سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

روڈ سیفٹی کانکلیو 2026: محفوظ سڑکوں اور ذمہ دار شہریوں کے لیے ملک گیر تحریک کا آغاز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 MAR 2026 4:33PM by PIB Delhi

ہندوستان کے روڈ سیفٹی نظام کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں میں ذمہ دارانہ نقل و حرکت کے کلچر کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر دہلی کے آنند وہار میں وویکانند اسکول میں  روڈ سیفٹی کانکلیو 2026 کامیابی کے ساتھ  انعقاد  ہوا۔ حکومت ہند کی وزارت برائے سڑک نقل وحمل وقومی شاہراہ کی سرپرستی میں منعقدہ اس کانکلیو میں پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، جس کا مقصد بیداری کو مستقل اور بامعنی عمل میں تبدیل کرنا تھا۔

اس تقریب میں  جماعت 3 سے 12 تک کے تقریبا 4,000 طلباء اور تقریبا 100 اسکولوں کے 500 سے زیادہ اساتذہ نے پرجوش شرکت کی ، جو سڑک کی حفاظت کے لیے نچلی سطح کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس کانکلیو میں سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں اور کارپوریٹ امور کے وزیر مملکت جناب ہرش ملہوترا جی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی ، جو محفوظ ، بہتر اور زیادہ لچکدار سڑک نیٹ ورک کی تعمیر پر حکومت کی مسلسل توجہ کی نشاندہی کرتا ہے ۔ ایم ایل اے جناب اوم پرکاش شرما جی اور مقامی کونسلر مونیکا پنت جی ، رمیش گرگ جی اور پنکج لوتھرا جی بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

کانکلیو کی ایک نمایاں خصوصیت طلبہ کو تبدیلی کے محرکین کے طور پر اجاگر کرنا تھا۔ جماعت سوم سے بارہویں تک کے طلبہ نے مختلف سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا، جن میں پوسٹر سازی، رول پلے چیلنجز، نکڑ ناٹک، پینل مباحثے، دستاویزی فلم سازی اور اختراعی مقابلے شامل تھے۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف تعلیم دینا تھا ،بلکہ طلبہ کو بااختیار بنانا بھی تھا ،تاکہ وہ اپنے معاشرے میں روڈ سیفٹی ایمبیسیڈر بن سکیں، ذمہ دارانہ رویّے کو فروغ دیں اور نچلی سطح پر آگاہی کو مؤثر طریقے سے پھیلائیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب ہرش ملہوترا نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم  جناب نریندر مودی جی کی قیادت اورسڑک نقل و حمل و قومی شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری جی کی رہنمائی میں شاہراہوں کی ترقی میں نمایاں تیزی آئی ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ساتھ ساتھ حفاظتی خصوصیات کو بھی بھرپور طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔ ملک نے محفوظ، اسمارٹ اور پائیدار سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں قابل ذکرپیش رفت کی ہے۔

 جناب ملہوترا نے کہا کہ سڑکیں محض طبعی اثاثے نہیں ،بلکہ اہم شاہراہیں ہیں، جو لوگوں، مواقع اور معاشی ترقی کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ ہندوستان کی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آج ملک کے پاس تقریباً 1,46,000 کلومیٹر طویل قومی شاہراہوں کا نیٹ ورک موجود ہے، جو اسے دنیا کے بڑے نیٹ ورکس میں شامل کرتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر ’وکست بھارت 2047‘ کے وسیع تر وژن سے ہم آہنگ ہے، جہاں ترقی کو سلامتی، پائیداری اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ متوازن رکھا گیا ہے۔

 جناب ملہوترا نے اس بات کو اجاگر کیا کہ 2014 سے وزیراعظم  جناب نریندر مودی جی کی قیادت میں روڈ سیفٹی کو ایک قومی ترجیح کے طور پر اُبھارا گیا ہے، جس کے لیے جامع 4-ایحکمتِ عملی—انجینئرنگ، انفورسمنٹ، تعلیم اور ایمرجنسی کیئر—کو اپنایا گیا ہے، جس کا مقصد ’زیرو فیٹلٹی (صفر ہلاکتیں)وژن‘ حاصل کرنا ہے۔ موٹر وہیکلز (ترمیمی) ایکٹ 2019 نے سخت جرمانوں کے ذریعے نفاذ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مؤثر نفاذ کے ساتھ ساتھ رویّوں میں تبدیلی اور عوامی سطح پر مسلسل آگاہی بھی ناگزیر ہے۔

جناب ملہوترا نے کہا کہ مشرقی دہلی، دارالحکومت کا ایک اہم داخلی دروازہ ہونے کے باعث زیادہ ٹریفک کے دباؤ کا حامل ہے، اس لیے اسے اسکول پر مبنی آگاہی مہمات کے لیے ایک کلیدی زون کے طور پر ترجیح دینا ناگزیر ہے۔

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ روڈ سیفٹی صرف حادثات کی روک تھام تک محدود نہیں،  جناب ملہوترا نے کہا کہ حکومت نے کئی شہری مرکز اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن میں پی ایم راحت اسکیم بھی شامل ہے، جس کے تحت حادثات کے متاثرین کو 1.5 لاکھ روپے تک کا کیش لیس علاج فراہم کیا جائے گا، تاکہ فوری طبی امداد کی کمی کے باعث کوئی جان ضائع نہ ہو۔ اس اقدام کی تائید مضبوط ہنگامی ردِعمل کے نظام سے کی جاتی ہے، جس میں ہائی وے ہیلپ لائنز، جدید ایمبولینس نیٹ ورکس، ٹراما کیئر مراکز اور فوری رسپانس ٹیمیں شامل ہیں۔ بنیادی ڈھانچے میں بہتری جیسے کریش بیریئرز، ذہین اشارتی نظام، عکاس نشانات، پیدل چلنے والوں کی سہولیات اور بلیک اسپاٹ کی اصلاح کے پروگرامز نے بھی روڈ سیفٹی کو مزید بہتر بنایا ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال—بشمول اے آئی پر مبنی نگرانی، نقل و حمل کا اسمارٹ نظام،، خودکار نفاذ اور فاس ٹیگ پر مبنی ٹولنگ—مسلسل ایک انقلابی کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیر نے کہا کہ روڈ سیفٹی جانوں کے تحفظ اور حادثات کی روک تھام کے لیے نہایت ضروری ہے اور ٹریفک قوانین کی پابندی، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال اور موبائل فون جیسی توجہ بٹانے والی چیزوں سے اجتناب زندگیوں کو بچا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، مناسب سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ اور شہریوں میں آگاہی، اموات میں کمی لانے اور سب کے لیے محفوظ سڑکیں یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

روڈ سیفٹی کانکلیو نے سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور شہریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ اس کے اہم مقاصد میں رویّوں میں تبدیلی کو فروغ دینا، اسکول سطح پر روڈ سیفٹی کلبز کا قیام، گیٹ سیفٹی پیٹرول نظام کا نفاذ اور قابلِ توسیع اقدامات کے لیے  اعدوشمارپر مبنی بصیرت پیدا کرنا شامل ہے۔

تقریب کے دوران جناب ملہوترا کے ذریعہ شیئر کیے گئے ایک دل دہلا دینے والے قصے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح ایک بچے کے ہیلمٹ کے استعمال پر اصرار نے بالآخر ایک سنگین حادثے کے بعد ایک خاندان کے اندر رویے کو تبدیل کر دیا-یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح چھوٹے چھوٹے اقدامات معاشرے میں انقلاب لا سکتے ہیں۔

کانکلیو نے طلباء کو ہیلمٹ پہننے ، سیٹ بیلٹ باندھنے اور رفتار کی حدود پر عمل کرنے جیسی سادہ ،لیکن زندگی بچانے والی عادات اپنانے کی ترغیب دی ۔

کانکلیو  کے ختم ہوتے ہی شرکاء نے اجتماعی طور پر ٹریفک کے قوانین پر عمل کرنے ، حفاظت کو ترجیح دینے اور بیداری پھیلانے کا عہد کیا ۔’محفوظ سڑکیں ، محفوظ ہندوستان‘  کا پیغام واضح طور پر گونجا۔ اس مشترکہ عزم کے ساتھ  ملک وکست بھارت 2047 کے وژن کی طرف مسلسل آگے بڑھ رہا ہے ، جہاں وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی قیادت میں سلامتی کے ساتھ ساتھ ترقی بھی ہوتی ہے ۔

WhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.28 PM (2).jpegWhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.28 PM (1).jpegWhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.28 PM.jpegWhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.27 PM (2).jpegWhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.27 PM (1).jpegWhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.27 PM.jpegWhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.26 PM (1).jpegWhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.26 PM.jpegWhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.25 PM (1).jpegWhatsApp Image 2026-03-21 at 3.33.25 PM.jpeg

***

ش ح ۔ م ع ن۔ ع ن

U. No.4647


(ریلیز آئی ڈی: 2243749) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी