وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ٹریننگ اور بیداری کے پروگرام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAR 2026 11:51AM by PIB Delhi
محکمۂ مویشی پروری اور ڈیری ، حکومتِ ہند کی جانب سے نافذ کردہ اسکیموں کے تحت ٹریننگ اور صلاحیت سازی سے متعلق اقدامات کی تفصیلات ضمیمہ-I اور ضمیمہ-II میں فراہم کی گئی ہیں۔
(ڈی) اور (ای) محکمۂ مویشی پروری و ڈیری کی اسکیموں کی مالی اور جسمانی پیش رفت کی تفصیلات ضمیمہ-III اور ضمیمہ-IV میں دی گئی ہیں۔
(ای)حکومتِ ہند کے محکمۂ مویشی پروری و ڈیری نے متعلقہ اسکیموں کے رہنما اصولوں کے تحت منصوبوں کی منظوری اور مقررہ معیارات کے مطابق ان کا جائزہ لینے کے لیے ایک مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ریاستوں کے ساتھ قومی اور علاقائی سطح پر جائزہ اجلاسوں کا انعقاد، نیز آزاد قومی سطح کے مبصرین کی تقرری کے ذریعے شفاف اور زمینی سطح پر نگرانی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ نظام فنڈز کے بروقت اور مؤثر استعمال کو یقینی بناتے ہیں اور آندھرا پردیش سمیت پورے ملک میں اسکیموں کے نفاذ کو تیز تر بناتے ہیں۔
*******
ضمیمہ-I
حکومتِ ہند کے محکمۂ مویشی پروری و ڈیری کی اسکیموں کے تحت فراہم کی جانے والی ٹریننگ کی تفصیلات:
نیشنل لائیواسٹاک مشن (این ایل ایم):
نیشنل لائیواسٹاک مشن کے تحت اسکیم کے فروغ اور مویشی پروری کے شعبے کی ترقی کے لیے مختلف سرگرمیوں کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس میں معلومات، تعلیم اور ترسیل (آئی ای سی) کی سرگرمیاں شامل ہیں جیسے سیمینارز، ٹریننگ اور صلاحیت سازی، مویشی پال کسانوں کے گروپس/بریڈرز ایسوسی ایشنز، اور مختلف تشہیری سرگرمیوں کا انعقاد ، جس میں لائیواسٹاک میلہ شامل ہے۔
راشٹریہ گوکل مشن (آر جی ایم):آر جی ایم کے تحت کسانوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے درج ذیل کوششیں کی گئی ہیں: (i) زرخیزی کیمپوں کا انعقاد؛ (ii) دودھ کی پیداوار میں مسابقت،(iii) بچھڑوں کی ریلیاں، ورکشاپس اور کنکلیو کا انعقاد (iii) دیہی بھارت میں کثیر المقاصد مصنوعی بارآوری تکنیکی ماہرین کی شمولیت، ٹریننگ کے بعد اور سماجی وسائل سے وابستہ افراد کو اس قابل بنانا تاکہ کسانوں کو ان کے گھر پر جانوروں میں حمل سے متعلق مصنوعی تکنیکی ماہرین کی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
نیشنل پروگرام فار ڈیری ڈیولپمنٹ (این پی ڈی ڈی)
این پی ڈی ڈی کا جزو a: این پی ڈی ڈی اسکیم کے تحت کسانوں کو اچھے حفظان صحت کے طریقوں/اچھے مینوفیکچرنگ طریقوں کی ٹریننگ کے لیے مالی مدد فراہم کرنے کا التزام ہے ۔ ڈیری عملے/دودھ جانچنے والوں کی ٹریننگ ، کوالٹی مینجمنٹ سسٹم پر ٹریننگ ، آپریشنز اور کوالٹی مینجمنٹ پر ڈی سی ایس اسٹاف/بی ایم سی/چلنگ سینٹر/اے ایم سی یو/ڈی پی ایم سی یو کی ٹریننگ اور سوسائٹی آپریشنز پر نئی/تجدید شدہ ڈیری کوآپریٹیوز/ایم پی سیز کے مینجمنٹ کمیٹی ممبران اور بورڈ آف ڈائریکٹرکی ٹریننگ ۔
این پی ڈی ڈی کے جزو بی کے تحت درج ذیل ٹریننگ فراہم کی جاتی ہیں:
.aدودھ کی خریداری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے پروگرام اور ٹریننگ:
- کسانوں کے لیے تعارفی پروگرام
- کسانوں کے لیے اوریئن ٹیشن پروگرام
- صاف دودھ کی پیداوار سے متعلق بیداری پروگرام
- نئی ڈی سی ایس کے لیے انتظامی کمیٹی کے اراکین کا اوریئن ٹیشن پروگرام
- بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لیے اوریئن ٹیشن پروگرام
- خریداری سے متعلق موجودہ عملے کے لیے بزنس ایپریسی ایشن پروگرام
- نئی ڈی سی ایس کے سیکریٹریوں کے لیے بنیادی ٹریننگ
- ڈی سی ایس کے سیکریٹریوں کے لیے ریفریشرٹریننگ
- بی ایم سی / اے ایم سی یو / ڈی پی ایم سی یو آپریٹرز کے لیے کام کاج اور دیکھ بھال کی ٹریننگ
- منیجنگ ڈائریکٹرز اور سیکشن ہیڈ کے لیے اسٹریٹجک ڈیری بزنس مینجمنٹ
.b دودھ کی پراسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا
-
- ڈیری پلانٹ مینجمنٹ (انتظام و انصرام)
- ڈیری پلانٹ کی صفائی اور جراثیم کشی، بشمول ایف ایس ایس اے آئی کے ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانا
- جدید ڈیری مینجمنٹ کے طریقے بشمول ٹی کیو ایم، کائزن،5ایس اور آئی ایس او
.c مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا
- خوردہ فروش کے لیے بیداری پروگرام
- افسران کے لیے مارکیٹنگ مینجمنٹ کی ٹریننگ
- مارکیٹنگ ٹیم کے لیے دودھ اور دودھ کی مصنوعات میں مارکیٹنگ کے طریقے
.d انفراسٹرکچر اور مواصلاتی ٹیکنالوجی
- پی او آئی کی سطح پر سافٹ ویئر کی ٹریننگ
- ڈی سی ایس کی سطح پر ٹریننگ
لائیو اسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام (ایل ایچ ڈی سی پی): ایل ایچ ڈی سی پی کے جانوروں کی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے ریاستوں کی مدد (اے ایس سی اے ڈی) کے تحت ، ترجیحی اقتصادی طور پر اہم غیر ملکی ، ابھرتی ہوئی اور جانوروں میں پائی جانے والی علاقائی سطح کی بیماریوں کی ٹریننگ اور روک تھام اور کنٹرول کے لیے مالی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ، "سائنسی لائیو اسٹاک مینجمنٹ" پر پروگرام آئی سی اے آر-کے وی کے کے ذریعے مندرجہ ذیل موضوعات پرنافذ کیا جاتا ہے –
- سائنسی بنیادوں پر مویشیوں کی پرورش سے متعلق مویشی و ڈیری فارمنگ کی تکنیکیں۔
- مویشی مصنوعات کی پراسیسنگ اور مارکیٹنگ سے متعلق بیداری۔
- کاروباری صلاحیتوں (تکنیکی، انتظامی اور قیادتی) میں اضافہ۔
- دیہی افراد کے علم اور مہارتوں میں اضافہ اور دیہی سماجی و معاشی ترقی۔
ضمیمہ-II
محکمۂ مویشی پروری و ڈیری، حکومتِ ہند کی اسکیموں کے تحت ٹریننگ کے لیے ڈیری کسانوں کی شمولیت کی تفصیلات:
.a ریاست وار:
- ریاست کے لحاظ سے:
|
ریاست
|
این پی ڈی ڈی کا جز اے
|
این پی ڈی ڈی کا جز بی
|
این ایل ایم
|
آر جی ایم
(این اے آئی پی کسان)
|
|
آندھرا پردیش
|
358361
|
454645
|
42540
|
3463229
|
|
اروناچل پردیش
|
-
|
-
|
180
|
1836
|
|
آسام
|
1000
|
-
|
-
|
1484692
|
|
بہار
|
3774
|
44121
|
-
|
2737811
|
|
چھتیس گڑھ
|
2672
|
-
|
4882
|
1173820
|
|
گوا
|
|
|
|
9303
|
|
گجرات
|
|
|
|
3462220
|
|
ہریانہ
|
|
|
|
457706
|
|
ہماچل پردیش
|
9540
|
-
|
-
|
1386269
|
|
جموں و کشمیر
|
6000
|
-
|
-
|
1653206
|
|
جھارکھنڈ
|
11500
|
-
|
1000
|
1897927
|
|
کرناٹک
|
14806
|
-
|
13000
|
5368976
|
|
کیرالہ
|
2944
|
-
|
-
|
|
|
لداخ
|
150
|
-
|
152
|
6242
|
|
مدھیہ پردیش
|
10243
|
-
|
179
|
5188597
|
|
مہاراشٹر
|
|
|
|
3862268
|
|
منی پور
|
-
|
-
|
41295
|
16629
|
|
میگھالیہ
|
1530
|
-
|
4268
|
16275
|
|
میزورم
|
-
|
-
|
6160
|
3905
|
|
ناگالینڈ
|
|
|
|
17026
|
|
اڈیشہ
|
12950
|
-
|
50
|
3138487
|
|
پدوچیری
|
2051
|
-
|
-
|
|
|
پنجاب
|
17674
|
94688
|
-
|
636970
|
|
راجستھان
|
66826
|
135907
|
1000
|
4356180
|
|
سکم
|
4250
|
-
|
6573
|
35812
|
|
تمل ناڈو
|
108668
|
-
|
550
|
2344774
|
|
تلنگانہ
|
35194
|
4859
|
-
|
1775785
|
|
تریپورہ
|
-
|
-
|
60
|
220728
|
|
اتر پردیش
|
65822
|
268412
|
-
|
8087203
|
|
اتراکھنڈ
|
8700
|
37
|
-
|
1077423
|
|
مغربی بنگال
|
-
|
10462
|
10940
|
3539101
|
|
کل
|
744655
|
1013131
|
132829
|
57420400
|
|
این پی ڈی ڈی = نیشنل پروگرام برائے ڈیری ڈویلپمنٹ
|
|
این ایل ایم = نیشنل لائیوسٹاک مشن
|
|
آر جی ایم = راشٹریہ گوکل مشن
|
|
این اے آئی پی = قومی مصنوعی انسیمینیشن پروگرام
|
مویشیوں کی صحت اور بیماریوں کے کنٹرول کا پروگرام (ایل ایچ ڈی سی پی) پچھلے پانچ سالوں (مالی سال 21-2020 سے مالی سال 25-2024) کے دوران کسانوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے بلاک کی سطح پر تشہیری اور آگاہی پروگراموں کے لیے جاری کردہ فنڈز کی ریاست وار تفصیلات:
|
(لاکھ روپے میں)
|
|
نمبر شمار
|
ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
کل
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
381.20
|
|
2
|
انڈمان اور نیکوبارجزائر
|
1.35
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
76.60
|
|
4
|
آسام
|
101.35
|
|
5
|
بہار
|
272.00
|
|
6
|
چنڈی گڑھ
|
0.53
|
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
56.10
|
|
8
|
دادرا اور نگر حویلی
|
0.44
|
|
9
|
دہلی
|
12.65
|
|
10
|
گوا
|
4.15
|
|
11
|
گجرات
|
87.50
|
|
12
|
ہریانہ
|
67.76
|
|
13
|
ہماچل پردیش
|
33.20
|
|
14
|
جموں و کشمیر
|
128.98
|
|
15
|
جھارکھنڈ
|
96.80
|
|
16
|
کرناٹک
|
126.75
|
|
17
|
کیرالہ
|
74.65
|
|
18
|
لداخ
|
9.29
|
|
19
|
لکشدیپ
|
1.50
|
|
20
|
مدھیہ پردیش
|
108.25
|
|
21
|
مہاراشٹر
|
166.80
|
|
22
|
منی پور
|
26.00
|
|
23
|
میگھالیہ
|
18.80
|
|
24
|
میزورم
|
15.38
|
|
25
|
ناگالینڈ
|
34.33
|
|
26
|
اڈیشہ
|
99.20
|
|
27
|
پدوچیری
|
2.40
|
|
28
|
پنجاب
|
57.50
|
|
29
|
راجستھان
|
128.50
|
|
30
|
سکم
|
28.84
|
|
31
|
تمل ناڈو
|
140.45
|
|
32
|
تلنگانہ
|
214.85
|
|
33
|
تریپورہ
|
25.30
|
|
34
|
اتر پردیش
|
412.65
|
|
35
|
اتراکھنڈ
|
55.81
|
|
36
|
مغربی بنگال
|
180.65
|
|
اے
|
ذیلی کل ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں
|
3248.50
|
|
1
|
پرسار بھارتی
|
3088.85
|
|
2
|
اشتہار اور پبلسٹی
|
6698.13
|
|
B
|
مجموعی تعداد اے اینڈ پی
|
9786.98
|
- آندھرا پردیش میں امداد حاصل کرنے والے کسانوں کی ضلع وار فہرست۔
|
نمبر شمار
|
ضلع کا نام
|
این پی ڈی ڈی
جزاے اور جز بی
|
آر جی ایم (این اے آئی پی)
|
|
1
|
الوری سیتاراما راجو
|
282
|
8328
|
|
2
|
اناکاپلی
|
50560
|
178347
|
|
3
|
اننت پورم
|
16587
|
122517
|
|
4
|
انامایا
|
24592
|
164991
|
|
5
|
باپٹلا
|
13338
|
172860
|
|
6
|
چتور
|
47480
|
206225
|
|
7
|
مشرقی گوداوری
|
21179
|
80869
|
|
8
|
ایلورو
|
40088
|
149539
|
|
9
|
گنٹور
|
12560
|
109360
|
|
10
|
کاکیناڈا
|
26262
|
147179
|
|
11
|
کونسیما
|
16935
|
125605
|
|
12
|
کرشنا
|
11715
|
93675
|
|
13
|
کرنول
|
254
|
122499
|
|
14
|
نندیال
|
493
|
143000
|
|
15
|
نیلور
|
801
|
63640
|
|
16
|
این ٹی آر
|
25029
|
194223
|
|
17
|
پی مانیام
|
1257
|
52366
|
|
18
|
پالناڈو
|
41830
|
224715
|
|
19
|
پرکاسم
|
37730
|
204394
|
|
20
|
سری ستھیا سائی
|
19418
|
246948
|
|
21
|
سریکاکولم
|
8779
|
165564
|
|
22
|
تروپتی
|
8858
|
125686
|
|
23
|
وشاکھاپٹنم
|
250
|
33526
|
|
24
|
وجیا نگرم
|
4679
|
176170
|
|
25
|
مغربی گوداوری
|
5874
|
91027
|
|
26
|
وائی ایس آر کڑپہ
|
30736
|
174338
|
|
|
کل
|
467566
|
3577591
|
|
این پی ڈی ڈی = نیشنل پروگرام برائے ڈیری ڈویلپمنٹ
|
|
آر جی ایم = راشٹریہ گوکل مشن
|
|
این اے آئی پی = قومی مصنوعی انسیمینیشن پروگرام
|
ضمیمہ III
مویشی پروری اور ڈیری کا محکمہ حکومت ہندکی، اسکیموں کے ذریعے ٹریننگی جزو سمیت اسکیموں کی مالی پیش رفت
- نیشنل پروگرام برائے ڈیری ڈیولپمنٹ:
(a) (جزو اے): 2014 این پی ڈی ڈی کے تحت ریاست وار منظور شدہ منصوبوں/ جاری کردہ فنڈز/ استعمال شدہ فنڈز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
ریاست
|
منظور شدہ منصوبوں کی تعداد
|
کروڑ میں رقم
|
|
منظور شدہ لاگت
|
مرکزی حصہ
|
کل ریلیز
|
استعمال شدہ فنڈز
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
4
|
235.05
|
162.25
|
95.54
|
62.30
|
|
2
|
اروناچل پردیش
|
2
|
11.91
|
11.26
|
8.84
|
5.54
|
|
3
|
آسام
|
6
|
119.32
|
98.21
|
27.22
|
15.66
|
|
4
|
بہار
|
19
|
346.02
|
254.33
|
241.24
|
202.76
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
5
|
48.71
|
34.76
|
19.40
|
8.75
|
|
6
|
گوا
|
3
|
16.99
|
13.98
|
8.74
|
1.78
|
|
7
|
گجرات
|
9
|
554.31
|
338.07
|
246.93
|
223.55
|
|
8
|
ہریانہ
|
5
|
26.93
|
22.17
|
19.32
|
13.33
|
|
9
|
ہماچل پردیش
|
8
|
108.54
|
90.99
|
63.55
|
59.64
|
|
10
|
جموں و کشمیر
|
6
|
241.06
|
204.23
|
140.50
|
140.50
|
|
11
|
جھارکھنڈ
|
4
|
32.85
|
25.68
|
16.35
|
15.40
|
|
12
|
کرناٹک
|
22
|
455.21
|
307.83
|
239.29
|
199.96
|
|
13
|
کیرالہ
|
17
|
194.39
|
142.64
|
137.02
|
131.54
|
|
14
|
لداخ
|
2
|
18.06
|
13.82
|
12.08
|
11.70
|
|
15
|
مدھیہ پردیش
|
16
|
179.85
|
121.97
|
97.87
|
75.82
|
|
16
|
مہاراشٹر
|
5
|
64.18
|
52.66
|
45.42
|
37.98
|
|
17
|
منی پور
|
3
|
30.29
|
27.85
|
23.41
|
20.28
|
|
18
|
میگھالیہ
|
6
|
63.94
|
57.80
|
53.27
|
53.27
|
|
19
|
میزورم
|
4
|
11.19
|
10.45
|
10.38
|
10.31
|
|
20
|
ناگالینڈ
|
5
|
13.72
|
12.63
|
12.39
|
12.15
|
|
21
|
اڈیشہ
|
8
|
85.01
|
66.54
|
53.84
|
53.41
|
|
22
|
پدوچیری
|
7
|
74.65
|
57.72
|
7.66
|
6.99
|
|
23
|
پنجاب
|
11
|
285.72
|
187.74
|
182.57
|
164.85
|
|
24
|
راجستھان
|
34
|
397.49
|
274.09
|
219.80
|
203.57
|
|
25
|
سکم
|
8
|
57.16
|
52.73
|
52.69
|
48.59
|
|
26
|
تمل ناڈو
|
12
|
342.29
|
231.42
|
216.16
|
209.16
|
|
27
|
تلنگانہ
|
8
|
89.16
|
69.67
|
39.22
|
39.02
|
|
28
|
تریپورہ
|
5
|
24.71
|
21.75
|
21.26
|
20.56
|
|
29
|
اتر پردیش
|
8
|
91.24
|
74.96
|
50.04
|
12.75
|
|
30
|
اتراکھنڈ
|
5
|
77.93
|
66.28
|
60.50
|
59.69
|
|
31
|
مغربی بنگال
|
3
|
4.03
|
3.93
|
3.63
|
3.56
|
|
|
مجموعی تعداد
|
260
|
4301.91
|
3110.46
|
2426.14
|
2124.39
|
(b (جزو بی: این پی ڈی ڈی کے تحت ریاست وار مختص کردہ، جاری کردہ اور استعمال شدہ فنڈز
|
نمبر شمار
|
ریاست
|
منصوبوں کی تعداد
|
کروڑ میں رقم
|
|
فنڈ منظور
|
فنڈ جاری
|
فنڈ کا استعمال
|
|
قرضہ
|
گرانٹ
|
قرضہ
|
گرانٹ
|
قرضہ
|
گرانٹ
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
2
|
135.78
|
70.31
|
122.40
|
41.53
|
23.74
|
41.47
|
|
2
|
بہار
|
12
|
52.19
|
50.83
|
41.60
|
28.28
|
22.03
|
28.06
|
|
3
|
مدھیہ پردیش
|
2
|
46.91
|
5.62
|
43.05
|
0.00
|
29.53
|
0.00
|
|
4
|
پنجاب
|
2
|
271.67
|
54.51
|
270.12
|
33.52
|
141.47
|
33.13
|
|
5
|
راجستھان
|
6
|
242.34
|
80.87
|
173.44
|
59.60
|
140.30
|
56.30
|
|
6
|
تلنگانہ
|
1
|
68.12
|
12.46
|
64.92
|
7.98
|
57.94
|
7.68
|
|
7
|
اتر پردیش
|
8
|
29.90
|
89.25
|
29.90
|
68.58
|
26.78
|
67.56
|
|
8
|
اتراکھنڈ
|
1
|
0.00
|
5.60
|
0.00
|
4.33
|
0.00
|
4.30
|
|
9
|
مغربی بنگال
|
2
|
48.69
|
11.98
|
10.40
|
0.05
|
0.01
|
0.00
|
|
مجموعی تعداد
|
36
|
895.59
|
381.43
|
755.82
|
243.88
|
441.78
|
238.50
|
- اینیمل ہسبنڈری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈکے تحت مالی پیش رفت: ڈیری پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن منظور شدہ پروجیکٹ- ریاست کے لحاظ سے
|
نمبر شمار
|
ریاست کا نام
|
پروجیکٹ (نمبر)
|
کروڑ روپے میں
|
|
پروجیکٹ لاگت
|
ٹرم لون
|
سود میں سبوینشن جاری
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
11
|
397.30
|
296.66
|
3.58
|
|
2
|
آسام
|
1
|
9.25
|
7.00
|
0.03
|
|
3
|
بہار
|
1
|
12.13
|
5.35
|
0.41
|
|
4
|
دہلی
|
1
|
75.00
|
60.00
|
0.31
|
|
5
|
گجرات
|
12
|
2145.13
|
1720.60
|
47.24
|
|
6
|
ہریانہ
|
10
|
280.26
|
169.26
|
8.10
|
|
7
|
ہماچل پردیش
|
2
|
3.03
|
2.24
|
0.11
|
|
8
|
جھارکھنڈ
|
4
|
115.07
|
86.25
|
6.86
|
|
9
|
کرناٹک
|
5
|
192.48
|
113.01
|
8.17
|
|
10
|
کیرالہ
|
1
|
1.92
|
1.50
|
0.14
|
|
11
|
مدھیہ پردیش
|
14
|
490.23
|
331.08
|
27.82
|
|
12
|
مہاراشٹر
|
41
|
2643.46
|
1882.72
|
80.06
|
|
13
|
اڈیشہ
|
3
|
32.70
|
15.04
|
1.14
|
|
14
|
پنجاب
|
3
|
166.51
|
108.00
|
7.00
|
|
15
|
راجستھان
|
12
|
160.46
|
81.80
|
4.14
|
|
16
|
تمل ناڈو
|
10
|
1645.17
|
1170.31
|
72.96
|
|
17
|
تلنگانہ
|
8
|
704.13
|
530.91
|
36.58
|
|
18
|
اتر پردیش
|
19
|
1184.65
|
909.01
|
18.08
|
|
19
|
اتراکھنڈ
|
1
|
86.32
|
70.00
|
2.11
|
|
20
|
مغربی بنگال
|
8
|
283.58
|
189.57
|
7.55
|
|
کل
|
167
|
10628.79
|
7750.32
|
332.39
|
- گزشتہ 5 سالوں میں راشٹریہ گوکل مشن کے تحت جاری کردہ کل فنڈز
|
نمبر شمار
|
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے/ این بی ڈی ڈی
|
کل (لاکھ روپے میں)
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
17102.30
|
|
2
|
اروناچل پردیش
|
4070.35
|
|
3
|
آسام
|
6772.75
|
|
4
|
بہار
|
15405.90
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
1344.90
|
|
6
|
گوا
|
-
|
|
7
|
گجرات
|
13673.80
|
|
8
|
ہریانہ
|
4745.65
|
|
9
|
ہماچل پردیش
|
6070.83
|
|
10
|
جموں و کشمیر
|
10273.80
|
|
11
|
جھارکھنڈ
|
5345.78
|
|
12
|
کرناٹک
|
8311.50
|
|
13
|
کیرالہ
|
12155.10
|
|
14
|
مدھیہ پردیش
|
22090.90
|
|
15
|
مہاراشٹر
|
4908.56
|
|
16
|
منی پور
|
962.31
|
|
17
|
میگھالیہ
|
2777.43
|
|
18
|
میزورم
|
1408.45
|
|
19
|
ناگالینڈ
|
1941.82
|
|
20
|
اڈیسہ
|
6525.74
|
|
21
|
پنجاب
|
946.13
|
|
22
|
راجستھان
|
3159.77
|
|
23
|
سکم
|
1939.07
|
|
24
|
تمل ناڈو
|
19174.40
|
|
25
|
تلنگانہ
|
5795.39
|
|
26
|
تریپورہ
|
2524.17
|
|
27
|
اتر پردیش
|
21267.30
|
|
28
|
اتراکھنڈ
|
13107.60
|
|
29
|
مغربی بنگال
|
9953.22
|
|
30
|
اے اینڈ این لینڈز
|
-
|
|
31
|
چندی گڑھ
|
-
|
|
32
|
دادرہ اور نگر حویلی
|
-
|
|
33
|
دمن اور دیو
|
-
|
|
34
|
لکشدیپ
|
-
|
|
35
|
لداخ
|
147.00
|
|
36
|
پانڈیچری
|
357.85
|
|
37
|
این ڈی ڈی بی
|
81595.10
|
ضمیہ-IV
محکمۂ مویشی پروری و ڈیری ، حکومتِ ہند کی اسکیموں کے تحت آندھرا پردیش کے لیے قابلِ پیمائش نتائج
.1مویشیوں کی صحت اور بیماری کنٹرول پروگرام:
.iموبائل ویٹرنری یونٹس
- ایم وی یو منظور شدہ: 340
- فائدہ اٹھانے والے کسان: 2,732,530
- علاج شدہ مویشی: 2,852,505
.iiمالی سال26- 2025کے دوران ویکسینیشن
- ایف ایم ڈی: 8762810
- پی پی آر: 6121198
- سی ایس ایف: 44547
- بروسیلاسز: 5338
.2 راشٹریہ گوکل مشن (آر جی ایم)
.i ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) لیبز:
- قابل عمل جنین: 1915
- منتقل شدہ جنین: 1085
- بچھڑوں کی پیدائش: 64
- ذخیرہ شدہ جنین: 830
.iiملک گیر مصنوعی حمل پروگرام (این اے آئی پی)
- حمل شدہ جانور: 7652764
- کل اے آئی کیا گیا: 14923874
- کسانوں کو فائدہ ہوا: 3463229
.iii دودھ کی پیداوار اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ ذیل میں جدول میں درج ہے:
|
2014-15
|
2024-25
|
% تبدیلی
|
|
دودھ کی پیداوار (000 ٹن)
|
دودھ کی اوسط پیداوار کلوگرام فی دن
|
دودھ کی پیداوار (000 ٹن)
|
دودھ کی اوسط پیداوار کلوگرام فی دن/
|
دودھ کی پیداوار (000 ٹن)
|
دودھ کی اوسط پیداوار کلوگرام فی دن
|
|
9653.41
|
5.77
|
13942.26
|
8.07
|
44.4
|
39.9
|
.3نیشنل پروگرام برائے ڈیری ڈیولپمنٹ :
.iجزو اے: آندھرا پردیش کے لیے این پی ڈی ڈی کے تحت جسمانی ترقی
|
پیرامیٹر
|
ہدف
|
کارنامہ
|
|
ڈیری کوآپریٹو سوسائٹی (نمبر)
|
9317
|
2315
|
|
دودھ تیار کرنے والے اراکین (000)
|
322.686
|
95.915
|
|
اوسط یومیہ دودھ کی خریداری
|
1049.6
|
264.20
|
|
اوسط روزانہ دودھ کی مارکیٹنگ
|
576.65
|
248.31
|
|
تھوک دودھ کولر
|
نمبر
|
150
|
31
|
|
صلاحیت
|
750.00
|
155.00
|
|
ریاستی مرکزی لیبارٹری کا قیام
|
1
|
1
|
|
ڈیری پلانٹ لیبارٹریوں کو مضبوط بنانا
|
7
|
7
|
|
خودکار دودھ جمع کرنے والے یونٹ کی تنصیب (نمبر)
|
9690
|
2594
|
|
الیکٹرانک دودھ میں ملاوٹ کی جانچ کرنے والی مشین کی تنصیب
|
283
|
73
|
.iiجزو بی: آندھرا پردیش کے لیے این پی ڈی ڈی کے تحت جسمانی ترقی
|
پیرامیٹر
|
یونٹ
|
ہدف
|
کارکردگی
|
|
|
|
|
دودھ کی خریداری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا
|
|
|
نیا ڈی سی ایس
|
تعداد
|
2450
|
1728
|
|
|
ڈی سی ایس کو تقویت ملی
|
تعداد
|
2000
|
800
|
|
|
اے ایم سی یو/ڈی پی ایم سی یو
|
تعداد
|
5415
|
2143
|
|
|
تھوک دودھ کولر
|
|
|
|
|
|
بی ایم سی - نمبر
|
تعداد
|
52
|
43
|
|
|
بی ایم سی - صلاحیت
|
سی ایل
|
420
|
350
|
|
|
ڈی سی ایس کے لیے عمارت
|
تعداد
|
195
|
21
|
|
|
دودھ کے ٹینک
|
|
|
|
|
|
دودھ کا ٹینکر - نمبر
|
تعداد
|
14
|
2
|
|
|
دودھ کا ٹینکر - گنجائش
|
سی ایل
|
210
|
30
|
|
|
کسان ممبران نے اندراج کیا۔
|
تعداد
|
65000
|
41839
|
|
|
نئے ڈی سی ایس/ایم پی پی میں خواتین ممبران کا اندراج
|
تعداد
|
62500
|
32596
|
|
|
اضافی دودھ کی خریداری
|
ٹی کے جی اینڈ پی جی
|
252.03
|
212.56
|
|
|
جدید دودھ کی جانچ اور ملاوٹ کا پتہ لگانے والی مشین
|
تعداد
|
120
|
80
|
|
|
دودھ کی پروسیسنگ کا بنیادی ڈھانچہ
|
|
|
سی ایف پی
|
ایم ٹی پی ڈی
|
600
|
0
|
|
|
مارکیٹنگ
|
|
|
واک ان کولڈ اسٹور
|
|
|
|
|
|
کولڈ سٹور - نمبر
|
تعداد
|
12
|
0
|
|
|
کولڈ سٹوریج - صلاحیت
|
سی ایل
|
245
|
0
|
|
|
وین کے لئے موصلیت
|
|
|
|
|
|
وین - نمبر
|
تعداد
|
100
|
16
|
|
|
وین - صلاحیت
|
سی ایل
|
500
|
8
|
|
|
دودھ پارلر
|
تعداد
|
300
|
55
|
|
|
ڈیپ فریزر
|
تعداد
|
253
|
663
|
|
|
ویزی کولر
|
تعداد
|
60
|
60
|
|
|
آئی سی ٹی
|
|
|
|
|
|
AMCS حل کی تنصیب
|
ہمیں
|
125
|
0
|
|
|
ٹریننگ اور صلاحیت کی ترقی
|
|
|
کسانوں کو ٹریننگ دی گئی۔
|
تعداد
|
298194
|
304289
|
|
|
عملہ، افسران اور بی او ڈی ٹریننگ یافتہ
|
تعداد
|
10724
|
7640
|
|
|
خوردہ فروشوں کو ٹریننگ دی گئی۔
|
تعداد
|
145600
|
29645
|
|
| |
|
|
|
|
|
.ivاینیمل ہسبنڈری انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈ :ڈیری پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن منظور:
.iاے ایچ آئی ڈی ایف اسکیم کے تحت
|
پروجیکٹ نمبر
|
کروڑروپے میں
|
نمبر
|
|
پروجیکٹ لاگت
|
ٹرم لون
|
سود میں دی گئی سبسڈی
|
روزگار کی فراہمی
|
کسانوں کو فائدہ ہوا
|
|
11
|
397.30
|
296.66
|
3.58
|
948
|
102200
|
- سابقہ ڈیری پروسیسنگ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت منظور شدہ منصوبے:
- مالی پیش رفت:
|
منصوبوں کی تعداد
|
(کروڑ روپے میں)
|
|
پروجیکٹ کی کل لاگت
|
قرض کی منظوری دی گئی
|
قرض دیا گیا
|
|
1
|
97.75
|
78.20
|
34.73
|
-
- ساختی ترقی:
|
کل پروجیکٹ
|
دودھ کی خریداری (لاکھ کلوگرام فی دن
|
دودھ کی پروسیسنگ کی صلاحیت (لاکھ لیٹر فی دن
|
ویلیو ایڈیڈ پروڈکٹس
|
|
ہدف
|
کارکردگی
|
ہدف
|
کارکردگی
|
ہدف
|
کارکردگی
|
|
1
|
5.04
|
7.65
|
4.00
|
4.00
|
1.46
|
0.00
|
یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
*******
(ش ح –ع و–ص ج)
U. No. 4318
(ریلیز آئی ڈی: 2241852)
وزیٹر کاؤنٹر : 8