خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: سیٹلائٹ پر مبنی آفات کی نگرانی کا نظام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAR 2026 3:58PM by PIB Delhi

اسرو/محکمۂ خلاء آفات سے متاثرہ یا ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں کی نگرانی کے لئے ہندوستانی ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس کو ڈیٹا حاصل کرنے کے لئے فعال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، آفت کی شدت کے مطابق اسرو/محکمۂ خلاء انٹرنیشنل چارٹر فار اسپیس اینڈ میجر ڈیزاسٹرز یعنی خلاء اور بڑی قدرتی آفت کیلئے بین الاقوامی چارٹر کو بھی فعال کرتا ہے، جس کے تحت اس کے 17 رکن اداروں اور 16 ڈیٹا فراہم کنندگان سے سیٹلائٹ ڈیٹا حاصل کر کے سیلاب اور طوفان جیسے حالات میں مدد لی جاتی ہے۔

بحرِ ہند میں ہوا کا دباؤ یا سائیکلون بننے کے امکانات کے دوران محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) انسٹ-3 ڈی آر سیٹلائٹ سے فوری اسکین کی درخواست کرتا ہے، جو طوفان کے ختم ہونے تک جاری رہتا ہے۔ انسٹ-3 ڈی آر، انسٹ-3 ڈی ایس اور اوشن سیٹ-3 سیٹلائٹس سائیکلون کی تشکیل، شناخت، نگرانی، راستے کی پیش گوئی اور لینڈ فال کے تجزیے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دریائی اور طوفانی سیلاب کے لئے قریباً حقیقی وقت میں سیلابی نقشے تیار کر کے وزارت داخلہ، قومی آفات انتظامی اتھارٹی اور متعلقہ ریاستی اداروں کو فراہم کئے جاتے ہیں۔ قحط کے اشارے سیٹلائٹ ڈیٹا اور دیگر معلومات کے ذریعے اسرو کے ویداس جیوپورٹل پر قائم نیشنل جیو اسپیشل ڈراؤٹ پورٹل کے ذریعہ تیار کئے جاتے ہیں۔ زلزلوں اور لینڈ سلائیڈ جیسے حالات میں بھی سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے فوری نقصان کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

سیٹلائٹ ڈیٹا اور اس سے تیار شدہ معلومات اسرو کے جیوپورٹلز جیسے بھونِدھی، موسڈیک، بھون اور این ڈی ای ایم کے ذریعے صارفین تک پہنچائی جاتی ہیں، جیسا کہ بھارتی خلائی پالیسی 2023 اور نیشنل جیو اسپیشل پالیسی کے تحت مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت نے 2021 میں اسپیس ایپلیکیشن مینجمنٹ سسٹم (سیمز) نافذ کیا، جس کے تحت ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس کی ضرورت کا جائزہ لیا جاتا ہے، صارفین کے حصے کے اخراجات کی سفارش کی جاتی ہے اور زرعی، آبی اور جنگلاتی شعبوں سمیت مختلف قومی ترقیاتی منصوبوں میں ڈیٹا کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

حکومت نے متعدد سیٹلائٹس اور متعلقہ زمینی نظاموں کی منظوری بھی دی ہے، جو آئندہ پانچ برسوں میں آفات کی نگرانی کے نظام کے تحت تیار کئے جائیں گے۔ یہ نظام وسائل کے بہتر انتظام، قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور سرحدی و بحری علاقوں کی مسلسل نگرانی میں مددگار ثابت ہوگا۔

یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی علوم، وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی و خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔

 

************

ش ح ۔   م    د۔  م  ص

(U : 4371   )


(ریلیز آئی ڈی: 2242101) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी