نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
’وراثت سے اعلیٰ کارکردگی تک‘:کھیلوں انڈیاقبائیلی گیمز ہندوستان کے قبائلی علاقوں سے چمپئن تیار کر رہا ہے: محترمہ رکھشا نکھل کھڈسے
3,800 شرکاء، 9 کھیلوں کے مقابلے اور 106 گولڈ میڈلز،قبائلی کھیلوں کی صلاحیتوں کے لیے ہندوستان کے پہلے مخصوص قومی پلیٹ فارم کی پہچان بن گئے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 MAR 2026 8:22PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت برائے امون نوجوانان و کھیلمحترمہ رکشا نکھل کھڈسے نے آج ’کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز‘ 2026 (کے آئی ٹی جی)کے پہلے ایڈیشن کے مقامات کا دورہ کیا۔ یہ مقابلے 25 مارچ سے 3 اپریل 2026 تک رائے پور، جگدل پور اور سرگوجا میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو کھیلوں کے ذریعے قبائلیوں کی خود مختاری، نچلی سطح پرصلاحیت کی شناخت اور قوم سازی کے لیے ایک انقلابی پلیٹ فارم قرار دیا۔
کھیلو انڈیاقبائیلی گیمز کے اس افتتاحی ایڈیشن میں تقریباً 3,800 شرکاء جمع ہوئے ہیں، جن میں کھلاڑی، کوچز اور حکام شامل ہیں۔ یہ مقابلے کھیلوں کے 9 شعبوں پر مشتمل ہیں، جن میں 7 تمغوں والے کھیل اور 2 نمائشی (ڈیموسٹریشن) کھیل شامل ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 106 طلائی تمغے داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ اس ایونٹ کا میسکوٹ (نشانی) ’مور ویر‘ ہے، جوہندوستان کی 700 سے زائد قبائلی برادریوں کی ہمت، فخر اور بہادری کی علامت ہے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ کھڈسے نے کہا کہ کھیل محض ایک مسابقتی سرگرمی نہیں بلکہ یہ خود مختاری، خود اعتمادی پیدا کرنے اور قومی یکجہتی کا ایک طاقتور وسیلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھیلو انڈیاقبائیلی گیمز ہندوستان کے کھیلوں کے ورثے کو دوبارہ زندہ کرنے، قبائلی نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ایک ایسا ہندوستان بنانے کی سماجی تحریک ہے، جہاں ہر گاؤں میں ایک چمپئن موجود ہو۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان 2036 کے اولمپکس تک کھیلوں کی دنیا کے صف اول کے 10 ممالک میں شامل ہونے اور ’وکست بھارت @ 2047‘تک سرفہرست5 میں جگہ بنانے کے لیے پُرعزم ہے، اور ’کھیلو انڈیا قبائیلی گیمز‘ جیسے اقدامات اس قومی مقصد کے حصول میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
محترمہ کھڈسے نے اس بات پر زور دیا کہ’بستر اولمپکس‘ اور’سرگوجا اولمپکس‘ جیسے روایتی کھیلوں کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ قبائلی علاقوں میں نچلی سطح پر کھیلوں کی ثقافت پہلے سے ہی مضبوط اور متحرک ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ گیمز اس موجودہ صلاحیت کی شناخت کرنے اور اسے پروان چڑھانے کے لیے ایک باضابطہ ادارہ جاتی راستہ فراہم کرتے ہیں۔
خواتین کی شرکت پر وزارت کی خصوصی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے ’اسمیتا لیگز‘ کی کامیابی کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان 124 لیگز کے ذریعے تقریباً 14,000 لڑکیوں کو فٹ بال اور ہاکی جیسے کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ہے، جن میں حساس اور بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ علاقے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کھیلوں کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے اور دیہی و قبائلی علاقوں کی لڑکیوں کے لیے مواقع کے دائرے کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
محترمہ کھڈسے نے مزید بتایا کہ کھیلوں کے دوران ابھرتی ہوئی صلاحیت کی شناخت کے لیے’اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا‘ کے کوچز کو تمام ساتوں مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو براہ راست ’کھیلو انڈیا ماحولیاتی نظام‘ میں شامل کر لیا جائے گا، جس سے نچلی سطح سے لے کر عالمی سطح (پوڈیم) تک پہنچنے کا ایک آسان راستہ ہموار ہوگا۔
ہندوستان کے تہذیبی کھیلوں کے ورثے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قبائلی برادریاں تاریخی طور پر روایتی کھیلوں، بشمول تیر اندازی کی موجد اور ماہر رہی ہیں۔ یہ گیمز ہزاروں سالوں پر محیط اس عظیم ورثے کو دوبارہ زندہ کرنے اور اسے منانے کی ایک کوشش بھی ہیں۔
مختلف مقامات پر شرکاء کے جوش و خروش کو سراہتے ہوئے محترمہ کھڈسے نے کہا کہ ’کھیلو انڈیا قبائیلی گیمز قبائلیوں کی خود مختاری، نوجوانوں کی ترقی اور قومی سطح پر کھیلوں کی مہارت کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوا ہے۔
اپنے جگدل پور دورے کے دوران محترمہ کھڈسے کے ہمراہ کئی اہم شخصیات موجود تھیں، جن میں جناب سنجے پانڈے (میئر، جگدل پور)، جناب مینک سریواستو (آئی پی ایس، ڈی ڈی جی کھیلو انڈیا)، جناب شلبھ سنہا (آئی پی ایس، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس)، جناب آکاش چھکارا (آئی اے ایس، ضلع مجسٹریٹ)، جناب پرتیک جین (آئی اے ایس، سی ای او ضلع پنچایت)، جناب رشی کیش تیواری (ایس ڈی ایم، جگدل پور)، محترمہ تنوجہ سالام (ڈائریکٹر اسپورٹس، چھتیس گڑھ)، محترمہ ممتا شری اوجھا (ڈائریکٹر، کھیلو انڈیا) اور جناب ڈومن سنگھ (آئی اے ایس، کمشنر، بستر) شامل تھے۔
اس پروگرام کا اختتام کھلاڑیوں، کوچز اور افسران کے ساتھ بات چیت اور مقابلے کے مقامات پر جاری ٹیلنٹ کی شناخت کی کوششوں کے جائزے کے ساتھ ہوا۔
RM31.jpeg)


*****
(ش ح –م ع۔ص ج)
U. No. 5280
(ریلیز آئی ڈی: 2248277)
وزیٹر کاؤنٹر : 8