سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سی ایس آئی آر اور وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں عالم جنوب کے سفیروں کے لیے ‘‘صلاحیتوں کی دریافت سیشن’’ کا مشترکہ طور پر انعقاد کیا
عالم جنوب کے سفیروں کے سامنے سائنس و ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کی نمائش؛ جنوب-جنوب تعاون کو مستحکم کیا
سی ایس آئی آر کے ذریعہ عالم جنوب کے ممالک کے ساتھ اختراعی شراکت داریوں پر بات چیت کے نتیجہ میں سائنسی سفارتکاری مزید مستحکم ہوئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2026 5:17PM by PIB Delhi
پاکستان، خلیج، مغربی ایشیا، شمالی افریقہ، وسطی امریکہ اور کیریبیائی ممالک کے سفیروں اور ہائی کمشنرز کے لیے ‘‘صلاحیتوں کی دریافت سیشن’’ کا انعقاد سی ایس آئی آر اور وزارت خارجہ، حکومتِ ہندنے انڈیاانٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں مشترکہ طور پر کیا۔ اس سیشن میں اوشیانا، خلیج، مغربی ایشیا، شمالی افریقہ، وسطی امریکہ اور کیریبیائی ممالک کے نمائندہ سفیروں نے شرکت کی۔
یہ سیشن مشترکہ طور پر ڈاکٹر نیینا ملہوترہ، سکریٹری (جنوب)، وزارت خارجہ، حکومتِ ہنداور ڈاکٹر این کلاسیلوی، ڈائریکٹر جنرل، سی ایس آئی آر اور سیکرٹری، محکمہ سائنسی اور صنعتی تحقیق (ڈی ایس آئی آر)، حکومتِ ہندکی زیر قیادت منعقد کیا گیا تھا۔
اس سیشن کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع(ایس ٹی آئی) کے ذریعے جنوب-جنوب تعاون کو مستحکم کرنا تھا، جو عالمی ترجیحات کے مطابق تھا، جن میں پائیدار ترقی، ماحولیاتی اقدامات، صحت کی مساوی سہولیات، خوراک اور پانی کی سیکورٹی، مضبوط انفراسٹرکچر اور جامع ٹیکنالوجی کی ترقی شامل ہیں۔ یہ پروگرام سی ایس آئی آر کے بین الاقوامی سائنسی و ٹیکنالوجی امور کی ڈائریکٹوریٹ (آئی ایس ٹی اے ڈی) کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا۔
ڈاکٹر رام سوامی بنسل، ہیڈ، آئی ایس ٹی اے ڈی نے وفد کا خیرمقدم کیا اور سی ایس آئی آر کی عالمی شراکت داریوں کو فروغ دینے کے عزم کو اجاگر کیا، جو سائنسی علم کو اسکیل ایبل اور معقول حل میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔
ڈاکٹر این کلاسیلوی، ڈائریکٹر جنرل، سی ایس آئی آر اور سیکرٹری، ڈی ایس آئی آر نے سی ایس آئی آر کے تحقیق و ترقی کے ماحولیاتی نظام کو اجاگر کیا، جس میں 37 لیبارٹریز مختلف شعبوں جیسے صحت کی دیکھ بھال، زراعت، ماحولیاتی انجینئرنگ، سمندری علوم، انفراسٹرکچر اور جدید مواد پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے سی ایس آئی آر کے عالمی شراکت داری کے فریم ورک کو بھی واضح کیا ، جو‘‘کنیکٹ، کولیبریٹ، کنورج اور کنورٹ’’ کے اصول پر مبنی ہے تاکہ ٹیکنالوجیز کی مشترکہ ترقی اور نفاذ کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ سی ایس آئی آر ایسی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرتا ہے جو اپنانے میں آسان، متعلقہ، کم خرچ اور عالمی سطح پر قابل قبول ہوں۔ انہوں نے سی ایس آئی آر اور عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں، دو طرفہ نقل و حرکت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علم کے تبادلے کے ذریعے تعاون کا خیر مقدم کیا۔

ڈاکٹر نیینا ملہوترہ، سکریٹری (جنوب)، وزارت خارجہ نے عالم جنوب کے درمیان مشترکہ ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں خاص طور پر صحت کی دیکھ بھال، ماحولیاتی لچک اور پائیدار وسائل کے انتظام میں سائنسی سفارتکاری کے رول پر زور دیا۔ انہوں نے سی ایس آئی آر کے رول اور عالم جنوب کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے اس کی صلاحیتوں کے بارے میں تفصیل سے واقف کرایا۔
موضوعاتی پریزنٹیشنز کے دوران، سی ایس آئی آر کے سائنسدانوں نے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے والی ٹیکنالوجیز پیش کیں۔ ڈاکٹر سی آنندھارام کرشنن، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر–این آئی آئی ایس ٹی نے کم خرچ فوڈ پروسیسنگ اور پیکیجنگ کے حل پیش کیے؛ ڈاکٹر رام وشوکرما، ممتاز سائنسدان، سی ایس آئی آر نے دوا سازی کی تحقیق اور اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کے حل کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت کو اجاگر کیا؛ ڈاکٹر کنن سری نواسن، ممتاز سائنسدان، سی ایس آئی آر–سی ایس ایم سی آر آئی نے پانی کی نمکیات دور کرنے اور آلودہ پانی کی ری سائیکلنگ کی ٹیکنالوجیز پیش کیں؛ اور ڈاکٹر ایس وینکٹا موہن، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر–این ای ای آر آئی نے بایوماس ویلیورائزیشن اور سرکولر اکنامی کے طریقوں پر بات کی۔ پروفیسر سنیل کمار سنگھ، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر–این آئی او نے پائیدار سمندری وسائل کے استعمال اور سمندری ماحولیاتی تعلق پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر چلوموری روی سیکھر، ڈائریکٹر، سی ایس آئی آر–سی آر آر آئی نے کم کاربن والی تعمیرات اور لچکدار انفراسٹرکچر میں جدت پیش کی۔
اپنے اختتامی کلمات میں، ڈاکٹر رام وشوکرما نے شریک ممالک کو سی ایس آئی آر کے ساتھ تعاون کی دعوت دی تاکہ عالم جنوب میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع(ایس ٹی آئی) کے ماحولیاتی نظام کو مستحکم کیا جا سکے اور سماجی چیلنجز کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل فراہم کیے جا سکیں۔
اس پروگرام نے سی ایس آئی آر کے عالم جنوب کے لیے ایک اہم سائنس و ٹیکنالوجی شراکت دار کے طور پر رول کو دوبارہ مستحکم کیا اور پائیدار ترقی کے لیے ایس ٹی آئی سے مستفید ہونے میں بھارت کی قیادت کو اجاگر کیا۔
*********
ش ح۔ ش ب۔ م الف
Urdu No-5673
(ریلیز آئی ڈی: 2250842)
وزیٹر کاؤنٹر : 3