وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
چھوٹے اور روایتی ماہی گیروں کی آمدنی کی سطحیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAR 2026 2:26PM by PIB Delhi
محکمہ ماہی پروری، وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری، حکومتِ ہند نے گزشتہ پانچ برسوں (مالی سال 2020-21 سے 2024-25) کے دوران ماہی پروری اور آبی زراعت کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ملک میں ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری بھی شامل ہے۔ نافذ کی گئی اسکیموں میں شامل ہیں: (i) پردھان منتری متسیہ مپدا یوجنا،(پی ایم ایم ایس وائی)(ii) فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف)اور (iii) پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا(پی ایم –ایم کے ایس ایس وائی)۔ اس کے علاوہ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی ورکنگ کیپیٹل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
محکمہ ماہی پروری نے گزشتہ پانچ برسوں (مالی سال 2020-21 سے 2024-25) کے دوران مختلف ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور دیگر عمل درآمد کرنے والے اداروں کی ماہی پروری سے متعلق ترقیاتی تجاویز کو 28,898 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ اس میں سے 21,274.14 کروڑ روپے کے منصوبے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت اور 7,623.46 کروڑ روپے فشریز اینڈ ایکوا کلچر اانفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت منظور کیے گئے۔ مزید برآں، اب تک 5,04,848 ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کو 3,837.80 کروڑ روپے کے قرض کے ساتھ کسان کریڈٹ کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ ان کی ورکنگ کیپیٹل ضروریات پوری کی جا سکیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں مچھلی کی پیداوار، پیداواری صلاحیت اور معیار میں اضافہ ہوا، جس سے ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی آمدنی میں بہتری آئی۔ اگرچہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ماہی گیروں کی اوسط آمدنی کا کوئی مخصوص تخمینہ نہیں لگایا گیا، تاہم حکومتِ ہند کے اقدامات، خصوصاً ماہی پروری میں تنوع لانے کی پالیسی، پیداوار، معیار اور برآمدات میں اضافہ کر کے صارفین کی طلب کو پورا کرنے اور آمدنی میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں (2020-21 سے 2024-25) کے دوران مچھلی کی پیداوار 2019-20 کے 141.64 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 197.75 لاکھ ٹن ہو گئی۔ اسی طرح ماہی پروری کی برآمدات بھی 46,666 کروڑ روپے (2019-20) سے بڑھ کر 62,408 کروڑ روپے (2024-25) تک پہنچ گئی ہیں۔
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کے لیے متعدد فلاحی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں:
(i) گروپ حادثاتی بیمہ کوریج: 18 سے 70 سال کی عمر کے افراد کے لیے موت یا مکمل مستقل معذوری کی صورت میں 5.00 لاکھ روپے، جزوی مستقل معذوری پر 2.50 لاکھ روپے اور حادثاتی طور پر اسپتال میں داخلے کی صورت میں 25,000 روپے تک کی امداد۔(ii) معاشی طور پر کمزور فعال روایتی ماہی گیر خاندانوں کے لیے ذریعۂ معاش اور غذائی معاونت: مچھلی کے ذخائر کے تحفظ کے لیے ماہی گیری پر پابندی یا کم سرگرمی کے عرصے (لین پیریڈ)میں فی ماہی گیر 3,000 روپے کی امداد فراہم کی جاتی ہے۔(iii) ماہی گیری کی کشتیوں کا بیمہ (iv) جال اور کشتی کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے کشتیوں کے حصول اور اپ گریڈیشن کے لیے مالی معاونت۔حکومتِ ہند سمندر میں ماہی گیروں کی حفاظت کو نہایت اہمیت دیتی ہے۔ ماہی گیروں کو مواصلاتی و ٹریکنگ آلات اور سمندری حفاظتی کٹس فراہم کرنے کے علاوہ،پی ایم ایم ایس وائی کے تحت 364 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک لاکھ ٹرانسپونڈرز ماہی گیری کی کشتیوں پر نصب کرنے کا خصوصی منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے دو طرفہ رابطے کی سہولت میسر آتی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں مختصر پیغامات بھیجے جا سکیں، طوفان یا قدرتی آفات کی صورت میں بروقت انتباہ مل سکے اور سمندری حدود عبور کرنے پر بھی ماہی گیروں کو خبردار کیا جا سکے۔
یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری کے وزیرراجیو رنجن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
****
ش ح۔ م م ۔ م ذ
(U N.4453)
(ریلیز آئی ڈی: 2242466)
وزیٹر کاؤنٹر : 15