سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
نکوٹین کے لیے ایک انتباہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 APR 2026 4:36PM by PIB Delhi
پانی جیسے محلول اور زندہ خلیات میں نکوٹین اور اس کے اہم میٹابولائٹ، کوٹینین کی تیز رفتار شناخت کے لیے ایک چھوٹا فلوروسینٹ ’’ ٹرن آن ‘‘ سینسر تیار کیا گیا ہے، جو نکوٹین کے اثرات اور کوٹینین جیسے بایو مارکر کی سطح کی ابتدائی اور فوری جانچ ممکن بنا سکتا ہے، جو جسم میں اس کے دیرپا اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
تمباکو نوشی اور سیکنڈ ہینڈ اسموک آج بھی عالمی سطح پر صحت کے بڑے مسائل ہیں۔ نکوٹین ایک انتہائی نشہ آور اور نقصان دہ مادہ ہے، جب کہ کوٹینین ایک مستحکم بایو مارکر ہے جو خون، تھوک (لعاب) اور پیشاب میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے نکوٹین اور کوٹینین کی شناخت کے لیے ایک مخصوص اور بایو-کمپیٹیبل پروب تیار کرنا عوامی صحت کی اسکریننگ، اسموکنگ ایکسپوژر کی نگرانی اور نکوٹین میٹا بولزم سے متعلق حیاتیاتی و خلیاتی تحقیق کے لیے نہایت اہم ہے۔
روایتی طریقے جیسے جی سی – ایم ایس ، ایچ پی ایل سی ، الیکٹرو فوریسس اور امیونو ایسیز زیادہ خرچ والے اور وقت درکار ہوتا ہے ، ماہر آپریٹرز کی ضرورت ہوتی ہے اور پیچیدہ نمونے کی تیاری درکار ہوتی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( آئی این ایس ٹی ) موہالی کے سائنسدانوں نے ایک سینسر تیار کیا ہے ، جو آئرن پر مبنی میٹل-آرگینک فریم ورک ( ایف ای - III – ایم او ایف ) نینو اسفیئرز پر مشتمل ہے، جو ایک نہایت باریک، اسفنج نما ساخت ہے اور آئرن سے تیار کی جاتی ہے۔
سائنسدانوں نے ان ایف ای – ایم او ایف نینو اسفیئرز کو ’’ سولوو تھرمل پروسس ‘‘ کے ذریعے تیار کیا ہے اور ان کی حفاظت اور مؤثریت کا جائزہ لیا۔ یہ مادہ بے شمار چھوٹے سوراخوں (پورز) پر مشتمل ہوتا ہے ، جو نکوٹین جیسے مالیکیولز کو اپنے اندر جذب کر سکتا ہے۔

تصویر: نینو اسفیئرز کی سینسنگ کی جانچ
اندرونی خلیاتی امیجنگ اور کنفوکل مائیکرو اسکوپی کے ذریعے خلیوں میں ان کے داخل ہونے ( سیلولر اَپ ٹیک ) کا مشاہدہ کیا گیا ہے ۔ محققین نے پایا کہ جب نکوٹین یا کوٹینین جیسے مالیکیولز ان نینو اسفیئرز کے مساموں ( پورز ) میں داخل ہوتے ہیں تو یہ نینو اسفیئرز زیادہ روشن ( برائٹر ) ہو کر نیلاہٹ کی طرف شفٹ کے ساتھ روشنی خارج کرنے لگتے ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نینو اسکیل میں شائع ہوئی ہے ۔ اس نینو اسفیئر کو نہ صرف انتہائی منتخب ( ہائیلی سلیکٹیو ) بلکہ دوبارہ استعمال کے قابل بھی پایا گیا ہے۔ محققین کے مطابق فلوروسینس میں اضافہ ’’ ہوسٹ–گیسٹ انٹریکشنز ‘‘ اور الیکٹران ٹرانسفر کے باعث ہوتا ہے، جس سے زیادہ مضبوط ایمیشن سگنل پیدا ہوتا ہے۔
یہ نظام پانی والے ماحول ( ایکوئس میڈیم ) میں بھی آسانی سے کام کرتا ہے اور اس کا استعمال نسبتاً آسان ہے۔ آئرن کی وافر موجودگی کی وجہ سے ، خاص طور پر غیر جارحانہ صحت کی نگرانی، تمباکو نوشی سے متعلق تحقیق، لت اور میٹابولزم کے مطالعے میں آئرن بیسڈ میٹل-آرگینک فریم ورک ( ایف ای – بیسڈ ایم او ایفز ) حیاتیاتی استعمال کے لیے ایک محفوظ اور موزوں آپشن سمجھے جاتے ہیں ۔
یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کم لاگت اسکریننگ کٹس، تمباکو کے ایکسپوژر کی فوری جانچ اور دیگر بایو مارکرز کے لیے فلوروسینٹ ایم او ایف پر مبنی سینسنگ پلیٹ فارمز کے فروغ میں مدد دے سکتی ہے۔
اشاعت کا لنک: ڈی او آئی : 10.1039/D5NR00785B
..................................................... ...................................................
) ش ح – م م ع - ع ا )
U.No. 5864
(ریلیز آئی ڈی: 2252304)
وزیٹر کاؤنٹر : 14