وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 MAR 2026 3:14PM by PIB Delhi

      (الف): ماہی پروری محکمہ، وزارت ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کو اس بات کا علم ہے کہ مالی سال 2023-24 کے دوران ہندوستان کی مچھلی کی پیداوار بڑھ کر 183.93 لاکھ ٹن ہو گئی، جس میں اندرونِ ملک مچھلی کی پیداوار کا حصہ 75.57 فیصد رہا۔ یہ شعبہ 2.8 کروڑ سے زیادہ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ مالی سال 2023-24 کے دوران ریاست وار مچھلی کی پیداوار کی تفصیلات ضمیمہ-اوّل میں دی گئی ہیں۔

(ب): حکومت ہند کے ماہی پروری محکمہ نے مالی سال 2020-21 سے ملک میں ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ایک فلیگ شپ اسکیم پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا” (پی ایم ایم ایس وائی) نافذ کی ہے، جس کی مجموعی لاگت 20,750 کروڑ روپے ہے۔

ماہی پروری محکمہ، حکومت ہند نے مختلف ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور دیگر نفاذی اداروں سے موصول تجاویز کی بنیاد پر گزشتہ پانچ برسوں کے دوران (2020-21 تا 2024-25) پی ایم ایم ایس وائی کے تحت 21,274.16 کروڑ روپے کے ماہی پروری ترقیاتی منصوبوں کو منظوری دی، جس میں مرکزی حصہ 9,189.79 کروڑ روپے ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران منظور شدہ منصوبوں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-دوئم میں دی گئی ہیں۔

ان سرگرمیوں میں ماہی گیری بندرگاہوں اور فش لینڈنگ مراکز کی ترقی و جدید کاری، بعد از برداشت بنیادی ڈھانچے جیسے کولڈ چین، آئس پلانٹس اور کولڈ اسٹوریج کا قیام شامل ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں (2020-21 تا 2024-25) میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ماہی پروری کے بعد از برداشت بنیادی ڈھانچے، بشمول اسمارٹ اور مربوط فشنگ ہاربرز، کے قیام کے لئے 5,740.89 کروڑ روپے کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔

(ج): پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ماہی گیروں کے لئے انشورنس کوریج بھی فراہم کی جاتی ہے، جس میں (i) حادثاتی موت یا مکمل مستقل معذوری کی صورت میں 5,00,000 روپے، (ii) جزوی مستقل معذوری کے لئے 2,50,000 روپے، اور (iii) حادثے کی صورت میں اسپتال کے اخراجات کے لئے 25,000 روپے تک کا بیمہ شامل ہے۔ گزشتہ چار برسوں (2021-22 تا 2024-25) کے دوران اوسطاً ہر سال 33.14 لاکھ ماہی گیروں کو انشورنس کوریج فراہم کی گئی۔ انشورنس سے مستفید ماہی گیروں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-سوئم میں دی گئی ہیں۔

مزید برآں، حکومت ہند نے مالی سال 2018-19 میں مچھلی پالنے والوں اور ماہی گیروں کے لئے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کی سہولت فراہم کی، تاکہ وہ اپنی ورکنگ کیپیٹل ضروریات پوری کر سکیں۔ اس اسکیم کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 5,01,900 کسان کریڈٹ کارڈ جاری کئے جا چکے ہیں، جن کے تحت 3,692.73 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔

(د): حکومت ہند کا ماہی پروری محکمہ ساحلی ماہی گیروں کے لئے کلائمیٹ ریزیلینٹ کوسٹل فشرمین ولیجز (سی آر سی ایف وی) پروگرام نافذ کر رہا ہے، جس کا مقصد پائیدار معاشی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس کے تحت ماہی پروری بنیادی ڈھانچے کی ترقی، موسمیاتی موافقت، حفاظت و سلامتی میں اضافہ، سیاحت کے فروغ، مقامی برادریوں کو بااختیار بنانے اور ساحلی علاقوں میں معیارِ زندگی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

اس پروگرام کے تحت فش ڈرائنگ یارڈز، پروسیسنگ مراکز، مچھلی بازار، آئس پلانٹس، کولڈ اسٹوریج، فشنگ جیٹیز اور ساحلی تحفظ کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری گھاس کی کاشت، مصنوعی چٹانوں کی تنصیب اور سبز ایندھن کے استعمال جیسے موسمیاتی موافق اقدامات کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ٹرٹل ایکسکلوڈر ڈیوائسز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں ہندوستان کی سمندری غذائی برآمدات 2013-14 کے 30,213 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 62,408 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کا حصہ 2 فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد ہو گیا ہے۔

(ہ): پی ایم ایم ایس وائی کے آغاز کے بعد گجرات کے امریلی ضلع میں مچھلی کی پیداوار 2020-21 میں 35,906 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2023-24 میں 45,353 میٹرک ٹن ہو گئی ہے۔

 

Annexure-I

Statement regarding Pradhan Mantri Matsya Sampada Yojana: State-wise details of fish production during the FY 2023-24

(in lakh tonnes)

S.No.

Name of the State/UT

FY 2023-24

Inland

Marine

Total

1

Andhra Pradesh

45.58

6.00

51.58

2

Arunachal Pradesh

0.10

0.00

0.10

3

Assam

4.99

0.00

4.99

4

Bihar

8.73

0.00

8.73

5

Chhattisgarh

7.81

0.00

7.81

6

Goa

0.09

1.27

1.36

7

Gujarat

2.03

7.05

9.08

8

Haryana

2.15

0.00

2.15

9

Himachal Pradesh

0.18

0.00

0.18

10

Jammu & Kashmir

0.28

0.00

0.28

11

Jharkhand

3.11

0.00

3.11

12

Karnataka

4.02

7.28

11.31

13

Kerala

2.51

5.81

8.32

14

Madhya Pradesh

3.82

0.00

3.82

15

Maharashtra

2.67

4.35

7.02

16

Manipur

0.36

0.00

0.36

17

Meghalaya

0.20

0.00

0.20

18

Mizoram

0.05

0.00

0.05

19

Nagaland

0.10

0.00

0.10

20

Odisha

8.97

2.27

11.24

21

Punjab

1.84

0.00

1.84

22

Rajasthan

0.91

0.00

0.91

23

Sikkim

0.01

0.00

0.01

24

Tamil Nadu

2.47

6.37

8.84

25

Telangana

4.56

0.00

4.56

26

Tripura

0.86

0.00

0.86

27

Uttarakhand

0.09

0.00

0.09

28

Uttar Pradesh

11.60

0.00

11.60

29

West Bengal

18.84

3.18

22.02

30

A and N Islands

0.00

0.49

0.50

31

Chandigarh

0.00

0.00

0.00

32

Daman and Diu & Dadar and Nagar Haveli

0.00

0.30

0.30

33

Delhi

0.01

0.00

0.01

34

Ladakh

0.00

0.00

0.00

35

Lakshadweep

0.00

0.13

0.13

36

Puducherry

0.04

0.43

0.47

TOTAL

138.99

44.94

183.93

 

Annexure-II

Statement regarding Pradhan Mantri Matsya Sampada Yojana: State-wise details of the projects approved during the last five years (2020-21 to 2024-25) under PMMSY

(Rs in Lakhs)

Sl. No.

State/UT

Total Project Cost

Central Share approved

Central Funds Released

(i)

(ii)

(iii)

(iv)

(v)

1

Andaman and Nicobar

5822.10

3095.53

1196.70

2

Andhra Pradesh

240552.67

56331.08

43013.68

3

Arunachal Pradesh

20028.09

13232.11

11354.52

4

Assam

54162.88

29844.11

18760.09

5

Bihar

54850.48

17440.25

8794.08

6

Chhattisgarh

93211.45

30876.37

23666.00

7

Daman & Diu, Dadra and NH

13516.89

13243.49

178.90

8

Delhi

533.25

286.08

163.30

9

Goa

11685.19

4911.44

4769.74

10

Gujarat

89754.81

32486.72

10365.69

11

Haryana

76086.75

26216.03

12136.61

12

Himachal Pradesh

15450.52

7921.83

5045.07

13

Jammu and Kashmir

15019.86

7773.04

11850.39

14

Jharkhand

44548.36

15163.90

9607.34

15

Karnataka

105898.15

36613.93

29502.15

16

Kerala

134755.43

57743.01

34415.24

17

Ladakh

3399.20

2061.36

1470.62

18

Lakshadweep

6746.48

4441.63

1442.12

19

Madhya Pradesh

91960.97

30550.92

24287.17

20

Maharashtra

147263.78

56029.31

30452.07

21

Manipur

20181.70

9584.34

2944.63

22

Meghalaya

13262.36

7425.72

4596.18

23

Mizoram

14785.80

8128.27

6947.36

24

Nagaland

16538.38

10696.52

7332.54

25

Odisha

129842.00

47944.55

34726.21

26

Puducherry

35230.01

29176.00

6124.91

27

Punjab

16792.95

4703.61

2695.92

28

Rajasthan

6612.14

2222.73

512.93

29

Sikkim

7827.78

4681.83

3300.05

30

Tamil Nadu

115615.80

44865.07

15394.38

31

Telangana

33937.09

10872.64

3287.61

32

Tripura

25974.81

14853.41

6791.59

33

Uttar Pradesh

129432.78

41230.51

28165.28

34

Uttarakhand

32297.12

16667.56

18355.72

35

West Bengal

54439.44

22554.68

5507.70

36

Others (Transponders, etc.)

36400.00

21840.00

49780.40

37

Insurance activities

8927.77

8927.77

8927.77

38

Pradhan Mantri Matsya Kisan Samridhi Sah-Yojana (PM-MKSSY)

1193.07

1193.07

1181.61

39

Central Sector Projects

202877.29

165148.29

69712.20

Total

2127415.58

918978.71

558756.47

*****

Annexure-III

Statement regarding Pradhan Mantri Matsya Sampada Yojana:

State-wise details of number of fishers insured under PMMSY during the last four years (2021-22 to 2024-25)

SL NO

Name of the State/UT

Number of Fishers Insured

1

Bihar

600,000

2

Chhattisgarh

881,855

3

Goa

11,040

4

Gujarat

381,237

5

Haryana

6,576

6

Jharkhand

662,941

7

Karnataka

282,272

8

Madhya Pradesh

376,482

9

Maharashtra

291,159

10

Odisha

4,543,618

11

Punjab

12,477

12

Rajasthan

18,925

13

Tamil Nadu

2,199,335

14

Telangana

1,432,656

15

Uttar Pradesh

399,275

16

West Bengal

8,499

17

Arunachal Pradesh

2,756

18

Assam

683,630

19

Himachal Pradesh

43,990

20

Manipur

7,034

21

Meghalaya

3,057

22

Sikkim

2,086

23

Tripura

71,065

24

Uttarakhand

12,865

25

Andaman & Nicobar

52,859

26

Delhi

1,381

27

Daman & Diu

30,178

28

Jammu & Kashmir

95,806

29

Ladakh

265

30

Lakshadweep

10,590

31

Puducherry

133,395

 

 

 

 

یہ معلومات ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دی۔

*********

ش ح ۔    ام ۔  م  ص

(U :  4253  )


(ریلیز آئی ڈی: 2241439) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी