خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
سینٹرل ایڈاپشن ریسورس اتھارٹی (سی اے آر اے)، بھوپال میں سینٹرل زون کے لیے تیسری علاقائی مشاورتی ورکشاپ کاانعقاد کرے گی
یہ مشاورتی پہل بھارت میں بچوں کو اپنانے اور تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سی اے آر اےکی مسلسل کوششوں کو اجاگر کرتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 MAR 2026 3:52PM by PIB Delhi
سینٹرل ایڈاپشن ریسورس اتھارٹی (سی اے آر اے) ، جو خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت ، حکومت ہند کے ماتحت ہے، سینٹرل زون کے لیے اپنی تیسری علاقائی مشاورتی ورکشاپ کو مدھیہ پردیش کے بھوپال میں منگل، 17 مارچ 2026 کو منعقد کرے گی، جس میں حکومت مدھیہ پردیش اور متعلقہ ریاستی حکام کا تعاون ہو گا۔ ورکشاپ میں مدھیہ پردیش حکومت میں خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر محترمہ نرمالا بھوریا بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گی۔ ان کی موجودگی ریاستی حکومت کی بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور بچوں، خاص طور پر خصوصی ضروریات والے بچوں، کے لیے خاندانی دیکھ بھال کو فروغ دینے کے عزم کو دوبارہ اجاگر کرے گی۔
یہ ورکشاپ، بچوں کو اپنانے سے متعلق سی اے آر اے کی جاری آگاہی مہم کے تحت منعقد کی جا رہی ہے، جس کا موضوع ہے: ’’خصوصی ضروریات والے بچوں (دیویانگ بچوں) کی غیر ادارہ جاتی بحالی کو فروغ دینا۔‘‘ اس سے ملک گیر عزم کو تقویت ملتی ہے کہ ہر بچہ پرورش کرنے والے خاندانی ماحول میں پروان چڑھے۔
سینٹرل زون، جس میں مدھیہ پردیش، اتر پردیش، چھتیس گڑھ اور اُترکھنڈ شامل ہیں، ملک کے تمام زون—شمالی، شمال مشرقی، مغربی، جنوبی اور مشرقی— میں سے اضلاع کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا زون ہیں۔ اس وسیع کوریج کو مدنظر رکھتے ہوئے ورکشاپ میں170 سے زائد اضلاع کے نمائندگان کی شرکت متوقع ہے، جس سے یہ مہم کے تحت سب سے جامع علاقائی مشاورتی اجلاسوں میں سے ایک بن جائے گی۔
یہ مشاورتی اقدام سی اے آر اے کی بھارت میں بچوں کو اپنانے اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر خصوصی ضروریات والے بچوں کے لیے خاندانی دیکھ بھال کو فروغ دینے اور طویل مدتی ادارہ جاتی قیام کو کم کرنے کے حوالے سے۔اس مباحثے کی بنیاد جیونائل جسٹس (کیر اینڈ پروٹیکشن آف چلڈرن) ایکٹ، 2015 کے تحت ہے، جو بچوں کو اپنانے اور دیگر غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال کے طریقوں کے ذریعے بچے کے بہترین مفاد کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
ورکشاپ پورے سینٹرل زون کے اہم متعلقہ شراکت داروں کو اکٹھا کرے گی ، جن میں اسٹیٹ ایڈاپشن ریسورس ایجنسیاں (ایس اے اے) اسپیشلائزڈ ایڈاپشن ایجنسیاں (ایس اے اے) چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز (سی سی آئی) ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس (ڈی سی پی یو) چیف میڈیکل آفیسرز (سی ایم او) ہیلتھ کیئر پروفیشنلز ، اور چائلڈ پروٹیکشن پریکٹیشنرز کے نمائندے شامل ہیں ۔
اس پروگرام میں درج ذیل مرکوز موضوعاتی سیشن شامل ہوں گے:
- خصوصی ضروریات والے بچوں کو گود لینے میں ریاست کے لحاظ سے حیثیت اور بہترین طریقے
- کامیابی کی کہانیوں اور شواہد پر مبنی اقدامات کی پیشکش
- قابل عمل اور مقررہ وقت پر سفارشات مرتب کرنے کے لیے گروپ ڈسکشن
- طبی ، قانونی ، مالی اور شکایات سے متعلق چیلنجوں پر غور و فکر
ورکشاپ کے دوران ایک خصوصی فلم بھی دیکھائی جائے گی، جو خصوصی ضروریات والے بچوں کو کامیابی اپنانے پر محیط ہوگی اور خاندانی دیکھ بھال، قبولیت اور کمیونٹی سپورٹ کی تبدیلی لانے والی طاقت کو اجاگر کرے گی۔
مشاورتی بات چیت اور علم کے اشتراک کے ذریعے، ورکشاپ کا مقصد نظام کی خامیوں کی نشاندہی، محکموں کے درمیان بہتر تعاون کو فروغ اور پالیسی سطح پر سفارشات تیار کرنا ہے تاکہ معذور بچوں کے اپنانے اور جامع بحالی کو فروغ دیا جا سکے۔اس مشاورت کے نتائج ملک بھر میں زیادہ شمولیت پر مبنی، جوابدہ اور بچوں پر مرکوز گود لینے کے فریم ورک کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔
****
ش ح۔ ع ح۔ ش ت
U NO :-4154
(ریلیز آئی ڈی: 2240754)
وزیٹر کاؤنٹر : 9