعے تمام جنگلاتی زمینوں کی درست نشاندہی ممکن ہو سکے گی، چاہے ان کی قانونی نوٹیفکیشن کی حیثیت کچھ بھی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلاتی زمینوں کے دیگر استعمالات اور تلافی شجرکاری کے مقامات کی نگرانی بھی بہتر ہوگی۔ یہ اقدام روایتی اور قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور سپریم کورٹ کے احکامات اور قومی جنگلاتی پالیسی کی تعمیل کو بھی یقینی بنائے گا، جس سے ہندوستان کے جنگلاتی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور بین النسلی انصاف کو مزید فروغ ملے گا۔
ورکشاپ کی اہم باتیں:
- ایک جامع تین سالہ تکنیکی اور ادارہ جاتی فریم ورک پیش کیا گیا، جس میں ڈی جی پی ایس/سی او آر ایس پر مبنی جغرافیائی حوالہ شدہ، کڈاسٹرل اور ریونیو ڈیٹا کا انضمام، ریونیو محکموں کے ساتھ مشترکہ تصدیق، تنازعات کے حل کا نظام، جنگلاتی حقوق ایکٹ 2006 کے تحت عوامی مشاورت اور ہر ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے میں جی آئی ایس پر مبنی فیصلہ سازی کے نظام کے قیام کو شامل کیا گیا۔
- سی ای او، سی اے ایم پی اے اوڈیشہ نے ایک مثالی ماڈل پیش کیا، جس میں معیاری آپریشنل طریقہ کار، دستاویزی اور نوٹیفکیشن پروٹوکولز اور ڈیجیٹلائزڈ جنگلاتی حدود کے فوائد کی تفصیل بیان کی گئی۔ اوڈیشہ کو ابتدائی اور جامع نفاذ کرنے والے ریاست کے طور پر سراہا گیا۔ متعدد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے کیس اسٹڈیز اور مقررہ مدت پر مبنی عملی منصوبے پیش کیے۔
- قومی اتھارٹی سی اے ایم پی اے کو پالیسی نگرانی، تکنیکی معیاری سازی، قومی تکنیکی شراکت دار (جیسےایف ایس آئی، آئی آئی آرایس دہرہ دون، بی آئی ایس اے جی-این اور این آر ایس سی حیدرآباد) کے انتخاب، مرکزی قومی جی آئی ایس ریپوزیٹری کے قیام اور نگرانی و معیار کی یقین دہانی کے لیے اعلیٰ ادارے کے طور پر کام کرنا ہوگا۔
- ہر ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مالی سال27-2026 کے سالانہ منصوبہ جاتی کارروائی (اے او پی) کے حصے کے طور پر ایک مقررہ مدت پر مبنی ایکشن پلان تیار کریں، جس کی معاونت سی اے ایف کے ضابطہ 2018 کے قاعدہ 5(3)(جی)کے تحت نیٹ پریزنٹ ویلیو (این پی وی) فنڈز سے کی جائے گی، اور اس پر عمل درآمد کا دورانیہ تین سال ہوگا۔
اس ورکشاپ میں محکمہ جنگلات کے ڈائریکٹر جنرل اور وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی(ایم او ای ایف اینڈ سی سی) کے اسپیشل سکریٹری جناب سشیل کمار اوستھی نےمہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ اس پروگرام کی مشترکہ صدارت سنٹرل امپاورڈ کمیٹی(سی ای سی) کے عزت مآب چیئرمین جناب سدھانت داس نے کی۔ ورکشاپ کی ضرورت اور مقاصد پر مبنی خیرمقدمی خطاب اور کلیدی پریزنٹیشن قومی اتھارٹی سی اے ایم پی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پیش کی۔ اس کے علاوہ ایم او ای ایف اینڈ سی سی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (وائلڈ لائف)، ایم او ای ایف اینڈ سی سی کے انسپکٹر جنرل آف فاریسٹ(آئی جی ایف) اورسی ای سی کے چیئرمین نے بھی حاضرین سے خطاب کیا۔
******
ش ح۔م ع ن۔ اش ق
U-NO.5890
(ریلیز آئی ڈی: 2252485)
وزیٹر کاؤنٹر : 16