کامرس اور صنعت کی وزارتہ
مرکزی وزیر صنعت و تجارت جناب پیوش گوئل کی ڈبلیو ٹی او ایم سی-14 کے دوران کینیڈا کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت جناب منندر سدھو سے دو طرفہ ملاقات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 MAR 2026 9:34PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت، جناب پیوش گوئل نے ڈبلیو ٹی او ایم سی-14 کے دوران کینیڈا کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت، جناب منندر سدھو کے ساتھ ایک دو طرفہ ملاقات کی۔ اس گفتگو کا مرکزحال ہی میں شروع ہونے والے بھارت-کینیڈا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) کے مذاکرات میں تیزی لانا تھا۔
آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹیاے) کے فریم ورک سے ہٹ کر، دونوں فریقین نے متنوع شعبہ جاتی حکمتِ عملی تیار کرنے اور جہاز سازی ادویات سازی ، سیاحت اور شعبہ تعلیم میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ جناب سدھو نے مئی 2026 میں ایک بڑے بھارتی کاروباری وفد کی قیادت میں جناب گوئل کے آئندہ دورہ کینیڈا کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ بھارت نے کینیڈا کی اس تجویز کی بھی حمایت کی جس کے تحت ایرو اسپیس، دفاع اور خلا جیسے ہائی ٹیک شعبوں پر مشتمل ایک کاروباری وفد بھارت بھیجا جائے گا۔ صاف توانائی کی منتقلی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، دونوں وزراء نے ایٹمی توانائی اور دیگر اہم شعبوں جس میں زراعت اور اہم معدنیات میں تعاون شامل ہے،کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
ایم سی-14 کے ایجنڈے پر، وزراء نے ڈبلیو ٹی او اصلاحات، الیکٹرانک ٹرانسمیشن پر کسٹم ڈیوٹی کی معطلی کے ساتھ ساتھ ترقی کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دینے سے متعلق نکات کی شمولیت، تنازعات کے تصفیہ، اور ’ملٹی پارٹی انٹرم اپیل آرربیٹریشن ارینجمنٹ‘ (ایم پی آئی اے) پر تبادلہ خیال کیا۔ بھارت نے اس بات پر زور دیا کہ ڈبلیو ٹی او کو اپنے بنیادی اصولوں کے تحفظ کے ساتھ ایک 'اتفاقِ رائے پر مبنی' تنظیم کے طور پر برقرار رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ بھارت نے موقف اختیار کیا کہ ڈبلیو ٹی او کو نئے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے ادھورے ماضی کے مینڈیٹ—بالخصوص زراعت—کو ترجیح دینی چاہیے، جبکہ پرانے وعدے تاحال پورے ہونا باقی ہیں۔ کینیڈا نے بھارت کے خدشات کا اعتراف کیا اور تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک مخصوص تجارتی مسائل پر مختلف نقطہ نظر کا احترام کرتے ہوئے ڈبلیو ٹی او کے زیرِ سایہ تعمیری روابط جاری رکھیں۔
*******
ش ح۔ ع و ۔ص ج
U. No.5104
(ریلیز آئی ڈی: 2246788)
وزیٹر کاؤنٹر : 9