ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمنٹ کا سوال: فصلوں کی باقیات جلانے کو روکنے اور کم کرنے کے لیے حکومت کے ذریعے کیے گئے اہم اقدامات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 MAR 2026 3:35PM by PIB Delhi

فصل کی باقیات کو جلانا شمالی ہند، خصوصاً دہلی این سی آر خطے میں ایک اہم عامل کے طور پر شناخت کیا گیا ہے، جو اگلی فصل کی بوائی کے لیے پچھلی فصل کی کٹائی کے بعد سردیوں کے موسم میں علاقے کے ہوا کے معیار کے انڈیکس کو مزید خراب کر دیتا ہے۔

فصل کی باقیات کو جلانے کے عمل کی حوصلہ شکنی کرنے اور اسے کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

 

  1. فصل کی باقیات جلانے کے باعث پیش آنے والے فعال آگ کے واقعات کی نگرانی سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس کے لیے نئی دہلی میں انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) – انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈویژن آف ایگریکلچرل فزکس کے تحت کنسورشیم فار ریسرچ آن ایگرو ایکو سسٹم مانیٹرنگ اینڈ ماڈلنگ فرام اسپیس لیبارٹری کی جانب سے تیار کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے فصل کی باقیات جلانے کے واقعات کے تخمینے کے معیاری پروٹوکول پر عمل کیا جاتا ہے۔
  2. کسانوں کو متبادل اقدامات کے ذریعے سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جیسے ان-سیتو (کھیت کے اندر) فصل کی باقیات کا انتظام اور دھان کے بھوسے کے مختلف استعمال میں ایکس-سیتو (کھیت سے باہر) استعمال۔ ان-سیتو فصل کی باقیات کے انتظام میں دھان کی باقیات کو کھیت میں ہی ملچنگ یا زمین میں شامل کرنا شامل ہے، جو مؤثر اور کم لاگت میکانکی ذرائع یا فصل کی باقیات کے انتظام کی مشینری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور قومی دارالحکومت علاقہ دہلی کی حکومتوں کی جانب سے دھان کے ڈنٹھل جلانے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے نمٹنے اور فصل کی باقیات کے انتظام کے لیے درکار مشینری پر سبسڈی فراہم کرنے کی کوششوں کو سہارا دینے کے لیے وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود نے 2018-19 سے فصل کی باقیات کے انتظام (سی آر ایم) پر مرکزی سیکٹر اسکیم نافذ کی ہے۔

اس اسکیم کے تحت فصل کی باقیات کے انتظام کی مشینری کی خریداری کے لیے کسانوں کو 50 فیصد مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جبکہ دیہی کاروباری افراد (دیہی نوجوان اور کسان بطور کاروباری)، کسانوں کی کوآپریٹو سوسائٹی (زراعت/ باغبانی/ مکھانا وغیرہ)، دیہی ترقی کے قومی مشن کی کلسٹر لیول فیڈریشن اور سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی)، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او) اور پنچایتوں کو فصل کی باقیات کے انتظام کی مشینوں کے کسٹم ہائرنگ سینٹر قائم کرنے کے لیے 80 فیصد مالی امداد دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دھان سپلائی چین منصوبوں کے لیے مشینری اور آلات کی سرمایہ لاگت پر زیادہ سے زیادہ 1.50 کروڑ روپے تک 65 فیصد مالی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں زیادہ ہارس پاور ٹریکٹر، کٹر، ٹیڈر، درمیانے سے بڑے بیلر، ریکر، لوڈر، گریبر اور ٹیلی ہینڈلر جیسی مشینری شامل ہے۔ کسانوں میں فصل کی باقیات کے انتظام کے بارے میں وسیع پیمانے پر آگاہی پیدا کرنے کے لیے اطلاعاتی، تعلیمی اور ابلاغی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے ریاستوں اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کو بھی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

2018-19 سے 2025-26 کی مدت کے دوران (10 مارچ 2026 تک) 4,237.47 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ ریاستوں نے 3.53 لاکھ سے زائد مشینیں انفرادی کسانوں میں تقسیم کی ہیں اور ریاستوں میں 43,535 سے زیادہ کسٹم ہائرنگ سینٹر (سی ایچ سی) قائم کیے ہیں۔

  1. نیشنل کیپیٹل ریجن اور ملحقہ علاقوں میں فضائی معیار کے انتظام کے کمیشن کو سی اے کیو ایم ایکٹ، 2021 کے تحت 23 اپریل 2021 کی نوٹیفکیشن کے مطابق قائم کیا گیا ہے، تاکہ این سی آر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس سے متعلق مسائل کے بہتر رابطہ، تحقیق، نشاندہی اور حل کو یقینی بنایا جا سکے، نیز اس سے متعلق یا اس کے ذیلی امور کو بھی نمٹایا جا سکے۔ جولائی 2022 میں کمیشن نے ایک جامع پالیسی تیار کی جس میں مختلف شعبوں کے لحاظ سے اقدامات/ مداخلتیں، واضح اہداف اور مرحلہ وار ٹائم لائن (قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی) شامل ہیں۔ یہ پالیسی مرکزی حکومت کی وزارتوں و محکموں، این سی آر کی ریاستی حکومتوں، دہلی کی قومی دارالحکومت اور پنجاب کی حکومت سمیت مختلف متعلقہ فریقوں کو ضروری کارروائی اور عمل درآمد کے لیے جاری کی گئی۔ اس پالیسی کے تحت مختلف مؤثر شعبوں، بشمول فصل کی باقیات جلانے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مرحلہ وار ٹائم لائن کے ساتھ ہدف ایکشن پلان مقرر کیے گئے ہیں۔
  2. اس کے علاوہ، فضائی معیار کے انتظام کے کمیشن نے 9 مئی 2025 کو جاری کردہ ہدایت نمبر 90 کے ذریعے چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کسانوں کے لیے فصل کی باقیات کے انتظام (سی آر ایم) کی مشینوں کی بلا معاوضہ کرایہ پر دستیابی کے لیے منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔
  3. سی اے کیو ایم نے ہدایت نمبر 92 مورخہ 03 جون 2025 کے ذریعے پنجاب اور ہریانہ کی ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ این سی آر سے باہر واقع اضلاع میں موجود تمام اینٹوں کے بھٹوں میں دھان کے بھوسے پر مبنی بایو ماس پیلیٹ/بریکیٹ کے استعمال کو لازمی قرار دیا جائے، تاکہ دھان کے ڈنٹھل کو کھلے عام جلانے کی روایت کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ فراہم کیا جا سکے۔
  4. یکم اکتوبر 2025 کو جاری کردہ ہدایت نمبر 95 کے تحت سی اے کیوم ایم نے پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور اتر پردیش کے این سی آر علاقوں اور دہلی کے قومی دارالحکومت علاقہ میں ڈپٹی کمشنرز / ضلع کلکٹرس / ضلع مجسٹریٹ کو یہ اختیار دیا کہ اگر متعلقہ افسران کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ کی جائے تو وہ اختیار رکھنے والے عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے شکایت درج کر سکتے ہیں۔ اس میں نوڈل افسران، مختلف سطحوں کے نگران افسران اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہیں، جو اپنے دائرہ اختیار میں دھان کے ڈنٹھل جلانے کے خاتمے کے مؤثر نفاذ کے ذمہ دار ہیں۔
  5. سی اے کیوم ایم نے دہلی سے 300 کلومیٹر کے دائرے میں واقع تمام کوئلہ پر مبنی تھرمل پاور پلانٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ کوئلے کے ساتھ بایو ماس پر مبنی پیلیٹس، ٹوریفائیڈ پیلیٹ/بریکیٹ (5 سے 10 فیصد تک) ملا کر استعمال کریں، تاکہ بایو ماس کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
  6. وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے 11 جولائی 2023 کی نوٹیفکیشن (ترمیم شدہ) کے ذریعے ماحولیات (تھرمل پاور پلانٹ کے ذریعے فصل کی باقیات کے استعمال) قواعد، 2023 جاری کیے ہیں۔ ان قواعد کے تحت این سی آر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقع تھرمل پاور پلانٹ کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ کوئلے کے ساتھ کم از کم 5 فیصد فصل کی باقیات سے تیار کردہ پیلیٹ یا بریکیٹ کا استعمال کریں۔
  7. سی اے کیو ایم نے پنجاب اور ہریانہ کی ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ این سی آر سے باہر واقع اضلاع میں موجود تمام اینٹوں کے بھٹوں میں دھان کے بھوسے پر مبنی بایو ماس پیلیٹ/بریکیٹ کے استعمال کو لازمی قرار دیا جائے، تاکہ دھان کے ڈنٹھل کو کھلے عام جلانے کی روایت کے خاتمے میں مدد مل سکے۔
  8. سنٹرل پلیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) نے ماحولیاتی تحفظ چارج فنڈ کے تحت دھان کے بھوسے کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے پیلیٹائزیشن اور ٹوریفیکشن پلانٹس کے قیام کے لیے ایک مرتبہ کی مالی معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے رہنما اصول مرتب کیے ہیں۔
  9. یکم اکتوبر 2025 سے 30 نومبر 2025 تک پنجاب اور ہریانہ کے شناخت شدہ ہاٹ اسپاٹ اضلاع میں سی پی سی بی کی 31 فلائنگ اسکواڈ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، تاکہ صورتحال کی قریبی نگرانی کی جا سکے اور ضلع سطح پر متعلقہ حکام، پلیوشن کنٹرول بورڈ اور سی اے کیو ایم سیل کے افسران کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔ یہ ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر تازہ معلومات، تصویری شواہد اور تعمیل کی صورتحال فراہم کرتی ہیں۔

 

مندرجہ بالا اقدامات اور کارروائیوں کے علاوہ، حکومت نے دہلی–این سی آر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں فضائی آلودگی، بالخصوص ڈنٹھل جلانے سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا باقاعدگی سے جائزہ اور نگرانی کی ہے۔

مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں نے سال 2025 میں دھان کی کٹائی کے موسم کے دوران آگ لگنے کے واقعات میں 2022 کی اسی مدت کے مقابلے میں مجموعی طور پر 90 فیصد سے زیادہ کمی درج کی ہے۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

******

ش ح۔ ف ش ع

U: 4168


(ریلیز آئی ڈی: 2240920) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी