سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو چنئی میں منعقدہ قومی طبی اجلاس میں طب اور ذیابیطس کے شعبے میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ طبی میدان میں اپنی خدمات کے اعتراف میں انہيں ملنے والا  دوسرا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ہے، اس سے قبل جولائی 2024 میں بھی بین الاقوامی اجلاس میں انہیں یہ اعزاز دیا جا چکا ہے


ایوارڈ کے سپاسنامہ  میں بطور ممتاز طبی ماہر، مصنف اور ذیابیطس کی نگہداشت اور عوامی صحت کے فروغ کے لیے ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی کی نمایاں خدمات کی ستائش کی گئی ہے

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپنی طبی سفر کی تشکیل کا سہرا اپنے مادرِ علمی اسٹینلے میڈیکل کالج اور اپنے ممتاز اساتذہ کے سر باندھا

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تربیت، درست رہنمائی اور طبی اخلاقیات کو اپنانا کامیاب طبی پیشے کے بنیادی ستون ہیں، اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے اچھا انسان ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے طبی میدان میں بسترِ مریض پر تشخیص کے دور سے لے کر مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید طب تک کے ارتقا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 MAR 2026 5:27PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرِ مملکت برائے دفتر وزیرِ اعظم ، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو آج چنئی میں منعقدہ قومی اجلاس میں طب اور ذیابیطس کے شعبے میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ایوارڈ کے سپاسنامہ کے مطابق یہ اعزاز انہیں ممتاز طبی ماہر، مصنف اور ذیابیطس کی نگہداشت اور عوامی صحت کے فروغ کے لیے اپنی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔

یہ ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو دیا جانے والا دوسرا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ہے، اس سے قبل جولائی 2024 میں بھی چنئی میں منعقدہ بین الاقوامی اجلاس میں انہیں اسی نوعیت کا اعزاز دیا جا چکا ہے۔

یہ ایوارڈ ایم وی کان 2026 کے دوران دیا گیا، جس کا انعقاد ایم وی ڈائیبیٹیز، چنئی نے کیا تھا۔ یہ ادارہ 1954 میں مرحوم پروفیسر ایم وِشواناتھن نے قائم کیا تھا، جو ہندوستان میں ذیابیطس کے شعبے کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ پروفیسر ایم ایم ایس آہوجا، پروفیسر سام جے پی موسیس، پروفیسر بی بی ترپاٹھی اور پروفیسر وی سیشیہ جیسے ممتاز ماہرین بھی اس میدان کے اہم ستون رہے ہیں۔

اعزاز ملنے  پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ پروفیسر ایم وشواناتھن کی خدمات کی یاد تازہ کرتا ہے، جنہیں ہندوستان  میں ذیابیطس اور اس کی تحقیق کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اسے نہ صرف اپنی زندگی بھر کی محنت کا اعتراف قرار دیا بلکہ اسے آزادی کے بعد کی پہلی نسل کے معالجین اور ان کے ممتاز ہم عصروں کی علمی و انسانی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے طب میں مہارت کے ساتھ مریضوں کے لیے ہمدردی کو بھی فروغ دیا۔

اپنے ابتدائی دور کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ چنئی کے اسٹینلے میڈیکل کالج میں گزارے ہوئے  سالوں سے  ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی بنیاد مضبوط ہوئی۔ وہاں کا تعلیمی ماحول اور اساتذہ کی رہنمائی نے ان میں سیکھنے اور مریضوں کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تربیت، درست رہنمائی اور طبی اخلاقیات کو اپنانا ایک کامیاب طبی کریئر کی بنیاد ہیں، اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر کا اچھا انسان ہونا بھی ضروری ہے۔

طبی سائنس کی ترقی پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انہوں نے اس دور کو دیکھا ہے جب تشخیص زیادہ تر طبی معائنے اور مریض کی تاریخ پر منحصر ہوتی تھی، اور آج کے جدید دور تک کا سفر بھی دیکھا ہے جہاں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے  طب کو نئی جہت مل چکی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ ایک معروف ماہرِ ذیابیطس، ماہرِ تعلیم اور عوامی نمائندہ ہیں، جنہیں طب اور ذیابیطس کے شعبے میں دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔ بطور پروفیسر آف میڈیسن اور اینڈوکرائنولوجی، انہوں نے ذیابیطس کی تحقیق، طبی لٹریچر اور عوامی صحت کے بارے میں شعور بیدار کرنے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے پانچ ہزار سے زائد تحقیقی مضامین اور متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی تحقیق، خصوصاً "کشمیری مہاجرین میں اسٹریس ڈائیبیٹیز" پر کام، بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ وہ مختلف قومی و عالمی اداروں سے وابستہ رہے ہیں اور طبی تعلیم و پالیسی سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

ایم وی کان 2026، ایم وی ہاسپٹل فار ڈائیبیٹیز اور پروفیسر ایم وشواناتھن ڈائیبیٹیز ریسرچ سینٹر، چنئی کے سالانہ سائنسی اجلاس کا پہلا ایڈیشن ہے۔ اس کانفرنس کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر وجے وشواناتھن ہیں، جو قومی اور بین الاقوامی سطح کے معروف ماہرِ ذیابیطس ہیں اور “ڈائیبیٹک فٹ بیماری” پر ان کی تحقیق کو عالمی سطح پر خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

اس کانفرنس میں 700 سے زائد مندوبین شرکت کر رہے ہیں، جن میں ملک بھر کے ممتاز ماہرین اور بین الاقوامی اساتذہ بھی شامل ہیں۔ سائنسی پروگرام میں عملی تربیتی ورکشاپس، کلینیکل مباحثے، پینل ڈسکشنز اور تحقیقی مقالوں کی پیشکش شامل ہے، جس میں خاص طور پر ڈائیبیٹک فٹ بیماری اور پیچیدگیوں میں کمی اور مریضوں کے بہتر نتائج کے لیے سائنسی بنیادوں پر مبنی طریقۂ علاج پر توجہ دی جا رہی ہے۔

ایم وی ہاسپٹل فار ڈائیبیٹیز، جسے 1954 میں پروفیسر ایم۔ وسواناتھن نے قائم کیا تھا، گزشتہ سات دہائیوں سے علاج، تعلیم اور تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس ادارے نے ذیابیطس سے متاثرہ پاؤں کے علاج کے لیے ایک جامع اور کثیرجہتی پروگرام تیار کیا ہے، جس کے ذریعے بروقت تشخیص، جدید علاج اور مسلسل بحالی کی مدد سے ایک لاکھ سے زائد مریضوں کے اعضاء کاٹنے (امپیوٹیشن) سے بچایا جا چکا ہے۔

پروفیسر ایم وشواناتھن ڈائیبیٹیز ریسرچ سینٹر، جو 1972 میں قائم ہوا، ذیابیطس کے سائنسی فہم کو آگے بڑھانے میں مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ادارے کو انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی جیسے اہم قومی اداروں کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے، جبکہ اس کی تحقیق کو بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل ہے اور اس سے وابستہ سائنس دان دنیا کے ممتاز محققین میں شمار کیے جاتے ہیں۔

******

(ش ح۔ م ش ع۔ م ا)

Urdu No-4571

 


(ریلیز آئی ڈی: 2243152) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी