سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نامیاتی کرسٹل کی قدرتی طور پر خود کو درست کرنے کی صلاحیت، خودکار مرمت کرنے والے جدید اسمارٹ مادّوں کی ڈیزائننگ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 APR 2026 3:21PM by PIB Delhi

بھارتی سائنسدانوں نے حال ہی میں پرت نما ساخت والے نامیاتی کرسٹل میں خود بخود ٹھیک ہونے کی خصوصیت دریافت کی ہے، جسے فعال ہونے کے لیے کسی بیرونی محرک کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ دریافت ایسی اشیاء کی ڈیزائننگ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو تکنیکی عمل کے دوران عمودی بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل ہوں۔

فی الحال خود مرمت کرنے والے زیادہ تر طریقے کسی نہ کسی بیرونی محرک پر منحصر ہوتے ہیں، جیسے روشنی، حرارت یا کیمیائی ماحول۔ اس وجہ سے ان کا استعمال محدود ہو جاتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں بیرونی مداخلت ممکن نہ ہو۔ عام طور پر پولیمرز، ہائیڈروجیلز اور کمپوزٹ مواد میں کراس لنکنگ یا مخصوص مرمتی ایجنٹس استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن یہ طریقے کرسٹلائن اشیاء کے لیے مؤثر نہیں ہوتے کیونکہ ان میں مرمت کے بعد اصل کرسٹل ساخت کو بحال کرنا ضروری ہوتا ہے۔

آئی آئی ٹی اندور کے شعبۂ فزکس (پروفیسر راجیش کمار کی قیادت میں)، آئی آئی ٹی حیدرآباد کے شعبۂ کیمسٹری (پروفیسر سی ملا ریڈی کی قیادت میں) اور شعبۂ الیکٹریکل انجینئرنگ (پروفیسر ورون رگھوناتھن کی قیادت میں) کی ٹیموں نے دریافت کیا کہ پرت دار ساخت رکھنے والے نامیاتی کرسٹلز میں مائیکرون سائز کے بڑے شگاف چند ملی سیکنڈز میں خود بخود بھر سکتے ہیں۔یہ خودکار مرمت  ساختی سطح پر‘‘سِمیٹری بریکنگ’’ نامی ایک جدید میکانزم کے ذریعے ہوتی ہے، جس کا انکشاف رمن اسپیکٹرو-مائیکروسکوپی کے استعمال سے کیا گیا ہے۔ اس کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے کی جانب سے یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے فنڈ (ایف آئی ایس ٹی) اسکیم کے تحت معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

 

تصویر: خودکار مرمت  کا رجحان(اوپر) اور رمن مائیکرو-اسپیکٹرو میٹری کے ذریعے سِمیٹری بریکنگ کی جانچ (نیچے)

محققین نے اس ‘‘سیلف ہیلنگ’’ (خود بخود ٹھیک ہونے والی) عمل کا جائزہ لیا، جس میں اس کے درست طریقۂ کار کو سمجھنے میں ‘‘رمن اسپیکٹروسکوپی’’نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ تحقیقی کام ڈاکٹر اشیتا گھوش، ڈاکٹر رابندر بسواس، ڈاکٹر منوشری تنور، ڈاکٹر سروجیت بھونیا، ڈاکٹر کوستاو داس اور ڈاکٹر امت منڈل کے باہمی تعاون سے انجام دیا گیا، جو سال 2026 میں ‘‘نیچر کمیونیکیشنز’’ میں شائع ہوا۔

یہ مطالعہ جاندار بافتوں میں کام کرنے والے خودکار مرمتی عمل کو سمجھنے اور ان کی بنیاد پر مناسب اسمارٹ مواد کی ڈیزائننگ کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے۔

 

****

(ش ح۔  ع ح۔ج  ا )

UR-5288


(ریلیز آئی ڈی: 2248179) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी