جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ریاست راجستھان اور مدھیہ پردیش نے جل جیون مشن (جے جے ایم)2.0 کے تحت اصلاحات سے منسلک مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کئے


دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کو پائیدار اور جوابدہ بنانے کے لیے مرکز اور ریاستوں نے مل کر ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے کا عزم کیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 MAR 2026 6:30PM by PIB Delhi

 دیہی پینے کے پانی کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی سمت یہ ایک اہم قدم ہے، جس کے تحت جل جیون مشن 2.0 کے تحت راجستھان اور مدھیہ پردیش کے ساتھ ایم او یوز پر دستخط کیے گئے۔ یہ اس مشن کے توسیعی مرحلے میں اصلاحات پر مبنی عمل درآمد کے باضابطہ آغاز کی نشاندہی کرتا ہے، جسے مرکزی کابینہ نے 10 مارچ 2026 کو منظوری دی تھی۔

 

ریاست راجستھان کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط صبح کے وقت ہوئے، جس میں مرکزی وزیر جل شکتی  سی آر پاٹل ، راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما اور وزارتِ جل شکتی کے وزیر مملکت وی سومنا موجود تھے۔ اس موقع پر راجستھان کے پی ایچ ای ڈی وزیرکنہیا لال چودھری سمیت مرکز اور ریاستی حکومت کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

ریاست مدھیہ پردیش کے ساتھ ایم او یو پر دستخط سہ پہر 3 بجے ہوئے، جس میں مرکزی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل کی موجودگی میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شامل ہوئے۔ اس موقع پر وزارتِ جل شکتی کے وزیر مملکت و ی سومنا اور مدھیہ پردیش کی پی ایچ ای ڈی وزیر سمپیتا یوئکی سمیت ریاستی حکومت کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب میں محکمۂ پینے کے پانی اور صفائی (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کے سینئر افسران بھی موجود تھے، جن میں سکریٹری اشوک کے کےمینا اور ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر این جے جے ایم کمل کشور سون شامل تھے۔ اس کے علاوہ ڈی ڈی ڈبلیو ایس، راجستھان کے پی ایچ ای ڈی اور مدھیہ پردیش کے جل نگم کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر شریک رہے۔

 

ریاست راجستھان کے لیے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط اور تبادلہ محترمہ  سواتی مینا نائیک ، جوائنٹ سکریٹری (واٹر)، ڈی ڈی ڈبلیو ایس اور اکھل اروڑہ، ایڈیشنل چیف سکریٹری، پی ایچ ای ڈی راجستھان کے درمیان ہوا۔

ریاست مدھیہ پردیش کے لیے یہ ایم او یو محترمہ سواتی مینا نائیک ، جوائنٹ سکریٹری (واٹر)، ڈی ڈی ڈبلیو ایس اور پی نراہری، پرنسپل سکریٹری، پی ایچ ای ڈی مدھیہ پردیش کے درمیان دستخط اور تبادلہ کیا گیا۔

مرکزی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ پارلیمانی مباحثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جل جیون مشن کے تحت ہونے والے تمام کاموں میں معیار، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے، اور دونوں ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ معیار کے اصولوں کی سختی سے پابندی کریں تاکہ تیار کیے گئے منصوبے طویل مدت تک کارآمد اور پائیدار رہیں۔

انہوں نے مختلف ریاستوں میں پانی کے انتظام سے متعلق چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے، خصوصاً راجستھان میں پانی کی کمی اور مدھیہ پردیش کے متنوع ہائیڈرو جیولوجیکل حالات کی نشاندہی کی۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں ریاستوں کی جانب سے اصلاحات سے منسلک ایم او یوز پر دستخط کرنے کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ یہ عوام کے لیے پینے کے پانی کی اہمیت اور پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی حکومتوں کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

مرکزی وزیر نے بروقت اور معیاری عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جل جیون مشن کے تحت مؤثر نفاذ سے خاص طور پر پانی کی قلت والے دیہی علاقوں جیسے راجستھان اور مدھیہ پردیش میں خواتین اور لڑکیوں کی مشقت میں نمایاں کمی آئے گی، اور سب کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد پینے کے پانی کی فراہمی ممکن ہوگی۔

راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے جل جیون مشن کے مؤثر نفاذ کے لیے ریاست کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ راجستھان مقررہ وقت میں منصوبوں کی تکمیل اور جےجے ایم  2.0 کے تحت متعین اصلاحات پر سختی سے عمل کرے گا، جس میں معیاری کام، ادارہ جاتی مضبوطی اور دیہی پینے کے پانی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے جل جیون مشن 2.0 کے تحت قومی اصلاحاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ رہنے اور ساختی اصلاحات کے مؤثر نفاذ کے لیے ریاستی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش اصلاحات سے منسلک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں طے شدہ شرائط پر عمل کرے گا، جس میں مضبوط حکمرانی کے نظام، بہتر خدمات کی فراہمی، 24 گھنٹے پینے کے پانی کی دستیابی کے ہدف کا حصول اور دیہی پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی طویل مدتی پائیداری کو ترجیح دی جائے گی۔

اس ایم او یو میں 11 اہم ساختی اصلاحی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کا مقصد دیہی پینے کے پانی کے نظام میں بہتر حکمرانی، ادارہ جاتی صلاحیت اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانا ہے، جن میں شامل ہیں:

  • پینے کے پانی کے نظم و نسق کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچہ
  • دیہی پانی کی فراہمی کے لیے سروس یوٹیلٹی فریم ورک
  • تکنیکی معیار کی پابندی اور منصوبوں کا مؤثر نفاذ
  • شہریوں پر مبنی پانی کے معیار کی نگرانی کا نظام
  • پانی کے ذرائع کی پائیداری اور آبی تحفظ کا فریم ورک
  • دیہی پینے کے پانی کے نظام میں ڈیجیٹل ڈیٹا گورننس
  • جن بھاگیداری (عوامی شمولیت) کے ذریعے شراکتی حکمرانی
  • صلاحیت سازی کا فریم ورک
  • افرادی قوت اور مہارتوں کی ترقی کا نظام
  • پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی عملیاتی اور مالی پائیداری
  • تحقیق، جدت اور علم پر مبنی نظام

اصلاحات سے منسلک اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت دیہی پانی کے نظم و نسق کے لیے گرام پنچایت کی قیادت میں، خدمات پر مبنی اور کمیونٹی مرکز ماڈل کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی ایک اہم شرط کے مطابق مکمل شدہ پائپ لائن پانی فراہمی کے منصوبوں کو ’’جل ارپن‘‘ عمل کے ذریعے باضابطہ طور پر گرام پنچایتوں، وی ڈبلیو ایس سی اور مقامی کمیونٹی کے حوالے کیا جائے گا۔

ایم او یو میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ محکمۂ پینے کے پانی و صفائی (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کی جانب سے تیار کردہ ڈیسیژن سپورٹ سسٹم  پلیٹ فارم کو ضلع اور گرام پنچایت سطح پر ڈیجیٹل منصوبہ بندی کے لیے فعال بنایا جائے گا، جو پانی کے ذرائع کی پائیداری کے لیے ’’سجلم بھارت‘‘ اور قومی آبی ڈیٹا سے مربوط ہوگا۔

ایم او یو کی شرائط کے تحت گرام پنچایت سطح پر ’’جل سیوا آنکلن‘‘ کیا جائے گا، جس کے ذریعے خدمات کی فراہمی سے متعلق فیڈبیک ریکارڈ کیا جائے گا اور اس کے نتائج شہریوں تک میری پنچایت ایپ کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔

اس کے علاوہ ایم او یو میں ’’جل اتسو‘‘ منانے کی بھی شق شامل ہے، جو تین سطحی سالانہ مہم ہوگی: قومی سطح پر جل مہوتسو، ریاستی سطح پر راجیہ جل اتسو/ندی اتسو، اور گرام پنچایت سطح پر لوک جل اتسو، جس میں پانی کی مقامی ثقافتی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ اسی سلسلے میں قومی جل مہوتسو 2026 کا آغاز 8 مارچ 2026 کو ملک گیر ’’جل ارپن‘‘ کے ساتھ کیا گیا، جو 22 مارچ 2026 (ورلڈ واٹر ڈے) تک جاری رہے گا۔

11 مارچ 2026 کو منعقدہ قومی تقریب میں صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے شرکت کر کے اس پروگرام کی رونمائی کو مزید اہمیت بخشی۔

جل جیون مشن کی مدت میں دسمبر 2028 تک توسیع، اور اضافی بجٹ کے ساتھ، اس پروگرام کو ازسرِ نو ترتیب دینے اور اسے مؤثر خدمات کی فراہمی کی طرف مرکوز کرنے کا مقصد رکھتی ہے، جس میں نظام کی فعالیت، پانی کے معیار، پائیداری اور کمیونٹی کی ملکیت پر خاص توجہ دی جائے گی۔

اصلاحات سے منسلک یہ مفاہمتی یادداشت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ ہر دیہی گھرانے کو باقاعدگی سے مناسب مقدار اور مقررہ معیار کے مطابق پینے کا پانی فراہم ہو۔ اس کے لیے عوامی شمولیت (جن بھاگیداری) کو مضبوط بنایا جائے گا اور دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی پائیدار دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے ساختی اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔ اس اقدام سے دیہی علاقوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی اور طویل مدتی آبی تحفظ کو فروغ ملے گا، جو ’’وکست بھارت @2047‘‘ کے قومی وژن سے ہم آہنگ ہے۔

ش ح۔ ش ت۔  ج

UNO-4288-


(ریلیز آئی ڈی: 2241501) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी