زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
ایگری اسٹیک کے کسان رجسٹری میں ملک بھر میں 9.20 کروڑ سے زائد کسان آئی ڈی کا اندراج مکمل ہوا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2026 6:14PM by PIB Delhi
ایگری اسٹیک ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کے تحت اسٹیٹ فارمرز رجسٹری تمام زمین رکھنے والے کسانوں، بشمول خواتین کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیری سے وابستہ افراد کا احاطہ کرتی ہے اور انہیں ”فارمر آئی ڈی“ کے نام سے ایک ڈیجیٹل شناخت فراہم کرتی ہے۔ فارمرز رجسٹری ایپلی کیشن میں ان تمام زمین رکھنے والے کسانوں کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں جیسے کرایہ داروں اور بٹائی داروں کو بھی شامل کرنے کی سہولت موجود ہے۔ 19.03.2026 تک 9.20 کروڑ سے زائد فارمر آئی ڈی جاری کی جا چکی ہیں، جن میں بہار میں 47.63 لاکھ فارمر آئی ڈی شامل ہیں۔ ریاست وار تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔
حکومت مسلسل فارمر آئی ڈی کے نتائج کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔ یہ مختلف اسکیموں کے تحت ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے ہموار انضمام کو ممکن بناتی ہے، جیسے پردھان منتری کسان سمان ندھی یوجنا، پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا، کم از کم امدادی قیمت پر مبنی خریداری، قرضوں تک رسائی، زرعی اِن پٹ کی تقسیم اور آفات کے دوران امداد۔ مختلف ریاستیں فارمر آئی ڈی کے ذریعے کسانوں کی زندگی کو آسان بنا رہی ہیں۔ مہاراشٹر نے ایگری اسٹیک کو اسکیموں کی فراہمی، مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی رہنمائی، قرض تک رسائی اور آفات میں امداد کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا ہے، جس کے تحت خریف 2025 کی فصلوں کے نقصانات کے لیے 5 دن میں 89 لاکھ کسانوں کو 14,000 کروڑ روپے سے زائد منتقل کیے گئے۔ چھتیس گڑھ نے ایم ایس پی پر مبنی دھان کی خریداری کے لیے فارمر آئی ڈی اور ڈیجیٹل کراپ سروے کو ادارہ جاتی شکل دی ہے، جس کے تحت ایک ہی سیزن میں 32 لاکھ سے زائد کسانوں کو شامل کیا گیا، جس سے رجسٹریشن میں آسانی، شفافیت، فصل کی تصدیق اور ادائیگیوں کی بروقت فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
اگرچہ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ان کسانوں کی ڈیجیٹل شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کیے گئے ہیں جن کے پاس موبائل فون نہیں ہیں۔ ایسے کسان فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز، کرشی سکھیاں اور کامن سروس سینٹر جیسے موجودہ سہولتاتی ڈھانچوں کے ذریعے ایگری اسٹیک پر رجسٹریشن کرا سکتے ہیں اور خدمات و فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ریاستیں کیمپوں کا انعقاد کر رہی ہیں تاکہ کوئی بھی کسان ایگری اسٹیک کے فوائد سے محروم نہ رہے۔
|
نمبر شمار
|
ریاست کا نام
|
جنریٹ کی گئی فارمر آئی ڈی کی تعداد (19.03.2026 تک)
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
49,32,802
|
|
2
|
آسام
|
12,78,378
|
|
3
|
بہار
|
46,94,398
|
|
4
|
چھتیس گڑھ
|
32,86,170
|
|
5
|
گجرات
|
60,20,891
|
|
6
|
ہریانہ
|
11,34,650
|
|
7
|
ہماچل پردیش
|
5,80,030
|
|
8
|
کرناٹک
|
60,75,905
|
|
9
|
کیرالہ
|
22,50,877
|
|
10
|
مدھیہ پردیش
|
1,04,30,155
|
|
11
|
مہاراشٹر
|
1,31,81,173
|
|
12
|
اوڈیشہ
|
14,70,707
|
|
13
|
پنجاب
|
75,681
|
|
14
|
راجستھان
|
83,39,049
|
|
15
|
تمل ناڈو
|
34,76,396
|
|
16
|
تلنگانہ
|
44,52,700
|
|
17
|
تریپورہ
|
63,325
|
|
18
|
اتر پردیش
|
1,99,75,651
|
|
19
|
اتراکھنڈ
|
1,50,747
|
|
|
کُل
|
9,18,69,685
|
زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔
****
ش ح۔ ف ش ع
U: 4811
(ریلیز آئی ڈی: 2244802)
وزیٹر کاؤنٹر : 3