صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارت صحت نے کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے اور فوڈ سیفٹی فریم ورک کو مضبوط بنانےکیلئے کلیدی ریگولیٹری اصلاحات کو منظوری دی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAR 2026 7:13PM by PIB Delhi

مرکزی وزارت صحت نے کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے اور خوراک کی یقینی فراہمی کیلئے مضبوط معیارات کو یقینی بنانے کے مقصدسے متعدد جامع ضابطہ جاتی اور طریقہ کار کی اصلاحات کی ایک سیریز کو منظوری دی ہے۔ یہ اصلاحات ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد وضع کی گئی ہیں اور یہ نیتی آیوگ کے ذریعہ تشکیل کردہ غیر مالیاتی ریگولیٹری اصلاحات پر اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ہیں۔

ریگولیٹری بوجھ کو کم کرنے کیلئے، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے تحت رجسٹریشن اور لائسنسوں کی مستقل درستگی سے متعلق ایک تجویز کو منظوری دی گئی ہے۔ جبکہ پہلے، رجسٹریشن اور لائسنسوں کے لئے وقتاً فوقتاً تجدید کی ضرورت ہوتی تھی، نظر ثانی شدہ نظام کے تحت، رجسٹریشن اور لائسنس مستقل طور پر درست اور جاری رہیں گے، جس سے بار بار تجدید کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ ان  اصلاحات  سےفوڈ بزنس آپریٹرز کے لیے لائسنسنگ اتھارٹیز کے ساتھ تعمیلی اخراجات، کاغذی کارروائی اورلائسنسنگ حکام سےباربار رابطے کی ضرورت میں نمایاں طور پر کمی آئے گی اور کاروبار کے تسلسل کو بہتر بنایاجا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری وسائل کو نفاذ، نگرانی اور صلاحیت سازی کی سرگرمیوں پر زیادہ مؤثر طریقے سے مرکوز کیا جا سکے گا۔

ان اصلاحات کے تحت یکم اپریل 2026 سے رجسٹریشن کے لیے سالانہ کاروباری حد12 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1.5 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ50 کروڑ روپے تک کے کاروبار کے لیے ریاستی لائسنس اور اس سے زیادہ کے لیے مرکزی لائسنس درکار ہوگا۔ اس تبدیلی کا مقصد ریاستی حکام کے کردار کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں خوراک کے تحفظ کے ضوابط کی نگرانی، سہولت کاری اور نفاذ پر زیادہ مؤثر انداز میں توجہ دے سکیں۔ خاص طور پر مائیکرو اور چھوٹے کاروباروں کے لیے یہ اقدام تعمیلی تقاضوں کو آسان بنائے گا، کاغذی کارروائی اور فیس میں کمی لائے گا، قبل از معائنہ کی شرط ختم کرے گا اور فوری رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرے گا۔

دوہرے تعمیلی تقاضوں کو ختم کرنے کے لیے بلدیاتی کارپوریشنز یا ٹاؤن وینڈنگ کمیٹیوں کے ساتھ اسٹریٹ وینڈرز (پروٹیکشن آف لائیولی ہڈ اینڈ ریگولیشن آف اسٹریٹ وینڈنگ) ایکٹ 2014 کے تحت رجسٹرڈ اسٹریٹ فوڈ فروشوں کو ایف ایس ایس اے آئی کے تحت خودکار طور پر رجسٹرڈ تصور کیا جائے گا۔ اس اقدام سے10 لاکھ سے زائد اسٹریٹ فوڈ فروشوں کو فائدہ ہوگا کیونکہ انہیں مختلف محکموں میں متعدد رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس اصلاح سے تعمیلی بوجھ کم ہوگا اور اسٹریٹ فوڈ فروش اپنی روزی روٹی، صفائی اور کاروباری سرگرمیوں پر بہتر توجہ دے سکیں گے۔

مزید برآں، ٹیکنالوجی پر مبنی اورخطرے کے تجزیے پر مبنی معائنہ کا ایک متحرک نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ضابطوں کی پابندی کرنے والے کاروباری اداروں کو حوصلہ افزائی ملے اور غیر ضروری بار بار معائنوں میں کمی آئے۔ اس نظام کے تحت معائنہ مختلف خطرے کے عوامل کی بنیاد پر کیا جائے گا، جن میں خوراک کی نوعیت سے وابستہ خطرات، کاروباری ادارے کا سابقہ تعمیلی ریکارڈ، تھرڈ پارٹی آڈٹ کی کارکردگی اور نفاذ و نگرانی کی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی معلومات شامل ہوں گی۔ اس سے شفاف اور مؤثر ضابطہ جاتی نگرانی یقینی بنے گی اور ضابطوں کی پابندی کرنے والے کاروباروں پر غیر ضروری بوجھ کم ہوگا۔

یہ اصلاحات حکومت کے اس عزم کی واضح عکاسی کرتی ہیں کہ شہریوں کو محفوظ خوراک فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک شفاف، مؤثر اور کاروبار دوست ضابطہ جاتی ماحول کو فروغ دیا جائے۔

***

 

 

UR-4009

(ش ح۔ک ا ۔ ف ر )

 


(ریلیز آئی ڈی: 2240519) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati