وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

وزارت تعلیم نے نئی دہلی میں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ایک روزہ مکالماتی ورکشاپ کا انعقاد کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 MAR 2026 7:00PM by PIB Delhi

وزارت تعلیم کے محکمۂ اسکولی تعلیم اور خواندگی(ڈی او ایس ای ایل) نے 13 مارچ 2026 کو ڈاکٹر امبیڈکر انٹر نیشنل سینٹر (ڈی اے آئی سی)، نئی دہلی میں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ایک روزہ مکالماتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔

image001R79T.jpg

 

اس ورکشاپ میں وزارت تعلیم کے سینئر افسران، دیگر وزارتوں اور محکموں کے نمائندے اور تمام مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے افسران ایک ساتھ جمع ہوئے اور ان علاقوں میں اسکولی تعلیم سے متعلق اہم انتظامی، مالی اور قانونی امور پر غور و خوض کیا۔

ڈی او ایس ای ایل کے سکریٹری جناب سنجے کمار نے ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے اور تعلیمی پروگراموں کے نفاذ کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے تعلیمی اور غیر تعلیمی اسامیوں کی خالی جگہوں کو بروقت پُر کرنے، ریاستی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل(ایس سی ای آر ٹی) ، ضلع تعلیمی و تربیتی ادارہ(ڈی آئی ای ٹی) اور ریاستی تعلیمی ادارہ (ایس آئی ای) جیسے تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے اور پارلیمانی امور اور مالی تجاویز پر فوری کارروائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

image00242G7.jpg

ڈی او ایس ای ایل کی اقتصادی مشیر  محترمہ  اے شریجا نے ورکشاپ  کے تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم خیالات کے تبادلے کو آسان بنائے گا اور تعلیم کے شعبے میں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو درپیش عملی چیلنجوں کے حل میں مدد فراہم کرے گا۔

 

افتتاحی اجلاس کے دوران ڈی او ایس ای ایل کے ایڈیشنل سکریٹری جناب دھیرج ساہو نے شرکاء سے خطاب کیا اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

 

اس کے بعد محکمۂ قانونی امور کے جوائنٹ سکریٹری جناب اجے گپتا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مقدمہ بازی اور عدالتی معاملات کے نظم و نسق سے متعلق اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

 

ڈی او ایس ای ایل کی جوائنٹ سکریٹری  محترمہ پراچی پانڈے نے اس بات پر زور دیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تمام اسکولوں کو سی بی ایس ای سے منسلک کیا جانا چاہیے۔

 

وزارت تعلیم کے پرنسپل چیف اکاؤنٹس کنٹرولر جناب بھُوپال نندا نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور تعلیم کے شعبے میں مالیاتی نظم و نسق اور اکاؤنٹنگ نظام سے متعلق امور پر روشنی ڈالی۔

 

تکنیکی اجلاسوں میں کئی اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ان موضوعات میں بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق ایکٹ 2009 کی دفعہ 12(1)(سی) کا نفاذ، شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے تعلیمی اشاریے اور ڈیٹا رپورٹنگ، قانون ساز اسمبلی رکھنے والے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ایس این اے-اسپرش پلیٹ فارم سے جوڑنا اور ڈیجیٹل مالیاتی نظم و نسق کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعلقہ اکاؤنٹنگ معاملات شامل تھے۔

 

اس کے علاوہ اجلاس میں عدالتی مقدمات کی مؤثر نگرانی میں قانونی معلوماتی نظم و نسق اور بریفنگ نظام ( ایل آئی ایم بی ایس) کے کردار کے بارے میں بھی بتایا گیا اور سرکاری ای-مارکیٹ پلیس ( جی ای ایم) پورٹل پر سرکاری خریداری سے متعلق مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس دوران سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔

جموں و کشمیر، لداخ، پڈوچیری، انڈمان و نکوبار جزائر، چنڈی گڑھ، دادر و نگر حویلی اور دمن و دیو، لکشدیپ اور دہلی کے نمائندوں نے عدالتی مقدمات کی صورتحال، خصوصی اساتذہ سمیت تعلیمی اور غیر تعلیمی عملے کی خالی اسامیوں، ایس سی ای آر ٹی، ڈی آئی ای ٹی اورایس آئی ای میں خالی اسامیوں، سمگر شکشا کے تحت فنڈز کے اجرا، سالانہ رپورٹ اور آڈٹ شدہ کھاتوں کی پیش کش، پارلیمانی امور اور جی ای ایم پورٹل سے متعلق مسائل پر اپنی پیشکشیں دی۔ ان مباحثوں سے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو اپنے تجربات  مشترک کرنے اور وزارت اور دیگر متعلقہ  شراکت داروں سے رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔

 

ورکشاپ کا اختتام ایک مکالماتی بحث اور اہم نتائج کے خلاصے کے ساتھ ہوا۔ اس دوران وزارتِ تعلیم اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کیا گیا کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو مضبوط کریں گے، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ کریں گے اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں بہتر تعلیمی نتائج کے لیے اسکولی تعلیم سے متعلق اقدامات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائیں گے۔

***

Urdu-4103

(ش ح۔ م ش۔ش ب ن)

 


(ریلیز آئی ڈی: 2240488) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी