الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں مقامی ویلیو ایڈیشن میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے؛ جو اس وقت 18 فیصد سے 20 فیصد کے درمیان ہے


بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پی ایل آئی اسکیم(ایل ایس ای ایم) نے پیداوار اور برآمدات کے اہداف سے تجاوز کیا ہے اور 1.85 لاکھ سے زائد براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں

کیلنڈر سال 2025 میں اسمارٹ فونز، بھارت سے سب سے زیادہ برآمد کئے جانے والے سامان کے طور پر سامنے آیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 APR 2026 4:25PM by PIB Delhi

لوک سبھا میں  یکم اپریل 2026 کو  الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت  جناب جتن پرساد نے  بتایا کہ بھارت کی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی حکمت عملی، جناب وزیراعظم کے وژن ’آتم نربھر بھارت‘ اور بھارت کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے ہدف کے تحت رہنمائی حاصل کرتی ہے۔

حکومت نے ایک مخصوص  حکمتِ عملی اپنائی ہے جس کے ذریعے مکمل ویلیو چین کو فروغ دیا جا رہا ہے۔جس میں تیار شدہ مصنوعات سے لے کر اجزاء، سب ماڈیولز، بنیادی اشیاء اور مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والے سرمایہ جاتی آلات شامل ہیں۔

اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں گزشتہ 11 برسوں کے دوران بھارت میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں نمایاں توسیع ہوئی ہے (جدول 1)۔ صنعت کے اندازوں کے مطابق الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں ملکی سطح پر ویلیو ایڈیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ اس وقت 18 فیصد سے 20 فیصد کے درمیان ہے۔

جدول 1:

#

2014-15

2024-25

ریمارکس

الیکٹرانکس سامان کی پیداوار(روپیہ)

~1.9 لاکھ کروڑ

~ 12 لاکھ کروڑ

6 گنا اضافہ ہوا۔

الیکٹرانکس سامان کی برآمد (روپیہ)

38 ہزار کروڑ

~3.3 لاکھ کروڑ

8 گنا اضافہ ہوا۔

موبائل فونز کی پیداوار (روپیہ)

18 ہزار کروڑ

5.45 لاکھ کروڑ

28 گنا اضافہ ہوا۔

موبائل فونز کی برآمد (روپیہ)

1,500 کروڑ

2 لاکھ کروڑ

127 گنا اضافہ ہوا۔

درآمد شدہ موبائل فون (یونٹ)

کل مانگ کا 75 فیصد

کل مانگ کا 0.02 فیصد

 

 

بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پی ایل آئی اسکیم

بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ (ایل ایس ای ایم) کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی  (پی ایل آئی) اسکیم کا آغاز 2020 میں ملک میں موبائل فونز کی گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔

اس اسکیم کے تحت 32 مستفید کمپنیوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ایل ایس ای ایم کے لیے پی ایل آئی اسکیم کے اہداف اور حاصل کردہ کارکردگی کی تفصیلات نیچے جدول میں دی گئی ہیں:

 

زمرہ

اسکیم کے اہداف

فروری 2026 تک کی کامیابی

سرمایہ کاری

(کروڑ روپے میں)

7,000

17,519

(ہدف کا 250 فیصد)

پیداوار

(کروڑ روپے میں)

8,12,550

11,01,813
(ہدف کا 136 فیصد)

برآمدات

(کروڑ روپے میں)

4,87,530

6,20,974

(ہدف کا 127 فیصد)

روزگار

(براہ راست ملازمتیں)

2,00,000

1,85,175

(ہدف کا 92 فیصد)

 

اس کے نتیجے میں بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل مینوفیکچرر بن کر ابھرا ہے۔ ملک میں موبائل فون کی پیداوار مالی سال 20-2019 میں 2.14 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 25-2024 میں 5.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گئی ہے۔

ملک میں موبائل فون کی برآمدات بھی تقریباً 8 گنا بڑھ کر مالی سال 20-2019 میں 0.27 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 25-2024 میں 2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔

2014 میں موبائل فونز کا درآمد کنندہ ہونے کے بعد، بھارت اب ایک خالص برآمد کنندہ بن چکا ہے۔ ملک میں اس وقت 300 سے زیادہ موبائل مینوفیکچرنگ یونٹس فعال ہیں۔

اسمارٹ فونز کیلنڈر سال 2025 میں بھارت کی سب سے زیادہ برآمد کی جانے والی اشیاء کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ 2025 میں بھارت کی برآمدات کی پہلی تین بڑی اشیاء  درج ذیل ہیں:

کیلنڈر سال 2025 کے لیے برآمد کی سرفہرست 3 اشیاء

 

#

ایس ایچ کوڈ

اشیاء

کیلنڈر سال 2025 کے لیے برآمدی قدر

(کروڑ روپے  میں)

1

85171300

اسمارٹ فونز

262,452

2

27101944

آٹوموٹو ڈیزل ایندھن، جس میں بائیو ڈیزل نہیں ہوتا، معیاری آئی ایس 1460 کے مطابق ہوتا ہے

1,42,227

3

71023910

ہیرا (صنعتی ہیرے کے علاوہ) کاٹا ہوا یا دوسری صورت میں کام کیا لیکن نصب یا سیٹ نہیں کیا گیا۔

1,08,652

ماخذ: ڈی جی سی آئی ایس

 

صنعتی اندازوں کے مطابق موبائل فون مینوفیکچرنگ کا شعبہ تقریباً 12 لاکھ روزگار کے مواقع (براہِ راست اور بالواسطہ) فراہم کرتا ہے۔

آئی ٹی ہارڈ ویئر کے لیے پی ایل آئی اسکیم

حکومتِ ہند نے آئی ٹی ہارڈویئر کے لیے پی ایل آئی اسکیم 2.0 کا آغاز 2023 میں کیا تاکہ لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، سرورز اور دیگر آئی ٹی ہارڈویئر کی مقامی مینوفیکچرنگ کا ایک مضبوط نظام قائم کیا جا سکے۔ اس کا مقصد بڑی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور بھارت کو ایک قابلِ اعتماد عالمی سپلائی چین ہب بنانا ہے۔

اس اسکیم کے تحت فروری 2026 تک مجموعی طور پر 18,863.1 کروڑ روپے کی پیداوار، 872.16 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری، اور 5,039 براہِ راست ملازمتیں حاصل کی گئی ہیں۔ مزید برآں، اب تک اس اسکیم کے تحت 82 کروڑ روپے کی مراعات جاری کیے جا چکے ہیں۔

پی ایل آئی اور مقامی پرزوں کی مینوفیکچرنگ کی ترقی کے باعث اب بھارت میں لیپ ٹاپ، سرورز اور ڈیسک ٹاپس تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان مصنوعات کا معیار عالمی معیار کے برابر ہے اور بھارتی مینوفیکچرنگ سہولیات دنیا کی بہترین سہولیات میں شمار ہونے لگی ہیں۔

الیکٹرانکس پرزوں کی مینوفیکچرنگ سے متعلق اسکیم (ای سی ایم ایس)

حکومت نے الیکٹرانکس کمپوننٹ مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس) کا آغاز ملک میں سپلائی چین کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور الیکٹرانکس کے پرزوں کی ایک مؤثر صنعت قائم کرنے کے لیے کیا ہے۔

اس اسکیم کا مقصد اہم پرزوں، بنیادی اشیاء اور سرمایہ جاتی اشیاء میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے، جن میں پرنٹڈ سرکٹ بورڈز (پی سی بی) ،  پیسیو کمپوننٹس، الیکٹرو مکینیکل کمپوننٹس، سب اسمبلیز، کیمرہ ماڈیولز، آپٹیکل ٹرانسیورز اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے استعمال ہونے والے سرمایہ جاتی اشیاء شامل ہیں۔

اس اسکیم کو صنعت کی جانب سے اب تک زبردست ردعمل ملا ہے۔ 59,350 کروڑ روپے کے سرمایہ کاری کے ہدف کے مقابلے میں 1.15 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے موصول ہوئے ہیں۔ ان منصوبوں سے تقریباً 1.4 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔

صنعت کے مضبوط ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ 2026 میں حکومت نے اس اسکیم کے لیے بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 22,919 کروڑ روپے سے بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دیا ہے۔

اب تک ای سی ایم ایس کے تحت 12 ریاستوں میں 75 درخواستوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔

ان اسکیموں کے ذریعے حکومت کے اقدامات نے بھارت میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا ایک مکمل ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے۔ نتیجتاً، مقامی ویلیو ایڈیشن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پرزہ جات اور سب اسمبلیزکی لوکلائزیشن بھی بڑھ رہی ہے۔

*********

 ش ح۔ ع ح۔ ش ت

Urdu No-5660


(ریلیز آئی ڈی: 2250717) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी