ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: ریئل ٹائم(حقیقی وقت کی) موسم کی تازہ ترین معلومات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAR 2026 3:04PM by PIB Delhi
ہندوستان کی موسم کی پیش گوئی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے مشاہداتی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور خطے کو متاثر کرنے والے مختلف شدید موسمی واقعات کی باریک پیمانے پر پیش گوئی اور بروقت انتباہات جاری کرنے کے لیے جدید تکنیکوں اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کی غرض سے ایک مؤثر ادارہ جاتی طریقہ کار قائم کیا ہے۔ اس کے تحت تمام اقسام کے ڈیٹا کو کمپیوٹیشنل اور ماڈلنگ سپورٹ کے ذریعے مربوط اور ضم کیا جا رہا ہے۔
ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے ارضیاتی سائنس کی وزارت (ایم او ای ایس) کے تحت دیگر اداروں، بشمول انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم)، پونے اور نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ (این سی ایم آر ڈبلیو ایف)، نوئیڈا کے ساتھ مل کر مانسون مشن اور حال ہی میں شروع کیے گئے مشن موسم جیسے وقت بند منصوبوں کے ذریعے متعلقہ تحقیق اور عملی سرگرمیاں انجام دی ہیں۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد ہندوستان کی موسم اور آب و ہوا کے مشاہدے اور نگرانی کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے، جس میں مقررہ مدت کے اندر مزید ریڈارز اور جدید نگرانی کے نظام کی تنصیب شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت بھاری بارش اور گرمی کی لہروں جیسے واقعات کے لیے پیش گوئی کی درستگی اور لیڈ ٹائم کو بہتر بنانے کے لیے مجموعی پیش گوئی کے نظام اور اثر پر مبنی پیش گوئی (آئی بی ایف) کے طریقوں کے ساتھ بھارت فورکاسٹ سسٹم (بھارت ایف ایس) متعارف کرایا گیا ہے۔
متھنا-ایف ایس ہندوستان میں درمیانی مدت کی تیز رفتار موسمی پیش گوئی کے لیے این سی ایم آر ڈبلیو ایف کا نئی نسل کا عالمی مربوط پیش گوئی نظام ہے۔ یہ ماحول، سمندر، زمینی سطح اور سمندری برف کو جدید طبیعیاتی ماڈلز اور بہتر ڈیٹا انضمام کے ساتھ یکجا کرتا ہے اور 12 کلومیٹر عالمی ریزولوشن پر کام کرتا ہے۔ اس نظام میں مانسون اور طوفانوں کے لیے 4 کلومیٹر علاقائی ماڈل اور دہلی میں دھند/ہوا کے معیار کے لیے 330 میٹر ہائپر لوکل شہری ماڈل بھی شامل ہے۔
متھنا-ایف ایس بارش، درجہ حرارت اور دھند کی مرئیت سے متعلق تعصبات کو کم کرتا ہے اور ضلعی سطح پر شدید موسمی واقعات (جیسے گرمی کی لہریں اور گرج چمک) کی پیش گوئی کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے اے آئی/ایم ایل پر مبنی پوسٹ پروسیسنگ کا استعمال کرتا ہے۔ مشن موسم کے تحت تیار کیا گیا یہ نظام گزشتہ دہائی کے دوران شدید موسم کی پیش گوئی کی درستگی میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔
آئی ایم ڈی نے ایک مقامی، ٹیکنالوجی پر مبنی اور شہری مرکوز موسمی پیش گوئی کا نظام بھی تیار کیا ہے، جو آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط کرتا ہے اور عوامی تحفظ کو بہتر بناتا ہے۔ آئی ایم ڈی کا ان ہاؤس تیار کردہ ڈسیژن سپورٹ سسٹم (ڈی ایس ایس)، "آتم نربھر بھارت" پہل کے تحت خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
تیار کردہ "موسم گرام" (ہرہر موسم، ہر گھر موسم) ایک منفرد شہری مرکوز پلیٹ فارم ہے، جو گاؤں کی سطح تک مقام کے مطابق ہائپر لوکل موسمی پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم:
- اگلے 36 گھنٹوں کے لیے فی گھنٹہ پیش گوئی،
- اگلے پانچ دنوں کے لیے ہر تین گھنٹے کی پیش گوئی،
- اور دس دنوں تک کے لیے ہر چھ گھنٹے کی پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔
صارفین پن کوڈ یا مقام کے نام کے ذریعے یا ریاست، ضلع، بلاک اور گرام پنچایت کا انتخاب کر کے موسمی معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ صارف دوست نظام شہریوں کو ان کے مخصوص مقام کے مطابق درست اور بروقت موسمی معلومات فراہم کرتا ہے۔
آئی ایم ڈی نے ایم او ای ایس کے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر درج ذیل اقدامات بھی کیے ہیں:
- طوفانوں کی شدت کا اندازہ لگانے کے لیے اے آئی/ایم ایل پر مبنی ایڈوانسڈ ڈیوورک تکنیک (اے آئی ڈی ٹی) کا استعمال۔
- دہلی-این سی آر خطے کے لیے ایک نیا ڈیپ لرننگ ماڈل (میٹیوگن) تیار کیا گیا ہے، جسے 300 میٹر مقامی ریزولوشن پر اسٹیشن ڈیٹا (سی آئی آر پی ایس) اور کلائمیٹ ہیزرڈز گروپ انفرا ریڈ بارش ڈیٹا کے ساتھ استعمال کر کے بارش کے اندازوں کو بہتر بنانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔
- مانسون کے دوران دہلی میں روزانہ بارش کی پیش گوئی کے لیے فیصلہ ساز درخت (Decision Tree) پر مبنی مشین لرننگ ماڈل تیار کیا گیا ہے۔
این سی ایم آر ڈبلیو ایف نے درمیانی مدت کی تیز رفتار پیش گوئی، نوکاسٹنگ، اور ضلعی سطح پر شدید موسمی واقعات (بارش، گرمی کی لہریں، دھند) کے امکانات کے تعین کے لیے ملٹی اسکیل متھنا-ایف ایس ماڈل سوٹ تیار کیا ہے۔ یہ نظام جی اے این اور سی این این تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے شہری سطح پر تیز رفتار ڈاؤن اسکیلنگ فراہم کرتا ہے اور ارونیکا سپر کمپیوٹر پر پنگو ویدر، گراف کاسٹ اور فورکاسٹ نیٹ جیسے عالمی اے آئی/ایم ایل ماڈلز کو مربوط کرتا ہے۔
حکومت نے فصلوں کے بہتر انتظام کے لیے دیہی کسانوں کو موسم کی تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ موسم پر مبنی فصل مشاورتی خدمات کسانوں کو موسم کی تازہ ترین صورتحال، فصلوں کی صحت اور مناسب زرعی اقدامات کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرتی ہیں، جس سے وہ بہتر فیصلے کر کے پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
کاشتکار برادری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) ایک اہم اسکیم گرامین کرشی موسم سیوا (جی کے ایم ایس) چلا رہا ہے۔ یہ اسکیم انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر)، اسٹیٹ ایگریکلچرل یونیورسٹیز (ایس اے یو) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) وغیرہ کے تعاون سے آپریشنل ایگرو میٹرولوجیکل ایڈوائزری سروسز (اے اے ایس) فراہم کرتی ہے۔
جی کے ایم ایس کے تحت ملک بھر میں 127 زرعی موسمیاتی علاقوں کا احاطہ کرنے کے لیے 130 ایگرو میٹ فیلڈ یونٹس (اے ایم ایف یو) مختلف ایس اے یوز، آئی آئی ٹیز اور آئی سی اے آر اداروں میں قائم کیے گئے ہیں۔ آئی ایم ڈی بارش، درجہ حرارت، نسبتی نمی، بادلوں کا احاطہ، ہوا کی رفتار اور سمت کے حوالے سے اگلے پانچ دنوں کے لیے ضلع اور بلاک سطح تک درمیانی مدت کی پیش گوئی فراہم کرتا ہے، جبکہ موسمیاتی ذیلی ڈویژن کی سطح پر اگلے ہفتے کے بارش اور درجہ حرارت کا عمومی رجحان بھی جاری کیا جاتا ہے۔
مشاہدہ شدہ اور پیش گوئی شدہ موسم کی بنیاد پر، اے ایم ایف یوز ہفتے میں دو بار (ہر منگل اور جمعہ) انگریزی کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں میں ایگرو میٹ ایڈوائزریز تیار کرتے ہیں۔ یہ مشورے کسانوں کو روزمرہ زرعی سرگرمیوں جیسے فصل اور اقسام کا انتخاب، بوائی کا مناسب وقت، کٹائی، کھاد کا استعمال، اور دیگر زرعی اقدامات کے بارے میں باخبر فیصلے لینے میں مدد دیتے ہیں، جو مخصوص زرعی موسمیاتی حالات کے مطابق ہوتے ہیں۔ جی کے ایم ایس اسکیم کے تحت ملک کے تمام زرعی لحاظ سے اہم اضلاع کا احاطہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسانوں کو بروقت معلومات اور ابتدائی انتباہات فراہم کیے جا سکیں۔
اے اے ایس بلیٹن کے علاوہ، آئی ایم ڈی کے علاقائی موسمیاتی مراکز (آر ایم سی) اور موسمیاتی مراکز (ایم سی) روزانہ کی بنیاد پر موسم کی پیش گوئی اور نوکاسٹ معلومات بھی جاری کرتے ہیں۔ نیشنل ویدر فورکاسٹنگ سینٹر (این ڈبلیو ایف سی)، نئی دہلی، اور آئی ایم ڈی کے دیگر مراکز کے ذریعے شدید موسمی حالات کے لیے انتباہات جاری کیے جاتے ہیں، جن کی بنیاد پر اے ایم ایف یوز اثر پر مبنی پیش گوئی (آئی بی ایف) اور زرعی مشورے تیار کرتے ہیں۔
موسم کی تازہ ترین معلومات اور ابتدائی انتباہات کو براہ راست کسانوں تک پہنچانے کے لیے، پیش گوئی اور ایگرو میٹ ایڈوائزریز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، دوردرشن، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سمیت مختلف ذرائع کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت تقریباً 5.56 ملین کسان مستفید ہو رہے ہیں۔
کسان پورٹل کے ذریعے طوفان، گہرے دباؤ جیسے شدید موسمی واقعات کے دوران ایس ایم ایس کے ذریعے بروقت انتباہات اور احتیاطی تدابیر فراہم کی جاتی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے رسائی میں مزید اضافہ ہوا ہے، اور کسان "میگھدوت" اور "موسم" موبائل ایپس، نیز واٹس ایپ اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مقام کے مطابق پیش گوئی اور مشورے حاصل کر سکتے ہیں۔
مزید برآں، آئی ایم ڈی نے اپنی خدمات کو 21 ریاستی حکومتوں کے آئی ٹی پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط کیا ہے، جس کے ذریعے تقریباً 15.6 ملین کسان انگریزی اور علاقائی زبانوں میں موسمی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
آئی ایم ڈی نے پنچایتی راج کی وزارت (ایم او پی آر) کے تعاون سے حال ہی میں پنچایت کی سطح پر موسم کی پیش گوئی کا آغاز کیا ہے، جس میں ہندوستان کی تقریباً تمام گرام پنچایتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ پیش گوئی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے ای-گرامسوراج، میری پنچایت ایپ، ایم او پی آر کے ای-منچترا، اور آئی ایم ڈی/ایم او ای ایس کے موسم گرام کے ذریعے قابلِ رسائی ہے۔
آئی ایم ڈی نے ایک اے آئی/ایم ایل پر مبنی ٹول بھی تیار کیا ہے، جسے میٹیوگن کہا جاتا ہے، جو 300 میٹر کی مقامی ریزولوشن کے ساتھ علاقے سے متعلق بارش کی معلومات فراہم کرتا ہے۔
آئی ایم ڈی تمام کسانوں کو ان کی علاقائی زبانوں میں موسم سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے "بھاشنی" نامی اے آئی/ایم ایل ٹول کا استعمال کر رہا ہے۔ حکومت نے فصلوں کے بہتر انتظام کے لیے دیہی کسانوں کو موسم کی تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
موسم پر مبنی فصل ایڈوائزری سروس کسانوں کو موسم کی تازہ ترین صورتحال، فصلوں کی صحت اور مناسب اقدامات کے بارے میں حقیقی وقت کی معلومات فراہم کرتی ہے، جس سے وہ فصلوں کے انتظام کے مختلف طریقوں کے بارے میں باخبر فیصلے کر سکتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں پیداوار اور آمدنی میں اضافہو ہوتا ہے۔
یہ معلومات ارتھ سائنسز اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 18 مارچ 2026 کو لوک سبھا میں پیش کی تھیں۔
***
UR-4356
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2242061)
وزیٹر کاؤنٹر : 10