خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
حکومت کے جامع نقطۂ نظر کو اپناتے ہوئے، خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارت دونوں ہی، ملک میں بچوں کی صحت اور غذائیت کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی مہم اور پروگرام چلا رہے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2026 12:35PM by PIB Delhi
خواتین و اطفال ترقی کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ حکومت نے ملک میں غذائی قلت کے مسئلے کو اعلیٰ ترجیح دی ہے اور نسل در نسل غذائیت کی قلت کو ختم کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کے جامع نقطۂ نظر کو اپناتے ہوئے خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارت (ایم ڈبلیو سی ڈی) ، دونوں ہی ملک میں بچوں کی صحت اور غذائیت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں۔ اس میں شدید غذائیت کی کمی سے متاثر بچوں کی شناخت اور ان کا مناسب انتظام بھی شامل ہے۔
بنیادی طور پر، صحت و خاندانی بہبود کی وزارت خون کی کمی سے متاثرہ بچوں اور خواتین کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس-5) کے تحت ملک میں بچوں اور خواتین میں خون کی کمی کے معاملات سے متعلق ریاست وار ڈیٹا درج ذیل لنک پر دستیاب ہے: https://dhsprogram.com/pubs/pdf/FR375/FR375.pdf۔ آسان اندراج سے متعلق نظام اور رجسٹرجنرل آف انڈیا (ایس آر ایس- آر جی آئی) کی جانب سے جاری کردہ ’موت کے اسباب‘ کی رپورٹ (23-2021) کے مطابق، ملک میں بچے کی پیدائش سے لے کر 4 سال کی عمر تک بچوں میں غذائیت کی کمی کو موت کے اصل سبب کے طور پر نہیں پہچانا گیا ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل لنک پر دستیاب ہے: https://censusindia.gov.in/nada/index.php/catalog/46176 ۔
مشن سَکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 (مشن پوشن 2.0) خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت کا ایک جاری رہنے والا مرکز کے زیرسرپرستی اہم مشن ہے۔ اس کے تحت پورے ملک میں 6 سال سے کم عمر بچوں، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں اور نو عمرلڑکیاں (شمال مشرقی ریاستوں اور توقعاتی اضلاع میں 18-14 سال کی عمر) کو استفادہ کنندگان کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ مشن کے تحت مختلف سرگرمیوں کے نفاذ کی ذمہ داری ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی ہے۔ اس اہم مشن میں آنگن واڑی خدمات، پوشن ابھیان اور نو عمرلڑکیوں کے لیے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔
مشن پوشن2.0 کے تحت، استفادہ کنندگان قومی غذائی تحفظ ایکٹ2013 کی شیڈول-II میں شامل غذائیت کے معیار کے مطابق اضافی غذائیت فراہم کی جاتی ہے۔ ان معیارات کو جنوری2023 میں ترمیم اور جدید بنایا گیا ہے۔ پرانے معیارات بنیادی طور پر محض کیلوری مخصوص تھے؛ تاہم، ترمیم شدہ معیارات اضافی غذائیت کی مقدار اور معیار دونوں کے لحاظ سے زیادہ جامع اور متوازن ہیں۔ یہ نئے معیارات غذائی تنوع کے اصولوں پر مبنی ہیں، جو معیاری پروٹین، صحت مند چربی اور سات ضروری مائیکرو نیوٹرینٹس(چھوٹے غذائی اجزاء) (کیلشیم، زنک، آئرن، غذائی فولٹ، وٹامن-اے، وٹامن- بی-6، اور وٹامن بی-12) کو یقینی بناتے ہیں۔
اس مشن کے تحت چلائی جانے والی اہم سرگرمیوں میں سے ایک کمیونٹی کی شمولیت اور شعور پر مبنی بیداری مہم ہے، جس کا مقصد لوگوں کو غذائیت سے متعلق پہلوؤں سے آگاہ کرنا ہے۔ ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام علاقے بالترتیب ستمبر اور مارچ-اپریل کے مہینوں میں منائے جانے والے ‘پوشن ماہ’ اور ‘پوشن پکھواڑا’ کے دوران ‘جن آندولن‘کے تحت باقاعدگی سے بیداری سرگرمیاں منعقد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، کمیونٹی پر مبنی پروگرامز(سی بی ای) غذائیت سے متعلق عادات میں تبدیلی لانے کی ایک اہم حکمت عملی کے طور پرسامنے آئے ہیں اور تمام آنگن واڑی کارکنوں کے لیے ہر ماہ دو کمیونٹی پر مبنی پروگرام منعقد کرنا لازمی ہے۔ ال 2018 سے اب تک، 15 جن آندولن کے ذریعے مجموعی طور پر 9.8 کروڑ سی بی ای اور 150 کروڑ سے زیادہ جن آندولن کی سرگرمیاں منعقد کی جا چکی ہیں۔
وزارت نے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) پر مبنی گورننس ٹول کے طور پر ’پوشن ٹریکر‘ ڈیجیٹل ایپلی کیشن کی بھی شروعات کی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال بچوں میں قد چھوٹا رہ جانے،دبلا پن اور کم وزن کے مسئلے کی مسلسل نگرانی اور شناخت کے لیے کیا جا رہا ہے ۔ اس نے آنگن واڑی خدمات کے لیے تقریباً ریئل ٹائم ڈیٹا اکٹھا کرنے کی سہولت فراہم کی ہے ، جیسے آنگن واڑی مراکز کا افتتاح ، بچوں کی روزانہ حاضری ، ای سی سی ای سرگرمیاں ، بچوں کی نشوونما کی جانچ اور نگرانی اور گرم پکا ہوا کھانا (ایچ سی ایم) اور ٹیک ہوم راشن (ٹی ایچ آر) کی تقسیم شامل ہیں ۔
----------------------------------------------
ش ح۔ع ح۔ش ت
UN-NO-5534
(ریلیز آئی ڈی: 2249955)
وزیٹر کاؤنٹر : 15