ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پیداوار سے منسلک ترغیبی ا سکیم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 MAR 2026 3:03PM by PIB Delhi

دوا سازی کے شعبے کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) سکیم 2021 میں منظور کی گئی تھی۔ اس کا مقصددواسازی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ کر کے ہندوستان کی پیداواری صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا۔ اس اسکیم کا ہدف زیادہ قیمت والی ادویات، کمپلکس جینرکس کے ساتھ ساتھ فعال فارماسیوٹیکل اجزاء ( اے پی آئی ایز)، دوا کے  درمیانی اجزاء (ڈی آئی ایس) اور اہم ابتدائی مواد(کے ایس ایم ایس) ان اجزاء کے علاوہ جو بلک ڈرگز کے لیے پی ایل آئی ا سکیم کے تحت آتے ہیں) کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔

دوا سازی کے لیے پی ایل آئی اسکیم کے نفاذ کی صورتحال درج ذیل ہے:

  • دسمبر 2025 تک ا سکیم کے تحت براؤن فیلڈ اور گرین فیلڈ منصوبوں میں مجموعی سرمایہ کاری 41,943 کروڑ روپے کی گئی، جو اسکیم کی 6 سالہ مدت میں ہدف شدہ کمٹڈ سرمایہ کاری 17,275 کروڑ روپے سے کافی زیادہ ہے۔
  • دسمبر 2025 تک مجموعی فروخت کی رقم 3,35,036 کروڑ روپے ہے، جو اسکیم کے تحت تیار کی جانے والی 1988 مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہوئی ہے۔ اس میں 2,15,248 کروڑ روپے کی برآمدات بھی شامل ہیں۔
  • 1988 مصنوعات میں سے726؍ اے پی آئی ایز؍ کے ایس ایم ایز؍ ڈی آئی ایز اسکیم کے تحت تیار کی جا رہی ہیں، جن میں 191 وہ ہیں جو ملک میں پہلی بار تیار کی گئی ہیں۔ ان اے پی آئی ایس؍ کے ایس ایم ایس؍ ڈی آئی ایس کی فروخت سے مجموعی گھریلو فروخت 28,067 کروڑ روپے کی رہی ہے اور اس سے شعبے میں درآمدات میں کمی میں مدد ملی ہے۔

ہندوستان میں اہم ’کلیدی ابتدائی مواد‘(کے ایس ایم ایس؍دوا کے درمیانی اجزاء(ڈی آئی ایس) اورفعال دوا سازی کے اجزاء(اے پی آئی ایس) کی مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے’پیداوار سے منسلک ترغیبی(پی ایل آئی) اسکیم (جسے عام طور پر بلک ڈرگز کے لیے پی ایل آئی ا سکیم کے نام سے جانا جاتا ہے) کو 2020 میں منظور کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کا مقصد کسی ایک ہی ماخذ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کی وجہ سے سپلائی میں خلل کے خطرے سے بچنا ہے۔

اس اسکیم کے نفاذ کی صورتحال درج ذیل ہے:

دسمبر 2025 تک، گرین فیلڈ منصوبوں میں چھ سالہ مدت کے دوران 4,329.95 کروڑ روپے کے سرمایہ کاری وعدے کے مقابلے میں 4,814 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

اسکیم کے تحت شناخت شدہ 41 مصنوعات کے لیے ابتدائی طور پر متوقع صلاحیت 82,270 میٹرک ٹن فی سال تھی، جبکہ 33 مصنوعات کے لیے 91,077 میٹرک ٹن فی سال کی کل صلاحیت فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دسمبر 2025 تک 28 اہم کے ایس ایم ایس، ڈی آئی ایس اور اے پی آئی ایس کے لیے 56,800 میٹرک ٹن فی سال کی پیداواری صلاحیت قائم کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے نتیجے میں مجموعی فروخت 2,720 کروڑ روپے رہی، جس میں 527.96 کروڑ روپے کی برآمدات بھی شامل ہیں۔

گزشتہ تین سالوں کے دوران مذکورہ اسکیموں کے تحت جاری کی گئی رقم کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

اسکیم کا نام

مالی سال 23-2022

مالی سال24-2023

مالی سال25-2024

بلک ڈرگز کے لیے پی ایل آئی اسکیم

5.95

11.66

21.30

دوا سازی کے لیے پی ایل آئی اسکیم

655.15

1,552.46

2,330.00

(رقم کروڑ روپے میں)

بلک ڈرگز کے لیے  پی ایل آئی سکیم کے تحت، آندھرا پردیش کے وشاکاپٹنم ضلع میں چھ نئی پیداواری یونٹس قائم کی گئی ہیں، جو ایک حوصلہ افزا ضلع ہے۔

کیمیائی صنعتوں سمیت تمام صنعتوں کے لیے ماحولیاتی تعمیل کو ماحولیات (تحفظ) ایکٹ 1986 ، پانی (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ 1974 اور ہوا (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ 1981 کے ذریعے حل کیا جاتا ہے جو وزارت ماحولیات ، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) کے زیر انتظام ہے ۔  کیمیائی صنعتوں سمیت تمام صنعتوں کو ان ضوابط کے لحاظ سے ضروری اجازت لینے کی ضرورت ہے ۔

بلک ڈرگ مینوفیکچرنگ یونٹس کو ماحولیاتی ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ریڈ کیٹیگری انڈسٹریز کے طور پر درجہ بندی کی جاتی ہے اور اس کے مطابق کام شروع کرنے سے پہلے متعلقہ ریگولیٹری حکام سے ماحولیاتی کلیئرنس (ای سی) کنسینٹ ٹو اسٹیبلش (سی ٹی ای) اور کنسینٹ ٹو آپریٹ (سی ٹی او) سمیت قانونی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے ۔

 یہ معلومات آج لوک سبھا میں کیمیکلز اور فرٹیلائزرز کی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

***

ش ح ۔ م ع ن۔ ن ع

U. No.4549

 


(ریلیز آئی ڈی: 2243032) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी