خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت خواتین کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کو  اعلی ترین  ترجیح دیتی ہے اور اس سلسلے میں مختلف قانون سازی اور منصوبہ بند اقدامات کیے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAR 2026 4:11PM by PIB Delhi

پولیس اور امن و امان (پبلک آرڈر) ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت ریاستی مضامین ہیں۔ امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا، بشمول جہیز اور جہیز سے متعلق اموات کے معاملات کی تحقیقات اور ان پر مقدمہ چلانا، متعلقہ ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، اور وہی ان معاملات سے نمٹنے کی مجاز ہیں۔

جہیز کی ممانعت ایکٹ، 1961 اور بھارتیہ نیائے سنہیتا، 2023 میں جہیز کی لعنت سے نمٹنے کے لیے مؤثر دفعات موجود ہیں۔ یہ قانون جہیز دینے یا لینے کو ممنوع قرار دیتا ہے اور اس پر سزا مقرر کرتا ہے تاکہ خواتین کو جہیز سے متعلق ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

اسی طرح خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ ایکٹ، 2005 میں گھریلو تشدد کے دائرے میں جہیز سے متعلق ہراسانی کو بھی شامل کیا گیا ہے اور اس کے تحت تحفظی احکامات، رہائشی احکامات، تحویل کے احکامات، مالی امداد اور معاوضے کے احکامات جیسے قانونی اقدامات فراہم کیے گئے ہیں۔

مرکزی حکومت خواتین کی سلامتی کو یقینی بنانے کو اعلیٰ ترجیح دیتی ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف قانونی اور منصوبہ جاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں "بھارتیہ نیایا سنہیتا", "بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا", "خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ ایکٹ، 2005" اور "جہیز کی ممانعت ایکٹ، 1961" جیسے قوانین شامل ہیں۔

ان قانونی دفعات کے علاوہ حکومت نے متعدد اسکیمیں اور منصوبے بھی نافذ کیے ہیں، جن میں ون اسٹاپ سینٹرز (او ایس سی)، ویمن ہیلپ لائنز کی یونیورسلائزیشن (ڈبلیو ایچ ایل)، اور ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم (ای آر ایس ایس) شامل ہیں، جو پورے ملک میں ہنگامی حالات کے لیے سنگل نمبر (112) اور موبائل ایپ پر مبنی نظام کے ذریعے خدمات فراہم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ بیداری پروگراموں کے ذریعے کمیونٹی کی صلاحیت سازی اور پولیس اسٹیشنوں میں ویمن ہیلپ ڈیسک (ڈبلیو ایچ ڈی) کے قیام اور مضبوطی جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

ون اسٹاپ سینٹر (او ایس سی) اسکیم، جسے مکمل طور پر مرکزی حکومت کی جانب سے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے، یکم اپریل 2015 سے ملک بھر میں نافذ کی جا رہی ہے۔ یہ اسکیم تشدد سے متاثرہ اور پریشانی میں مبتلا خواتین کو نجی اور عوامی دونوں مقامات پر ایک ہی چھت کے نیچے مربوط مدد اور سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحت ضرورت مند خواتین کو طبی امداد، قانونی مدد و مشاورت، عارضی پناہ گاہ، پولیس کی معاونت اور نفسیاتی و سماجی مشاورت سمیت مختلف خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

اس وقت ملک بھر میں 914 سے زیادہ ون اسٹاپ سینٹرز فعال ہیں اور 31 دسمبر 2025 تک 37 لاکھ سے زائد خواتین کو ان مراکز کے ذریعے مدد فراہم کی جا چکی ہے۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پولیس اسٹیشن خواتین کے لیے زیادہ دوستانہ اور قابلِ رسائی ہوں، کیونکہ وہ پولیس اسٹیشن آنے والی خواتین کے لیے پہلا اور بنیادی رابطہ مرکز ہوتے ہیں، ملک بھر میں 15,049 ویمن ہیلپ ڈیسک (ڈبلیو ایچ ڈی) قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 14,363 کی قیادت خواتین پولیس افسران کر رہی ہیں۔

پریشانی میں مبتلا خواتین کو فوری مدد فراہم کرنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم (ای آر ایس ایس-112) تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم کیا گیا ہے، جو مختلف ہنگامی حالات میں کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے پولیس اور دیگر فیلڈ وسائل کو متحرک کرتا ہے۔

ای آر ایس ایس کے علاوہ، مغربی بنگال کو چھوڑ کر 35 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایک مکمل طور پر فعال وقف خواتین ہیلپ لائن (ڈبلیو ایچ ایل-181) بھی کام کر رہی ہے، جسے ای آر ایس ایس کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک خواتین ہیلپ لائنز کے ذریعے 96.37 لاکھ سے زائد خواتین کو مدد فراہم کی جا چکی ہے۔

بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (بی پی آر اینڈ ڈی) نے بھی متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں تفتیشی افسران، استغاثہ افسران اور طبی افسران کے لیے تربیت اور صلاحیت سازی کے پروگرام شامل ہیں۔

بی پی آر اینڈ ڈی نے "پولیس اسٹیشنوں میں ویمن ہیلپ ڈیسک" کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) بھی تیار کیے ہیں تاکہ چار اہم اجزاءبنیادی ڈھانچہ، تربیت، انسانی وسائل کی ترقی اور رسپانس میکانزمپر توجہ دیتے ہوئے ان کے مؤثر اور ہموار کام کو یقینی بنایا جا سکے۔

جنسی زیادتی سے متعلق جرائم کے تناظر میں خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام اور تحقیقات کے مقصد سے "ویمنز سیفٹی اینڈ سیکیورٹی: پولیس میں فرسٹ ریسپونڈرز اور تفتیشی افسران کے لیے ایک رہنما کتاب" بھی تیار کی گئی ہے، جس میں تحقیقات، متاثرہ افراد کو معاوضہ اور بحالی سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان کا سراغ لگانے کے لیے پولیس اہلکاروں میں مناسب رویّے اور حساسیت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ جرائم کے متاثرین کے ساتھ مناسب انداز میں بات چیت کی جا سکے۔ خواتین کی حفاظت، صنفی حساسیت اور متعلقہ موضوعات پر ویبینارز بھی بی پی آر اینڈ ڈی کے ذریعے منعقد کیے جاتے ہیں۔

وزارت وقتاً فوقتاً خواتین اور بچوں کی حفاظت و تحفظ کے حوالے سے بیداری مہمات بھی چلاتی ہے۔ مزید برآں، حکومت نیشنل کمیشن فار ویمن (این سی ڈبلیو) اور نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) جیسے اداروں اور ریاستوں میں ان کے ہم منصب اداروں کے ذریعے سیمینارز، ورکشاپس، آڈیو ویژول مواد، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا وغیرہ کے ذریعہ بیداری پھیلا رہی ہے۔ اس کا مقصد عوام کو خواتین اور بچوں کی حفاظت و تحفظ کے امور سے متعلق حساس بنانا ہے، جس میں جہیز کے نظام کی برائیوں اور متعلقہ قانونی دفعات کے بارے میں آگاہی بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ خواتین و بچوں کی ترقی کی وزارت اور وزارتِ داخلہ نے خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق مختلف امور پر وقتاً فوقتاً ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشاورتی ہدایات (ایڈوائزریز) بھی جاری کی ہیں۔

خواتین کے لیے قانونی امداد کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے مقصد سے نیشنل کمیشن فار ویمن (این سی ڈبلیو) نے دہلی اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی (ڈی ایس ایل ایس اے) کے تعاون سے ایک قانونی امدادی کلینک قائم کیا ہے، جو خواتین کو مفت قانونی مدد فراہم کرنے کے ساتھ شکایات کے ازالے کے لیے سنگل ونڈو سہولت فراہم کرتا ہے۔

وزارت نے 22 جنوری 2025 کو تمام فعال خصوصیات کے ساتھ مشن شکتی پورٹلکا آغاز کیا ہے۔ اس پورٹل کا مقصد خواتین کے لیے مختلف سرکاری خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا، بچاؤ، تحفظ اور بحالی کے لیے معیاری طریقہ کار قائم کرنا اور مختلف اسکیموں اور قوانین کے تحت کام کرنے والے اہلکاروں اور ذمہ داران کی صلاحیت سازی کو فروغ دینا ہے۔

مزید برآں، ویمن ہیلپ لائن نافذ کرنے والی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں موصول ہونے والی کالوں کی نگرانی کے لیے سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی-ڈی اے سی) کے ذریعے ایک قومی ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈیش بورڈ موصولہ کالوں اور خواتین کو فراہم کی جانے والی مدد کی حقیقی وقت (ریئل ٹائم) نگرانی کو ممکن بناتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے مرکزی حکومت پورے ملک میں خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق مرکزی ڈیٹا بیس برقرار رکھ سکے گی، جس میں مقدمات کی مختلف اقسام، بشمول گھریلو تشدد کے واقعات، کی درجہ بندی بھی شامل ہوگی۔

یہ معلومات خواتین و بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ انپورنا دیوی نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

******

UR-4004

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2239869) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada