ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: زلزلہ پیما (سیسموگراف)نیٹ ورک
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2026 11:52AM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے ارضیاتی سائنس اور سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یکم اپریل 2026 کو لوک سبھا میں پیش کی۔
نیشنل سنٹر فار سیسمولاجی(این سی ایس) جو کہ وزارتِ برائے ارضیاتی علوم(ایم او ای ایس)کے تحت کام کرتا ہے، قومی زلزلہ جاتی نیٹ ورک (این ایس این)کے تحت زلزلہ جاتی مشاہداتی مراکز کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں اس وقت ملک بھر میں170 مراکز شامل ہیں، جن میں 07 مراکز ہماچل پردیش اور 07 کرناٹک میں واقع ہیں۔یہ مراکز براڈ بینڈ سیسموگراف اور اسٹرونگ موشن ایکسیلروگراف سے لیس ہیں۔ ان مراکز کی تفصیلات، جن میں مقام/سائٹ، عرض البلد و طول البلد، ضلع، آئی ایس1893(حصہ-1):2016 کے مطابق زلزلہ جاتی زون کی درجہ بندی اور قیام یا اپ گریڈیشن کا سال شامل ہے، ذیل میں دی گئی جدول میں فراہم کی گئی ہیں۔این سی ایس ان مراکز کی تنصیب، آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے ذمہ دار مرکزی ادارہ ہے۔ سیریل نمبر 10 سے 14 تک کے مراکز اُن مقامات پر قائم ہیں جو کرناٹک اسٹیٹ نیچرل ڈیزاسٹر مانیٹرنگ سینٹر(کے ایس این ڈی ایم سی)، بنگلورو کے زیرِ انتظام زلزلہ جاتی مشاہداتی مراکز کے ساتھ مشترکہ طور پر واقع ہیں۔
|
.نمبر شمار
|
مقام/ ضلع
|
ریاست
|
زلزلہ زدہ علاقہ
|
عرض البلد
(اواین)
|
طول البلد
(او ای)
|
تنصیب کی تاریخ
|
تازہ ترین اپ گریڈیشن کی تاریخ
|
|
1
|
بھکرا
|
ہماچل پردیش
|
V
|
31.3947
|
76.3810
|
12.07.1959
|
29.10.2015
|
|
2
|
کلپا کنورضلع
|
ہماچل پردیش
|
IV
|
31.5460
|
78.2600
|
12.05.1985
|
26.12.2017
|
|
3
|
سندر گر، منڈی
|
ہماچل پردیش
|
V
|
31.5305
|
76.9056
|
01.01.1968
|
19.01.2018
|
|
4
|
ٹسا، چمبا
|
ہماچل پردیش
|
IV
|
32.8366
|
76.1503
|
27.05.2018
|
27.05.2018
|
|
5
|
دھرم شالہ، کانگڑا
|
ہماچل پردیش
|
V
|
32.2476
|
76.3067
|
25.12.2007
|
25.12.2007
|
|
6
|
شملہ
|
ہماچل پردیش
|
IV
|
31.1280
|
77.1670
|
01.01.1975
|
27.12.2007
|
|
7
|
پونگ ڈ ام، کانگڑا
|
ہماچل پردیش
|
V
|
31.9560
|
75.9550
|
01.09.1963
|
21.12.2017
|
|
8
|
منگلور
|
کرناٹک
|
III
|
12.8923
|
74.8677
|
18.01.1984
|
22.12.2015
|
|
9
|
بینگلورو
|
کرناٹک
|
II
|
13.0211
|
77.5704
|
11.07.2021
|
11.07.2021
|
|
10
|
منڈیہ ضلع
|
کرناٹک
|
II
|
12.4100
|
76.5744
|
14.07.2021
|
14.07.2021
|
|
11
|
کوڈاگو ضلع
|
کرناٹک
|
II
|
12.4860
|
75.9089
|
17.07.2021
|
17.07.2021
|
|
12
|
بلاری ضلع
|
کرناٹک
|
II
|
15.2796
|
76.3194
|
29.07.2021
|
29.07.2021
|
|
13
|
اترا کننڈا
|
کرناٹک
|
III
|
15.2626
|
74.5349
|
01.08.2021
|
01.08.2021
|
|
14
|
کل برگی
|
کرناٹک
|
II
|
17.2922
|
76.7663
|
17.12.2021
|
17.12.2021
|
ہندوستان کا زلزلہ جاتی زوننگ نقشہ، جوبیورو آف انڈین اسٹینڈرس (بی آئی ایس) کی جانب سے ضابطہ آئی ایس1893 (حصہ-1):2016 – زلزلہ مزاحم ڈیزائن کے معیارات کے تحت شائع کیا گیا ہے، بدستور موجودہ معیار کے طور پر نافذ العمل ہے، کیونکہ نظرِ ثانی شدہ زوننگ کو مارچ 2026 میں واپس لے لیا گیا ہے۔
قومی مرکز برائے زلزلہ شناسی(این سی ایس)، اپنے قومی زلزلہ جاتی نیٹ ورک (این ایس این) کے ذریعے ملک اور اس کے اطراف میں زلزلوں کی سرگرمی کی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور ملک کے کسی بھی حصے میں آنے والے 3.0 یا اس سے زائد شدت کے زلزلوں کا پتہ لگاتا اور ان کا محلِ وقوع متعین کرتا ہے۔ اس سے علاقائی زلزلہ جاتی صورتحال کا اندازہ حاصل ہوتا ہے، جس میں بڑے ڈیموں اور پن بجلی کے منصوبوں کے اطراف کے علاقے بھی شامل ہیں۔ این سی ایس انفرادی ڈیموں کی نگرانی کے لیے مخصوص آلات برقرار نہیں رکھتا؛ اس نوعیت کی مقام مخصوص نگرانی عموماً متعلقہ ڈیم یا منصوبہ جاتی حکام کے ذریعے،سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) کے اشتراک سے کی جاتی ہے۔
این سی ایس کے زیرِ انتظام مراکز سے حاصل ہونے والا زلزلہ جاتی ڈیٹا حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں نئی دہلی میں واقع اس کے مرکزی دفتر کے ارتھ کیوک مانیرٹنگ سینٹر کو بنیادی طور پر وی سیٹ(وی ایس اے ٹی) اور دیگر ٹیلی میٹری نظاموں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس ڈیٹا کو زلزلے کے پیرامیٹرز کے فوری تخمینے اور بروقت ترسیل کے لیے پراسیس کیا جاتا ہے۔ زلزلوں سے متعلق معلومات این سی ایس کی ویب سائٹ اور بھوکمپ موبائل ایپلیکیشن پر دستیاب ہوتی ہیں، اور ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز (ایس ای او سی) اور دیگر متعلقہ اداروں کو ایس ایم ایس، ای میل، فیکس اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
ہماچل پردیش اور کرناٹک میں گزشتہ پانچ برسوں (2021 تا 2025) کے دوران ریکارڈ کیے گئے زلزلوں کی تفصیلات، شدت (میگنی ٹیوڈ) کے مختلف درجات کے مطابق، ذیل میں دی گئی ہیں:
|
طول و عرض کی حد
|
ہماچل پردیش
|
کرناٹک
|
|
2021
|
2022
|
2023
|
2024
|
2025
|
2021
|
2022
|
2023
|
2024
|
2025
|
|
<3.0
|
44
|
38
|
31
|
13
|
8
|
11
|
23
|
21
|
10
|
11
|
|
3.0-3.9
|
21
|
12
|
14
|
22
|
13
|
12
|
12
|
3
|
2
|
6
|
|
4.0-4.9
|
2
|
4
|
-
|
-
|
2
|
2
|
1
|
-
|
-
|
-
|
|
5.0-5.9
|
-
|
-
|
-
|
1
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
کل
|
67
|
54
|
45
|
36
|
23
|
25
|
36
|
24
|
12
|
17
|
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کرناٹک اور ہماچل پردیش میں ریکارڈ کیے گئے تمام زلزلے کم گہرائی (30 کلومیٹر سے کم) کے تھے، سوائے ہماچل پردیش میں سال 2021 کے دوران پیش آنے والے تین واقعات اور سال 2022 کے ایک واقعے کے، جو 30 کلومیٹر یا اس سے زیادہ گہرائی میں وقوع پذیر ہوئے۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ریکارڈ کیے گئے تمام زلزلوں کی تفصیلات این سی ایس کی ویب سائٹ (www.seismo.gov.in) پر بھی دستیاب ہیں اور ذیل میں بھی فراہم کی گئی ہیں:
ہماچل پردیش میں ضلع وار ریکارڈ کیے گئے زلزلے (2021 تا 2025):
|
ضلع /علاقہ
|
2021
|
2022
|
2023
|
2024
|
2025
|
|
بلاس پور
|
3
|
1
|
3
|
-
|
-
|
|
چمبا
|
22
|
17
|
17
|
11
|
13
|
|
دھرم شالہ
|
1
|
1
|
-
|
-
|
-
|
|
ہمیرپور
|
1
|
1
|
1
|
-
|
-
|
|
کلپا
|
-
|
-
|
1
|
-
|
-
|
|
کانگڑا
|
6
|
5
|
3
|
1
|
2
|
|
کنور
|
10
|
6
|
6
|
6
|
-
|
|
کلو
|
3
|
2
|
2
|
2
|
1
|
|
لاہول اور اسپتی
|
4
|
4
|
6
|
8
|
1
|
|
منڈی
|
5
|
11
|
3
|
6
|
4
|
|
شملہ
|
11
|
4
|
2
|
2
|
2
|
|
سرمور
|
1
|
2
|
-
|
-
|
-
|
|
سولان
|
-
|
-
|
1
|
-
|
-
|
|
کل
|
67
|
54
|
45
|
36
|
23
|
کرناٹک میں ضلع وار ریکارڈ شدہ زلزلے (2021-2025)
|
ضلع/ علاقہ
|
2021
|
2022
|
2023
|
2024
|
2025
|
|
بلاری
|
-
|
1
|
2
|
7
|
-
|
|
بیدر
|
3
|
3
|
7
|
2
|
3
|
|
بیجاپور
|
1
|
13
|
-
|
-
|
-
|
|
چکا بلا پور
|
3
|
3
|
-
|
-
|
-
|
|
چترادرگا
|
-
|
1
|
-
|
-
|
-
|
|
دکشناکنڈا
|
-
|
2
|
-
|
-
|
-
|
|
گلبرگہ
|
6
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
ہاسن
|
1
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
کل برگی
|
-
|
1
|
5
|
-
|
4
|
|
کوڈاگو
|
-
|
3
|
-
|
-
|
1
|
|
کولار
|
-
|
1
|
-
|
-
|
-
|
|
کوپل
|
-
|
-
|
-
|
-
|
1
|
|
میسورو
|
-
|
1
|
-
|
-
|
-
|
|
رائے چور
|
-
|
-
|
3
|
-
|
1
|
|
اترا کنڈا
|
-
|
-
|
-
|
1
|
-
|
|
وجیہ نگر
|
-
|
1
|
1
|
-
|
-
|
|
وجیہ پورا
|
11
|
6
|
6
|
2
|
7
|
|
کل
|
25
|
36
|
24
|
12
|
17
|
زلزلہ جاتی نگرانی کے نیٹ ورک کی جغرافیائی کوریج کا وقتاً فوقتاً پورے ملک کے لیے جائزہ لیا جاتا ہے، جس میں زیادہ زلزلہ خطرے والے علاقے، جیسے ہماچل پردیش اور مغربی گھاٹ کے بعض حصے بھی شامل ہیں۔ اس وقت یہ نیٹ ورک ملک کے کسی بھی حصے میں 3.0 یا اس سے زائد شدت کے زلزلوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
این سی ایس کے زیرِ انتظام فیلڈ اسٹیشنز سے حاصل ہونے والا مسلسل زمینی حرکت کا ڈیٹا قریب حقیقی وقت میں پروسیس کیا جاتا ہے، تاکہ زلزلے کے پیرامیٹرز کا فوری اندازہ لگایا جا سکے، شیک میپس/شدت کے نقشے تیار کیے جا سکیں، اور زلزلے سے متعلق معلومات کو بروقت سرکاری حکام، متعلقہ اداروں اور عوام تک پہنچایا جا سکے۔
قومی زلزلہ جاتی نیٹ ورک کی توسیع اور دیکھ بھال کے لیے فنڈز وزارتِ علومِ ارض(ایم او ای ایس) کی پرتھوی اسکیم کے تحت فراہم کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران نیٹ ورک کی توسیع کے لیے مرکزی اسکیم کے تحت استعمال کیے گئے فنڈز کی مالیت 2.96 کروڑ روپے رہی ہے۔
*****
ش ح۔م ح۔ ج ا
(U: 5778)
(ریلیز آئی ڈی: 2251565)
وزیٹر کاؤنٹر : 12