زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 رائے سین میں جدید زرعی میلہ شاندار افتتاح کے ساتھ شروع،پورے مدھیہ پردیش سے ہزاروں کسانوں کی شرکت


’’کسان صرف اناج نہیں اگاتے بلکہ ملک کی پوری معیشت کو پروان چڑھاتے ہیں،‘‘ وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کا خطاب

’’بچولیوں سے پاک منڈیاں، محفوظ پیداوار اور خوشحال کسان ہمارا پختہ ہدف ہے،‘‘ وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کا زور

مربوط کھیتی کے نظام کے ذریعے چھوٹے کسان سالانہ 2 لاکھ روپے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں: مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان

رائے سین، ودیشہ، سیہور اور دیواس کو باغبانی اور دالوں کی پیداوار کے بڑے مراکز بنانے کے لیے خصوصی زرعی روڈ میپ تیار: جناب شیوراج سنگھ

’’رائے سین کی مقدس سرزمین پر یہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں بلکہ علم، سائنس، تحقیق اور کسانوں کا تاریخی اجتماع ہے،‘‘ جناب شیوراج سنگھ

’’جس طرح ہم سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کو عزت دیتے ہیں، اسی طرح کسان بھی ہمارے احترام کے مستحق ہیں،‘‘ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب موہن یادو

رائے سین زرعی میلے میں مکئی کاٹنے والی مشینیں، ڈرونز، مائیکرو آبپاشی نظام، مویشی پروری اور دیگر ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے

گوداموں اور کولڈ اسٹوریج سہولیات سے لے کر نئی مٹی ایپ اور 20 تکنیکی سیشنز تک، کسانوں کو جامع ’ون اسٹاپ‘ عملی رہنمائی فراہم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 APR 2026 6:45PM by PIB Delhi

مدھیہ پردیش کے رائے سین ضلع کے وسیع دسہرہ میدان میں ایک اہم موقع پر تین روزہ جدید ترین زراعت کا میلہ، نمائش اور تربیتی پروگرام کا آغاز ہفتہ کے روز شان و شوکت کے ساتھ ہوا۔ اس تقریب کا افتتاح مشترکہ طور پر مرکزی وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود و دیہی ترقی جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کیا۔

یہ عظیم الشان تقریب مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع سے آئے ہزاروں کسانوں، ممتاز زرعی سائنس دانوں، ماہرین اور زرعی و متعلقہ شعبوں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئی، جہاں جدید کاشتکاری سے متعلق علم، اختراعات اور عملی معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کسانوں کے ساتھ اپنی ذاتی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دل سے کسانوں کی مشکلات اور محنت کو سمجھتے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں رائے سین کی مقدس سرزمین پر موجود ’’ان داتاؤں‘‘—یعنی ملک کو اناج فراہم کرنے والے کسان بھائیوں اور بہنوں—کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سر جھکایا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق بھی ایک کسان خاندان سے ہے اور وہ دیہی ماحول کی زرخیز مٹی میں پلے بڑھے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کسانوں کی مسلسل محنت، روزمرہ جدوجہد اور قربانیوں کو قریب سے محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے پُراعتماد انداز میں کہا کہ رائے سین میں منعقد ہونے والا یہ ایڈوانسڈ زرعی میلہ نہ صرف کسانوں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ ان کی زندگیوں میں بنیادی تبدیلی لاتے ہوئے خوشحالی اور بااختیاری کا راستہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے اس پروگرام کے اہم منتظم، مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسانوں کی فلاح کے لیے ایک بامقصد اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کسانوں کو ہندوستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہیں اور یہ بات محض الفاظ نہیں بلکہ حالیہ برسوں میں حکومتی پالیسیوں کے ذریعے عملی طور پر ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے پردھان منتری کسان سمان ندھی اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کسانوں کے نام پر مختص رقم بیچ میں ہی غائب ہو جاتی تھی، لیکن اب براہِ راست منتقلی کے نظام کے تحت دہلی سے جاری ہونے والی ہر رقم سیدھے کسانوں کے بینک کھاتوں میں پہنچتی ہے، جس میں نہ کوئی بچولیا شامل ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کٹوتی ہوتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ مالی مدد کسی خیرات یا احسان کے طور پر نہیں بلکہ کسانوں کی محنت اور پسینے کا جائز حق ہے، جس سے وہ بہتر بیج، کھاد اور دیگر ضروری زرعی وسائل خرید سکتے ہیں۔

انہوں نے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کو زراعت جیسے خطرات سے بھرپور شعبے کے لیے ایک مضبوط حفاظتی ڈھال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اولہ باری، سیلاب، خشک سالی یا کیڑوں کے حملے سے فصلیں تباہ ہونے کی صورت میں اب معاوضہ براہِ راست کسانوں کے کھاتوں میں منتقل ہوتا ہے، جس سے ان کی معاشی حالت سنبھلتی ہے اور وہ دوبارہ ہمت کے ساتھ کاشتکاری جاری رکھ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے سوئل ہیلتھ کارڈ اسکیم کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے کسان اپنی زمین کی سائنسی جانچ کرا نے کے بعد ضرورت کے مطابق کھاد کا استعمال کر سکتے ہیں، جس سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، لاگت کم ہوتی ہے اور ماحول پر منفی اثرات بھی کم پڑتے ہیں۔

 

’’اگر کسان گندم اگانا بھی چھوڑ دیں تو پوری معاشی زنجیر منہدم ہو جائے گی،‘‘ وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی واضح مثال

مرکزی وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسان صرف اناج ہی پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ ملک کی پوری معیشت کی بنیاد ہیں، جو مختلف شعبوں میں روزگار پیدا کرتے ہیں اور ہر طرح کی صنعتوں کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معیشت کے تین بنیادی ستون—اولیہ شعبہ (زراعت و مویشی پروری)، ثانوی شعبہ (مینوفیکچرنگ و صنعت) اور ثالثی شعبہ (خدمات)—سبھی براہِ راست کسانوں کے کھیتوں سے وابستہ ہیں۔انہوں نے اپنی بات کو مؤثر انداز میں سمجھانے کے لیے ایک مکمل منظر پیش کیا: ایک کسان گندم اگاتا اور کاٹتا ہے، جسے ٹرکوں کے ذریعے منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے، وہاں سے یہ آٹا ملوں میں پروسیس ہوتی ہے اور پھر بسکٹ و بریڈ فیکٹریوں میں مصنوعات کی شکل اختیار کرتی ہے، جہاں مزدور جدید مشینری کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ اشیا پیکنگ، ترسیل اور تقسیم کے مراحل سے گزر کر صارفین تک پہنچتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس پورے سلسلے کا ابتدائی مرحلہ—یعنی کسان کی پیداوار—متاثر ہو جائے تو پوری معیشت کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ کسان ہی دراصل معیشت کے اصل محرک ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت زراعت کو باعثِ فخر شعبہ بنانے اور ہر کسان کو عزت، وقار اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپیل کی کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع کے ساتھ زراعت کو اپنائیں، جیسے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کھیتی، مٹی کی نگرانی کے لیے سینسرز، موبائل ایپلی کیشنز، اسمارٹ فارمنگ، بغیر مٹی کی کاشت (ہائیڈروپونکس)، گرین ہاؤس فارمنگ، باغبانی اور ویلیو ایڈیڈ فوڈ پروسیسنگ۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں اور جتنا زیادہ دیہی نوجوان اس میں شامل ہوں گے، اتنی ہی نئی ٹیکنالوجیوں اور آمدنی کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے دیہی معیشت میں انقلاب آئے گا۔انہوں نے عملی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت دفاع نے ایک اہم پہل کے تحت قریبی کسانوں سے براہِ راست نامیاتی سبزیاں اور روایتی اناج جیسے جوار، باجرہ اور راگی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں فوجی چھاؤنیوں میں فراہم کیا جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ فوجیوں کو بھی تازہ اور غذائیت سے بھرپور خوراک میسر آئے گی، اور یوں ’’جے جوان، جے کسان‘‘ کا نعرہ موجودہ دور میں نئی معنویت کے ساتھ زندہ ہوگا۔

رائے سین کی روایات، پالیسیاں، محبت، شناخت، فخر اور یہاں کے لوگوں کی مسکراہٹیں سب اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہیں

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے خطاب کا آغاز رائے سین کی مقدس سرزمین کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ اجتماع محض ایک سیاسی جلسہ یا عام عوامی میٹنگ نہیں ہے، بلکہ یہ علم، جدید سائنس، تحقیقی اختراعات اور کسانوں کی اجتماعی دانش کا ایک عظیم سنگم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم شرکاء کو جدید ٹیکنالوجی، عصری علمی نظام، سائنسی طریقہ کار، تحقیق پر مبنی جدت اور جدید زرعی تکنیکوں کو قریب سے دیکھنے، سمجھنے اور سیکھنے کا بے مثال موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے رائے سین کو ایک حیرت انگیز ضلع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کی روایات، ترقی پسند پالیسیاں، گہری محبت، منفرد شناخت، فخر اور یہاں کے لوگوں کی دلکش مسکراہٹیں سب کچھ ایک الگ ہی کشش رکھتی ہیں۔ یہاں کی اعلیٰ معیار کی دھان اور گندم کی اقسام عالمی شہرت رکھتی ہیں، جبکہ سانچی اور بھیم بیٹھکا جیسے یونیسکو کے عالمی ورثے کے مقامات، بھوجپور مندر کا عظیم الشان شیو لنگ اور نرمدا و بیتوا ندیوں کا بہاؤ اس ضلع کو عالمی سطح پر نمایاں مقام عطا کرتے ہیں۔

’آتم نربھر بھارت‘ کے عظیم قومی ’یَگ‘ میں دفاع اور زراعت دونوں یکساں اہم ستون ہیں

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں ہندوستان ایک عظیم قومی کوشش کے ذریعے ایک ترقی یافتہ، خوشحال، باوقار اور خود کفیل ملک کی تعمیر میں مصروف ہے، جسے انہوں نے ایک ’یَگ‘ (اجتماعی قربانی اور کوشش کی علامت) سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی سفر میں دفاع اور زراعت دو ایسے بنیادی ستون ہیں جو ایک دوسرے کے لیے ناگزیر اور یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔

انہوں نے وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں ملک کے دفاعی نظام کی مضبوطی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی پالیسی واضح ہے کہ وہ کسی کے خلاف جارحیت کا آغاز نہیں کرتا، لیکن اگر اسے اشتعال دلایا جائے تو وہ اسے برداشت بھی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دفاعی شعبے کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، اسی طرح کسانوں اور زراعت کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بھی ملک بھر میں مؤثر مہم چلائی جا رہی ہے۔

’’میرے لیے کسان دیوتا ہیں اور عوام میرے لیے سب سے بڑی طاقت ہیں‘‘

جذباتی انداز میں انہوں نے بتایا کہ ان کے اپنے علاقے کے عوام نے ان پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں چھ مرتبہ اسمبلی اور چھ مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں کامیابی دلائی—یعنی مجموعی طور پر بارہ فتوحات۔ ان کے نزدیک کسان دراصل دیوتا کی حیثیت رکھتے ہیں اور عوام ’’جناردن‘‘ (یعنی انسانی شکل میں اعلیٰ ترین طاقت) ہیں، اور ان کی خدمت کرنا سب سے بڑی عبادت کے مترادف ہے۔

مرکزی وزیر کی حیثیت سے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے حکومت کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر حال میں ملک کے 140 کروڑ عوام تک غذائیت سے بھرپور اناج، پھل اور سبزیاں پہنچانا اور قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اولین مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی درآمدات پر انحصار کم کرنا بھی ضروری ہے، جس کے لیے زرعی پیداوار میں اضافہ، کاشت کی لاگت میں کمی اور فصلوں کے نظام میں حکمتِ عملی کے تحت تنوع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کسانوں کو روایتی اناج پر مبنی کھیتی سے آگے بڑھ کر حقیقی منافع کے لیے مربوط زرعی نظام اپنانا ہوگا

رائے سین، ودیشہ، سیہور اور دیواس اضلاع کے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زور دے کر کہا کہ روایتی اناج پر مبنی زراعت سے نکل کر ہمہ جہت مربوط کھیتی کے ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک، دو یا تین ایکڑ کی محدود زمین پر بھی اگر اناج کے ساتھ پھلوں کے باغات، سبزیوں کی کاشت، مویشی پروری، شہد کی مکھیوں کی پرورش، بکری بانی اور پولٹری کو یکجا کیا جائے تو حقیقی منافع اور استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میلے میں ایک ایکڑ کے مکمل مربوط زرعی ماڈل کا عملی مظاہرہ پیش کیا جا رہا ہے، جسے سائنسی رہنمائی کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس ماڈل کو اپنانے سے کسان صرف ایک ایکڑ زمین سے سالانہ دو لاکھ روپے سے زائد آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ میلہ محض تقاریر یا رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک حقیقی تعلیمی درسگاہ ہے

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے واضح کیا کہ اس میلے کو تقریری پلیٹ فارم یا رسمی پروگرام کے بجائے ایک عملی ’’پاٹھ شالا‘‘ (درسگاہ) کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ تین دنوں کے دوران ملک کے سرکردہ زرعی سائنس دان، ماہرین اور جدید خیالات رکھنے والے کسان تقریباً 20 خصوصی تکنیکی سیشنز کی قیادت کریں گے۔ ان سیشنز میں باغبانی، جدید زرعی تکنیک، مربوط کھیتی، لاگت میں کمی کے لیے مشینری، ڈرون ٹیکنالوجی، براہ راست منڈی سے رابطہ اور مٹی کی سائنسی جانچ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ تقریباً 4 ہزار کسانوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے اور ہر سیشن میں ماہرین کی پیشکش کے بعد سوال و جواب کا مرحلہ رکھا گیا ہے تاکہ کسان کھل کر اپنے سوالات کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی تماشہ نہیں بلکہ زراعت کی حالت اور سمت بدلنے کی ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوشش ہے۔

مرکزی حکومت ہر ریاست کے لیے الگ زرعی روڈ میپ تیار کر رہی ہے

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ہدایت پر مرکزی حکومت ہر ریاست کے لیے اس کے موسمی اور جغرافیائی حالات کے مطابق الگ زرعی روڈ میپ تیار کر رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کے لیے ریاستی حکومت کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ رائے سین، ودیشہ، سیہور اور دیواس کے لیے خصوصی سائنسی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے، جس کا اعلان اتوار 12 اپریل کو دوپہر ایک بجے کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں ہر علاقے کے لیے موزوں فصلیں، باغبانی کی اقسام، دالوں کی کاشت، اعلیٰ بیج اور دیگر تفصیلات شامل ہیں۔

روڈ میپ کو زمینی سطح پر نافذ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں ریاستی حکومت مرکزی اسکیموں کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو مکمل طور پر نافذ کرے گی اور اسے کسانوں کی زندگی بدلنے کا مشن قرار دیا۔

مدھیہ پردیش میں 55 دال ملوں کے قیام کی منظوری

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ اس خطے کو باغبانی کا بڑا مرکز بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جہاں کسان فصلوں کے ساتھ فوڈ پروسیسنگ کو بھی اپنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے مدھیہ پردیش میں 55 دال ملوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے تاکہ چنا، مسور، اُڑد اور تور کی بہتر مارکیٹنگ ہو سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کسان جو بھی مقدار میں دالیں فروخت کرنا چاہیں گے، حکومت اسے کم از کم امدادی قیمت پر خریدے گی۔

نئی ’’سوئل/ای فارم‘‘ موبائل ایپ کا آغاز

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے نئی سوئل/ای فارم موبائل ایپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے کسان اپنے موبائل سے کھیت کی مٹی کی جانچ کر کے غذائی اجزاء اور کھاد کی درست مقدار معلوم کر سکتے ہیں، جس سے لاگت کم اور پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ ان سیشنز میں سنجیدگی سے شرکت کریں اور اپنی کھیتی میں جدید طریقے اپنائیں۔

حکمرانی کے انداز میں بڑی تبدیلی آئی ہے

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ملک میں حکمرانی کا انداز بدل چکا ہے اور مختلف محکمے اب ایک مشترکہ مقصد کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رائے سین آج عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا چکا ہے اور یہاں کی باسمتی چاول 47 ممالک کو برآمد ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کے مقابلے میں آج کسانوں کو بہتر سہولیات، بجلی اور مناسب قیمت مل رہی ہے۔انہوں نے اس میلے کو ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم ملک کے دفاع اور زراعت دونوں کو یکجا کرتا ہے، جو قوم کی مضبوطی کے لیے ضروری ہیں۔

افتتاحی تقریب میں وزیر دفاع کی آمد کے بعد جدید مشینری، سولر پینلز، مائیکرو آبپاشی نظام اور ڈرونز کے مظاہرے بھی پیش کیے گئے۔ بعد ازاں مختلف اسٹالز کا دورہ کیا گیا جن میں مویشی پروری، مٹی کی صحت، کھاد، ماہی گیری اور باغبانی سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔

تقریب میں ریاستی وزراء، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی، زرعی ماہرین اور بڑی تعداد میں کسان شریک ہوئے، جبکہ تین دنوں کے دوران 20 سے زائد تکنیکی سیشنز اور تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

 ************

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 5730 )


(ریلیز آئی ڈی: 2251191) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English