خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمنٹ کا  سوال: بھارتیہ انترکش اسٹیشن کے فوائد اور اہمیت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 2:49PM by PIB Delhi

خلاء سے متعلق بھارتی تحقیقی ادارہ  ( اسرو )  نے بھارتیہ انترکش اسٹیشن ( بی اے ایس  )  کی مجموعی ساخت تیار کر لی ہے، جو پانچ ماڈیولز پر مشتمل ہوگی۔ اس مکمل ڈیزائن کا جائزہ قومی سطح کی جائزہ کمیٹی نے لیا ہے۔ ستمبر  ، 2024 ء میں مرکزی کابینہ نے گگن یان پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کرتے ہوئے  بی اے ایس  کے پہلے ماڈیول ( بی اے ایس – 01 )  کی تیاری اور  2028  ء تک اس کے لانچ کی منظوری دی۔ اس ماڈیول کی مجموعی انجینئرنگ اور مختلف ذیلی نظاموں کی ٹیکنالوجی کی تیاری اسرو  کے مراکز میں جاری ہے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ وکرم سارا بھائی  خلائی مرکز  نے بھارتی صنعتوں کو بی اے ایس  کے پہلے ماڈیول کے ڈھانچے کی تیاری کے لیے دلچسپی  کے اظہار سے متعلق  ای او آئی جاری   کیا ہے۔

فی الحال منظوری صرف پہلے ماڈیول تک محدود ہے، جس کی تیاری اور لانچ کی لاگت تقریباً  1763 کروڑ روپے ( 2025  ء سے  2028  ء کے دوران) بتائی گئی ہے۔ منصوبہ ہے کہ  بی اے ایس  کا پہلا ماڈیول  2028  ء تک مکمل ہو جائے، جب کہ تمام پانچ ماڈیولز کے ساتھ مکمل فعال اسٹیشن 2035  ء تک تیار ہوگا۔

بھارتیہ انترکش اسٹیشن کے اہم تکنیکی اہداف میں خلائی جہازوں کا آپس میں جڑنا (رینڈیزوو اور ڈاکنگ)، روبوٹکس، مدار میں ایندھن بھرنا، عملے کے لیے رہائشی حصے، اندرونی خلائی لباس اور مائیکرو گریویٹی تجربات کے لیے خصوصی ریکس شامل ہیں۔

اس اسٹیشن کے ذریعے مائیکرو گریویٹی میں اہم تحقیق کے شعبوں میں لائف سائنسز، ادویات   کی تیاری ، مٹیریل سائنس اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز شامل ہوں گی، جو مستقبل میں سائنسی ترقی اور صنعتی بہتری میں اہم کردار ادا کریں گے۔

یہ معلومات عملہ، عوامی شکایات اور پنشن    کی وزارت اور وزیر اعظم کے دفتر  میں وزیر مملکت (آزادانہ چارج)  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب  میں فراہم کیں ۔

 ..................

) ش ح –    ش ب    -  ع ا )

U.No. 4877


(ریلیز آئی ڈی: 2245080) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी