جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جل جیون مشن کے تحت آپریشن اور دیکھ بھال کی پالیسیوں کی تشکیل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 APR 2026 4:26PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند ملک کے ہر دیہی گھرانے کو محفوظ پینے کے پانی کی یقینی فراہمی کے لیے، اگست 2019 سے) جل جیون مشن(ہر گھر جل کے تحت ریاستوں کے اشتراک سے اس پروگرام کو نافذ کر رہی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے نل کے پانی کے کنکشن کے ذریعے مقررہ معیار کے مطابق مناسب مقدار میں پانی کی باقاعدہ اور طویل مدتی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

نل کے پانی کے کنکشن کے ذریعے ہمہ گیر کوریج کو یقینی بنانے کے لیے، محکمہ نے پروگرام کے نفاذ کی نگرانی اور جانچ کے لیے ایک جامع کثیر سطحی اور کثیر النوع نظام تیار کیا ہے، جس میں گھر کے سربراہ کے آدھار کو ہدفی فراہمی اور مخصوص نتائج کی نگرانی سے جوڑا گیا ہے، قانونی دفعات کے تحت۔ اس میں تخلیق کردہ اثاثوں کی جیو ٹیگنگ، ادائیگی سے قبل تھرڈ پارٹی معائنہ،  دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی کی پیمائش اور نگرانی کے لیے سینسر پر مبنی آئی او ٹی حل کا پائلٹ بنیادوں پر استعمال وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، جل جیون مشن کے تحت نفاذ کو تیز کرنے اور موجودہ نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے، کارکردگی اور مؤثریت کو بہتر بنانے کی غرض سے گاؤں/ضلع ڈیش بورڈز، گاؤں کی سطح کے ڈیش بورڈز کو ای گرام سوراج پورٹل سے منسلک کرنا، ضلع کلکٹرز کے پیجل سمواَد، نیشنل ڈبلیو اے ایس ایچ ایکسپرٹس(این ڈبلیو ای) کے کردار کوآئی ایم آئی ایس ماڈیول کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دینا، تھرڈ پارٹی انسپیکشن ایجنسیوں (ٹی پی آئی اے)کا کردار، متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مضبوط اشتراک، ماخذ کی پائیداری کو مضبوط بنانے کے لیے ڈسیژن سپورٹ سسٹم، کمیونٹی مینیجڈ پائپڈ واٹر سسٹمز پر ہینڈ بک، مربوط پائپڈ واٹر سسٹم کے لیے منفرد شناختی نمبر وغیرہ جیسے اقدامات حال ہی میں کیے گئے ہیں۔

طویل مدتی پائیداری کے لیے، ایک جامع آپریشن اور منٹیننس(او اینڈ ایم) پالیسی جس میں اسکیموں کو پنچایتوں/وی ڈبلیو ایس سی کے حوالے کرنا، صارف فیس، اخراجات (خصوصاً بجلی کے بل) کو پورا کرنے کے لیے مناسب مالی وسائل، مقامی افراد کی تربیت اور تعیناتی برائے آپریشن و دیکھ بھال اور پانی کے معیار کی نگرانی جیسے پہلو شامل ہیں، ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے نافذ کی جا رہی ہے۔

تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے، جامع او اینڈ ایم پالیسی کے لیے 19 اہم اجزاء پر مشتمل ایک مسودہ فریم ورک ریاستوں کے ساتھ مشترک کیا گیا ہے۔  اس کے علاوہ ایک تشخیصی میٹرکس بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کی تیاری کا جائزہ لیا جا سکے کہ وہ دیہی پائپڈ واٹر سپلائی سسٹمز کو مؤثر طریقے سے چلانے، منظم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت ہند کامحکمہ ریاستوں کو پالیسی سازی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تکنیکی مدد بھی فراہم کر رہا ہے، جس میں ورکشاپس، تربیتی پروگرام اور سیمینارز کا انعقاد شامل ہے تاکہ ریاستی افسران کو بہترین طریقہ کار، مالیاتی نظم و نسق اور کمیونٹی کی شمولیت کی حکمت عملیوں سے آگاہ کیا جا سکے۔

اب تک 23 ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں (آندھرا پردیش، گجرات، جھارکھنڈ، کرناٹک، تمل ناڈو، انڈمان و نکوبار جزائر، اروناچل پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، دادر و نگر حویلی و دمن و دیو، گوا، ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، پڈوچیری، سکم، تریپورہ، اتر پردیش، اڈیشہ اور اتراکھنڈ) نے اپنی او اینڈ ایم پالیسی کی منظوری کی اطلاع دی ہے۔ آندھرا پردیش، گجرات، جھارکھنڈ، کرناٹک اور تمل ناڈو نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے اپنی  او اینڈ ایم پالیسی 19 اجزاء کے مطابق نافذ کی ہے۔

 دستورہند کی 73ویں ترمیم کے مطابق اور  دیہی علاقوں میں ملکیت کا احساس پیدا کرنے کے لیے، جل جیون مشن کے تحت پانی کی فراہمی کے نظام سے متعلق تمام فیصلوں میں گاؤں کی سطح پر منصوبہ بندی اور کمیونٹی کی شرکت کو پنچایتی راج اداروں کے ذریعے یقینی بنایا گیا ہے۔ اسی کے تحت گرام پنچایت یا اس کی ذیلی کمیٹی اور صارف گروپ یعنی ولیج واٹر اینڈ  سینی ٹیشن کمیٹی  (وی ڈبلیو ایس سی )یا پانی سمیتی کو گاؤں کے اندر پانی کی فراہمی کے نظام کی منصوبہ بندی، نفاذ، انتظام، آپریشن اور دیکھ بھال کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

جل جیون مشن کے تحت این جی اوز، کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز(سی بی او) ، سیلف ہیلپ گروپس- اپنی مدد آپ گروپ(ایس ایچ جی) اور رضاکار تنظیموں(وی او) وغیرہ کو بھی  ایمپلی منٹیشن سپورٹ ایجنسی(آئی ایس اے) کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ  وی ڈبلیو ایس سی پانی سمیتیوں کو منصوبہ بندی، کمیونٹی کو متحرک کرنے، معلومات کی ترسیل اور خواتین کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے تربیت اور رہنمائی فراہم کریں، تاکہ پانی کی فراہمی کے ڈھانچے کی طویل مدتی دیکھ بھال  کویقینی بنایا جا سکے۔

ویلیج ایکشن پلانز(وی اے پی) کی تیاری کے دوران، مختلف پروگراموں کے تحت گاؤں کی سطح پر دستیاب وسائل جیسے  فائنانس کمیشن کے واٹر و  سینی ٹیشن گرانٹس برائے پی آر آئی اورآر ایل بی، جے جے ایم، ایس بی ایم (جی )، وی بی جی-آر اے ایم –جی، ایم پی اور ایم ایل اے لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈز، ڈسٹرکٹ منرل ڈیولپمنٹ فنڈ(ڈی ایم ڈی ایف) ،سی ایس آئی فنڈ اور کمیونٹی شراکت وغیرہ کو یکجا کرنا نہایت اہم ہے۔

 اس کے علاوہ مقامی دیہی برادری کو آپریشن اور منٹیننس کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل بنانے کے لیے، نل جل متر پروگرام (این جے ایم پی)کو ہنرمندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ  کی وزارت کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے، تاکہ انہیں جامع مہارتیں فراہم کی جا سکیں اور “نل جل متر” تیار کیے جائیں۔  تاکہ یہ افراد اسکیم آپریٹرز کے طور پر کام کرتے ہوئے اپنے گاؤں میں پائپڈ واٹر سپلائی اسکیموں کی معمولی مرمت، دیکھ بھال اور حفاظتی اقدامات جیسے کہ مستری، پلمبر، فٹر، الیکٹریشن، موٹر مکینک اور پمپ آپریٹر وغیرہ کے کام کاج انجام دے سکیں۔

حکومت ہند نے جل جیون مشن کی مدت کو دسمبر 2028 تک بڑھانے کی منظوری دی ہے، جس میں اضافی فنڈنگ اور نئے ڈھانچے کے ساتھ نفاذ شامل ہے، جس کا مقصد دیہی پینے کے پانی کے شعبے میں ساختی اصلاحات کو فروغ دینا ہے (جے جے ایم 2.0) ۔ اسی کے تحت ایک یکساں قومی ڈیجیٹل فریم ورک “سجلم بھارت” قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر گاؤں کو ایک منفرد “سجل گاؤں اور سروس ایریا آئی ڈی” دی جاتی ہے اور پانی کی فراہمی کے پورے نظام کو ماخذ  اور ذرائع سے نل تک ڈیجیٹل طور پر نقشہ بند کیا جاتا ہے۔

شفافیت بڑھانے اور عوامی شراکت داری (جن بھاگیداری) کو فروغ دینے کے لیے “جل ارپن” کے تحت کمیونٹی مینیجڈ پائپڈ واٹر سسٹمز پر ایک معیاری ہینڈ بک جاری کی گئی ہے، جس میں گرام پنچایت اوروی ڈبلیو ایس سی اراکین کی شمولیت کے ساتھ 15 دن کا ٹرائل رن لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ہموار منتقلی اور پائیدار آپریشن کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ضلع اور گرام پنچایت ڈیش بورڈز کو “میری پنچایت” پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے تاکہ شہری فیڈبیک اور شکایات کے ازالے کو ممکن بنایا جا سکے، جبکہ “جل سیوا انکالن” کو گرام پنچایت کی قیادت میں ڈیجیٹل پانی کی خدمات کے جائزے کے  ایک آلے کے طور پر شروع کیا گیا ہے۔

مختلف شراکت داروں کے درمیان باہمی سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے جل جیون سمواَد کا آغاز ایک ماہانہ جریدے اور علمی پلیٹ فارم کے طور پر کیا گیا ہے، جس میں جل جیون مشن کی پیش رفت، زمینی کہانیاں اور بہترین طریقہ کار، ماہرین کے مضامین اور مشن سے متعلق تازہ معلومات شامل ہوتی ہیں۔

 اس کے علاوہ، مختلف اداروں اور افراد کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے محکمہ کی جانب سے رورل واش پارٹنرز فورم(آر ڈبلیو پی ایف) بھی قائم کیا گیا ہے، جو دیہی پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت(ڈبلیو اے ایس ایچ) کے شعبے میں کام کرنے والے تمام شراکت داروں کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے جدت کو فروغ دینے، خیالات کے تبادلے، پالیسی تجاویز پیش کرنے، بہترین طریقہ کار کو دستاویزی شکل دینے، نفاذ میں بہتری کی تجاویز دینے اور مشن کے تحت پیش رفت کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ معلومات جل شکتی کے وزیر مملکت جناب وی سومنا  نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں ۔

            ***

ش ح۔ م م ع۔ش ب ن

U-5427


(ریلیز آئی ڈی: 2249226) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी