خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
موٹے اناج کی پروسیسنگ کے لیے حکومتی اقدامات: پی ایل آئی اسکیم کے تحت 793 کروڑ روپے کی منظوری، ملک بھر میں 4,612 مائیکرو یونٹس کو مدد
خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں سے متعلق وزارت نے پی ایم ایف ایم ای، پی ایم کے ایس وائی اور پی ایل آئی اسکیموں کے ذریعے موٹے اناج کی ویلیو چین کو مضبوط کیا، موٹے اناج پر مبنی مصنوعات کی فروخت بڑھ کر 814 کروڑ روپے تک پہنچی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 6:12PM by PIB Delhi
خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی مجموعی ترقی کو فروغ دینے اور اسے یقینی بنانے کے لیے، خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی وزارت (ایم او ایف پی آئی) ملک بھر میں اپنی دو مرکزی شعبے کی اسکیموں یعنی پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی)، خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبات اسکیم (پی ایل آئی ایس ایف پی آئی) اور مرکز کی سرپرستی میں چلنے والی پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز (پی ایم ایف ایم ای) اسکیم کے ذریعے موٹے اناج کی پروسیسنگ کے یونٹس سمیت متعلقہ انفراسٹرکچر کے قیام اور توسیع کے لیے ترغیبات فراہم کر رہی ہے۔
پی ایل آئی ایس ایف پی آئی اسکیم کا ایک جزوموٹے اناج پر مبنی مصنوعات (ایم بی پی) پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جس کے لیے 800 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔موٹے اناج پر مبنی مصنوعات کے لیے پی ایل آئی اسکیم (پی ایل آئی ایس ایم بی پی) کے مقاصد میں غذائی مصنوعات میں موٹے اناج کے استعمال کو بڑھانا اور ملکی و برآمدی منڈیوں میں منتخب موٹے اناج مصنوعات کی تیاری اور فروخت کی حوصلہ افزائی کر کے ان کی ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافہ) کو فروغ دینا ہے۔ آج کی تاریخ تک، پی ایل آئی ایس ایم بی پی کے لیے مختص کل 800 کروڑ روپے میں سے 793.27 کروڑ روپے کی رقم 29 درخواست گزاروں کو ترغیب دینے کے لیے منظور کی جا چکی ہے، جن میں 8 بڑے اور 21 چھوٹے و درمیانے درجے کے ادارے شامل ہیں۔
پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت، ملک کے 21 اضلاع میں موٹے اناج پر مبنی مصنوعات کو ایک ضلع ایک پروڈکٹ (او ڈی او پی) کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔موٹے اناج کے بین الاقوامی سال (آئی وائی او ایم 2023) کے ایک حصے کے طور پر مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے 30 اضلاع میں ملیٹ مہوتسو منعقد کیے گئے تاکہ مائیکرو فوڈ پروسیسنگ کے کاروباری افراد، بالخصوص موٹے اناج کی مصنوعات کی پروسیسنگ میں مصروف افراد کو مدد فراہم کی جا سکے۔ اس کا مقصد نئے اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کرنا اور غذائی صنعت کے مائیکرو سیکٹر کو فروغ دینا تھا۔ 31 دسمبر 2025 تک، پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت ملک بھر میں موٹے اناج کی پروسیسنگ یونٹس کے لیے 91.20 کروڑ روپے کی سبسڈی کے ساتھ 4,612 مائیکرو فوڈ پروسیسنگ اداروں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
پی ایم کے ایس وائی کی ایک جزوی اسکیم یعنی فوڈ پروسیسنگ اور تحفظ کی صلاحیتوں کی تخلیق و توسیع (سی ای ایف پی پی سی)کے تحت ملک میں ایک فوڈ پروسیسنگ یونٹ کی منظوری دی گئی ہے۔
پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے جزو کے تحت، کسان پروڈیوسر تنظیموں (ایف پی او)، سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی)، کوآپریٹوز یا مائیکرو فوڈ پروسیسنگ صنعتوں کے اسپیشل پرپز وہیکل کو مدد فراہم کی جاتی ہے، جس میں موٹے اناج پر مبنی مصنوعات کی پروسیسنگ بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد کوالٹی کنٹرول، معیاری کاری اور صارفین کے لیے خوردہ فروخت کے لیے غذائی تحفظ کے پیرامیٹرز کی پابندی کے ساتھ ایک مشترکہ پیکیجنگ اور برانڈنگ تیار کرنا ہے۔
پی ایل آئی ایس ایف پی آئی کے تحت مراعات صرف اس صورت میں قابلِ قبول ہیں جب مینوفیکچرنگ کے تمام مراحل کا پورا سلسلہ ہندوستان میں مکمل ہوتا ہو۔موٹے اناج پر مبنی مصنوعات کے لیے پی ایل آئی اسکیم (پی ایل آئی ایس ایم بی پی) کے تحت، منظور شدہ مستفدین کی موٹے اناج کی مصنوعات کی فروخت 2020-21 میں 35.00 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 814.00 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح پی ایل آئی ایس ایم بی پی کے درخواست گزاروں کی جانب سےموٹے اناج کی خریداری سال 2020-21 میں 1092 میٹرک ٹن (ایم ٹی) سے بڑھ کر 2024-25 میں 16,130 میٹرک ٹن ہو گئی ہے۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کے وزیر مملکت جناب رونیت سنگھ نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
UR-4203
(ش ح۔ک ح ۔ ف ر )
(ریلیز آئی ڈی: 2241086)
وزیٹر کاؤنٹر : 11