امور داخلہ کی وزارت
قدرتی آفات کے نظم و نسق میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2026 4:27PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت نے آفات کے خطرات میں کمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت آفات کے پورے نظم و نسق کے عمل میں تیاری، ردِعمل، صلاحیت سازی، بحالی و تعمیرِ نو اور تخفیف جیسے تمام پہلوؤں کو جدید طریقوں، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے شامل کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان نے قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
قدرتی آفات کے انتظام (ترمیمی) قانون 2025 کے تحت ایک قومی آفات ڈیٹا بیس کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جس میں خطرات کا تجزیہ، تخفیفی منصوبے اور آفات سے متعلق حقیقی وقت کا ڈیٹا شامل ہوگا۔ خبردار کرنے والی ایجنسیاں جیسے انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) نے موسم کی پیش گوئی کے نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ (ایم ایل) ماڈلز کو شامل کیا ہے، جس کے ذریعے سات دن پہلے تک پیش گوئی ممکن ہو گئی ہے۔ اس میں سیلاب کی پیش گوئی (سات دن پہلے تک) اور سائیکلون کی نگرانی شامل ہے، جو مشن موسم کا حصہ ہے۔
نیشنل قدرتی آفات انتظام اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سائیکلون سے متعلق خطرات میں کمی اور ردِعمل کی منصوبہ بندی کے لیے ویب پر مبنی ڈائنامک کمپوزٹ رسک ایٹلس اور فیصلے کے تعاون کا نظام (ویب-ڈی سی آر اے و ڈی ایس ایس ٹول) تیار کیا ہے، جسے حالیہ طوفانوں جیسے بپرجوئے اور مچاؤنگ کے دوران کامیابی سے استعمال کیا گیا۔
نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر (این آر ایس سی) نے سیلاب سے متاثرہ ریاستوں جیسے مغربی بنگال، آندھرا پردیش، بہار، اڈیشہ، آسام اور اتر پردیش کے لیے فلڈ ہیزرڈ ایٹلس تیار کیا ہے، جبکہ کم متاثرہ ریاستوں جیسے جموں و کشمیر، تمل ناڈو، کیرالہ، گجرات، اروناچل پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر کے لیے بھی ایسے ایٹلس تیار کیے گئے ہیں۔
مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) نے سال 2025 میں آزمائشی بنیاد پر اے آئی پر مبنی سیلاب کی پیش گوئی کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت ملک کی مختلف ندیوں کے لیے جدید ماڈلز تیار کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ سی ڈبلیو سی اپنے ویب پورٹل کے ذریعے ملک بھر کے بڑے دریائی طاسوں کے لیے سات دن کی سیلابی پیش گوئی فراہم کر رہا ہے، جس میں ہمالیائی ریاستیں بھی شامل ہیں۔
دفاعی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) برفانی تودوں کی پیش گوئی، کنٹرول ڈھانچوں اور جیو انٹیلیجنس کی ترقی پر کام کر رہی ہے تاکہ ہمالیائی خطے میں فوج کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے۔ ادارہ اے آئی/ایم ایل ٹیکنالوجی کے ذریعے برفانی تودوں کی نگرانی اور ان کی پیش گوئی بھی کر رہا ہے۔ مزید برآں، ڈی آر ڈی او ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت خودکار اے آئی پر مبنی برفانی تودہ پیش گوئی نظام تیار کر رہا ہے۔
آفات کے نظم و نسق میں اے آئی کے استعمال کے لیے ریاست وار مختص، جاری اور استعمال شدہ فنڈز سے متعلق معلومات اس وزارت کے پاس مرکزی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔
ملک بھر میں، خاص طور پر آفات سے متاثرہ علاقوں میں افسران اور رضاکاروں کے لیے بیداری اور تربیتی پروگراموں کی تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔
ANNEXURE
Details of Awareness/Training programs
|
S. No.
|
Name of program
|
Organizer
|
Duration
|
No. of Participants
|
|
1.
|
Program on "Artificial Intelligence, Machine Learning, Deep Learning and Data Driven Decision Making"
|
National Water Academy (NWA) Pune
|
11.06.2024 to 13.06.2024
|
21
|
|
2.
|
Program on "Artificial Intelligence and Machine Learning"
|
National Water Academy (NWA) Pune
|
30.06.2025 to 04.07.2025
|
28
|
|
3.
|
Webinar on “Roll of artificial Intelligence for Disaster Risk Reduction”
|
National Institute of Disaster Management (NIDM)
|
05.08.2021 to
05.08.2021
|
211
|
|
4.
|
Program on “Technologies in Disaster Risk Reduction”
|
NIDM in collaboration with SRM University, Chennai
|
28.03.2022 to
30.03.2022
|
413
|
|
5.
|
Program on ”Advanced Technologies for Effective Emergency Management”
|
NIDM
|
19.05.2023 to
19.05.2023
|
197
|
یہ بات وزارت داخلہ میں وزیر مملکت جناب نتیا نند رائے نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہی۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 4830 )
(ریلیز آئی ڈی: 2244713)
وزیٹر کاؤنٹر : 4