راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
عملہ، عوامی شکایات، قانون اور انصاف سے متعلق محکمہ جاتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی160 ویں رپورٹ پر پریس ریلیز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 MAR 2026 4:28PM by PIB Delhi
راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ جناب برج کی سربراہی میں عملہ، عوامی شکایات، قانون اور انصاف سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے 16 مارچ 2026 کو عملہ اور تربیت کے محکمے (وزارت عملہ، عوامی شکایات اور پنشن)کی گرانٹس برائے سال 27-2026کے مطالبات پر اپنی160 ویں رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش کی اور اسے 16 مارچ 2026 کو ہی لوک سبھا کی میز پر رکھا۔
گرانٹس کے مطالبات کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے 17 اور 18 فروری2026 کو منعقدہ اجلاسوں کے دوران رواں مالی سال میں بھارت کےمستحکم فنڈسے کیے گئے اخراجات کے تناظر میں عملہ اور تربیت کے محکمے کی کارکردگی، پروگراموں اور پالیسیوں کا تخمینہ لگایا۔
پینل نے تقریباً پانچ گھنٹے تک سکریٹری(محکمہ عملہ و تربیت)، ڈائریکٹر(سی بی آئی)، سکریٹری(مرکزی ویجیلنس کمیشن)، پرنسپل رجسٹرار (مرکزی انتظامی ٹریبونل)، جوائنٹ سکریٹری(لوک پال)، ایڈیشنل سکریٹری(مرکزی انفارمیشن کمیشن)، سکریٹری(یو پی ایس سی)، چیئرمین(ایس ایس سی)، چیئرمین(نیشنل ریکروٹمنٹ ایجنسی)، سکریٹری(پبلک انٹرپرائزز سلیکشن بورڈ)، ڈائریکٹر(ایل بی ایس این اے اے)، ممبر ایڈمن(کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن)، ڈائریکٹر(آئی ایس ٹی ایم)اور ڈائریکٹر جنرل (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن)کے ساتھ گرانٹس کے مطالبات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ اس رپورٹ پر کمیٹی نے12مارچ 2026 کو غور کیا اوراسےمنظور کیا۔اس رپورٹ میں کمیٹی کی جانب سے دی گئی کچھ سفارشات/مشاہدات منسلک ہیں۔ مکمل رپورٹ https://sansad.in/rs پر بھی دستیاب ہے۔
اہم سفارشات / مشاہدات عملہ
محکمہ ٔ عملہ اور تربیت کے محکمے کی گرانٹس برائے سال 27-2026 کے مطالبات پر 160 ویں رپورٹ
وزارتِ عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کی گرانٹس کے مطالبات کا مجموعی جائزہ
- کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ 24-2023 اور 25-2024 کے دوران ترمیمی تخمینے بجٹ تخمینوں سے بالترتیب13.0فیصد اور 10.6فیصد زیادہ تھے، پھر بھی اصل اخراجات ترمیمی تخمینوں سے بالترتیب5.43 فیصد اور 2.59 فیصد کم رہے۔ مزید برآں26-2025 میں31 جنوری 2026 تک کے اصل اخراجات ترمیمی تخمینوں کے مقابلے میں25.34فیصد کی کمی ظاہر کرتے ہیں۔ اسی وقت وزارت خزانہ کی طرف سے منظور شدہ بجٹ تخمینے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پیش کردہ اخراجات کے 60.32فیصد سے 84.26فیصد کے درمیان رہے ہیں۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارت اپنے بجٹ کی تشکیل اور اخراجات کے انتظام کے عمل کا جامع جائزہ لے۔ کمیٹی کا یہ بھی خیال ہے کہ تخمینوں میں زیادہ حقیقت پسندی اور بہتر نفاذ کا نظم و ضبط مالی ساکھ کو بڑھائے گا اور بجٹ سے قبل کی مشاورت کے دوران وزارت کے موقف کو مضبوط کرے گا۔ (پیرا 2.9)
- کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ وزارت عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے تینوں محکموں کی مالیاتی محاذ پر کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ جہاں ڈی او پی ٹی نے 31 جنوری 2026 تک اسے مختص کیے گئے فنڈز کا صرف 75فیصد استعمال کیا ہے۔ وہیں ڈی اے آر پی جی اور ڈی پی پی ڈبلیو بہت پیچھے ہیں۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق مالی سال کی آخری سہ ماہی میں اخراجات عام طور پر کل بجٹ تخمینوں کے 33 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں اور مارچ کے مہینے کے دوران اخراجات کل بجٹ تخمینوں کے 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ اس تناظر میں کمیٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ محکموں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مالی سال کے بقیہ مہینوں کے دوران اخراجات کی منصوبہ بندی اور رفتار ان مقررہ اصولوں کے مطابق ہو۔ (پیرا 2.15)
- کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ31 جنوری2026 تک ملحقہ اور ذیلی دفاتر میں اخراجات کی اوسط شرح تقریباً73.45 فیصد ہے۔ اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ مالی سال کے 10 ماہ گزر چکے ہیں۔یہ اخراجات کی مطلوبہ رفتار سے کم عکاسی کرتا ہے۔ کمیٹی مزید مشاہدہ کرتی ہے کہ مختلف تنظیموںمیں فنڈز کے استعمال کی سطح میں کافی فرق ہے۔ خاص طور پر اسٹاف سلیکشن کمیشن(50.45 فیصد)اور انسٹی ٹیوٹ آف سکریٹریٹ ٹریننگ اینڈ مینجمنٹ(56 فیصد)نے مطلوبہ معیار سے نمایاں طور پر کم استعمال ریکارڈ کیا ہے۔ جس میں کافی غیر خرچ شدہ رقم باقی ہے۔ (پیرا 2.18)
- اسٹاف سلیکشن کمیشن کا معاملہ مخصوص توجہ کا متقاضی ہے۔ ترمیمی تخمینے 26-2025 کے مرحلے پر اضافی فنڈز حاصل کرنے کے باوجود( 515.15 کروڑ روپے (بی ای)سے 548.50 کروڑ روپے (آر ای)تک)، 31 جنوری 2026 تک صرف 50.45 فیصد فنڈز استعمال کیے گئے ہیں۔جس سے 271.79 کروڑ روپے کا غیر خرچ شدہ بیلنس باقی رہ گیا ہے۔ مزید برآں27-2026 کے لیےایس ایس سی نے 719.13 کروڑ روپے کا کافی زیادہ تخمینہ پیش کیا تھا، جبکہ منظور شدہ بجٹ تخمینہ525.20 کروڑ روپے (تخمینہ کا 73.04 فیصد) ہے۔ (پیرا 2.19)
- کمیٹی کا ماننا ہے کہ تخمینوں کو اخراجات کے رجحانات اور مالی سال کے اندر فنڈز استعمال کرنے کی تنظیم کی صلاحیت کے ساتھ مضبوطی سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ سہ ماہی اخراجات کے نظام کی نگرانی کو مضبوط کرے اور اخراجات کی یکساں رفتار کے حوالے سے وزارت خزانہ کے رہنما خطوط پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ 31 جنوری2026 تک تنظیموں میں اوسط استعمال 73.45 فیصد ہے۔جس میں بعض تنظیمیں جیسے اسٹاف سلیکشن کمیشن(50.45 فیصد)اور انسٹی ٹیوٹ آف سیکرٹریٹ ٹریننگ اینڈ مینجمنٹ (56.00 فیصد)خاص طور پر اخراجات کی کم سطح ظاہر کر رہی ہیں۔ اسی وقت27-2026 کے بجٹ تخمینوں کے مرحلے پر لوک پال جیسی تنظیموں کو ان کے مجوزہ اخراجات کا صرف 20.24 فیصد ملا۔ جبکہ آئی ایس ٹی ایم اور ایل بی ایس این اے اے کو بالترتیب48.47 فیصد اور 52.68 فیصد ملا۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ تخمینوں، ترمیمی تخمینوں اور اصل استعمال کے درمیان قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔ ترمیمی تخمینوں کے مرحلے پر متناسب اخراجات کے بغیر اوپر کی جانب نظرثانی، جیسا کہ ایس ایس سی کے معاملے میں دیکھا گیا۔ مالی ساکھ کو کمزور کر سکتی ہے اور مستقبل میں فنڈز کی تخصیص کے فیصلوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ (پیرا2.21)
- کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ اسکیم جزو کے تحت بی ای2026-27 میں تخصیص(298.51 کروڑ روپے)آر ای2025-26 (281.01 کروڑ روپے)کے مقابلے میں17.50 کروڑ روپے کے اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگرچہ یہ بی ای2025-26 (383.46کروڑ روپے)سے کم ہے۔ نان اسکیم جزو کے تحت، بی ای2026-27(2308.94 کروڑ روپے)آر ای2025-26 کے مقابلے میں 64.88 کروڑ روپے کا اضافہ اور بی ای2025-26 کے مقابلے میں35.94 کروڑ روپے کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ اگرچہ ترمیمی تخمینے کے مرحلے پر کچھ بہتری آئی ہے، لیکن منظور شدہ تخصیصات مجوزہ اخراجات سے کم رہتی ہیں جو وزارت خزانہ کی جانب سے محتاط منظوری کی نشاندہی کرتی ہے۔ (پیرا 2.24)
- جہاں کمیٹی‘ٹریننگ فار آل’(ٹی ایف اے) اسکیم کے وسیع تر دائرہ کار کا نوٹس لیتی ہے، وہیں یہ مشاہدہ کرتی ہے کہ تخصیص آر ای 2025-26 میں 26.16 کروڑ روپے سے بڑھ کر بی ای2026-27 میں52.20 کروڑ روپے ہو گئی ہے جو کہ 26.04 کروڑ روپے (تقریباً 100 فیصد)کے اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس خاطر خواہ اضافے اور اسکیم کے اجزاء کی تشکیل نو کے پیش نظر، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارت 27-2026 کے دوران سہ ماہی اخراجات کی کڑی نگرانی کرے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بڑھا ہوا مالی انتظام ٹھوس تربیتی نتائج میں تبدیل ہو اور اس کے نتیجے میں اخراجات کی غیر مساوی یا سال کے آخر میں اجتماعیت نہ ہو۔ (پیرا 2.29)
- اس حقیقت کے پیش نظر کہ این پی سی ایس سی بی– مشن کرم یوگی بی ای 2026-27 میں کل اسکیم تخصیص کا 42 فیصد ہے۔ کمیٹی اسکیم کی سخت مالی اور مادی نگرانی کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ جہاں ریونیو جزو نے 26-2025 کے دوران (31 جنوری2026 تک)تقریباً 69.96 فیصد کا استعمال ریکارڈ کیا۔ وہیں کیپٹل جزو ترمیمی تخمینوں کے صرف 15.09 فیصد پر نمایاں طور پر کم استعمال شدہ رہا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ اسکیم کو بی ای 2026-27 میں125.35 کروڑ روپے (ریونیو)اور 0.65 کروڑ روپے (کیپٹل) مختص کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ اخراجات کی سہ ماہی رفتار میں بہتری، خاص طور پر کیپٹل جزو کے تحت، یہ یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بڑھی ہوئی تخصیص ٹھوس صلاحیت سازی کے نتائج میں تبدیل ہو اور سال کے آخر میں اجتماعیت یا اگلے سال پر منتقل ہونے والی واجبات کا نتیجہ نہ نکلے۔ (پیرا 2.31)
- وزارت کی وضاحت کا نوٹس لیتے ہوئے، کمیٹی بلاسپور سرکٹ بینچ کی عمارت کی تعمیر کے لیے ڈی پی آر (ڈیلیڈ پروجیکٹ رپورٹ) کے عمل کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے اور سی پی ڈبلیو ڈی جیسی ایگزیکیوٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ مضبوط ہم آہنگی کی سفارش کرتی ہے تاکہ کیپٹل فنڈز کے اگلے سال منتقلی اور کم استعمال سے بچا جا سکے۔ کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ لکھنؤ اور گوہاٹی بینچوں میں دیگر جاری تعمیراتی اور تزئین و آرائش کے کاموں کی پیش رفت کی نگرانی سہ ماہی مادی اور مالیاتی جائزہ میکانزم کے ذریعے کی جائے تاکہ مختص فنڈز کی بروقت تکمیل اور بہترین استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔ (پیرا 2.39)
- مزید برآں معزز سپریم کورٹ کی تمام بینچوں میں ہائبرڈ کیس سماعت کے نظام قائم کرنے کی ہدایات کے پیش نظر، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ بجٹ میں مناسب فراہمی اور مرحلہ وار نفاذ کی منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کیپٹل تخصیصات میں کمی کی وجہ سے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی مضبوطی کا کام متاثر نہ ہو۔ (پیرا 2.40)
- کمیٹی کا یہ موقف ہے کہ اس طرح کے انحرافات کی پہلے سے توقع کی جا سکتی تھی، خاص طور پر اس حقیقت کے پیش نظر کہ کمیشن ایک طے شدہ امتحانی کیلنڈر اور بار بار آنے والے آپریشنل نمونوں پر کام کرتا ہے۔23-2022 سے 25-2024 تک لگاتار تین سالوں تک بی ای اور آر ای دونوں سے بار بار تجاوز کرنا بجٹ کی پیشن گوئی اور اخراجات کی منصوبہ بندی میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ لہٰذاکمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور ڈیٹا پر مبنی بجٹ فریم ورک اپنایا جائے، جس میں امتحانی شیڈول، تاریخی اخراجات کے رجحانات اور واجبات کے تخمینے شامل ہوں، تاکہ آنے والے مالی سالوں میں عدم مطابقت سے بچا جا سکے۔ (پیرا 2.45)
- کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ23-2022 سے 25-2024 تک تین مالی سالوں کے دوران اصل اخراجات بجٹ تخمینوں اور ترمیمی تخمینوں دونوں سے بڑھ گئے۔ 23-2022،24-2023 اور 25-2024 میں، اصل اخراجات ترمیمی تخمینوں سے بالترتیب 29.16 کروڑ روپے، 4.29 کروڑ روپے اور 7.37 کروڑ روپے زیادہ رہے۔ (اصل: 841.96 کروڑ روپے آر ای کے مقابلے میں 871.12 کروڑ روپے؛ 859.51 کروڑ روپے آر ای کے مقابلے میں 863.80 کروڑ روپے؛ اور 935.88 کروڑ روپے آر ای کے مقابلے میں943.25 کروڑ روپے)۔ وزارت نے عرض کیا ہے کہ وزارت خزانہ کی طرف سے بتائی گئی آر ای کی حدیں بجٹ سے پہلے کے مرحلے پر پیش کردہ تخمینوں سے کم تھیں اور تنظیم کے زیر التواء واجبات کو پورا کرنے کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت تھی۔ (پیرا 2.50)
- کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ کئی سالوں سے بی ای اور آر ای دونوں سے زیادہ اخراجات کا بار بار ہونا بجٹ کی پیشن گوئی اور واجبات کے تعین کے طریقہ کار کو مضبوط کرنے کی ضرورت تجویز کرتا ہے۔ لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور مستقبل بین بجٹ فریم ورک اپنایا جائے، جس میں متوقع آپریشنل ضروریات، طے شدہ واجبات اور تاریخی اخراجات کے رجحانات شامل ہوں، تاکہ انحرافات کو کم سے کم کیا جا سکے اور مستقبل کے مالی سالوں میں بجٹ کی ساکھ کو بڑھایا جا سکے۔ (پیرا 2.51)
- کمیٹی کو اسکیم ایل بی ایس این اے اے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ضروری سہولیات کی اپ گریڈیشن’ کی بندش کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں بی ای2026-27 میں کوئی تخصیص نہیں کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں، کمیٹی متبادل طریقہ کار یا اسکیم کے بارے میں جاننا چاہتی ہے جس کے تحت اب ایل بی ایس این اے اے میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور اپ گریڈیشن کی سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔ اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ ایل بی ایس این اے اے ایک ممتاز تربیتی ادارہ ہے اور بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور صلاحیت میں اضافہ جاری رہنے والی ضروریات ہیں، کمیٹی یہ جاننا چاہے گی کہ آیا یہ سرگرمیاں کسی دوسرے شعبے کے تحت شامل کر لی گئی ہیں یا انہیں کسی نئے فریم ورک میں دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے۔ (پیرا 2.62)
- اسکیم کے تحت 57.87 فیصد فنڈز کے غیر استعمال شدہ رہنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، محکمے نے اس کمی کی وجہ پروجیکٹ سائٹ پر درختوں کی منتقلی سے متعلق زیر التواء قانونی چارہ جوئی اور دہلی میں جی آر اے پی (گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان)کی پابندیوں کے نفاذ کو قرار دیا۔ فراہم کردہ وضاحت کا نوٹس لیتے ہوئے، کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ جی آر اے پی سے متعلق پابندیاں نیشنل کیپیٹل ریجن میں ایک بار بار آنے والا فیچر بن گئی ہیں اور انہیں پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی ٹائم لائنز میں شامل کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ اس نوعیت کے انفراسٹرکچر پروجیکٹس کو جامع رسک اسسمنٹ (خطرہ کے تخمینے)، بروقت ریگولیٹری کلیئرنس اور متعلقہ حکام کے ساتھ پیشگی ہم آہنگی کی مدد حاصل ہونی چاہیے تاکہ تاخیر کو کم کیا جا سکے اور کیپٹل فنڈز کے بڑے پیمانے پر کم استعمال سے بچا جا سکے۔ (پیرا 2.66)
- کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ ‘توسیعی کام اور صلاحیت سازی‘کے تحت اخراجات گزشتہ دو مالی سالوں میں معمولی رہے ہیں۔25-2024 میں اصل اخراجات 0.29 کروڑ روپے تھے، اور 26-2025 میں 31جنوری 2026 تک کے اخراجات 0.76 کروڑ روپے کے ترمیمی تخمینے کے مقابلے میں 0.46 کروڑ روپے ہیں۔ اگرچہ سینٹرل ویجیلنس کمیشن (سی وی سی) کی مجموعی بجٹ کی پوزیشن مستحکم نظر آتی ہے، لیکن صلاحیت سازی کے جزو کے تحت نسبتاً کم تخصیص اور استعمال توجہ کا طالب ہے، خاص طور پر کمیشن کے حفاظتی ویجیلنس مینڈیٹ کے پیش نظر۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کمیشن آؤٹ ریچ، آگاہی اور صلاحیت سازی کے اقدامات کو زیادہ ترجیح دے تاکہ تمام محکموں اور پبلک سیکٹر کے اداروں میں ادارہ جاتی ویجیلنس کے طریقہ کار کو مضبوط بنایا جا سکے۔ (پیرا 2.79)
- یو پی ایس سی کے تفصیلی بجٹ مطالبات کا تجزیہ کرتے ہوئے، کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اضافی دفتر کی رہائش کرائے پر لینے کی وجہ سے بی ای 2026-27 میں 11.3950 کروڑ روپے کی فراہمی کی گئی ہے، جس سے ایک نیا بار بار ہونے والا واجب الادا پیدا ہوا ہے۔ کمیشن نے ان اخراجات کی وجہ اپنے موجودہ کیمپس میں جگہ کی کمی اور مناسب سرکاری رہائش کی عدم دستیابی کو قرار دیا۔ کمیٹی یہ بھی نوٹ کرتی ہے کہ پہلے وزارت دفاع کو عارضی طور پر منتقل کی گئی زمین کی واپسی اور وزارت ہاؤسنگ اینڈ اربن افیئرز(ایم او ایچ یو اے) سے اضافی زمین کی درخواست کا مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ کرائے کی جگہوں پر مسلسل انحصار ایک پائیدار طویل مدتی حل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذاکمیٹی سفارش کرتی ہے کہ یو پی ایس سی وزارت کے ساتھ مل کر زمین کی واپسی یا مستقل انفراسٹرکچر کے اضافے کے لیے مناسب زمین کی الاٹمنٹ کے لیے وزارت دفاع اور ایم او ایچ یو اے کے ساتھ اس معاملے کی بھرپور پیروی کرے تاکہ مستقبل میں کرایے کے بار بار ہونے والے اخراجات سے بچا جا سکے۔ (پیرا 2.83)
پرسنل مینجمنٹ (عملے کا انتظام)
- کمیٹی کی رائے ہے کہ (عملے کی)مسلسل کمی مرکز اور ریاستوں میں انتظامی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ خاص طور پر فیلڈ لیول کی پوزیشنوں پر جہاں بروقت فیصلہ سازی اور پالیسی پر عمل درآمد انتہائی اہم ہوتا ہے۔ (پیرا 3.5)
- لہٰذا، کمیٹی محکمہ عملہ اور تربیت (ڈی او پی ٹی) پر زور دیتی ہے کہ وہ اے جی ایم یو ٹی کیڈر میں 25 فیصد اسامیوں کو پُر کرنے کو فوری ترجیح دے، اس کے متعدد مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور قومی دارالحکومت کے علاقے میں پھیلے ہوئے منفرد انتظامی دائرہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ مزید برآں، کمیٹی محسوس کرتی ہے کہ شمال مشرقی اور چھوٹے کیڈرز جیسے ناگالینڈ، منی پور، تریپورہ اور سکم کے لیے اسامیاں پُر کرنے کی ایک خصوصی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، جہاں اسامیوں کی فیصد کمی غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔ (پیرا 3.6)
- اس پس منظر میں، کمیٹی تشویش کے ساتھ نوٹ کرتی ہے کہ بار بار یقین دہانیوں کے باوجود کہ چندرامولی کمیٹی کی رپورٹ ڈی او پی ٹی میں زیر غور ہے۔ ابھی تک کمیٹی کو کوئی ٹھوس فیصلہ روڈ میپ یا ٹائم لائن نہیں بتائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پیمائش کے قابل پیش رفت کے ساتھ کسی بھی وقت کے پابند اہداف کی عدم موجودگی ایک ایسے ساختی مسئلے کو حل کرنے میں عجلت کی کمی کو ظاہر کرتی ہے جس کے براہ راست اثرات گورننس، خدمات کی فراہمی اور ادارہ جاتی تاثیر پر پڑتے ہیں۔ (پیرا 3.10)
- لہٰذا کمیٹی اپنی 126 ویں اور 145 ویں رپورٹوں میں کی گئی اپنی سابقہ سفارشات کو دہراتی ہے کہ ڈی او پی ٹی چندرامولی کمیٹی کی سفارشات پر اپنے فیصلے کو ایک واضح طور پر متعین وقت کے اندر حتمی شکل دے اور اس سے کمیٹی کو آگاہ کرے۔ پالیسی کی سطح پر، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ براہ راست بھرتی ہونے والے آئی ای ایس افسران کی سالانہ شمولیت کی منصوبہ بندی ڈیٹا پر مبنی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے اور مجوزہ شمولیت کو کیڈر کے لحاظ سے ریٹائرمنٹ کے تخمینے، متوقع ملازمت چھوڑنے کی شرح اور انتظامی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہیے۔ (پیرا 3.11)
- لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ڈی او پی ٹی، آئی اے ایس کے علاوہ دیگر سروسز سے تعلق رکھنے والے جوائنٹ سکریٹری اور دیگر اعلیٰ عہدوں کے پینل میں شامل کرنےکے لیے ایک منظم 360 ڈگری ریویو میکانزم کو ادارہ جاتی شکل دینے کے امکان کا جائزہ لے۔ ایسا نقطہ نظر تمام سروسز میں جانچ کے معیارات میں برابری کو فروغ دے گا۔ سینئر سطحوں پر میرٹ پر مبنی انتخاب کو مضبوط کرے گا اور نفاذ کے عمل کی معروضیت اور پائیداری پر اعتماد میں اضافہ کرے گا۔ (پیرا 3.15)
- کمیٹی کی رائے ہے کہ عملے کے انتظام کو صرف بھرتی اور کیڈر کی طاقت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں انتظامی افرادی قوت کی مجموعی بہبود اور پائیداری کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ عملہ اور تربیت (ڈی او پی ٹی)، کیڈر کنٹرولنگ حکام اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مشاورت سے، افسران کی بہبود کے لیے ایک منظم فریم ورک تیار کرے، جس میں ذہنی صحت/کونسلنگ کے ادارہ جاتی معاونتی طریقہ کار، طویل اضافی چارج کی ذمہ داریوں کی وقتاً فوقتاً نگرانی، بار بار تبادلوں کے مقابلے میں مناسب مدت کا استحکام، 'مشن کرم یوگی' کے تحت تناؤ کے انتظام کے ماڈیولز کی شمولیت، اور نظامی تناؤ کے عوامل کی نشاندہی کے لیے سالانہ فلاح و بہبود کے سروے پر غور شامل ہو۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ افسران کی بہبود پر فعال توجہ انتظامی تاثیر کو بڑھائے گی، تھکن کے خطرات کو کم کرے گی اور بہتر حکمرانی کے نتائج میں معاون ثابت ہوگی۔ (پیرا 3.17)
- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ڈی او پی ٹی، متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ساتھ مل کر، عوامی انتظامیہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے اخلاقی، محفوظ اور جوابدہ استعمال کے لیے ایک جامع حکومت گیر فریم ورک تیار کرنے میں پہل کرے۔ اس طرح کے فریم ورک میں ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری کے لیے حفاظتی اقدامات کو واضح طور پر بیان کیا جانا چاہیے۔مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیے گئے اقدامات کے مناسب ریکارڈ کو یقینی بنانا چاہیے، اور حتمی فیصلہ سازی کا اختیار نامزد انسانی افسران کے پاس برقرار رکھنا چاہیے۔ یہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ مختلف وزارتوں میں اے آئی ٹولز مختلف اور حساس زمروں کے ڈیٹا بشمول عملہ، مالیاتی، ریگولیٹری اور شہریوں سے متعلق معلومات کو سنبھال سکتے ہیں۔ (پیرا 3.20)
- کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ سرکاری مقاصد کے لیے اے آئی ٹولز کا استعمال سروس فراہم کرنے والوں بشمول لارج لینگویج ماڈل (ایل ایل ایم) پلیٹ فارمز کے ساتھ مرکزی طور پر منظور شدہ انٹرپرائز لیول کے معاہدوں کے ذریعے چلایا جائے، تاکہ حکومتی ڈیٹا کی رازداری، قومی ڈیٹا پروٹیکشن اور سیکورٹی معیارات کی تعمیل، اور ڈیٹا کے ذخیرہ، پروسیسنگ اور رسائی کے حوالے سے واضح کنٹریکٹل تحفظات کو یقینی بنایا جا سکے۔ (پیرا 3.21)
- کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ وزارتوں کے ذریعہ اپنائے گئےمصنوعی ذہانت سے چلنے والے سسٹمز معلومات کی حفاظت کے مضبوط پروٹوکولز اور رازداری کے تحفظات کی پابندی کریں، خاص طور پر سروس ریکارڈز، ویجیلنس کے معاملات، کارکردگی کا ڈیٹا، مالیاتی لین دین اور دیگر حساس حکومتی معلومات کو سنبھالنے میں۔ (پیرا 3.22)
- کمیٹی حکومت کے تمام سطحوں پرمصنوعی ذہانت کی خواندگی اور ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت کو وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہے۔خاص طور پر ڈیلنگ ہینڈزاور نچلے درجے کے عملے کے لیے جو معمول کے مطابق سرکاری ڈیٹا پر کارروائی کرتے ہیں۔ تاکہ تکنیکی اپنائیت کے ساتھ اخلاقی حدود، رازداری کی ذمہ داریوں اور سائبر سیکورٹی کے تحفظات سے متعلق آگاہی بھی موجود ہو۔ (پیرا 3.23)
بھرتی کرنے والے ادارے
- کمیٹی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتی ہے کہ یہ امتحانی عمل میں شفافیت، انصاف پسندی اور امیدواروں کے اعتماد کو بڑھانے کی طرف ایک قدم ہے۔ تاہم، کمیٹی یونین پبلک سروس کمیشن(یوپی ایس سی)کی طرف سے تیار کردہ تفصیلی طریقوں سے آگاہ ہونا چاہتی ہے۔ جن کا تعلق ابتدائی امتحان کے بعد عبوری جوابی کلید کی اشاعت کی ٹائم لائن؛ امیدواروں کی طرف سے اعتراضات جمع کرانے کا طریقہ کار اور وقت اور ایسے اعتراضات کی جانچ اور نمٹانے کے عمل سے ہو۔ کمیٹی کو یہ بھی مطلع کیا جا سکتا ہے کہ آیا قبول/مسترد شدہ اعتراضات پر مدلل وضاحت کے ساتھ حتمی جوابی کلیدبھی عوامی ڈومین میں رکھی جائے گی یا نہیں۔ (پیرا 4.4)
- کمیٹی مستقبل کے سول سرونٹس میں تجزیاتی صلاحیت، تفہیم اور فیصلہ سازی کی مہارتوں کا جائزہ لینے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ ساتھ ہی، کمیٹی کی رائے ہے کہ ابتدائی امتحان کو مختلف تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے برابری کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔ اگرچہ سی ایس اے ٹی پیپر نوعیت کے اعتبار سے صرف کوالیفائنگ ہے۔ تاہم کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ یونین پبلک سروس کمیشن سی ایس اے ٹی کے جزو بشمول اس کے نصاب اور مشکل کی سطح کو معقول بنانے کے لیے ایک جامع جائزہ لے۔ تاکہ مختلف تعلیمی پس منظروں پر اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس جائزے کو امیدواروں کی کارکردگی کے پیٹرن کے تجرباتی تجزیے کی مدد حاصل ہونی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امتحان انصاف پسندی، شمولیت اور مساوی مواقع کے اصولوں کو برقرار رکھے۔ (پیرا 4.6)
- کمیٹی سمجھتی ہے کہ بھرتی میں معذور افرادیااقتصادی طور پر کمزور طبقہ کے سرٹیفکیٹس کا کوئی بھی غلط استعمال سنگین تشویش کا معاملہ ہے، کیونکہ یہ مساوات، شفافیت اور انصاف پسندی کے ان اصولوں کو کمزور کرتا ہے جو عوامی ملازمت کی بنیاد ہیں۔ لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ عملہ اور تربیت،یوپی ایس سی اور دیگر بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ مشاورت سے بھرتی کے عمل کے مناسب مراحل پر پی ڈبلیو بی ڈی اور ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس کی تصدیق کے طریقہ کار کو مضبوط بنائے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی تصدیقی نظام بشمول جہاں ممکن ہو جدید ڈیجیٹل اسکروٹنی ٹولز کو تلاش کیا جائے تاکہ جعلی یا ہیرا پھیری زدہ سرٹیفکیٹس کا بروقت پتہ لگایا جا سکے۔ اس طرح کے اقدامات میں ڈیجیٹل توثیق، جاری کرنے والے حکام کے ساتھ منظم کراس ویریفکیشن اور ریاستی حکومتوں اور مجاز سرٹیفیکیشن باڈیز کے ساتھ قریبی ہم آہنگی شامل ہو سکتی ہے۔ (پیرا 4.8)
- کمیٹی یونین پبلک سروس کمیشن کی طرف سے واضح کی گئی پوزیشن کو نوٹ کرتی ہے۔ پارلیمنٹ کے سامنے رپورٹیں پیش کرنے کی آئینی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئےکمیٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے سالانہ رپورٹوں کی بروقت تکمیل اور پیشکش ضروری ہے۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کمیشن اپنی سالانہ رپورٹوں کی تیاری اور انہیں پیش کرنے کے لیے ایک متعین ٹائم لائن کی پابندی کرے اور مستقبل میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کرے۔ (پیرا 4.10)
- کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ معاملہ ابھی زیر غور ہے اور اصلاحات کے نفاذ کے لیے ابھی تک کوئی خاص ٹائم لائن نہیں بتائی گئی ہے۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ بسوان کمیٹی کی سفارشات کے وسیع پالیسی اثرات ہیں۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ اشارہ کردہ ٹائم لائنز کے بغیر طویل غور و خوض ایک اہم قومی بھرتی کے عمل میں ضروری اصلاحات میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا کمیٹی اپنی سابقہ سفارش کو دہراتی ہے کہ ایک منظم اور مرحلہ وار نفاذ کا روڈ میپ تیار کیا جائے۔ جس میں ان اصلاحات کی نشاندہی کی جائے جو قلیل مدت میں کی جا سکتی ہیں اور وہ جن کے لیے وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے، اور کمیٹی کو اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔ (پیرا 4.14)
- کمیٹی یہ نوٹ کر کے خوشی محسوس کرتی ہے کہ 292 تنظیمیں’پرتِبھا سیتو‘پورٹل پر رجسٹر ہو چکی ہیں۔ تاہم یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ آجر پورٹل پر منتخب امیدواروں کی حیثیت کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں کر رہے ہیں۔یوپی ایس سی کی طرف سے کی جانے والی آؤٹ ریچ کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایک منظم مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے تاکہ رجسٹرڈ تنظیموں کی جانب سے باقاعدہ اپ ڈیٹ کرنے کو یقینی بنایا جا سکے اور اسکیم کے تحت ملازمت کے اصل نتائج کا اندازہ لگایا جا سکے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ اس اقدام کی تاثیر اور اثرات کا جائزہ لینے کے لیے شریک تنظیموں کے ساتھ ساتھ امیدواروں سے بھی وقتاً فوقتاً فیڈ بیک حاصل کیا جائے۔ پورٹل کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ، جس میں رجسٹریشن، تقرریوں اور موصول ہونے والے فیڈ بیک کا ڈیٹا شامل ہو۔ کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ (پیرا 4.16)
- لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ اسٹاف سلیکشن کمیشن(ایس ایس سی )واضح طور پر متعین ٹائم لائنز کے ساتھ ایک منظم سلائیڈنگ میکانزم/ کونسلنگ سسٹم کو تیزی سے حتمی شکل دے اور نافذ کرے تاکہ رپورٹ شدہ اسامیوں کو اسی بھرتی سائیکل کے اندر بہترین طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔ مزید برآں، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایس ایس سی،یونین پبلک سروس کمیشن کی طرز پر ایک ریزرو/ویٹنگ لسٹ برقرار رکھنے کے امکان کا جائزہ لے، تاکہ جوائن نہ کرنے یا دستبرداری کی وجہ سے پیدا ہونے والی اسامیوں کو اگلے امتحانی سائیکل کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر پُر کیا جا سکے۔ (پیرا 4.19)
- کمیٹی محسوس کرتی ہے کہ ایس ایس سی ایک ممتاز قومی بھرتی ایجنسی ہونے کے ناطےاسے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے بھرتی کے عمل سے، نادانستہ طور پر بھی، بھرتی کے نتائج میں علاقائی ارتکازپیدا نہ ہو۔ کمیشن کو ایک تجزیاتی مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ساختی عوامل، جیسے کہ آگاہی کی سطح، کوچنگ تک رسائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، زبان کی رکاوٹیں، یا امتحانی مراکز کی تقسیم، علاقائی تفاوت کا سبب بن رہے ہیں۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ کم نمائندگی والے علاقوں، خاص طور پر شمال مشرق، قبائلی اضلاع، دیہی علاقوں اور ’خواہشمند اضلاع‘کے لیے ایک ہدف شدہ آؤٹ ریچ حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں مقامی زبانوں میں آگاہی مہمات اور دور افتادہ علاقوں میں امتحانی مراکز کی موجودگی میں اضافہ شامل ہو۔ (پیرا 4.21)
- لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ نیشنل ریکروٹمنٹ ایجنسی(این آر اے)مجوزہ تین ماہ کی ٹائم لائن کی پابندی کرے اور کلیدی سنگ میل کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک واضح نفاذ کا شیڈول فراہم کرے۔ ایک بار جب ایس ایس سی،آر آر بی ایس اورآئی بی پی ایس شامل ہو جائیں تو دیگر مرکزی پبلک امتحانی حکام کو ایک وقت کے پابند اور مرحلہ وار طریقے سے ’یونیفائیڈ ون ٹائم رجسٹریشن‘پلیٹ فارم پر لایا جانا چاہیے تاکہ یکساں اپنائیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ مکمل پیمانے پر آغاز سے پہلے ڈیٹا کی مضبوط سیکورٹی اور آڈٹ کے تحفظات کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ (پیرا 4.25)
- لہٰذاکمیٹی سفارش کرتی ہے کہ این آر اے ایک متعین وقت کے اندر یکساں کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ(سی بی ٹی)کے معیارات اور تکنیکی پروٹوکول کو حتمی شکل دے اور نوٹیفائی کرے۔ مزید برآں، ملک گیر آغاز سے پہلےاین آر اے کو امتحانی بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت کا جامع جائزہ لینا چاہیے اور لاجسٹک تیاریوں کی بنیاد پر مرحلہ وار نفاذ کی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ پہلے مکمل پیمانے پر’کامن ایلیجبلٹی ٹیسٹ‘(سی ای ٹی)سائیکل کے آغاز سے پہلے تیاری کا جائزہ لیا جائے۔ (پیرا 4.28)
- کمیٹی کی رائے ہے کہ متعلقہ محکمے کواین آر اے کے بڑھتے ہوئے مینڈیٹ کے پیش نظر اس میں منظور شدہ اور فعال افرادی قوت کی کفایت کا جائزہ لینا چاہیے۔ ادارہ جاتی استحکام اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے کلیدی قیادت کے عہدوں کو کل وقتی بنیادوں پر پُر کیا جانا چاہیے۔ کامن ایلیجبلٹی ٹیسٹ(سی ای ٹی)اور یونیفائیڈ ون ٹائم رجسٹریشن(یو او ٹی آر)کے مکمل پیمانے پر آغاز سے پہلے افرادی قوت میں اضافے کا ایک حقیقت پسندانہ منصوبہ تیار کیا جائے۔ (پیرا 4.30)
- اس کے مطابق کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ پبلک انٹرپرائزز سلیکشن بورڈ (پی ای ایس بی)انتخاب کے عمل کے ہر مرحلے کے لیے ٹائم لائنز مقرر کرے، بشمول ویجیلنس کلیئرنس اور میٹنگز کا شیڈولنگ۔ متوقع اسامیوں کے حوالے سے اشتہار سے پہلے کے عمل، خاص طور پر جاب ڈسکرپشنز کی بروقت جمع آوری اور تکمیل کو انتظامی وزارتوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے سادہ بنایا جا سکتا ہے۔ متوقع اسامیوں کے لیے پیشگی کارروائی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ امیدواروں کی سفارشات اسامی پیدا ہونے سے کافی پہلے کر دی جائیں۔ جس سے یہ عمل موثر ہو جائے گا۔ (پیرا 4.34)
- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ پی ای ایس بی ایک جامع ’ویکینسی ٹریکنگ ڈیش بورڈ‘ برقرار رکھے جو موجودہ، متوقع اور پائپ لائن میں موجود اسامیوں کی عکاسی کرے۔جس کا انتظامی وزارتوں کے ساتھ مشاورت سے وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ جن معاملات میں انتخابی میٹنگز بغیر کسی سفارش کے ختم ہو جاتی ہیں، ان کی وجوہات بشمول درخواست گزاروں کی کمی، اہلیت کی پابندی والی شرائط، یا مناسب امیدواروں کی عدم دستیابی کا منظم طریقے سے تجزیہ کیا جائے۔ مزید برآں، ایسی پوسٹوں کو ایک متعین مدت کے اندر دوبارہ مشتہر کیا جانا چاہیے تاکہ طویل عرصے تک اسامیوں کو خالی رہنے سے روکا جا سکے اور سینٹرل پبلک سیکٹر انٹرپرائزز (سی پی ایس ایز) میں قیادت کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ (پیرا 4.38)
تربیتی ادارے
- لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ فیکلٹی کی تمام خالی آسامیوں کو، خاص طور پر قانون، مینجمنٹ، معاشیات، سوشل مینجمنٹ اور ہندی اور علاقائی زبانوں جیسے شعبوں میں، وقت کے پابند طریقے سے پُر کیا جائے تاکہ علمی گہرائی، تسلسل اور تربیت کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن(ایل بی ایس این اے اے) ایک منظم کیڈر ریویو کرے تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا موجودہ منظور شدہ طاقت ’مشن کرم یوگی‘کے تحت اس کے بڑھتے ہوئے مینڈیٹ کی صحیح عکاسی کرتی ہے۔ خاص طور پر ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت، کلائمیٹ پالیسی اور پبلک فنانس جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں جن کے لیے موضوع کے ماہرین کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ (پیرا 5.3)
- سول سرونٹس کے درمیان خدمت کے جذبے کو مضبوط کرنے کے لیے، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایل بی ایس این اے اے کو فاؤنڈیشن کورس، ضلعی تربیت اور مڈ کریئر پروگراموں میں’سیوا بھاؤ‘ اور شہریوں کے ساتھ ’فریکوئنسی میچنگ‘ کے ماڈیولز کو منظم طریقے سے شامل کرنا چاہیے۔ جس میں عام لوگوں، خاص طور پر غریبوں، بوڑھوں، کسانوں اور کمزور طبقات کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش آنے کی مخصوص عملی مشقیں شامل ہوں۔ (پیرا 5.5)
- اس سلسلے میں کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایل بی ایس این اے اے بھارت کے آئین، دستور ساز اسمبلی کے مباحثوں اور اہم پارلیمانی و قانون ساز مباحثوں پر مبنی باقاعدہ، کیس بیسڈ (واقعاتی) تدریس کو ادارہ جاتی شکل دے تاکہ آئینی اقدار اور منتخب نمائندوں کے کردار کے بارے میں افسران کی سمجھ بوجھ کو گہرا کیا جا سکے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ تربیتی نصاب کے حصے کے طور پر اراکین پارلیمنٹ سمیت سیاسی نمائندوں کو افسر ٹرینیز کے ساتھ بات چیت کے لیے مدعو کیا جائے۔ خاص طور پر، ضلعی اور فیلڈ ٹریننگ کے دوران، افسر ٹرینیز کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ طے شدہ پروٹوکول کے مطابق مقامی ایم ایل اے/ایم پی کے ساتھ باقاعدہ رابطہ کریں اور ان کے نقطہ نظر اور ترقیاتی ترجیحات کو سمجھیں۔ اس طرح کے اقدامات تربیتی تجربے کو بھرپور بنائیں گے، ادارہ جاتی خلیج کو ختم کریں گے اور سول سروسز کی تربیت کو جمہوری زمینی حقائق کے قریب لائیں گے۔ (پیرا 5.7)
- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف سکریٹریٹ ٹریننگ اینڈ مینجمنٹ(آئی ایس ٹی ایم)’پنچ پرنالی‘ اور’رول ویژولائزیشن‘جیسی اختراعات کو یکجا کرے، دستاویزی شکل دے اور پیمائش کے قابل نتائج کے ساتھ ان کے اثرات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے۔ اس طرح کے جائزے کی بنیاد پر، ان طریقوں کو متعلقہ بنیادی اور ان سروس کورسز میں منظم طریقے سے شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ اعلیٰ ذمہ داریوں کے لیے افسران کی قابلیت اور تیاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔ (پیرا 5.10)
- لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن(آئی آئی پی اے) ایل بی ایس این اے اے،آئی ایس ٹی ایم اور سی بی سی کے ساتھ مشاورت سےاپنی توجہ کے مخصوص شعبوں کو واضح طور پر بیان کرے اور انہیں رسمی شکل دے، جیسے کہ ایڈوانسڈ پبلک پالیسی، پروفیشنل پروگرام مثلاً ’ایڈوانس پروفیشنل پروگرام ان پبلک ایڈمنسٹریشن‘(اے پی پی پی اے)، شہری حکمرانی، کلائمیٹ اسمارٹ گورننس، اور اپلائیڈ پبلک ایڈمنسٹریشن ریسرچ، تاکہ تربیتی شعبوں میں غیر ضروری تکرار کو کم کیا جا سکے اور مشن کرم یوگی کے تحت الگ قدر اور بہتر ادارہ جاتی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ (پیرا 5.14)
- لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن(سی بی سی)صلاحیت سازی کے اقدامات کو تمام بقیہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک پھیلانے کو ترجیح دے، خاص طور پر اتر پردیش جیسی بڑی ریاستوں اور شمال مشرقی ریاستوں پر توجہ دی جائے، جو ابھی تک مکمل طور پر کور نہیں ہوئی ہیں۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ شہری مقامی اداروں اور پنچایتوں سے متعلق پائلٹ اقدامات کو مرحلہ وار لیکن وقت کے پابند طریقے سے بڑھایا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ صلاحیت سازی کے فریم ورک تمام ریاستوں بشمول چھوٹی بلدیات اور دیہی مقامی اداروں میں یکساں طور پر نافذ ہوں۔ سی بی سی پورے بھارت کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کرے جس میں ٹائم لائنز، ترجیحی شعبے اور پیمائش کے قابل سنگ میل طے ہوں تاکہ ملک گیر کوریج اور مشن کرم یوگی کے تحت نچلی سطح پر گورننس کی منظم مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکے۔ (پیرا 5.18)
- لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن کو آئی گو او ٹی پلیٹ فارم کے ذریعے فراہم کیے جانے والے بڑے تربیتی پروگراموں کا انفرادی طور پرتربیتی طریقوں کے مقابلے میں ایک منظم اثرات کا جائزہ لینا چاہیے، تاکہ قابلیت اور کام کی جگہ کے نتائج کو بہتر بنانے میں ان کی تقابلی تاثیر کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مطالعہ میں فنکشنل کارکردگی، رویے کی قابلیت، فیصلہ سازی کے معیار، شہریوں کے اطمینان، اور خدمات کی فراہمی کی ٹائم لائنز سے متعلق پیمائش کے قابل اشارے بھی شامل ہونے چاہئیں۔ اس طرح کے جائزوں کے نتائج کا کمیشن کے ذریعہ وقتاً فوقتاً تجزیہ کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ صلاحیت سازی کی کوششیں محض عددی اندراجات اور کورس مکمل کرنے کے اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر گورننس کے واضح نتائج میں تبدیل ہوں۔ (پیرا 5.20)
دیانتداری، ویجیلنس، شفافیت اور سروس کے معاملات
- کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن(سی بی آئی) میں براہ راست بھرتی کے کوٹے کے تحت اسامیوں کے خالی رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یوپی ایس سی اورایس ایس سی کی طرف سے تجویز کردہ بعض امیدوار آخر کار ادارے میں شامل نہیں ہوتےجس کے نتیجے میں مسلسل کمی واقع ہوتی ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ ایسی اسامیوں جن سے بچا جا سکتا ہے کو اگلے سال پر منتقل ہونے اور آپریشنل کارکردگی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ لہٰذاکمیٹی سفارش کرتی ہے کہ بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کے مشورت سے ایک ریزرو پینل/ویٹنگ لسٹ برقرار رکھنے کا نظام ادارہ جاتی شکل میں وضع کیا جائے تاکہ اس رجحان کی وجہ سے پیدا ہونے والی اسامیوں کو نیا بھرتی سائیکل شروع کیے بغیر وقت کے پابند طریقے سے پُر کیا جا سکے۔ (پیرا 6.3)
- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ سب انسپکٹر (ایس آئی) کیڈر میں ملازمت چھوڑنے کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے ایک تفصیلی بنیادی وجہ کا تجزیہ کیا جائے۔ جس میں کام کے بوجھ کریئر کی ترقی، کام کے حالات، تبادلے، تربیت، اور بین ادارہ جاتی نقل و حرکت سے متعلق مسائل شامل ہوں۔ اس طرح کے تجزیے کی بنیاد پر، ملازمین کو برقرار رکھنے اور ان کے حوصلے بلند کرنے کے لیے مناسب اصلاحی اقدامات متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ (پیرا 6.5)
- تاہم کمیٹی مشاہدہ کرتی ہے کہ اس کی122 ویں،126 ویں اور 145 ویں رپورٹوں میں کی گئی سابقہ سفارشات کا بنیادی نکتہ، جیسے کہ کیس کے مجموعی اعداد و شمار کا منظم عوامی انکشاف اور سی بی آئیز کی سالانہ رپورٹ کی عوامی ڈومین میں اشاعت، اب بھی حل طلب ہے۔ اگرچہ ویب سائٹ پر منتخب اپ ڈیٹس پوسٹ کی جاتی ہیں، لیکن یہ ان جامع اور وقتاً فوقتاً شماریاتی انکشافات کا متبادل نہیں ہیں جو زیر التوا مقدمات، نمٹانے کی شرح، سزا کی شرح اور زمرہ وار کیس کی حیثیت کے بارے میں معنی خیز عوامی تفہیم کو ممکن بنا سکیں۔ (پیرا 6.8)
- ادارہ جاتی جوابدہی کو مضبوط بنانے کی کوشش میں، کمیٹی اپنی سابقہ سفارش کو دہراتی ہے کہ سی بی آئی کو اپنی سالانہ رپورٹ عوامی ڈومین میں رکھنی چاہیے۔جس میں خفیہ یا حساس معلومات کے لیے مناسب تحفظات ہوں اور مجموعی اور غیر حساس کیس کے اعداد و شمار کی وقتاً فوقتاً اشاعت کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرنا چاہیے، جس میں رجسٹریشن، زیر التوا، نمٹانے اور سزا کی شرح کا ڈیٹا شامل ہو۔ مزید برآں، سنٹرلائزڈ کیس مینجمنٹ سسٹم کے عوامی انٹرفیس کے لیے ایک واضح ٹائم لائن بتائی جائے۔ (پیرا 6.9)
- کمیٹی کی رائے ہے کہ سی بی آئی کیسز سے نمٹنے والی خصوصی عدالتوں کو بروقت فیصلے اور مؤثر استغاثہ کو یقینی بنانے کے لیے استحکام اور عدالتی تسلسل کی ضرورت ہے۔ لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ، متعلقہ ہائی کورٹس کے ساتھ مشاورت سے سی بی آئی کے لیے نامزد عدالتوں میں تعینات جوڈیشل افسران کے لیے ایک مناسب اور مقررہ مدت کو یقینی بنانے کے امکانات تلاش کرے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ جونیئر اور مڈ لیول کے ججوں کو ایسی عدالتوں میں کافی مدت کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ تسلسل اور ڈومین مہارت کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ (پیرا 6.11)
- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ سی بی آئی، وزارت داخلہ اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر، ٹارگیٹڈ عوامی آگاہی مہم چلائے، خاص طور پر علاقائی زبانوں میں اور سینئر شہریوں کے لیے قابل رسائی پلیٹ فارمز کے ذریعے، جس میں یہ واضح کیا جائے کہ بیورو غیر سرکاری ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے رقم کا مطالبہ نہیں کرتا اور نہ ہی تحقیقات کرتا ہے۔ کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ بینکوں اور ڈیجیٹل پیمنٹ پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر ریپڈ رسپانس میکانزم کو مضبوط کیا جائے تاکہ مشتبہ دھوکہ دہی والے لین دین کو فوری طور پر منجمد کیا جا سکے۔ مزید برآں، کمیٹی سرکاری افسران کا روپ دھار کر منظم سائبر فراڈ نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اور ڈیجیٹل فرانزک اور کرپٹو کرنسی سے متعلق جرائم سمیت ابھرتے ہوئے سائبر کرائم کے شعبوں میں تفتیشی افسران کی صلاحیت کو مسلسل اپ گریڈ کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ (پیرا 6.13)
- کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ استغاثہ کی منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے اور سفارش کرتی ہے کہ سینٹرل ویجیلنس کمیشن(سی وی سی)، محکمہ عملہ و تربیت(ڈی او پی ٹی)اور وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی(ایم ای آئی ٹی وائی)کے ساتھ مل کر مجوزہ سنٹرلائزڈ ڈیجیٹل کیس ریپوزٹری پر اپ ڈیٹ شدہ صورتحال فراہم کرے۔ کمیٹی کو ڈیجی لاکریا کسی متبادل ڈیجیٹل ریپوزٹری سسٹم کے ساتھ انضمام کے حوالے سے ایم ای آئی ٹی وائی کے ساتھ مشاورت کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔ مزید برآں کمیٹی چاہتی ہے کہ استغاثہ کی منظوری کے معاملات کو تیزی سے اور شفاف طریقے سے نمٹانے کے لیے ڈیجیٹل ٹریکنگ اور ریپوزٹری میکانزم کے مکمل نفاذ کے لیے ایک واضح ٹائم لائن بتائی جائے۔ (پیرا 6.17)
- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ سینٹرل ویجیلنس کمیشن( سی وی سی) اپنی نگرانی اور جائزہ کے افعال کے تحت گزشتہ تین سالوں کے لیے مرحلہ وار مجموعی ڈیٹا فراہم کرے جس میں ویجیلنس پروسیسنگ کے کلیدی مراحل بشمول تفتیش، کمیشن کو ریفرنس، مشورے پر غور اور حتمی احکامات کے اجراء میں لگنے والے اوسط وقت کی نشاندہی کی گئی ہو۔ جو اس کے پاس دستیاب معلومات یا وزارتوں/محکموں سے موصول ہونے والی معلومات پر مبنی ہو۔ کمیشن ان معاملات کی تعداد بھی بتا سکتا ہے جو ویجیلنس مینوئل میں مقرر کردہ ٹائم لائنز سے زیادہ وقت سے زیر التوا ہیں اور جن میں اس کے جائزے یا مشاورتی مداخلت کی ضرورت ہے۔ ایسا ڈیٹا ویجیلنس انتظامیہ میں نظامی تاخیر اور رجحانات کو واضح طور پر سمجھنے کے قابل بنائے گا۔ (پیرا 6.21)
- کمیٹی یہ نوٹ کر کے خوشی محسوس کرتی ہے کہ سینٹرل ویجیلنس کمیشن نے اپنے مشورے کی وصولی، نمٹانے اور نفاذ کی نگرانی کے لیے ویجیلنس کیس مینجمنٹ سسٹم(وی سی ایم ایس) تیار کیا ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وی سی ایم ایس کو مزید استعمال کیا جائے تاکہ محکمانہ سطح پر شکایت اور تفتیش کے مرحلے سے لے کر انکوائری، کمیشن کے مشورے اور حتمی نمٹانے تک کیسز کی جامع مرحلہ وار ٹریکنگ کو شامل کیا جا سکے، جس میں ویجیلنس مینوئل میں مقرر کردہ ٹائم لائنز سے زیادہ زیر التوا کیسز کی خودکار فلیگنگ ہو۔ وزارتوں اور تنظیموں میں بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی نشاندہی کے لیے سسٹم سے وقتاً فوقتاً تجزیاتی رپورٹیں تیار کی جا سکتی ہیں۔ اس طرح کی بہتر نگرانی نظامی تاخیر کا جلد پتہ لگانے اور ویجیلنس مینوئل میں مقرر کردہ ٹائم لائنز کی تعمیل کو فروغ دینے میں مدد دے گی۔ (پیرا 6.22)
- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ سینٹرل ویجیلنس کمیشن، متعلقہ وزارتوں اور ریگولیٹری حکام کے ساتھ مشاورت سے، ان خامیوں کا منظم جائزہ لے اورسی پی ایس ایز، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ان کے ذیلی اداروں میں ویجیلنس فریم ورک میں زیادہ سے زیادہ یکسانیت کو فروغ دینے کے لیے مناسب ایڈوائزریز جاری کرے۔ جے وی/ایس پی وی اور ذیلی اداروں میں منظم ویجیلنس سیٹ اپ کو یقینی بنانے، ریٹائرڈ ملازمین کے خلاف کارروائی سے متعلق دفعات کی ہم آہنگی، اور جامع کیسزسے نمٹنے والے سروس ریگولیشنز کی معیاری کاری پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ ویجیلنس انتظامیہ میں تسلسل اور تاثیر کو مضبوط بنایا جا سکے۔ (پیرا 6.24)
- کمیٹی ان عدالتی اور طریقہ کار کی رکاوٹوں سے باخبر ہے جو سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل(سی اے ٹی) میں بعض طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کے نمٹانے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ تاہم، دس سال سے زیادہ عرصے سے مقدمات کا مسلسل زیر التوا رہنا شدید تشویش کا باعث ہے اور ترجیحی توجہ کا طالب ہے۔ لہٰذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ٹریبونل ایسے مقدمات کے لیے ایک منظم اور وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کا طریقہ کار اپنائے، جس میں موجودہ قانونی فریم ورک کے اندر جہاں تک ممکن ہو، فوکسڈ لسٹنگ اور مناسب وقت کے پابند نمٹانے کی حکمت عملی شامل ہو۔ اگرچہ ضرورت کے مطابق خصوصی مہمات جاری رہ سکتی ہیں۔ لیکن دس سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا مقدمات کی نگرانی کو چیئرمین کی سطح پر باقاعدہ جائزے کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دی جانی چاہیے تاکہ زیر التوا مقدمات میں مسلسل کمی کو یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں اسی طرح کے پرانے مقدمات کے جمع ہونے کو روکا جا سکے۔ (پیرا 6.28)
- کمیٹی تحسین کے ساتھ نوٹ کرتی ہے کہ عدالتی ریکارڈ کی اسکیننگ اور ڈیجیٹائزیشن کا کام سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل(سی اے ٹی) کی تمام بینچوں میں مرحلہ وار طریقے سے کیا جا رہا ہے، اور یہ کہ پرنسپل بینچ میں ڈاکومنٹ مینجمنٹ سسٹم(ڈی ایم ایس) کے نفاذ کا عارضی ہدف جولائی 2025 تھا۔ جبکہ تمام بینچوں میں مکمل آغاز دسمبر 2025 تک متوقع ہے۔ کمیٹی پیپر لیس اور ڈیجیٹل طور پر فعال عدالتی نظام کی جانب پیش رفت کو سراہتی ہے۔ اس سلسلے میں کمیٹی کو تمام بینچوں میں ڈیجیٹائزیشن کی تکمیل کی موجودہ صورتحال ڈی ایم ایس کے فعال ہونے (بشمول ای-کورٹ/اسمارٹ کورٹ اجزاء)، اور کیا مقررہ ٹائم لائنز پر عمل کیا گیا ہے، سے آگاہ کیا جائے۔ کمیٹی یہ بھی جاننا چاہے گی کہ ایڈوانس کیس انفارمیشن سسٹم کے نفاذ سے کیس مینجمنٹ کی کارکردگی اور اب تک مقدمات نمٹانے کی شرح پر کیا اثر پڑا ہے۔ (پیرا 6.29)
- کالعدم قرار دی گئی اسامیوں کی جزوی بحالی کے لیے منظوری حاصل کرنے میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئےکمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن(سی آئی سی) میں اہم معاونت اور انتظامی کیڈرز میں اسامیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی خالی ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ 144 منظور شدہ اسامیوں میں سے صرف 65 پر اہلکار تعینات ہیں۔ جس سے 79 اسامیاں خالی ہیں(جن میں سے 47 کو کالعدم سمجھا گیا ہے اور 11 ان کیڈر ہیں)، کمیٹی اپنی سابقہ سفارش کو دہراتی ہے کہ اس معاملے کی انتہائی ترجیحی بنیادوں پر پیروی کی جائے۔ (پیرا 6.33)
- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ اخراجات اورڈی او پی ٹی کے متعلقہ ڈویژنوں کے ساتھ مل کر مربوط کوششوں کو تیز کیا جائے تاکہ اسامیوں کی بحالی کی بقیہ تجاویز پر جلد فیصلہ حاصل کیا جا سکے اور بحال شدہ و ان کیڈردونوں قسم کی اسامیوں کو تیزی سے پُر کرنے کو یقینی بنایا جا سکے، تاکہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن کی فعال صلاحیت پر منفی اثر نہ پڑے۔ (پیرا 6.34)
- موجودہ خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک قدم کے طور پر، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ اپیل اور شکایت کی نگرانی کا نظام اے پی پی سی او ایم ایس 2.0 وقت کے پابند طریقے سے نافذ کیا جائے۔ جس میں محفوظ تصدیقی طریقہ کار، جلد سماعت اور وقت کی پابندی والے کیسز کے ماڈیولز، اور بہتر تعمیل کی نگرانی کے فیچرز شامل ہوں۔ سینٹرل انفارمیشن کمیشن وقتاً فوقتاً اس اپ گریڈ شدہ سسٹم کے اثرات کا نمٹانے کی شرح، زیر التوا مقدمات میں کمی اور شفافیت پر جائزہ لے سکتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تکنیکی مداخلتیں پیمائش کے قابل کارکردگی میں اضافے کا باعث بنیں۔ (پیرا 6.36)
- کمیٹی مزید نوٹ کرتی ہے کہ محکمہ اخراجات کی منظوری سے 70 باقاعدہ اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں اور انہیں سی ایس ایس،سی ایس ایس ایس اور سی ایس سی ایس میں شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ کچھ اسامیاں سنٹرل اسٹافنگ اسکیم کے تحت پُر کی گئی ہیں۔ تاہم، یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ لوک پال میں منظور شدہ آرگنوگرام کے مطابق ڈائریکٹر آف انکوائری کا تقرر اور انکوائری ونگ کا عملہ ابھی تک زیرِ عمل ہے۔ لہٰذا کمیٹی ڈائریکٹر آف انکوائری کے تقرر کی موجودہ صورتحال اور انکوائری ونگ کو اس کی مکمل قانونی شکل میں فعال کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ ہونا چاہتی ہے، جبکہ موجودہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔ (پیرا 6.40)
- استغاثہ کے حوالے سے، کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ لوک پال کا پراسیکیوشن ونگ باقاعدہ طور پر مورخہ 06.06.2025 کے حکم کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے اور 13.06.2025 کو گزٹ آف انڈیا میں مشتہر کیا گیا ہے۔ کمیٹی مزید نوٹ کرتی ہے کہ، فی الوقت، استغاثہ سے متعلق معاملات سی بی آئی کے ذریعے سنبھالے جا رہے ہیں۔ جس کا اپنا استغاثے کا طریقہ کار ہے۔ پراسیکیوشن ونگ کی تشکیل کا نوٹس لیتے ہوئے، کمیٹی پراسیکیوشن ونگ کے فعال ہونے کے موجودہ مرحلے اور اسے قانونی فریم ورک کے مطابق مکمل طور پر فعال بنانے کے مجوزہ روڈ میپ سے آگاہ ہونا چاہتی ہے۔ (پیرا 6.41)
- جہاں تک لوک پال اور لوک آیکت ایکٹ2013 کی دفعہ 35 کے تحت خصوصی عدالت کی نوٹیفکیشن کا تعلق ہے۔ کمیٹی کے مطابق یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ کے ساتھ اٹھایا گیا ہے اور اس کی بھرپور پیروی کی جا رہی ہے۔ کمیٹی مزید نوٹ کرتی ہے کہ فی الحال مقدمات کی سماعت انسدادِ بدعنوانی ایکٹ1988 کے تحت نوٹیفائیڈ خصوصی ججوں کے ذریعے کی جا رہی ہے جو لوک پال کی طرف سے دی گئی منظوری کے مطابق ہے۔ کمیٹی ہائی کورٹ کے ساتھ مشاورت کی موجودہ صورتحال اور ایکٹ کی دفعہ 35 کے تحت مختص خصوصی عدالت کی نوٹیفکیشن کے لیے متوقع ٹائم لائن سے آگاہ ہونا چاہتی ہے۔ (پیرا 6.42)
- کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ شکایات اور انکوائری کی سرگرمیوں میں بڑھتے ہوئے رجحان کی روشنی میں لوک پال سیکرٹریٹ کے عملے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ کلیدی عملی اور معاون ڈویژنوں میں اسامیوں کو جلد ازجلد پُر کیا جائے اور متعلقہ حکام کے ساتھ ضروری ہم آہنگی کی جائے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ لوک پال کو اپنے قانونی فرائض موثر طریقے سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دینے کے لیے مناسب افرادی قوت دستیاب ہو۔ (پیرا 6.48)
********
ش ح۔م ح۔ج ا
U-4196
(ریلیز آئی ڈی: 2241073)
وزیٹر کاؤنٹر : 6