مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
دہلی میں غیر مجاز کالونیوں کو ‘جیسا ہے جہاں ہے’ کی بنیاد پر باقاعدہ بنانا
آج کا دن دہلی کے رہائشیوں کی زندگیوں میں ایک تاریخی لمحہ ہے جس میں کالونیوں کو ‘جیسا ہے جہاں ہے’ کی بنیاد پر ریگولرائز کرنے کا فیصلہ لیاگیا ہے: جناب منوہر لال
دہلی میں غیر مجاز کالونیوں کو ریگولرائز کرنا آج دہلی کے 45 لاکھ لوگوں کی زندگیوں میں راحت، وقار اور حقوق کا ایک نیا باب ہے: محترمہ ریکھا گپتا
جن معاملوں میں ‘کنوینس ڈیڈ’/‘آتھرائزیشن سلپ’جاری کی جاچکی ہے ان کے لئے ایس ڈبلیو اے جی اے ایم-‘سواگم’پورٹل پر درخواستیں 24.04.2026 سے قبول کی جائیں گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 APR 2026 3:48PM by PIB Delhi
ہاؤسنگ اور شہری امور کے مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آج کا دن دہلی کے باشندوں کی زندگی میں ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہند نے 2019 میں پی ایم-یو ڈی اے وائی‘اُدے’اسکیم کو دہلی کے رہائشیوں کو ملکیت کے حقوق دینے کے لیے نافذ کیا تھا اور کہا تھا کہ کالونیوں کو‘جیسا ہے جہاں ہے’ کی بنیاد پر ریگولرائز کرنے کے موجودہ فیصلہ کے ساتھ رہائشیوں کو اپنی جائیدادوں کے رجسٹریشن کے لیے آگے آنے کی ترغیب دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف قانونی ملکیت فراہم کرے گا بلکہ شہریوں کو دہلی میونسپل کارپوریشن(ایم سی ڈی) کے ضابطوں کے مطابق اپنے گھروں کی تعمیر یا بحالی کا کام کرنے کے قابل بنائے گا۔
مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے یہ بھی کہا کہ تبدیلی کے یہ اقدامات وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی اور تحریک کے تحت اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں دہلی منصوبہ بند اور جامع شہری ترقی کے ایک نئے دور کا مشاہدہ کر رہا ہے، جس کا مقصد مستقبل کے لیے تیار شہر کی تعمیر کے دوران وراثتی مسائل کو حل کرنا ہے۔
اس فیصلہ کے بعد دہلی کی وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا نے اپنے خطاب میں کہا کہ عزت مآب وزیر اعظم ان خاندانوں کی دیرینہ تشویش کو سمجھتے ہیں جو اپنے گھروں میں رہنے کے باوجود قانونی حقوق سے محروم ہیں۔ یہی احساس اور دور اندیشانہ نقطہ نظر تھا جس نے پی ایم-یو ڈی اے وائی‘ادے’ اسکیم کی راہ ہموار کی اور آج 1731 غیر مجاز کالونیوں میں سے 1511 کو ریگولرائز کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں غیر مجاز کالونیوں کو باقاعدہ بنانا آج دہلی کے 45 لاکھ لوگوں کی زندگیوں میں راحت، وقار اور حقوق کا ایک نیا باب ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ درخواست دینے کا عمل 24 اپریل سے شروع ہوگا۔ ایک منظم ٹائم لائن رکھی گئی ہے - 7 دنوں کے اندرجی آئی ایس سروے، 15 دنوں کے اندر درخواست کی کمیوں کو دور کرنااور 45 دنوں کے اندر کنوینس ڈیڈز جاری کرنا۔
غیر مجاز کالونیاں – پی ایم –یو ڈی اے وائی‘ادے’
اکتوبر 2019 میں مرکزی حکومت نے‘نیشنل کیپٹل ٹیریٹری آف دہلی(غیر مجاز کالونیوں میں رہائشیوں کے املاک کے حقوق کی شناخت) ضوابط- 2019’ کو نوٹٰیفائیڈ کیا تھا۔ اس کے مطابق پردھان پردھان منتری– دہلی آواس ادھیکار یوجنا (پی ایم –یو ڈی اے وائی‘ادے’) میں غیر مجاز کالونیوں کا آغاز 29.10.2019 کو کیا گیا تھا۔
ان ضابطوں کے تحت 1,731 غیر مجاز کالونیوں (جو 2019 کے ضابطوں کے تحت خارج نہیں ہیں) کے رہائشیوں کو ملکیت/منتقلی/رہن کے حقوق عطا کیے جا رہے ہیں، جن کی بنیاد جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے)، بیچنے کے معاہدے، ادائیگی اور ملکیت کی دستاویزات ہیں۔
مستثنیات کے تحت آنے والی کالونیاں — جہاں کوئی حقوق نہیں دیئے جاتے ہیں— ان میں ممنوعہ اراضی پر واقع ہیں جیسے کہ محفوظ/نوٹیفائیڈ جنگلات، قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کے مقامات اور باقیات ایکٹ-1958 کے تحت محفوظ علاقے، زون-او ( جمنا فلڈ پلین)، سڑکوں کے راستے کا حق، دہلی کے کسی بھی قانون کے تحت، دس درجے کی زمینوں کی حفاظت، زمین کی حفاظت والے علاقے شامل ہیں۔ مزید برآں، 69 متمول غیر مجاز کالونیاں بھی اخراج کے دائرے میں آتی ہیں۔
کنوینس ڈیڈز (سی ڈی) سرکاری اراضی پر تعمیر شدہ جائیدادوں کے لیے جاری کی جاتی ہیں اور پرائیویٹ اراضی پر جائیدادوں کے لیے اتھارٹی سلپس (اے ایس) جاری کی جاتی ہیں۔
پی ایم –یو ڈی اے وائی‘ادے’ فی الحال ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے لاگو کیا گیا ہے جس کا انتظام ڈی ڈی اے(ڈہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کے ذریعے کیا جاتا ہے تاکہ درخواستیں جمع کئے اور ان پر کارروائی کی جا سکے۔
اکتیس مارچ 2026 تک پی ایم –یو ڈی اے وائی‘ادے’ کے تجت تقریباً 40 ہزار کنوینس ڈیڈ/آتھرائزیشن جاری کئے جاچکے ہیں۔
اسکیم کے لیے نسبتاً کم ردعمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کنوینس ڈیڈز/آتھرائزیشن سلپس جاری کرنے کے بعد بھی منظور شدہ لے آؤٹ پلانز کی عدم موجودگی کی وجہ سے رہائشی عمارت کے منصوبوں کی منظوری حاصل کرنے یا موجودہ ڈھانچوں کو ریگولرائز کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ لے آؤٹ پلانز ریزیڈنس ویلفیئر ایسوسی ایشنز(آر ڈبلیو اے ایس) کے ذریعہ تیار اور ایم سی ڈی کے ذریعے منظور کیے جانے تھے۔
غیر مجاز کالونیوں کو ریگولرائزکرنا
سن 2019 کے ضابطوں میں لے آؤٹ پلانز کی منظوری کے بعد ان کالونیوں کو‘جیسا ہے جہاں ہے’ کی بنیاد پر ریگولرائز کرنے کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے۔ تاہم منظور شدہ لے آؤٹ پلانز کی عدم موجودگی ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔
لے آؤٹ پلانز اور بلڈنگ پلانز کی منظوری کے بغیر غیر مجاز کالونیوں کے مکینوں کو اربنائزیشن کے مرکزی دھارے میں لانے کا مقصد پوری طرح حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ پی ایم-یو ڈی اے وائی‘ادے’ ملکیت کے حقوق فراہم کرتا ہے، لیکن یہ خودکار طور پر رہائشیوں کو تعمیراتی منصوبے کی منظوریوں کا اہل نہیں بناتا ہے۔
ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے فیصلے
ان مسائل کو حل کرنے کے لیے درج ذیل فیصلے کیے گئے ہیں:
- 1511 غیر مجاز کالونیاں (1731 غیر مجاز کالونیوں میں سے)، جو اخراج کے معیار کے تحت نہیں آتی ہیں، کو منظور شدہ لے آؤٹ پلانز کی ضرورت کے بغیر‘جیسا ہے، جہاں ہے" کی بنیاد پر باقاعدہ بنایا جائے گا۔
- ان کالونیوں میں تمام پلاٹوں اور عمارتوں کے زمینی استعمال کو رہائشی سمجھا جائے گا۔
- 20 مربع میٹر تک کی سہولت کی دکانوں کو ریگولرائز کیا جائے گا اگر ان کے پاس 6 میٹر کے راستے تک رسائی ہے۔ 10 مربع میٹر تک کی دکانوں کے لیے راستے کا مطلوبہ حق 6 میٹر سے کم ہو سکتا ہے۔
- ریگولرائزیشن کا اطلاق موجودہ تعمیر شدہ ڈھانچے پر‘جیسا ہے جہاں ہے’ کی بنیاد پر ہوگا۔
- منظور شدہ لے آؤٹ پلانز کی عدم موجودگی میں ریگولرائزیشن میں رکاوٹ نہیں ہوگی۔
- ایم سی ڈی/مقامی ادارے ریگولرائزیشن کے سرٹیفکیٹ جاری کریں گے، خالی پلاٹوں کا سروے کریں گے اور شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں سہولت فراہم کریں گے۔
- محکمہ ریونییو، جی این سی ٹی ڈی، اہل رہائشیوں کو کنوینس ڈیڈز/آتھرائزیشن سلپس جاری کرے گا۔
آن لائن درخواست کا عمل
1. درخواست دہندہ ایم سی ڈی سواگم پورٹل (https://mcdonline.nic.in/swagam). پر لاگ ان کرنا ہے۔
2. غیر مجاز کالونی کا نام منتخب کریں (اہل 1511 کالونیوں میں سے)؛ وارڈ اور زون خود بخود پر ہوجائیں گے۔
3. منتخب کریں کہ آیا پی ایم –یو ڈی اے وائی‘ادے’ کیس آئی ڈی موجود ہے (ہاں/نہیں)۔
4. اگر نہیں → پی ایم –یو ڈی اے وائی‘ادے’ پورٹل پر ری ڈائریکٹ کیا جاتا ہے۔
5. اگر ہاں → کیس آئی ڈی درج کریں:
* اگر سی ڈی/اے ایس جاری کیا گیا ہے → درخواست فارم کھل جائے گا۔
* اگر جاری نہیں کیا گیا تو → اسٹیٹس جاننے کے لیے پی ایم –یو ڈی اے وائی‘ادے’ پورٹل پرری ڈائرکٹ کیا جائے گا۔
6. ڈی ڈی اے کےسپورٹ کے ساتھ ریونییو ڈپارٹمنٹ/جی این سی ٹی ڈی کی جانب سے درخواستوں پر کارروائی اورسی ڈی/ایس جاری کرنا۔
7. جاری کردہ سی ڈی/اے ایس کو سواگم پورٹل کے ذریعے ایم سی ڈی کو بھیجا جاتا ہے۔
تعمیر نو /ترقیٔ نو/نئی ترقی کے التزامات
تعمیر نو یا دوبارہ ترقی کے معاملات میں کم از کم رسائی کی چوڑائی (6 میٹراندرونی سڑکیں، 9 میٹراپروچ سڑکیں) حاصل کرنے کے لیے 50فیصد کی کمی کے مساوی زمین کو سونپنا لازمی ہوگا۔
ایف اے آر کا حساب اصل پلاٹ کے رقبہ پر کیا جائے گا لیکن اس کا استعمال زمین سونپنے کے بعد بچے ہوئے (کم ہوئے) پلاٹ کے اندر ہی کیا جائے گا۔
اگر موجودہ ایف اے آر قابل اجازت حد سے زیادہ ہے تو تعزیری چارجز (3 گنا اضافی ایف اے آر چارجز) لاگو ہوں گے۔
لے آؤٹ پلان ایک انٹر ایجنسی سیل (ڈی ڈی اے، ایم سی ڈی جی این سی ٹی ڈی) سیٹلائٹ امیجز کا استعمال کرتے ہوئے تیار کریں گے۔ تاہم، لے آؤٹ پلان کی عدم موجودگی ریگولرائزیشن میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
یہ ترمیم مکمل طور پر مالکانہ حقوق پر مرکوز فریم ورک سے ایک جامع فریم ورک میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے جو جی این سی ٹی ڈی،ڈی ڈی اے اور ایم سی ڈی میں ایک سادہ اور مربوط انداز میں ملکیت کے حقوق اور غیر مجاز کالونیوں کو باقاعدہ بنانے کے قابل بناتا ہے۔
*****
UR-5508
(ش ح-ظ الف- ن ع )
(ریلیز آئی ڈی: 2249780)
وزیٹر کاؤنٹر : 14