خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: خلائی ملبہ کے انتظام کا نظام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAR 2026 3:59PM by PIB Delhi

مارچ 2026 تک ہندوستانی سیٹلائٹ مشنز سے پیدا ہونے والے مجموعی طور پر 129 قابلِ نگرانی خلائی ملبہ مدار میں موجود ہے۔ اس میں کم زمینی مدار (ایل ای او) میں ناکارہ سیٹلائٹس (23) اور جیوسٹیشنری مدار (جی ای او) میں (26)، پی ایس ایل وی (40)، جی ایس ایل وی (4) اور ایل وی ایم 3 (3) کے راکٹ اجزاء، اور پی ایس ایل وی سی-3 راکٹ کے مدار میں ٹوٹنے سے پیدا ہونے والا ملبہ (33) شامل ہے۔ اسرو ہر سال بھارتی خلائی حالات کی تجزیاتی رپورٹ (آئی ایس ایس اے آر) جاری کرتا ہے، جس میں اس طرح کے تجزیے شامل ہوتے ہیں۔

حکومت نے خلائی ملبہ کے تدارک سے متعلق اپنی پالیسیوں کو بین الاقوامی رہنما خطوط، جیسے آئی اے ڈی سی اور یو این کوپوس کے مطابق ہم آہنگ کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں، اور ان اصولوں پر ہندوستانی خلائی پروگراموں میں عمل کیا جا رہا ہے۔ 2024 میں ڈیبرس فری اسپیس مشن (ڈی ایف ایس ایم) کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد 2030 تک سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کی جانب سے صفر خلائی ملبہ پیدا کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اسرو نے مشن ڈیزائن کے مرحلے سے ہی اضافی ایندھن مختص کرنے کا عمل نافذ کیا ہے تاکہ سیٹلائٹس اور لانچ وہیکلز کو محفوظ طریقے سے مدار سے ہٹایا جا سکے۔

اسرو نے خلائی ملبہ کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ناسا، یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) اور جاکسا جیسے عالمی اداروں کے ساتھ تعاون بھی کیا ہے، جس میں خلائی پروازوں کی حفاظت، مشترکہ ورکشاپس اور تربیتی پروگرام شامل ہیں۔ اسرو آئی اے ڈی سی کا فعال رکن ہونے کے ناطے ملبہ کے تدارک کے رہنما اصولوں میں بھی حصہ دار ہے۔

فعال ملبہ ہٹانے کی تیاری کے لئے روبوٹک بازو، رینڈیزوو اور قربتی آپریشنز پر تحقیق جاری ہے۔ 2025 میں اسپڈیکس مشن کے ذریعے خودکار رینڈیزوو، ڈاکنگ اور ان ڈاکنگ کی کامیاب نمائش ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس مشن میں پی ایس 4 آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول (پی او ای ایم-4) پلیٹ فارم پر روبوٹک سسٹمز کا بھی کامیاب تجربہ کیا گیا۔

ناکارہ سیٹلائٹس کے بعد از مشن اخراج کے لئے ایل ای او سیٹلائٹس کے مدار کو کم کر کے انہیں جلد زمین کے ماحول میں داخل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں، اور اس مقصد کے لئے درکار ایندھن مشن کے ڈیزائن مرحلے میں ہی مختص کیا جا رہا ہے۔

نیترا پروجیکٹ کی منظور شدہ لاگت 509.01 کروڑ روپے ہے، جبکہ فروری 2026 تک 67.77 کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔

2022 میں قائم کیا گیا آئی ایس 4 او ایم ادارہ خلائی سرگرمیوں کی طویل مدتی پائیداری، بشمول ملبہ کے تدارک، کے لئے تمام سرگرمیوں کو مربوط کرتا ہے اور ان-اسپیس کے ذریعے اسٹارٹ اپس کو تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔

نیترا پروجیکٹ کے تحت قائم خلائی حالات کے بارے میں بیداری کا کنٹرول سینٹر فعال ہے، جو تصادم سے بچاؤ، خلائی اشیاء کے دوبارہ داخلے کی پیش گوئی، سری ہری کوٹا کے ملٹی آبجیکٹ ٹریکنگ ریڈار سے ڈیٹا کی پراسیسنگ اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے جیسے کام انجام دے رہا ہے۔ مقامی سطح پر تیار کردہ فیزڈ ارے ریڈار ڈیزائن کو بھی قومی ماہرین کی کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔

یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی علوم، وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی و خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔

 

 

************

ش ح ۔   م    د۔  م  ص

(U :  4372  )


(ریلیز آئی ڈی: 2242105) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी