وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ مملکت برائے دفاع نے آئی او ایس ساگر کو جھنڈی دکھا کر ممبئی سے روانہ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 APR 2026 7:39PM by PIB Delhi

علاقائی بحری سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے لیے بھارت کے عزم کو مزید مضبوط بنانے کے ایک اہم اقدام کے طور پر بھارتی بحریہ کا آف شور پیٹرول ویسل آئی این ایس سوناینا 2 اپریل 2026 کو ممبئی سے انڈین اوشن شپ (آئی او ایس) ساگر کے طور پر روانہ ہوا۔ اس جہاز پر بھارت اور دوست ممالک کی سولہ بحری افواج کے اہلکار سوار تھے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاع جناب سنجے سیٹھ نے بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی کی موجودگی میں اسے روانہ کیا۔

اپنے خطاب میں وزیرِ مملکت برائے دفاع نے کہا کہ آئی او ایس ساگر اقدام بھارت کے اس مشترکہ ویژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا نعرہ ہے: ’’شراکت داری کے ذریعے قیادت، اتحاد کے ذریعے طاقت اور امن کے ذریعے ترقی۔‘‘

انہوں نے حال ہی میں عمان سے آئی این ایس وی کوندینیا کی واپسی کا بھی ذکر کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے بحری تعاون کی علامت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئی او ایس ساگر 2026 اسی جذبۂ شراکت کو آگے بڑھاتے ہوئے علاقائی تعاون کو مزید وسیع اور جامع بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0010E77.jpg

’’ایک آزاد، کھلا اور سب کے لیے شامل بھارت-بحر الکاہل تمام ممالک کے مفاد میں ہے‘‘، وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے اس قول کا حوالہ دیتے ہوئے جناب سنجے سیٹھ نے بھارت کی پڑوسی پہلے پالیسی اور ویژن مہاساگر— یعنی سیکورٹی اور ترقی کے لیے باہمی و ہمہ جہت پیش رفت— کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی او ایس ساگر دراصل ویژن مہاساگر کا عملی اور مؤثر اظہار ہے، جو شراکت دار ممالک کو تربیت، تعاون اور مشترکہ تیاری کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بحری سلامتی اسی وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب اسے باہمی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے تحت فروغ دیا جائے۔

اپنے خطاب میں بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی نے بدلتے ہوئے بحری منظرنامے کا ذکر کیا، جس میں بڑھتی ہوئی مسابقت، غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور بے ضابطہ ماہی گیری، قزاقی، منشیات کی اسمگلنگ اور اہم وسائل پر ابھرتی ہوئی مسابقت شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک آزاد، کھلے اور محفوظ بحرِ ہند کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون پر مبنی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ایک پیچیدہ بحری ماحول میں 16 ہم خیال بحری ممالک کا آئی او ایس ساگر کے تحت مشترکہ مقصد اور اجتماعی عزم کے لیے یکجا ہونا ایک نادر اور اہم پیش رفت ہے۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002YNBU.jpg

اس مشن نے 16 مارچ سے 29 مارچ 2026 تک ہاربر فیز مکمل کیا، جس کے دوران شریک عملے کے درمیان پیشہ ورانہ تبادلۂ خیال، تربیت اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا گیا۔ اب یہ 2 اپریل سے 20 مئی 2026 تک سی فیز سے گزرے گا، جس کے تحت جنوب-مشرقی بحرِ ہند کے خطے میں عملی تعیناتی کی جائے گی۔

اس دوران آئی او ایس ساگر کولمبو (سری لنکا)، فوکٹ (تھائی لینڈ)، جکارتہ (انڈونیشیا)، سنگاپور، چٹاگانگ (بنگلہ دیش)، ینگون (میانمار) اور مالے (مالدیپ) سمیت مختلف بندرگاہوں پر قیام کرے گا، اور آخر میں کوچی (بھارت) میں اپنے مشن کا اختتام کرے گا۔

جہاز کے عملے کو جہاز رانی، سمت دکھانے، مواصلاتی طریقۂ کار، بحری سلامتی، آگ بجھانے، نقصانات پر قابو پانے، وی بی ایس ایس آپریشنز اور جدید برج مینشپ کی تربیت دی جائے گی، تاکہ پیچیدہ بحری حالات میں عملی تیاری اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

آئی او ایس ساگر کی روانگی کی تقریب میں وائس ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن، مغربی بحری کمان کے فلیگ آفیسر کمانڈنگ اِن چیف، اور شریک ممالک کے سفارتی مشنز کے معزز نمائندگان بھی موجود تھے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-5362

 


(ریلیز آئی ڈی: 2248665) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi