وزارت دفاع
مقامی خفیہ کارروائیوں کا جنگی بحری جہاز ‘دوناگیری’ بھارتی بحریہ کے حوالے — جنگی جہاز سازی میں آتم نربھر بھارت کو بڑی تقویت
بھارتی بحریہ کو پروجیکٹ 17اے کے تحت ‘دوناگیری’ اسٹیلتھ فریگیٹ جی آر ایس ای کولکاتا میں موصول
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 MAR 2026 9:12AM by PIB Delhi
دوناگیری (یارڈ 3023)، جو نیلگیری کلاس (پروجیکٹ 17اے) کا پانچواں اور گارڈن ریچ شپ بلڈنگ اینڈ انجینئرز لمیٹڈ (جی آر ایس ای) میں تیار ہونے والا اس کلاس کا دوسرا جہاز ہے، کو 30 مارچ 2026 کو کولکاتا میں بھارتی بحریہ کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ کامیابی جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تعمیر میں خود انحصاری کے حصول کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ پروجیکٹ 17اےکے جنگی بحری جہاز ہمہ جہت مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سمندری میدان میں موجودہ و مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
دوناگیری دراصل سابقہ آئی این ایس دوناگیری (لیئنڈر کلاس فریگیٹ) کی جدید شکل ہے، جو 5 مئی 1977 سے 10 اکتوبر 2010 تک بھارتی بحریہ کا حصہ رہی اور 33 برس تک خدمات انجام دیتی رہی۔ یہ جدید فریگیٹ بحری ڈیزائن، خفیہ کارروائیوں کی ٹیکنالوجی، فائر پاور، خودکاری اور بقا کی صلاحیت میں نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے اور آتم نربھر بھارت کا ایک نمایاں نمونہ ہے۔
یہ جہاز وارشپ ڈیزائن بیورو (ڈبلیو ڈی بی)کی جانب سے ڈیزائن کیا گیا اور وارشپ اوورسیئنگ ٹیم (کولکاتا) کی نگرانی میں تیار ہوا۔ پروجیکٹ 17اے کے جہاز مقامی ڈیزائن، خفیہ کارروائی، بقا اور جنگی صلاحیت میں نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مربوط تعمیر کے اصول کے تحت اس جہاز کو مقررہ وقت میں تیار کر کے حوالے کیا گیا۔
پروجیکٹ 17اے کے جہاز جدید ہتھیاروں اور سینسرز سے لیس ہیں، جو پروجیکٹ 17 (شیوالک کلاس) کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ ان میں مشترک ڈیزل یا گیس (سی او ڈی او جی) نظام نصب ہے، جس میں ڈیزل انجن اور گیس ٹربائن کے ذریعے کنٹرول ایبل پچ پروپیلر چلائے جاتے ہیں، جبکہ جدید انٹیگریٹڈ پلیٹ فارم مینجمنٹ سسٹم (آئی پی ایم ایس)بھی شامل ہے۔
اس جہاز میں طاقتور ہتھیاروں اور سینسرز کا مجموعہ نصب ہے، جن میں براہموس میزائل، ایم ایف اسٹار، ایم آر ایس اے ایم سسٹم، 76 ملی میٹر گن، 30 ملی میٹر اور 12.7 ملی میٹر قریبی دفاعی نظام شامل ہیں، جبکہ آبدوزوں کے خلاف کارروائی کے لیے راکٹ اور ٹارپیڈو بھی موجود ہیں۔
دوناگیری گزشتہ 16 ماہ کے دوران بھارتی بحریہ کو فراہم کیا جانے والا پانچواں پروجیکٹ 17A جہاز ہے۔ پہلے چار جہازوں کی تعمیر سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر اس کی تیاری کا دورانیہ 93 ماہ سے کم ہو کر 80 ماہ تک لایا گیا۔
اس جہاز کی حوالگی ملک کی ڈیزائننگ، جہاز سازی اور انجینئرنگ صلاحیتوں کا مظہر ہے اور یہ بھارتی بحریہ کے آتم نربھر بھارت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
اس منصوبے میں 75 فیصد مقامی اجزاء شامل ہیں اور اس میں 200 سے زائد ایم ایس ایم ایز نے حصہ لیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 4,000 افراد کو براہِ راست اور 10,000 سے زائد افراد کو بالواسطہ روزگار فراہم ہوا۔
(2)W3AM.jpeg)
(2)G7SP.jpeg)
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 5163 )
(ریلیز آئی ڈی: 2247249)
وزیٹر کاؤنٹر : 6