سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
1.4 ارب آبادی کے ساتھ بھارت ’’گرین ورلڈ‘‘ کی جانب منتقلی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، اور مستقبل کی ترقی میں گرین انفراسٹرکچر اہم محرک ثابت ہوگا:مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک ذمہ داری بھی ہے اور ایک بڑا موقع بھی، جس کے ذریعے وہ سبز ٹیکنالوجیز اور صاف توانائی کے نظاموں کی مدد سے پائیدار ترقی کا عالمی رہنما بن سکتا ہے
’شانتی ایکٹ‘ ایک تاریخی اصلاح ہے، جو جوہری توانائی کے شعبے میں وسیع شرکت کی راہ ہموار کرتی ہے، جس میں نجی شعبہ بھی شامل ہے، اور اس کے ذریعے صاف اور قابلِ اعتماد توانائی پیدا کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے:مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق، بھارت کی معاشی تبدیلی ’’گرین گروتھ‘‘ کے وژن پر مبنی ہے، اور مستقبل کی معیشت ری سائیکلنگ اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے ذریعے آگے بڑھے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2026 6:30PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، نیز وزیر مملکت برائے وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ 1.4 ارب آبادی کے ساتھ بھارت ’’گرین ورلڈ‘‘ کی جانب عالمی منتقلی میں کلیدی کردار رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے لفظوں میں، بھارت اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور سبز مستقبل کی عالمی منتقلی میں قیادت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
10ویں سسٹین ایبل بزنس فیوچرز سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی آبادی کے حامل ملک ہونے کے ناطے، بھارت کی پیش رفت عالمی گرین ٹرانزیشن کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ یہ بھارت کے لیے ایک ذمہ داری بھی ہے اور ایک بڑا موقع بھی کہ وہ سبز ٹیکنالوجی اور صاف توانائی کے نظام کے ذریعے پائیدار ترقی کا عالمی رہنما بنے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گرین انفراسٹرکچر بھارت کی آئندہ معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہوگا اور عالمی قیادت کے وژن میں مرکزی حیثیت رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت تیزی سے ری سائیکلنگ، بحالی (ری جنریشن) اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہی ہے، اور بھارت بھی اپنی ترقی کی حکمت عملی کو انہی ترجیحات کے مطابق ڈھال رہا ہے۔
انہوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے معاشی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے نمایاں تبدیلی دیکھی ہے، جسے تیزی سے پھیلتے ہوئے اختراعی نظام (انوویشن ایکو سسٹم) نے تقویت دی ہے۔ آج بھارت دنیا کے بڑے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹمز میں شامل ہے، جہاں دو لاکھ سے زائد اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً نصف ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں سے ابھر رہے ہیں، جو ملک بھر میں کاروباری رجحانات میں وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اپنے صاف توانائی کے نظام کو مسلسل وسعت دے رہا ہے تاکہ ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں، جن کے لیے ہمہ وقت اور قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی ضروری ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے ’شانتی ایکٹ‘ (Sustainable Harnessing and Accelerating Nuclear Transformation of India) کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک اہم اصلاح قرار دیا، جو جوہری توانائی کے شعبے میں نجی شرکت سمیت وسیع مواقع فراہم کرتا ہے اور صاف و قابلِ بھروسہ توانائی کی پیداوار کے نئے راستے کھولتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کا گرین ٹرانزیشن کا طریقۂ کار ایک جامع حکمت عملی پر مبنی ہے، جس میں تکنیکی جدت، معاشی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس میں نئی نسل کے توانائی نظام، جدید توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی، لچکدار اور ڈیجیٹل طور پر مربوط گرڈز شامل ہیں، جو شمسی، ہوائی، جوہری اور ہائیڈروجن سمیت مختلف توانائی ذرائع کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی ماڈلنگ، رسک اینالٹکس اور جدید تعمیراتی ٹیکنالوجیز پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے دی گئی پالیسی سمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 2070 تک نیٹ زیرو اخراج حاصل کرنے کا عزم کیا ہے، اور ’لائف اسٹائل فار انوائرمنٹ‘کے تصور کو بھی فروغ دیا ہے، جو پائیدار طرزِ زندگی اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بھارت کے ذمہ دارانہ اور ہمہ گیر ترقی کے وژن کی عکاسی کرتا ہے، جو عالمی ماحولیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سرکولر اکانومی (دائروی معیشت) پر بڑھتے ہوئے زور کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مختلف شعبوں میں ’’ویسٹ ٹو ویلتھ‘‘ (کچرے سے دولت) جیسے جدید اقدامات کے ذریعے فضلے کے تصور کو ازسرِنو متعین کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ماحولیاتی پائیداری کو فروغ مل رہا ہے بلکہ معاشی قدر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے انفراسٹرکچر کی ترقی میں ماحولیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس)، پائیدار شہری نظام، صاف نقل و حمل کے حل اور آبی تحفظ کو لازماً شامل کیا جانا چاہیے، اور اس کے لیے حکومت، صنعت اور تحقیقی اداروں کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ آگے بڑھنے کے لیے مضبوط اشتراک عمل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ الگ الگ کام کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے اور طویل مدتی پائیداری کے اہداف حاصل کرنے کے لیے جتیندر سنگھ ہماری کوششیں ہی کامیابی کی ضامن ہوں گی۔

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ منگل کے روز نئی دہلی میں فکی کے زیرِ اہتمام منعقدہ 10ویں سسٹین ایبل بزنس فیوچرز سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے۔



ش ح۔ ش ت۔ ج
uno-4289
(ریلیز آئی ڈی: 2241507)
وزیٹر کاؤنٹر : 13