کامرس اور صنعت کی وزارتہ
محکمۂ تجارت کی جانب سے ہندوستان کے طبی آلات کی برآمدات کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک چنتن شیورکا انعقاد کیا گیا
مالی سال 2025 میں ہندوستان کی طبی آلات کی برآمدات 4 بلین امریکی ڈالر کو تجاوز کر گئی ؛ عالمی منڈی میں ہندوستان کی حصے داری بڑھانے پر توجہ: محکمۂ تجارت کےسکریٹری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAR 2026 9:04PM by PIB Delhi
محکمۂ تجارت نے آج نئی دہلی کے وانِجیہ بھون میں محکمۂ ادویات اور طبی آلات کی برآمدات سے متعلق فروغ کی کونسل (ای پی سی ایم آئی ڈی) کے تعاون سے “ ہندوستان کے طبی آلات کی برآمدی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا” کے موضوع پر ایک چنتن شِیور (غور و فکر اجلاس) کا انعقاد کیا۔ اس اجلاس کے دوران میڈٹیک شعبے میں ہندوستان کی عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر غور و خوض کرنے کی غرض سے پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور اس شعبے کے ماہرین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا ہوئے ۔
یہ مباحثے “2030 تک 30بلین امریکی ڈالر کے بازار کے حجم کے حصول” کے موضوع کے تحت منعقد کیے گئے۔ اس پروگرام میں حکومت، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور وسیع تر طبی آلات کے ماحولیاتی نظام سے 150 سے زیادہ شرکاء نے شرکت کی۔
چنتن شیور نے حکومت اور صنعت سے وابستہ فریقوں کے درمیان خصوصی رابطے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا، جس کا مقصد اہم پالیسی ترجیحات کی نشاندہی کرنا، انضباطی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنا اور ہندوستان کے طبی آلات کے مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام اور برآمدی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ابھرتے مواقع تلاش کرنا تھا۔
ہندوستان کا طبی آلات کا شعبہ ملک کے صحت عامہ اور مینوفیکچرنگ کے منظرنامے کا ایک اہم حصہ بن کر ابھرا ہے۔ کم قیمت اور اعلیٰ معیار کی طبی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کے ساتھ ہندوستان تیزی سے خود کو ایک قابلِ اعتماد مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز کے طور پر قائم کر رہا ہے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی ایم ای ڈی کے فورم کوآرڈینیٹر جناب راجیو ناتھ نے صنعت کا نقطۂ نظر پیش کیا اور عالمی انضباطی چیلنجوں سے نمٹنے اور گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے محکمۂ ادویات کے جوائنٹ سکریٹری جناب امن شرما نے ملک میں طبی آلات کی تیاری کے معیار پر توجہ دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے صنعت اور انضباطی اداروں دونوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اپنے خصوصی خطاب میں اضافی سکریٹری اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کے ڈائریکٹر جنرل جناب لو اگروال نے ساختی مسائل کو حل کر کے تیز رفتار ترقی حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی طبی آلات کی منڈیوں میں ہندوستان کی موجودگی کو وسعت دینے میں تجارتی پالیسی اقدامات اور برآمدی فروغ کی سرگرمیوں کے کردار کو اجاگر کیا۔
چنتن شِیور کا باقاعدہ افتتاح محکمۂ تجارت کے سکریٹری جناب راجیش اگروال نے کیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو “دنیا کی فارمیسی” کے طور پر اپنی شناخت سے آگے بڑھتے ہوئے ایک عالمی میڈٹیک مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ابھرنا ہوگا۔
مالی سال 2025 میں ہندوستان کی طبی آلات کی برآمدات 4 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کا ذکر کرتے ہوئے جناب اگروال نے کہا کہ اعلیٰ قدر والی مینوفیکچرنگ، تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری،نفع بخش اختراع اور انضباطی ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آئندہ دہائی میں ہندوستان کی عالمی منڈی میں حصے داری کو نمایاں طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی بڑی گھریلو منڈی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2030 تک 30 بلین امریکی ڈالر کے طبی آلات کے بازار کے ہدف کو حاصل کرنے پر بھی زور دیا۔
چنتن شِیور کے دوران ہندوستان کے طبی آلات کی برآمدی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے اہم پہلوؤں پر مرکوز تین موضوعاتی اجلاس منعقد کیے گئے۔
پہلے اجلاس کا عنوان تھا “عالمی تجارتی معاہدے اور ہندوستان کی میڈٹیک برآمدات: عالمی آزادانہ تجارتی معاہدوں سے پیدا ہوانے والے نئے مواقع”۔ اس اجلاس میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی معاہدوں کے نیٹ ورک سے پیدا ہونے والے امکانات اور عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے کی حکمت عملیوں پر غور کیا گیا۔
دوسرے اجلاس میں “میڈیکل ٹیکنالوجی کی برآمدی بنیادی ڈھانچہ اور عالمی برانڈ سازی” پر توجہ دی گئی، جس میں مینوفیکچرنگ کلسٹرز کو مضبوط بنانے، ٹیسٹنگ کے ڈھانچے کو وسعت دینے اور ہندوستانی طبی آلات کے لیے عالمی سطح پر برانڈ شناخت قائم کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔
تیسرے اجلاس میں “طبی آلات کی برآمدات کی حمایت کے لیے انضباطی فریم ورک کی ترقی” کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ اس میں انضباطی ہم آہنگی، منظوری کے عمل کو آسان بنانے اور برآمدات کو سہل بنانے کے لیے صنعت اور انضباطی اداروں کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا گیا۔
چنتن شِیورکا اختتام ہندوستان کے طبی آلات کے مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے عملی اقدامات پر غور و خوض کے ساتھ ہوا۔چنتن شِیور سے حاصل ہونے والی معلومات محکمۂ تجارت کو ہندوستان کی طبی آلات کی صنعت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور محکمۂ ادویات، سی ڈی ایس سی او (سی ڈی ایس سی او) اور ای پی سی ایم ڈی(ای پی سی ایم ڈی) کے ساتھ فعال تعاون کے ذریعے ایک متحرک برآمدی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے میں مدد فراہم کریں گی۔

***
Urdu-4102
(ش ح۔ م ش۔ش ب ن)
(ریلیز آئی ڈی: 2240453)
وزیٹر کاؤنٹر : 15